Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala july 2008
Al-Risala july 2008

حِلفُ الفُضول

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا بیس سال پہلے مکہ میںایک واقعہ ہوا۔ یمن سے ایک شخص مکہ آیا۔ اُس نے اپنا کچھ تجارتی سامان مکہ کے ایک شخص عاص بن وائل سہمی کے ہاتھ فروخت کیا۔ عاص بن وائل نے سامان لیا، لیکن اس کی پوری قیمت ادا نہ کی۔

یہ واقعہ مکہ کی روایات (traditions) کے خلاف تھا۔ جب مکہ والوں کو اِس کا علم ہوا، تو لوگوں نے اس کو بہت بُرا مانا۔ مکہ کے کچھ سربرآوردہ افراد عبد اللہ بن جُدعان کے مکان پر اکھٹا ہوئے۔ انھوں نے اِس واقعے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ پھر انھوںنے ایک معاہدہ کیا۔ اِس معاہدے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے۔ اس معاہدے کو تاریخ میں حلف الفضول کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے متعلق، روایات میں بتایا گیا ہے کہ: فتعاقدوا وتعاہدوا باللہ لیکونُنَّ یداً واحدۃً مع المظلوم علی الظالم حتّٰی یؤدّی إلیہ حقہ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 259 )یعنی انھوں نے خداکا نام لے کر ایک دوسرے کے ساتھ یہ عہد کیا کہ وہ متحد ہو کر ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کریںگے اور حق دار کو اس کا حق دلوائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ معاہدہ موجودہ اصطلاح کے مطابق، سوشل سروس، یا خدمتِ خَلق کا معاہدہ نہ تھا، بلکہ وہ دادرسی اور نصرتِ مظلوم کا معاہدہ تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ میں ظلم اور حق تلفی کے کسی معاملے کو برداشت نہیںکیا جائے گا۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا، تو مکہ کے سربرآوردہ افراد موقع پر پہنچیں گے اور ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے، وہ غاصب کو مجبور کریں گے کہ وہ غصب کا مال اُس کے مغصوب کے حوالے کرے۔

حلف الفضول سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میںداد رسی کی اسپرٹ ہونا چاہیے۔ لوگوں کے اندر یہ طاقت ور جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی بے انصافی کو برداشت نہ کریں، اور عملاً اُس میں دخل دے کر پُر امن دباؤ کے ذریعے اس کا خاتمہ کر دیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content