قر\آن میں رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے کہاگیا ہے: کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( 2:183) یعنی تم پر روزہ فرض کیاگیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بنو-
قرآن کی اِس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روزہ کا فعل اپنے آپ میں ایک نہایت بابرکت فعل ہے، اور رمضان کا مہینہ اتنا مبارک مہینہ ہے کہ جو شخص اِس مہینہ میں روزہ کی نیت سے صبح سے شام تک کھانا پینا چھوڑ دے تو وہ اِس ترک طعام کی بنا پر عظیم ثواب کا مستحق بن جائے گا-اِس کے بجائے آیت میں یہ فرمایا گیا کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو (لعلکم تتقون)- گویا روزہ کی ایک صورت (form)ہے، اور تقویٰ اُس کی روح (spirit) ہے- روزہ برائے تقویٰ ہے، نہ کہ برائے جوع-
تقوی کا لفظی مطلب ہے بچنا- روزہ سے مراد صرف کھانے اور پینے سے بچنا نہیں ہے بلکہ ہر اس چیز سے بچنا ہے، جس کو شریعت میں ممنوع قرار دیاگیا ہے- گویا کہ روزہ میں ترک طعام برائے ترک طعام نہیں ہے، بلکہ وہ ترک ممنوعات کے لیے تربیت کا ایک کورس ہے- حدیث کے الفاظ میں جو شخص کھانے پینے کا روزہ رکھے، مگر وہ دوسری قابل پرہیز چیزوں سے اپنے آپ کونہ بچائے، اُس کو اپنے روزے سے بھوک پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا (لیس لہ من صیامہ إلا الجوع)ابن ماجہ، حدیث : 1380-
دوسرے الفاظ میں یہ کہ رمضان کے مہینہ کا روزہ، اِس بات کی تربیت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction)کی تمام صورتوں سے بچائے- وہ اپنے اندر یکسوئی کا مزاج پیدا کرے- وہ اپنی عادتوں پر کنٹرول کرے، اور پوری طرح بامقصد زندگی گزارنے کی کوشش کرے- ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو بچانا مومن کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ ایسا کرنے کے بعد ہی مومن اِس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر متعلق مصروفیتوں سے بچائے، اور بامقصد انداز میں اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