Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Al-Risala July 2011
Al-Risala July 2011

سوال وجواب

Urdu · 12 min read

ماہ نامہ الرسالہ (جون 2007 ) میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد، مسیح کے رول کی آمد ثانی بتایا گیا ہے۔ براہِ کرم، اِس معاملے کو واضح فرمائیں۔(حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ)۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات دو قسم کے ہیں— ایک، محکمات۔ دوسرے، متشابہات (3:7) ۔ محکم آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو غیر مشتبہ زبان (exact language) میں بیان کیاگیا ہو۔ مثلاً رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا (2: 283) ۔ متشابہ آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو مشتبہ زبان یا غیر متعین الفاظ (inexact language) میں بیان کیا گیا ہو۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ — نماز قائم کرو (أقیموا الصلاۃ)۔ مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ نماز کو 24 گھنٹوں کے درمیان کن مخصوص اوقات میں ادا کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

متشابہ اسلوب سے وہی اسلوبِ بیان مراد ہے جس کو فنِ تعلیم میں ڈسکوری متھڈ (discovery method) کہا جاتا ہے، یعنی مسئلہ کو غیر واضح صورت میں طالبِ علم کے سامنے رکھ دینا اور طالب علم کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ اپنی قوتِ فکر کو استعمال کرکے غیر واضح مسئلے کو واضح صورت میں دریافت کرے۔

مسیح کی آمد ثانی کو بیان کرنے کے لیے قرآن اور حدیث میں یہی متشابہ اسلوب اختیار کیاگیا ہے، قرآن میں اشارات کی زبان میں، اور حدیث میں نسبتاً صراحت کی زبان میں۔ مثال کے طورپر قرآن کی سورہ الانعام میں 18 نبیوں، بشمول حضرت مسیح، کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: أولئک الذین ہدی اللہ فبہداہم اقتدہ (6: 90) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس تم بھی ان کے طریقے پر چلو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی سورہ الصف میں یہ اشارہ نام کی صراحت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ چناں چہ فرمایا کہ : ’’اے ایمان والو، تم اللہ کے مدد گار بنو جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسر ائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے‘‘۔ (61: 14)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کی اِس آیت میں اہلِ اسلام کو خطاب کیاگیا ہے۔ اُن سے کہاگیا ہے کہ تم اللہ کی نصرت کرنے والے بنو جس طرح تم سے پہلے عیسیٰ کے حواری، اللہ کی نصرت کرنے والے بنے تھے۔ آیت میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ نصرتِ الٰہی کا یہی پیٹرن تمھارے لیے فتح وکامیابی کا ذریعہ ہوگا۔ اِس سے مراد تاریخِ انسانی کا بعد کا زمانہ ہے، یعنی بعد کے زمانے میں مسیحی ماڈل فتح وکامیابی کا ذریعہ بن جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسیحی ماڈل عین وہی ماڈل ہے جس کا نمونہ ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں ملتا ہے۔ مکی دور میں رسول اور اصحاب رسول نے اپنے خلاف کئے جانے والے تشدد کے جواب میں یک طرفہ صبر کا ثبوت دیا ۔ اِس اعتبار سے مسیحی ماڈل اور پیغمبر اسلام کا مکی ماڈل دونوں ہم معنی الفاظ ہیں، مگر چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ بعد کے زمانے کے مسلمان مکی ماڈل کی اہمیت سے غافل ہوجائیں گے، اِس لیے اِس دعوتی ماڈل کو قرآن میں مسیحی ماڈل کے حوالے سے بیان کیاگیا۔ کیوں کہ حضرت مسیح کی زندگی میں صرف مکی ماڈل ہے، اُن کے یہاں مدنی ماڈل سرے سے موجود نہیں۔

مسیحی ماڈل یا مکی ماڈل سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اُس سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں دعوت کا پرامن طریقہ (peaceful method of dawah) کہا جاسکتا ہے۔ مسیح کے حوالے سے اِس ماڈل کو بیان کرنا صرف تقریبِ فہم کے لیے ہے، نہ کہ حصر کے لیے۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں مدعو کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار ہوتا تھا، حتی کہ بشرطِ استطاعت، تشدد اور قتال کی نوبت آجاتی تھی۔ ’’مدنی دور‘‘ دراصل اِسی دورِ تشدد کی ایک علامت ہے۔ مدنی دور میں رسول اور اصحابِ رسول نے قتال کے جواب میں قتال کے ذریعہ اپنا دفاع کیا۔ مگر یہ قتال بلاشبہہ ایک زمانی ظاہر ہ تھا، نہ کہ مستقل معنوں میں پیغمبرانہ طریقِ کار کا ظاہرہ۔

