Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2005
Al-Risala July 2005

مثبت سوچ کی ضرورت

Urdu · 2 min read

تمام ناکامیوں کا سبب منفی سوچ ہے اور تمام کامیابیوں کا سبب مثبت سوچ— یہی ایک لفظ میں زندگی کا خلاصہ ہے۔ منفی سوچ والا آدمی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر وہ بظاہر کامیاب دکھائی دے تو اس کی کامیابی وقتی ہوگی۔ اس کے برعکس مثبت سوچ والے آدمی کے لیے کامیابی پائیدار بھی ہے اور یقینی بھی۔

منفی سوچ کیا ہے اور مثبت سوچ کیا۔ منفی سوچ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جانے مگر وہ دوسروں کو نہ جانے۔ وہ مسائل کو جانے مگر وہ مواقع کو نہ جانے۔ وہ حال کو جانے مگر وہ مستقبل سے بے خبر ہو۔ وہ اپنے قریبی حالات کو جانے مگر وہ دور کے حالات سے باخبر نہ ہو۔

منفی سوچ والے آدمی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی خول میںجیتا ہے۔ اُس کے ذہن کے اندر جو خیال آجائے اُسی کو وہ اصل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہوتا کہ اُس کے ذہن کے باہر جو حقیقتیں ہیں اُن کو جانے اور ان کی روشنی میں زیادہ درست رائے قائم کرے۔ منفی سوچ دراصل بند سوچ کا دوسرا نام ہے۔

اس کے مقابلہ میں مثبت سوچ وہ ہے جو کھُلی سوچ ہو۔ مثبت سوچ والا آدمی تعصبات سے آزاد ہوکر سوچتا ہے۔ وہ معاملات میں بے لاگ رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی رائے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ وہی سوچتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو سوچنا چاہیے اور وہی بولتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو بولنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت سوچ والے آدمی کی راہیں کبھی بند نہیں ہوتیں، جب کہ منفی سوچ والے آدمی کو ہر طرف اپنی راہیں بند دکھائی دیتی ہیں۔

منفی سوچ مایوسی کی سوچ ہے اور مثبت سوچ امید کی سوچ۔ منفی سوچ راستہ کو بند حالت میں دیکھتی ہے، جب کہ مثبت سوچ والے آدمی کو ہر طرف راستے کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مثبت سوچ بصیرت ہے اور منفی سوچ بے بصیرتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.