Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala July 2014
Al-Risala July 2014

سوال وجواب

Urdu · 6 min read

میں الرسالہ کا ایک مستقل قاری ہوں- اِسی کے ساتھ میں آپ کے لکچر بھی سنتا ہوں- مجھے الرسالہ کی دعوتی سوچ سے اتفاق ہے- اِس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ مل رہا ہے- دو چیزوں کی وضاحت مطلوب ہے- ایک الرسالہ کے حسب ذیل دو اقتباسات کی وضاحت، جس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ اعتدال کو کس طرح مانتے ہیں- اِسی طرح آپ کے لکچر میں بار بار میں نے سنا ہے کہ دوسرے علمانے کچھ نہیں کیا، وہ سب ٹکراؤ اور تشدد میں لگے رہے، اِس کی وضاحت-(محمد حارث، پاکستان)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1- ’’اکثر لوگ اعتدال اور توسط کی بات کرتے ہیں، مگراعتدال اور توسط اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات میں صرف دو نقطۂ نظر ہیں— معیاری نقطۂ نظر، اور عملی نقطہ نظر۔ جہاں تک ’’معتدل نقطۂ نظر‘‘ کا تعلق ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں۔معیاری نقطۂ نظر (idealism) وہ ہے جو خالص اصول پر مبنی ہو، جو ابدی طورپر ایک ہی مستند اصول کے طور پر قائم رہے۔ مثلاً سچ بولنا ایک ابدی اصول ہے، اصول کے اعتبار سے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔ عملی نقطہ نظر (pragmatism) سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں نتائج کو ملحوظ رکھا گیا ہو، جو خالص اصول پر مبنی نہ ہو، بلکہ وہ عملی پہلوؤں کی رعایت پر مبنی ہو۔زندگی کے معاملات میں کوئی موقف اختیار کرنے کے لیے اعتدال اور توسط کوئی معیار (yardstick) نہیں ہے۔ یہ معیار صرف دو ہے— ایک، یہ کہ خالص اصولی طورپر جو نقطہ نظر درست ہو، اس کو اختیار کرنا۔ یہ آئڈیل ازم (idealism) ہے۔ خالص ذاتی معاملات میں آئڈیل ازم پوری طرح قابلِ عمل ہوتا ہے۔ اِس لیے جہاں خالص ذاتی معاملہ ہو، وہاں آدمی کو وہی کرنا چاہیے جو آئڈیل ازم کا تقاضا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں معاملہ ففٹی ففٹی ہوجاتا ہے، یعنی پچاس فی صد آدمی کی اپنی سوچ، اور پچاس فی صد دوسرے متعلق افراد کی سوچ۔ عملی نقطۂ نظر (pragmatism)کا لفظ زندگی کے اِسی دوسرے دائرے کے بارے میں بولا جاتا ہے‘‘۔ (ماہ نامہ الرسالہ، نومبر 2010، صفحہ 34)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

2- اسی طرح آپ نے ایک اور جگہ لکھا ہے کہ:’’آدمی کو چاہئے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کرکے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے-وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے- اِس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے-آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے- آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اِس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہوجاتاہے- اِس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اِس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں- توازن بلاشبہہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میںتوازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا- نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آئڈیل ہونا چاہئے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹکل بن جانا چاہیے‘‘- (ماہ نامہ الرسالہ، اگست 2013، صفحہ 40)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

1- قصدواعتدال بلا شبہہ اسلام میں مطلوب ہے- قصد واعتدال اسلام کا ایک اہم اصول ہے- اُس کا تعلق صرف انفرادی معاملات سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی معاملات اور ملی پالیسی سے بھی ہے- قصد واعتدال کی اہمیت رسول اور اصحابِ رسول کی سنت سے ثابت ہے- اِس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں-

قصد واعتدال کا مطلب توسط یا میانہ روی (moderation) ہے، یعنی معاملات میں درمیانی طریقہ (middle course) اختیار کرنا- قصد واعتدال کا تعلق دراصل اجتماعی زندگی سے ہے، خواہ وہ عبادتی معاملہ ہو یا غیر عبادتی معاملہ- دوسرے الفاظ میں اس کو پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کہاجاسکتا ہے- اجتماعیات میں چوں کہ معاملے کے فریق ایک سے زیادہ ہوجاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعیات میں دوسروں کی رعایت کی جائے- ایسا نہ کرنے کی صورت میں غیر ضروری ٹکراؤ ہوگا اور اُس کے نتیجے میں مختلف قسم کے مسائل پیدا ہوں گے-

