ایک حدیث رسو ل میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھتاہے-لیکن روزہ (صوم)میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا- اس عظیم اجر کا سبب یہ بتایا کہ روزہ دار، اللہ کے لئے (لأجل اللہ) اپنی شہوات کو چھوڑ دیتا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر: 9714)
اس حدیث کے مطابق، روزہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ ترک ممنوعات کی تربیت ہے- زندگی میں ’ترک‘ (چھوڑنے) کی اہمیت بہت زیادہ ہے- حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں اختیار سے زیادہ ’ترک‘ کی اہمیت ہوتی ہے- ’ترک‘ کے آئٹم اگر ننانوے فیصد ہیں تو اختیار کا آئیٹم ایک فی صد ہے- اختیار کے آئٹم کی فہرست بنائی جاسکتی ہے، لیکن ’ترک‘ کے آئٹم کی فہرست بناناممکن نہیں-
انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے اختیار ایک کم مشکل کی چیز ہے- اِس کے برعکس ’ترک‘کی مشکل بہت زیادہ ہے- مثلاً حج میں گھر سے نکل کر مکہ کا سفر کرنا، اور حج کے مراسم ادا کرنانسبتاً کم مشکل ہے- اِس کے برعکس، قرآن کی اِس آیت پر عمل کرنا بے حد مشکل ہے، جس میں کہاگیا ہے : فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (2:197) یعنی حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ اور نہ لڑائی جھگڑا-
روزہ اِسی مشکل کام کی تربیت ہے- رمضان میں ایک مہینہ کا روزہ دراصل ایک علامتی ’ترک‘ ہے- رمضان کے مہینہ میں ایک علامتی ’ترک‘ کے ذریعہ لوگوں کے اندر یہ نفسیات جگائی جاتی ہے کہ وہ ترک کی اہمیت کو سمجھیں، وہ ترک کے بارے میں حساس بنیں،وہ ترک کلچر کو اپنی پوری زندگی میں اختیار کریں- اسی ترک کلچر پر لوگوں کو ابھارنے کے لئے یہ فرمایا گیا کہ اس عمل پر اللہ کا بے حساب اجر ہے، جس طرح کلمہ میں إلا اللہ سے پہلے لا إلہ آتا ہے، اسی طرح مطلوب عمل سے پہلے غیر مطلوب اعمال کا درجہ ہے- غیر مطلوب اعمال کو ترک کرنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ درست طورپر مطلوب عمل انجام دے سکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