اسلامی تاریخ کے بعد کے زمانے میں یہ ہونے والا تھا کہ عالمی حالات میںتبدیلی کے نتیجے میں قتال کا طریقہ ایک متروک طریقہ بن جائے۔ حالات میں ایسا انقلاب آئے کہ پُرامن طریقِ کار پوری طرح نہ صرف ممکن ہوجائے، بلکہ وہ واحد موثر طریقے کی حیثیت اختیار کرلے۔ صرف پُرامن دعوت کے ذریعے وہ سب کچھ قابلِ حصول بن جائے جو قدیم زمانے میں صرف جنگ وقتال کے ذریعے قابلِ حصول سمجھا جاتا تھا۔

پُرامن طریقِ دعوت کی مثال خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مکی دور میں پوری طرح موجود ہے۔ مگر حالات کے تقاضے کے تحت ایساہوا کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کو دفاعی طورپر جنگ میں حصہ لینا پڑا۔ اِس طرح پیغمبر اسلام کی زندگی میں دونوں طرح کی مثالیں شامل ہوگئیں ۔ اب ضرورت تھی کہ بعد کے زمانے کی نسبت سے، پرامن طریقِ کار کو ممیَّز طورپر (distinctively) بیان کیاجائے۔ دراصل یہی مقصد ہے جس کے لیے مسیح کی آمد ثانی (second coming of Christ) کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ مسیح کی آمد ثانی سے مراد دراصل مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ یہ بات دراصل دورِ آخر کے تبدیل شدہ حالات کی نسبت سے کہی گئی ہے۔ اِس میں دراصل داعی کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تاریخ کے بعد کے زمانے میں مسلح طریقِ کار سے کامل پرہیز کرے، دعوت کے لیے وہ صرف پرامن طریقِ کار کو استعمال کرے جو کہ دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے واحد موثر طریقہ بن جائے گا۔

حدیث میں مستقبل کے جس واقعے کو مسیح کی آمد ثانی کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے، اُس واقعے کو بالفاظِ دیگر، مکی ماڈل کی آمد ثانی کہاجاسکتا ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے، پہلے بیان اور دوسرے بیان میں کوئی فرق نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ قرآن میں جن انبیا کا ذکر ہے، اُن میں سے ہر ایک مختلف حالات میں آیا۔ ہر ایک نے اپنے زمانی حالات کے اعتبار سے، ایک طریقہ اختیار کیا۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیاہے: لکلّ جعلنا منکم شرعۃً ومنہاجا(5: 48)۔ ان میں سے ہر نبی کا نمونہ ایک معیاری نمونہ ہے۔ حالات جس نمونے کا تقاضا کررہے ہوں، اُس نمونے کو اختیار کرلیا جائے گا۔ ایسا کرنا بالکل درست قرار پائے گا، خواہ وہ نمونہ کسی بھی پیغمبر سے تعلق رکھتا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت مسیح نے اپنے حالات کے لحاظ سے خالص پُرامن دعوتی عمل کا طریقہ اختیار کیا۔ اِس اعتبار سے حضرت مسیح پرامن دعوتی عمل کے لیے ایک امتیازی ماڈل بن گئے۔ تاریخی طورپر ان کے ماڈل میں پرامن طریقے کے سوا کوئی اور طریقہ شامل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے دور کے حالات میں پرامن دعوتی عمل کے لیے مسیحی ماڈل کو بطور حوالہ (reference) استعمال کیا گیا۔

اسلام میں ترکِ دنیا کا تصور کیا ہے، تزکیہ سے اس کاکیا ربط ہے، نیزدنیا سے تعلق کی نوعیت کیا ہے، براہِ کرم، اِس کو واضح فرمائیں (شارق حسین، دہلی)