لیکن جہاں تک عقیدے یا نظریے کا معاملہ ہے، اُس میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معیار پسند ہو- وہ اپنی سوچ کو انتہائی حد تک خالص بنائے، ذاتی سوچ کے معاملے میں وہ کم تر از معیار (less than ideal) کو برداشت نہ کرے، یعنی اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند (idealist) ہونا اور دوسروں کے معاملے میں عملی (practical) بن جانا-

2- کسی شخص کی تردید یا نفی کی بات میں نے کبھی نہیں کہی- کسی شخص کے نقطہ نظر میں جو بات قرآن وسنت کے خلاف ہو، اُس کا تجزیہ قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں کرنا، یہی میرا طریقہ ہے-

اِس معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ناقد وہ طریقہ اختیار کرے جس کو ایک شاعر نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے — عیب ِ مے جملہ بہ گفتی ہنرش نیز بگو-

یہ طریقہ بذاتِ خود درست ہوسکتا ہے، لیکن وہ داعی کا طریقہ نہیں- داعی کا مقصد یہ ہوتاہے کہ لوگوں کے اندر ذہنی انقلاب لایا جائے- اِس بنا پر داعی ہمیشہ کسی ایک چیز پر فوکس دیتا ہے-

تنقید کے معاملے میں اصل شرط یہ نہیں ہے کہ ناقد قابلِ تنقید اجزا کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ زیر تنقید شخص کی خوبیوں کا ذکر بھی کرے، یہ شرط غیر عملی ہے- صحیح طریقہ یہ ہے کہ ناقد عناد (malice) کی نفسیات سے پاک ہو- اس کی ساری توجہ صرف زیر تنقید شخص کے فکری انحراف پر ہو، نہ کہ اُس چیز پر جس کو ذاتیات کہاجاتا ہے-

میرے نزدیک نقدِ صحیح یقینی طور پر ایک جائز کام ہے، لیکن معاندانہ اظہارِ خیال کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں- نقدِ صحیح پر ایک شخص کو اللہ کے یہاں انعام مل سکتا ہے، لیکن معاندانہ اظہارِ خیال ایک ایسی چیز ہے جس پر آخرت میں سخت مواخذے کا اندیشہ ہے-

آپ دین کی سیاسی تعبیر پر اکثر تنقید کرتے رہتے ہیں- اِس تعبیر کا اصل نقصان کیاہے، اس کو واضح فرمائیں- (ایک قاری الرسالہ، مہاراشٹر)

دین کی سیاسی تعبیر بلاشبہہ ایک غلط تعبیر ہے- وہ بلا شبہہ تفسیر بالرائے کی ایک صورت ہے- دین کی سیاسی تعبیر نظری اعتبار سے ایک غلط تعبیر ہے اور عملی اعتبار سے وہ ایک تباہ کن نظریے کی حیثیت رکھتی ہے- دین کی سیاسی تعبیر میں تشدد ایک لازمی جز کی حیثیت رکھتا ہے- دین کی سیاسی تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان اسلام کی بنیاد پر سیاسی حکومت قائم کریں- حکومت ایک ایسا ادارہ ہے جس پر کسی کا قبضہ ہوتا ہے، اس لئے قائم شدہ اقتدار کو ختم کیے بغیراسلامی حکومت قائم نہیں کی جاسکتی-

دین کی سیاسی تعبیر کا یہی وہ منفی پہلو ہے جس کی بنا پر اول دن سے تشدد اس کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک، دین کی سیاسی تعبیر اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک نزاعی تعبیر ہے:

Political interpretation of Islam in terms of result is confrontational interpretation of Islam.

اِس موضوع پر تفصیلی مطالعے کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں: تعبیر کی غلطی، دین کی سیاسی تعبیر، دین وشریعت-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content