Maulana Wahiduddin Khan
211 min left
0:00

← Al Risala July 1977
Al Risala July 1977

Main Content

Urdu · 211 min read

تارکول کی چکنی سٹرک پر نئی کارتیزی سے پھسل رہی تھی۔ دوسری طرف سڑک کے کنارے ایک کسان ٹریکٹر کی پیٹھ پر ہچکولے کھا رہا تھا ۔ وہ ٹیلوں اور کھائیوں کو ہموار کر رہا تھا تا کہ اس کو فصل اگانے کے قابل بنائے۔ کار کے لئے کوئی ٹھہراؤ نہیں تھا جب کہ ٹریکٹر کو جگہ جگہ ٹھوکر لگ رہی تھی ۔ اس کو بار بار رکنا پڑتا تھا۔

کار کے مقابلہ میں ٹریکٹر کی یہ حالت کسی بھی درجہ میں اس کی اہمیت کو نہیں گھٹاتی ۔ کار بنے بنائے راستہ پر دوڑ رہی ہے، جب کہ ٹریکٹر خود اپنا راستہ بنا رہا ہے ۔ ایک ماضی میں سفر کر رہا ہے ، دوسرا مستقبل کی طرف مارچ کر رہا ہے۔ ایک تاریخ کے اندر گم ہے، دوسرا اپنی جدو جہد سے خود ایک تاریخ بنا رہا ہے ۔

ٹریکٹر کی سست رفتاری میں جو عظمتیں چھپی ہوئی ہیں، اس کے مقابلہ میں کار کی تیز رفتاری کی کوئی حقیقت نہیں ۔

شماره ۸

زر تعاون سالانہ 24 روپے فی پرچہ دو روپیہ

جولائی 1977

خصوصی تعاون سالانہ : کم سے کم ایک سو ایک روپیہ

فہرست

قرآن ۔ایک مسئلہ

حدیث ۔ہمارا مقصد لوگوں کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دیتا ہے 4

سیرت ۔ وہ خدا کے سایہ میں چلنے لگتے ہیں 20

فقہ ۔کیسے کیسے مسائل 31

اسلام اور عصر حاضر ۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں 53

دعوت اسلامی کے جدید امکانات 7

مشینی ترقی انسان کو مطمئن نہ کر سکی 30

تعمیر ملت ۔انھیں کام کے بہترین مواقع ملے تھے 49

طاقت کا خزانہ آپ کے اندر ہے 55

معلومات ۔چڑیوں کی دنیا 59

زلزلہ 50

فطرت میں توازن کا اصول 34

تحقیقات جدیدہ ۔مریخ پر زندگی کی تلاش 34

نفسیات ۔تعریف و تنقید 21

اشاعت اسلام ۔ایک امریکی کا قبول اسلام 28

ادب ۔ زبان کا مسئلہ 26

دیگر مذاہب ۔ ایک مسیحی تصنیف پر تبصرہ 57

آپ بیتی 62

تاریخ ۔ شام میں قدیم تہذیب کی دریافت 42

اقتصادیات ۔کوڑا بھی بے کار نہیں 54

خواتین اسلام 18

اداریه

الرسالہ جون کے مہینے میں شائع نہ ہو سکا ممکن ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہو۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ قارئین الرسالہ اپنی خریداری کی مدت کو مہینوں کے اعتبار سے شمار نہ فرمائیں بلکہ الرسالہ کی موصولہ تعداد کے اعتبار سے شمار کریں۔ ایک خریدار جس نے سالانہ زر تعاون جمع کیا ہے ، اس کی مدت خریداری رسالہ کے بارہ شماروں پر ختم ہوگی ۔ خواہ وہ بارہ مہینوں میں پوری ہو یا اس سے زیادہ مہینوں میں۔