دنیا سے تعلق کی تین صورتیں ہیں— دنیا میں ملوث ہونا، دنیا کو ترک کرنا، دنیا کو اعلیٰ مقصد کے لئے استعمال کرنا۔پہلی صورت، دنیا میں پوری طرح ملوث ہونا ہے۔ اس کو دنیا پرستی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی چیزوں ہی کو اپنا مقصود بنا لیں، جو اپنی تمام صلاحیتیں دنیا کو پانے کے لیے وقف کردیں، جو دنیا کی کامیابی کو کامیابی سمجھیں اور دنیا کی ناکامی کو ناکامی۔ قرآن کے مطابق، یہ پورے معنوں میں بھٹکے ہوئے لوگ ہیں (17: 103-104)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے میں دوسری قسم وہ ہے جس کو ترکِ دنیا کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کے لوگوں سے اور دنیا کی چیزوں سے کنارہ کشی کرکے الگ تھلگ زندگی گزارنا۔ یہ لوگ بطور خود اس کو بہتر سمجھتے ہیں، مگر یہ صرف غلو (extremism) ہے اور غلو اسلام میں نہیں ہے (لاغلوَّ فی الإسلام)۔

تیسری صورت ہے —دنیا کو اعلیٰ ربانی مقصد کے لیے استعمال کرنا۔ دنیا سے تعلق کی یہی صورت درست ہے اور یہی اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے۔

ترکِ دنیا، ترکِ دعوت ہے۔ دنیا کیا ہے ، دنیا خدا کی تخلیق ہے۔ اور جو چیز خدا کی تخلیق ہو، وہ اصلاً برائی نہیں ہوسکتی۔ حدیث میںآیا ہے: إن الدنیا خُلقت لکم، وأنکم خُلقتم للآخرۃ (تخریج الإحیاء للعراقی، 3/252 )۔ اس حدیث سے دنیا کی صحیح نوعیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کا راستہ دنیا سے ہو کر گزرتا ہے۔ دنیا کی چیزوں کا صحیح استعمال ہی تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سوال یہ ہے کہ جب ہم سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت سے ہیں، ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں،تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نے الگ الگ فرقے اور مسلک بنا لئے ہیں۔ (ایس امین باشا، کرناٹک)

opposing viewA view stated in order to be argued against

مسلمانوں میں مسلک کی بنیاد پر جو مختلف گروہ ہیں، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی ، سلفی، یہ تمام گروہ بعد کے زمانے میں بنے ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ گروہ موجود نہ تھے۔ جو گروہ بندی دورِ اول میں نہ ہو اور بعد کے زمانے میں وجود میں آئی ہو، وہ اپنے آپ میں قابل رد ہے۔ یہ مختلف گروہ فقہی مسلک کی بنیاد پر بنے ہیں، لیکن کوئی بھی گروہ کسی بنیادی اختلاف کے تحت نہیں بنا ہے، بلکہ وہ صرف جزئیات میں اختلاف کے تحت بنا ہے۔ یہ جزئی اختلافات بے اصل نہیں ہیں، وہ خود صحابہ کے درمیان موجود تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ کے زمانے میں اِن جزئیات کی بنا پر الگ الگ گروہ نہیں بنے، مگر بعد کے زمانے میں انھیں جزئیات کو لے کر الگ الگ گروہ بن گئے۔

اِس فرق کا سبب جزئیات میں غلو (extremism) ہے۔صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ تصور تھاکہ جزئیات میں توسع ہے، یعنی اُن میں سے جس پر چاہو، عمل کرسکتے ہو، تم ہدایت پر رہو گے (بأیہم اقتدیتم اہتدیتم)۔ لیکن عباسی دور کے فقہاء نے جزئیات کے معاملے میں غلو کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ہر ایک درست نہیںہوسکتا، ایک درست ہوگا تو دوسرا غلط ہوگا۔ انھوں نے غیر ضروری بحثوں کے ذریعے تعدّد میں توحّد پیدا کرنے کی کوشش کی، یعنی کئی کو ایک بنانا۔ جزئیات میں اِسی غلو یا تشدد کی بنا پر مختلف فقہی گروہ بن گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن اور حدیث میں واضح طورپر بتایا گیا ہے کہ غلو اسلام میں نہیں ہے۔ اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان، صحابہ اور تابعین کے دور کی طرف لوٹیں۔ وہ اِس اصول کو مان لیں کہ یہ مختلف فقہی مسالک مبتدعانہ طورپر وجود میں آئے ہیں۔ وہ قابلِ ترک ہیں، نہ کہ قابل پیروی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نصاب زکوٰۃ کے تعلق سے قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائِ کرام وائمہ دین کے فتویٰ سے مندرجہ ذیل سوال کی عامۃ المسلمین کی ہدایت ورہنمائی کے لئے تصریح فرما کر مشکور فرمائیں:

