Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2005
Al-Risala July 2005

غلط فہمی

Urdu · 2 min read

سماج ایک ایسے انسانی مجموعہ کا نام ہے جہاں بہت سے لوگ مل جُل کر رہتے ہیں۔ فطرت کے نظام کے تحت ہر ایک کا کام الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کا فائدہ الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کا میدانِ عمل الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔ اس بنا پر بار بار آپس میں شکایتیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ شکایتیں بڑھتے بڑھتے دشمنی تک پہنچ جاتی ہیں اور پھر مزید تلخ واقعات پیدا ہوتے ہیں۔

ان شکایتوں کا سبب زیادہ تر حالات میں صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ غلط فہمی ہے۔ غلط فہمی (misunderstanding) اتنی زیادہ عام ہے کہ وہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ خاندان میں، ادارہ میں، پڑوس میں، یہاں تک کہ قومی اور بین اقوامی سطح پر بھی۔ غلط فہمی اکثر بے بنیاد ہوتی ہے، کسی سماج میں اکثر اجتماعی نزاعات غلط فہمی ہی کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔

غلط فہمی کیا ہے۔ غلط فہمی دراصل ناقص واقفیت کی بنا پر کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اکثر لوگوں کاحال یہ ہے کہ وہ کسی کے بارہ میں ایک بات سنتے ہیں اور اُسی کی بنیاد پر اُس کے بارے میں اپنی رائے بنا لیتے ہیں۔ یہی مزاج اکثر حالات میں غلط فہمی کا سبب ہوتا ہے۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کسی شخص کے بارے میں کوئی منفی بات ذہن میں آئے یا کوئی بری بات معلوم ہو تو کبھی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ فوراً ہی اس کو درست مان لیا جائے۔ اس کے بجائے ضروری ہے کہ اس کی پوری تحقیق کی جائے۔ تمام ضروری پہلوؤں کو جانچنے سے پہلے ہر گز اس کو مان نہ لیا جائے۔ اس طرح کے معاملہ میں آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے یا تو وہ سنی ہوئی بات پر دھیان نہ دے ،وہ اس کو نظر انداز کردے اور کسی سے اس کا چرچا نہ کرے ۔ یہ اس طرح کے معاملہ میں محفوظ طریقہ ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اس طرح کی بات پر بولنا چاہتا ہے یا اس کا چرچا کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی تحقیق کرے۔ تحقیق میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ صاحب معاملہ سے اس کی حقیقت معلوم کرے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد ہی وہ اس پر بولنے کا حق رکھتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.