الرسالہ کی اشاعت میں وقفہ بلا شبہ ایک حادثہ ہے مگر بعض حادثات اپنے اندر بھلائی کا پہلو لئے لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کے لئے یہ حادثہ اسی قسم کی ایک بھلائی کا سبب بن گیا۔ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد مسلسل سات شمارے نکلنے کے بعد اچانک بلا اعلان جون ۱۹۷۷ کا شماره نہ پہنچنا قارئین کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔ فطری طور پر دفتر کو استفسار کے خطوط ملنے شروع ہوئے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ صرف ایک خط کو چھوڑ کرکسی نے بھی ہم کوسخت خط نہیں لکھا۔ بلکہ بعض لوگوں نے ہمیں تسکین دلائی کہ اگر ایک دو مہینے کی وجہ سے پرچہ نہ ملے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس قسم کے مقصدی پرچوں میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔

ایک صاحب کو جب وقت پر رسالہ نہیں ملا تو ہم کو خفگی کا خط لکھنے کے بجائے انھوں نے خود اپنے آپ کو متحرک کر دیا۔ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود سفر پر نکل پڑے تاکہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے الرسالہ کے لئے تعاون جمع کریں۔ انھوں نے ہم کو صرف اس وقت خط لکھا جب کہ وہ الرسالہ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے۔

یہ واقعات ہمارے قارئین کی شعوری پختگی کا ثبوت ہیں۔ اجتماعی زندگی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے دوسرے کے سلسلے میں اپنا حصہ ادا کرنے میں لگ جائیں ۔

اگر یہ مزاج ہو تو کسی کے لئے یہ سمجھنا با لکل مشکل نہیں کہ الرسالہ جیسے جریدہ کی اشاعت میں بے قاعدگی عین باقاعدگی ہے ۔ حالات سے سے موافقت کی بنیاد پر نکلنے والے پر چوں کے لئے جو چیز کارنامہ شمار ہوتی ہے وہ حالات کے خلاف جاری ہونے والے پرچوں کے یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتی ۔ ایک کا پانا دوسرے کے لیے کھونا ہے ۔ اول الذکر کے یہاں جو چیز محرومی ہے ثانی الذکر کے لئے وہ یافت کے خانہ میں لکھی جاتی ہے ۔ اگر ہم کو ایسے قارئین مل گئے ہیں جو الرسالہ کی

صحافتی مہم میں بے قاعد گیوں کو دیکھنے کے بعد یہ کہہ سکیں کہ یہ تو وہی ہے جس کے لئے ہم پہلے سے اپنے کو تیار کئے ہوئے تھے (ھذاما وعدنا ... احزاب (۲۲) تو شاید ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ الرسالہ نے آدھی کامیابی حاصل کرلی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رحمت خداوندی کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں میں قوت کی شان پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ان کی ناکامیوں کوکامیابی کے زینے بنا دیتا ہے۔ یہ معاملہ ان خاص بندوں کے لئے ہے جو اپنی ذات کے مدار سے نکل آئیں اور صرف حق کے گرد گھومنے لگیں۔ (وحید الدین)

اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں

اسلامی غلبہ سے پہلے عراق قدیم ساسانی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ 14 ھ میں سعد بن ابی وقاص ؓکی سرکردگی میں لشکر اسلام عراق کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف سامانی فوج کا سردار رستم تھا۔ جنگ سے پہلے مختلف اسلامی سردار رستم کے دربار میں بات چیت کے لئے گئے۔ انھیں میں سے ایک ربعی بن عامر بھی تھے۔ رستم نے ربعی بن عامر سے پوچھا: تم کو کیا چیز یہاں لے آئی ہے ۔ انھوں نے جواب میں جو تقریر کی ، اس کا ایک فقرہ یہ تھا :

الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلى عبادة الله ومن ضيق الدنيا إلى سعتها ومن جور الاديان إلى عدل الاسلام فارسلنا بدينه الى خلقه لندعوه اليله (ابن كثير - البدایہ والنہایہ ، جلد، ، صفحه (38) اللہ نے ہم کو بھیجا ہے کہ جس کو وہ چاہے ، بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں ۔ پس اس نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہم کسی بات کی گواہی دے رہے ہیں