1 - نصاب زکوٰۃ کا تعین 7.5 تولہ سونا یا 52.5 تولہ چاندی یا ان کی مالیت کے بقدر کیش سے کیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ گذشتہ زمانہ میں 7.5 تولہ سونا کی قیمت 52.5 تولہ چاندی کے مساوی رہی ہو، لیکن فی زمانہ اِن دھاتوں کی قیمت میں تقریباً 1.40 کا تناسب ہے، یعنی 7.5 تولہ سونا کی قیمت 7.5 x 21,000 = 1,57,000 روپئے اور 52.5 x 600 = 31,500 روپئے۔

اب تک علماء کرام 52.5 چاندی یا اس کی قیمت کو ہی نصاب زکوٰۃ مقرر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں:

الف: 7.5 تولہ سونا کی قیمت کو نصاب کیوں نہ مانا جائے۔

ب: 7.5 تولہ سونا اور 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے اوسط (تقریباً 90 ہزار روپئے) کو معیار تسلیم کیوں نہ معیار تسلیم کیاجائے۔

2 - شافعی مسلک میں استعمالی زیورات زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں، جب کہ حنفی مسلک میں استعمالی زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ موجودہ دور میں عام مسلمان کو نہ تو مسالک کا علم ہے اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کرتاہے۔ اس لئے شافعی مسلک کو اختیار کرنے میں کیا قباحت ہے۔

3 - لڑکی کو بوقت نکاح اس کے والدین اور شوہر کی طرف سے زیورات جہیز یا تحفہ میں دئے جاتے ہیںاور وہ صاحب نصاب ہوجاتی ہے۔لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے کسی آمدنی کے ذریعہ کا مالک نہیں بنایا جاتا۔ شوہر بیوی کے سرمایہ کی زکوٰۃ کیوں دے۔ اور اگر شوہر کی آمدنی زکوٰۃ ادا کرنے کی متحمل ہو تو ایسی حالت میںکیا کیا جائے۔

الف: متوسط کلاس میں زیورپشت درپشت چلتا ہے۔ اگر زیور فروخت کرکے زکوٰۃ دی جاتی ہے تو وہ روپیہ ایک سال میں ہی خرچ ہوجائے گا اور فیملی مفلس ہوجائے گی، نیز اپنے بچوں کی شادی کے وقت مقروض ۔ اِن حالات میں شرعی احکامات کیا ہیں۔

4 - متوسط طبقہ میں مشترکہ خاندانی نظام قائم ہے۔ شادی شدہ جوڑے کے پاس نصاب کے مطابق زیور ہے، لیکن آمدنی بہت قلیل ہے۔ ضروریات زندگی کا بار بھی والدین کے ذمہ ہے۔ اس صورت میں کیا کفالت کرنے والے ان کی زکوٰۃ بھی ادا کریں یا یہ جوڑا زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکتا ہے۔

5 - علی کے پاس نصاب کے مطابق کیش تھا۔ اس نے قسط اسکیم کے تحت مکان؍زمین ؍کار خرید لی اور وہ کئی سال کے لئے زکوٰۃ سے بری ہوگیا۔ دوسری طرف حسین کے پاس بھی روپیہ ہے، لیکن وہ یک مشت قیمت دے کر مکان؍زمین؍کار خریدنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر سال کچھ رقم پس انداز کرتا ہے۔ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا وہ علی کی طرح زکوٰۃ سے بری۔(شجاع الدین، علی گڑھ)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عرض ہے کہ مذکورہ قسم کے مسائل میں محتاط طریقہ یہ ہے کہ آپ کو مروّجہ مسالک میں سے جس مسلک پر اطمینان ہو، آپ اُس پر عمل کریں۔ بالفرض آپ کو کسی مسلک پر اطمینان نہ ہو تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ ذاتی طورپر اپنی دریافت کے مطابق عمل کریں۔ اِس معاملے کو بحث کا موضوع بنانا صرف اختلاف میں اضافہ کرے گا، اور اسلام میں ہر وہ اقدام غلط ہے جو اختلاف میں اضافے کا سبب بنے (الخلاف شر) ۔ وہ اصلاح، اصلاح نہیںجس کا نتیجہ مزید اختلاف کی صورت میں نکلنے والا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content