آسٹرین نیرولوجسٹ وکٹر فرینکل (1905-1997) کا ایک با معنی قول ہے- اُس نے انسان کے بارے میں کہا — جب ہم حالات کو بدلنے کے قابل نہیں ہوتے، تو یہ اِس بات کا چیلنج ہوتا ہے کہ ہمیں خود اپنے آپ کو بدلنا چاہیے:
When we are no longer able to change a situation—we are challenged to change ourselves. (Viktor Frankl)
ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جس تبدیلی کا منصوبہ بنایا تھا، اُس کے مطابق، میں حالات کو بدل نہ سکا- اِس قسم کا تجربہ جب کسی انسان کو پیش آئے تو اس کو کیا کرنا چاہیے-
اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ناکامی کا سبب باہر تلاش کرے- اِس کے برعکس، صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، وہ خارج کو بدلنے کی مزید کوشش نہ کرے- وہ یہ کرے کہ حقیقت پسندانہ انداز میں پورے معاملے پر ازسرِ نو غور کرے اور پھر ممکن دائرے میں اپنے عمل کا نیا نقشہ بنائے-
روڈ پر چلتے ہوئے اگر کوئی شخص راستے سے بھٹک جائے تو وہ یوٹرن (U turn)لینے میں کبھی دیر نہیں کرتا- لیکن زندگی کے وسیع تر سفر میں بہت کم لوگ اس اصول کی پیروی کرتے ہیں- زندگی کے سفر میں اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک بار جس راستے پر چل پڑے، اُسی پر چلتے رہتے ہیں، حتی کی اگر ان کی غلطی کی نشان دہی کی جائے، تب بھی وہ ایسا نہیں کرتے کہ غلط سمت کو چھوڑ کر صحیح سمت میں وہ اپنا سفر شروع کردیں- وہ اپنے مانوس راستے ہی پر چلتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اِسی حال میں مرجاتے ہیں— غلطی کرنا غلطی نہیں ہے، بلکہ اصل غلطی یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کی اصلاح کرنے پر راضی نہ ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