مغلوں کے مقابلہ میں جب مرہٹے اور سکھ ابھرے تو مسلمان ان کے خلاف بھڑک اٹھے ۔ بدیس سے انگریز اگر ملک کے اوپر قابض ہو گئے تو ان کو ہٹانے کے لئے انھوں نے ساری دنیا میں ہنگامہ مچا دیا۔ کانگریس حکومت کے تحت ان کے ساتھ جبر و امتیاز کا سلوک ہوا تو اس کو انتخابی شکست دینے کے لئے ان کے درمیان زبردست طوفان اٹھ کھڑا ہوا ــــــــــــیہ ہے مسلمانان ہند کی دو سو سالہ سیاست کا خلاصہ ۔ اس پوری مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خوف خدا اور فکر آخرت کو دعوتی مشن بنانے پر ان کے درمیان آگ بھڑکی ہو، آنے والے يوم الحساب کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے وہ بے تابانہ اٹھ کھڑے ہوئے ہوں ۔ سیاسی مسائل اور اقتصادی مفادات کا معاملہ ہو تو فوراً ان کے اندر عمل کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آخرت کے مفادات اور جنت اور جہنم کے مسائل اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ مگر ان کی خاطر سر گرم ہونا وہ نہیں جانتے۔

مسلمان کا معاملہ عام قوموں سے مختلف ہے ۔ وہ ''شهداء اللہ فی الارض “ ہیں ۔ ان کو آخرت کے مسائل کی گواہی دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ مگروہ لوگوں کے سامنے دنیا کے مسائل کی گواہی دینے میں سارا زور دکھا رہے ہیں۔ یہ الٹی گواہی نبی آخرالزماں کی امت کے لئے جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مسلمان اپنی اس روش سے باز نہ آے تو اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی ۔ اس قسم کی سرگرمیاں خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہیں نہ کہ اس کی رحمت و نصرت کو کھینچنے والی ۔

مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم

ہم نے ایک ایسی چیز کے پیچھے اپنی عمر ضائع کر دی جس کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہے، نہ آخرت میں اس کے بارے میں سوال ہونے والا ہے۔

قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا۔ اور سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال ہی جلسہ پر تشریف لائے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مخموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے کہا ہاں ! ٹھیک ہی ہے میاں ۔ مزاج کیا پوچھتے ہو ، عمر ضائع کردی !

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے عرض کیا، حضرت ! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں، دین کی اشاعت میں گزری ہے، ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں، مشاہیر ہیں ، ہیں، جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی !

فرمایا : میں تم سے صحیح کہتا ہوں عمر ضائع کر دی !

میں نے عرض کیا : حضرت بات کیا ہے ؟

فرمایا: ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کد و کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرےمسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں امام ابوحنیفہ ؒکے مسائل کے دلائل قائم کریں اور دوسرے اللہ کے مسائل پر آپ کے مسلک کی ترجیح ثابت کریں، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر بر باد کی ؟ ابو حنیفہ ؒہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں ، ان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے وہ مقام لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا، وہ تو ہمارے محتاج نہیں ۔

other sourceWords of another person or source

اور امام شافعی ؒ، مالک اور احمد بن حنبل ؒا ور دوسرے مسالک کے فقہا جن کے مقابلے میں ہم یہ ترجیح قائم کرتے آئے ہیں کیا حاصل ہے اس کا ؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو ''صواب محتمل الخطاء'' ( درست مسلک میں خطاء کا احتمال موجود ہے) ثابت کر دیں اور دوسرے کے مسلک کو ” ''خطاءمحتمل الصواب'' غلط مسلک جس کے حق ہونے کا احتمال موجود ہے ) کہیں اس سے آگے کوئی نتیجہ نہیں، ان تمام بحثوں ، تدقیقات اور تحقیقات کا جن میں ہم مصروف ہیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پھر فرمایا:

ارے میاں ! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطاء، اجتہادی مسائل صرف یہی نہیں ہیں کہ دنیا میں ان کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، دنیا میں بھی ہم تمام ترتحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح ہے اور وہ بھی صحیح یا یہ کہ یہ صحیح ہے ، لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو ۔ اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی۔ قبریں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا۔ ؟ آمین بالجہرحق تھی، یا بالسرحق تھی، برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہو گا۔

حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے الفاظ یہ تھے:

اللہ تعالیٰ نہ شافعی کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہ کو،نہ مالک کو نہ احمدبن حنبل کو، جن کو اللہ تعالی نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بڑے حصے کو لگا دیا ہے ، جنھوں نے نور ہدایت چار سو پھیلایا ہے جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں ۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا۔ کہ وہاں میدان محشر میں کھڑا کر کے معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے برعکس، یہ نہیں ہوگا۔

تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرتا ہے، نہ برزخ میں نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی۔ اپنی قوت صرف کر دی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی۔ مجمع علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں ، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے ، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی ، آج یہ دعوت تو نہیں دی جارہی ۔ یہ ضروریات دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے و اغیار ان کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں نہیں لگے

وہ پھیل رہے ہیں۔ گمراہی پھیل رہی ہے ، الحاد آرہا ہے شرک و بت پرستی پھیل رہی ہے۔ حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے۔ لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں۔

اس کے بعد حضرت شاہ صاحب نے فرمایا " یوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی۔''

other sourceWords of another person or source

تمام انسان بنیادی طور پر ایک ہی قسم کا جسمانی ڈھانچہ رکھتے ہیں۔

تاہم کوئی بھی دو انسان بالکل ایک دوسرے کے مشابہ نہیں۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ شخصی انفرادیت صرف آج کے لوگوں میں نہیں ہے۔ ہر وہ انسان جو کبھی اس زمین پر رہا ہے۔ مکمل طور پر ایک منفرد شخصیت کا مالک تھا۔

ہر آدمی بے مثال اور نا قابل اعادہ ہے۔ یہی صورت ہے اور ناقابل ہے۔ حال مستقبل میں بھی باقی رہے گی۔

بے شمار شہادتوں سے ثابت ہوا ہے کہ انسان کے جسم اور ذہن میں پچھلے ایک لاکھ سال کے اندر کوئی قابل لحاظ تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ پتھر کے زمانہ میں انسانی جسم جس طرح قدرتی حالات کے تحت عمل کرتا تھا۔ آج بھی وہ ویساہی کرتا ہے اس پر، مثال کے طور پر ، چاند کی گردش کا اثر پڑتا ہے۔ جیٹ جہاز جب تیزی سے اڑ کر ہم کو دن کے وقت رات کے لمحہ میں داخل کر دیتا ہے تو انسانی جسم میں عضو یا تی کش مکش شروع ہو جاتی ہےــــــاس طرح کے واقعات ارتقا پسند علماء کے تمام قیاسات کو باطل ثابت کرتے ہیں ۔

دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات

خدائی پیغام رسانی کا کام ، انسانیت کے آغاز سے لے کر ساتویں صدی عیسوی تک، پیغمبروں کے ذریعہ ہوا ہے نبوت کی سطح پر اس کام کی انجام دہی کا یہ فائدہ تھا کہ اسکو معجزاتی تائید کی قوت حاصل رہتی تھی۔ نبی جب اپنی مدعو قوم کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتا تو اس کے ساتھ وہ ایسے معجزات پیش کرنے پر قادر ہوتا جو اس کی دعو ت کی صداقت پر غیر معمولی بر ہان بن سکیں ۔

ختم نبوت کے بعد یہ صورت حال ہوگئی کہ دعوت کی ذمہ داری تو بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ باقی ہے۔ مگر دعوت کے حق میں معجزاتی تائید کا وعدہ باقی نہیں رہا۔ ایک حکومت جب کسی کو فارسٹ افسر مقرر کرتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کو ضروری اسلحہ بھی دیتی ہے تاکہ جنگل میں درندوں کے متوقع حملہ کے وقت وہ اپنا دفاع کر سکے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن تھا کہ وہ ہستی جو ساری رحمتوں کا خزانہ ہے وہ اس پہلو کو بھول جائے، وہ ہم کو ذمہ داری سونپ دے مگر ہماری ضرورتوں کا انتظام نہ کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ بعد کو آنے والے داعیوں کے لئے اللہ نے ایسا انتظام کیا جو پچھلے تمام انتظامات سے بھی زیادہ بڑا تھا۔ اللہ نے اس مقصد کے لئے خود انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا تا کہ دعوتی مشن کے حق میں وہ تائید ہم کو معمولی حالات میں مل جائے جس کو پچھلے لوگ صرف غیر معمولی حالات میں پانے کی توقع کر سکتے تھے۔ اگرچہ موجودہ دور میں ہم اس راز کو سمجھ نہ سکے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے .

