برادرمحترم محمد حسن جو ہر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کے خط کے ساتھ آپ کی کتاب ’’خطابِ نو‘‘ (صفحات 264 ) موصول ہوئی۔اِس کتاب کو دیکھنے کے بعد میرا جو پہلا تاثر تھا، وہ یہ تھا کہ — یہ کتاب ایک ایسے مصنف کا تعارف پیش کرتی ہے جو قلبی درد اور ذہنی سنجیدگی کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔ کتاب کا یہ پہلو بلا شبہہ کتاب کے اصل موضوع سے بھی زیادہ اہم ہے۔
آپ نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ: ’’اگر’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘ کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمان بیدار ہوتا ہے کسی بڑی ٹریجڈی کے بعد، تو کیا ایسا اب بھی ہو نہیں چکا‘‘۔ آپ کا یہ جملہ دراصل فطرت کے ایک قانون کو بیان کرتا ہے۔ موجودہ دنیا کو پیداکرنے والے نے اُس کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے، اُس کو مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975 ) نے بجا طورپر چیلنج- رسپانس میکانزم (challenge-response mechanism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق، اگر قوم باشعور ہو تو وہ پیش آمدہ چیلنج کا مثبت جواب (positive response) دیتی ہے۔ اِس طرح اس کی تخلیقیت (creativity) میں اضافہ ہوتا ہے۔ چیلنج اُس کے لیے ترقی کا زینہ (stepping stone) بن جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جس قوم کے رہنماؤں نے اس کو بے شعور بنا رکھا ہو، وہ پیش آمدہ چیلنج کا صرف منفی جواب (negative response) دے گی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خدا کی اس دنیا میں صرف ایک احتجاجی گروپ(protestant group) بن کر رہ جائے۔ ایسی قوم خدا کے لیے بھی غیر مطلوب ہے، اور انسانوں کے لیے بھی غیر مطلوب۔
نئی دہلی، 25 مارچ 2011 دعا گو
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