قرآن میں شرک کو ظلم عظیم (۳۱ : ۱۳) کہا گیا ہے ۔ اس کے بالمقابل توحید کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ وہی کھل صداقت ہے (۳۲:۱۰) ۔ قدیم ترین زمانہ سے انسانی زندگی کا نظام شرک کی بنیاد پر قائم چلا آرہاتھا۔ تمام پیغمبر خدا کی طرف سے آئے ، وہ اسی لئے آئے کہ انسان کو شرک کی برائیوں سے آگاہ کریں اور توحید کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کریں تاکہ انسان کے اوپر دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کا دروازہ کھل سکے ۔ مگر قوموں نے پیغمبروں کی بات چلنے نہ دی نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پیغمبر ہیں جن کو خدا کی خصوصی نصرت کے تحت یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ انھوں نے شرک کو مقام اقتدار سے ہٹا دیا اور توحید کی بنیاد پر ایک عمل انقلاب پیدا کر دیا (و قَاتِلُوهُمْ حَتى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّين کله الله ) یہ انقلاب جو ساتویں صدی عیسوی میں ظہور میں آیا ، اس کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ اس نے تاریخ انسانی میں پہلی بار مظاہر کائنات کے تقدس کو ختم کر دیا اور انسانیت کے لئے اُس مادی نعمت کے ظہور کی راہ ہموار کی جس کو جد ید سائنس کہا جاتا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تہذیب جدید کے مورخین کے سامنے ایک سوال یہ رہا ہے کہ فطرت کے خزانے اول دن سے زمین کے اوپر موجو تھے۔ انسان کے اندر ضروری ذہنی صلاحیت بھی قدیم ترین زمانہ سے پائی جاتی رہی ہے۔ پھر اس خزانہ کو انسانی تمدن کے لئے استعمال کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی ۔ انسان لاکھوں برس سے زمین کے اوپر آباد ہے۔ مگر زمین کے قدرتی خزانوں کو موجودہ شکل میں استعمال کرنے کی تاریخ صرف چند سو برس پیچھے تک جاتی ہے۔ مورخ آرنلڈ ٹائن بی (۱۹۷۵ - ۱۸۸۹) نے بجا طور پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ قدیم زمانہ کا انسان زمین کو دیوتا سمجھتا تھا۔ یہاں کی ہر چیز اس کے لئے خدا کا درجہ رکھتی تھی ۔ وہ ان کو دیکھتا تو ان کے بارے میں اس کے اندر تقدس اور پرستش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا ۔ نفسیاتی فضا میں زمینی ذرائع کو انسانی خدمت کے لئے استعمال کرنے کا جذ بہ نہیں ابھر سکتا تھا۔ ٹائن بی کے الفاظ میں یہ توحید (Monotheism) کا عقیدہ ہے جس نے کائنات کے تقدس کو ختم کیا اور ہر چیز کو ایک خدا کی مخلوق بتایا۔ اس طرح وہ نفسیاتی فضا پیدا ہوئی جس میں انسان اپنے سیارہ کو دیوتا سمجھنے کے بجائے اپنا خادم سمجھے اور اس پر تصرف کا عمل کر سکے ۔ (ریڈرز ڈائجسٹ مارچ ۱۹۷۴)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کائنات کو تسخیر و تدبر کا موضوع سمجھنے کا ذہن اولاً اسلام کے اثر سے عربوں میں پیدا ہوا۔ اس فکری انقلاب کا ایک دھارا وہ تھا جس کا مرکز سسلی اور اسپین بنا۔ ان ملکوں میں ، غلبہ توحید کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر سائنسی کھوچ اور زمینی خزانوں کو استعمال کرنےکا ذہن ابھرا اور بالآخر ایک عظیم الشان تہذیب وجود میں آگئی۔ یہی عرب تہذیب تیرھویں صدی سے اٹلی کے راستہ یورپ پہنچنا شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے بالآخر سترھویں اور اٹھار دیں صدی کے انقلاب کا سبب بنی۔ جدید مورخین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا کا سبب اول (First Cause)نبی عربی کے پیروؤں کے وہ کارنامے تھے جو انھوں نے اسپین کی حکومت (711۔1492) کے زمانہ میں دکھائے ۔ بریفالٹ ( Briffault) نے لکھا ہے " اگر چہ یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہ اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن اثرات موجود نہ ہوں۔ لیکن یہ اثر کہیں بھی اتنا واضح اور اہم نہیں جتنا اس طاقت کے ظہور میں ہے جو دنیائے جدید کی مخصوص اور مستقل قوت اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یعنی سائنس اور سائنسی طرز فکری اس کے بعد اس کے الفاظ یہ ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

It is highly probable that but for the arabs, modren industrial civilisation would never have arisen at all

Making of Humanity, p. 202

انتہائی اغلب ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی ۔

کائناتی تقدیس ختم ہونے کا ہی نتیجہ نہیں ہوا کہ عالم طبیعی کے بارے میں انسان کا نقطئہ نظر بدل گیا۔ انسانی تعلقات کے تمام شعبے بھی اس سے انتہائی گہرائی کے ساتھ متاثر ہوئے مشر کا نہ نظام کے تحت جس طرح یہ ہوا تھا کہ طبعی دنیا میں جو چیز زیادہ روشن اور نمایاں نظر آئی اس کو خدا سمجھ لیا گیا، اسی طرح انسانی عظمتوں کے بارے میں بھی فوق الفطری عقیدے قائم ہو گئے ۔ بادشاہ دیوتاؤں کی اولاد قرار پائے۔ مذہبی پیشواؤں کے ساتھ خدا کا خصوصی رشتہ فرض کر لیا گیا۔ جس انسان کے اندر کوئی برائی نظر آئی اس کے متعلق یقین کر لیا گیا کہ اس کو کوئی خاص آسمانی حیثیت حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں۔

اسلامی انقلاب کے بعد جب شرک کا نظام ٹوٹا اور توحید کو غلبہ حاصل ہوا تو انسانی عظمتوں کو فوق الفطری معتقدات سے وابستہ کرنے کا ذہن بھی ختم ہو گیا۔ اب سارے انسان ایک خدائے برتر کی یکساں مخلوق قرار پائے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق کرنے کی وہ بنیاد باقی نہ رہی جس کی وجہ سے تاریخ کے نامعلوم زمانوں سے انسانیت اونچ نیچے میں مبتلا چلی آرہی تھی۔ انسان اپنے حقیقی شرف سے محروم تھا۔ پیغمبر اسلام نے توحید کی بنیاد پرجو انقلاب برپا کیا، اس نے خدا کی برتری اور اس کے مقابلہ میں سارے انسانوں کی یکسانیت اس طرح ثابت کی کہ قدیم روایتی نظام بالکل ٹوٹ کر رہ گیا ۔ انسانیت ایک نئے راستہ پر چل پڑی ۔ لوگوں کے عقائد بدل گئے۔ پیشوائی اور سرداری کا سابقہ نظام درہم برہم ہو گیا۔ وہ شہنشاہتیں زمیں بوس ہو گئیں جو فوق الفطری عظمتوں کا یقین دلاکر لوگوں کے اوپر حکومت کر رہی تھیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار تبدیلی کا آغاز ہوا جو ساری دنیا میں ایک نئے انسانی دور کا آغاز بنا ۔

روسو (1712۔1778) نے اپنی کتاب اس مشہور فقرہ سے شروع کی ہے :

" انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں ۔"

other sourceWords of another person or source

یہ فقره در حقیقت خلیفہ ثانی عمر فاروق (۶۴۴ (۵۸) کے اس فقرہ کی بازگشت ہے جو انھوں نے روس سے گیارہ سو برس پہلے محض ایک خیالی نظریہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ریاست کے حاکم اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے ماتحت افسر سے کہا تھا:

other sourceWords of another person or source

متى عبدت الناس وقد خلقتهم امهاتهم احرارا تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنا لیا، حالاں کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا۔

other sourceWords of another person or source

تاریخ انسانی کو پیغمبر اسلام کی اس دین کا اعتراف غیر مسلم محقفین نے عام طور پر کیا ہے۔ ڈاکر ہیر الال چوپڑا( کلکتہ یونیورسٹی) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Modern history attributes liberty equality and fraternity to be the outcome of the French revolution but the first person to proclaim it Islam fourteen centuries ago. ,was the founder .

Illustrated Weekly of India, April 15, 1973

جدید تاریخ آزادی، مساوات اور اخوت کو فرانسیسی انقلاب کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ مگر پہلا شخص جس نے اس کا اعلان کیا وہ اسلام کے بانی تھے جو چودہ سو سال پہلے پیدا ہوئے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعات جو عالم طبیعی اور عالم انسانی میں پیش آئے ، یہ دراصل توحید کے پیدا کردہ انقلاب کے دنیوی نتائج تھے۔ امریکہ سے ایک انسائیکلو پیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے : " مین اینڈ ہزگاڈس''۔ اس میں مختلف مذاہب پر مقالے ہیں۔ اسلام پر جو مقالہ ہے اس کے عیسائی مقالہ نگار نے اسلامی انقلاب کے ان نتائج کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Its advent changed the course of human history (p.389)

اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔

پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ جو انقلاب برپا کیا گیا، وہ اگر چہ اصلاً توحید اور آخرت پر مبنی ایک انقلاب تھا۔ مگر اس نے بہت سے دور رس دنیوی نتائج بھی پیدا کئے ۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے دنیوی نتائج میں سب سے اہم وہ نتائج ہیں جنھوں نے قدیم زمانہ کے سماجی اور اجتماعی نظام کو اس طرح بدل دیا کہ وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوت حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بن گیا تھا۔ اب دعوت حق کا وہ کام ایک سادہ اور آسان ہی ہوئے میں کام بن چکا ہے جس کے لئے اٹھنے والوں کو قدیم زمانہ میں فرعون کے اس چیلنج کا سامنا کرناہے سامنا کرنا پڑا تھا :

میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا۔ (شعراء۔49) اسی طرح اس انقلاب نے قدیم زمانہ کے اس فکری ڈھانچہ کو بدل دیا جس نے قیاسات اور تو ہمات کو علم کا درجہ دے رکھا تھا ۔ ۔ کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی تصدیقی نشانیاں لوگوں کے سامنے آگئیں ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت حق کا وہ کام جس کے لئے اس سے پہلے معجزاتی استدلال کی ضرورت ہوتی تھی ، اب ممکن ہو گیا ہے کہ خود علم انسانی کے ذریعہ اس کو ثابت اور مدلل کیا جاسکے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ کا رخ موڑنے کا یہ عمل جو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا ، موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔ خدا کے دین کی خاطر کام کرنے والوں کے لئے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کے تائیدی ذرائع موجود ہیں ۔ قانونی اور سماجی انقلابات نے اب اس کا موقع دے دیا ہے کہ دعوت اسلام کا کام اس طرح کھلے میدان میں کیا جائے جہاں کوئی فرعون اور کوئی نمرود راستہ روکنے کے لئے موجود نہ ہو۔ حقائق کی دنیا جواب انسان کے علم میں آئی ہے وہ نہ صرف تمام دوسرے ادیان کو بے اعتبار ثابت کر رہی ہے بلکہ مثبت طور پر اس نے دین حق کی صداقت پر تمام دلائل جمع کر دیئے ہیں ۔ یہ ایک نہایت وسیع مضمون ہے تاہم اس خاص پہلو سے یہاں ہم اس انقلاب کے بعض نتائج کا ذکر کریں گے

ا۔سیاسی ادارہ کو فوق الفطری معتقدات سے جدا کرنا

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار ہزار برس پہلے قدیم عراق کے دارالسلطنت (ُار) کے لوگوں کو پکارا کہ صرف ایک خدا ہے جو نفع و ضرر کا مالک ہے۔ ان باتوں میں کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اس لئے تم اسی سے حاجتیں مانگو اور اسی کی پرستش کرو ۔ اس دعوت توحید کے خلاف اس وقت کے مشرک بادشاہ نمرود کلدانی نے اتنا شدید رد عمل ظاہر کیا کہ آپ کو آگ کے الاؤ میں ڈال دیا۔ آج بھی ہندستان میں شرک کا عقیدہ بڑے پیمانہ پر پایا جاتا ہے لیکن آج آپ یہاں دعوت ابراہیم کو لے کر اٹھیں تو نئی دہلی کے حکمراں آپ کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں کریں گے۔

اس کی وجہ زمانی تبدیلی ہے۔ نمرود کے زمانہ میں شرک ایک سیاسی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب کہ آج وہ صرف ایک محدود مذہبی عقیدہ ہے۔ نمرود، قدیم زمانہ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح ، لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر ان کے اوپر حکومت کر رہا تھا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے ، اس لئے اس کو حکمرانی کا فوق الفطری حق حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں ۔ اس کے برعکس ہندستان کے موجودہ حکمرانوں کے نزدیک اس قسم کے کسی عقیدہ کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں ۔ انھوں نے عوامی ووٹوں کی بنیاد پر حکمرانی کا حق حاصل کیا ہے نہ کہ کسی فوق الفطری عقیدہ کی بنیاد پر یہی وجہ ہے کہ تو حید کی دعوت میں ان کو اپنے سنگھاسن کے لئے کوئی راست نظریاتی خطرہ نظر نہیں آتا ، جبکہ نمرود کو اس قسم کے کسی عقیدہ کے پھیلنے میں اپنی سیاسی جڑ کٹتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔

قدیم زمانہ میں جب کوئی نبی اٹھتا تو اکثر ایسا ہوتا کہ پہلے ہی مرحلہ میں اقتدار وقت سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا اور غیر ضروری قسم کی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہو جائیں ۔ اس کی وجہ سیاسی اداروں کے ساتھ کے ساتھ فوق الطبیعی عقائدکی یہی وابستگی تھی۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ عوام کو یہ یقین دلاکر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں ، خدا ان کے اندر حلول کر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب توحید خالص کی آواز بلند ہوتی تو ان کو نظر آتا کہ وہ ان کے سیاسی استحقاق کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ یہ اعتقادی پیچیدگی ان کو دائی حق سے متصادم کر دیتی تھی ۔ اسلام نے ثابت کیا کہ ہر قسم کا فوق الفطری اقتدار صرف خدا کے لئے ہے اور یہ اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ اب سیاسی حکمرانی صرف سیاسی حکمرانی تھی ، وہ مسئلہ توحید سے کوئی براہ راست تعلق نہ رکھتی تھی ۔

اسلام کی اس فکر کی بنیاد پر عرب میں جو انقلاب آیا، وہ ایشیا اور افریقہ ہوتا ہوا بالآخر یورپ پہنچا۔ اٹھارویں صدی میں فرانس اور امریکہ کے جمہوری انقلابات اسی کی بازگشت تھے ۔ اس کے بعد تبدیلی کا یہ حمل آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب وہ وقت اپنی کامل صورت میں آگیا کہ ایک داعی توحید کی دعوت لے کر اٹھے اور سیاسی اعتقاد یا ت کی پیچیدگی میں الجھے بغیر بندگان خدا کو حق سے آگاہ کرتا رہے ۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص عوام میں یہ بات مشہور کر کے اپنا طبی کا روبار چلا رہا ہو کہ وہ ایک جین ڈاکٹر کا شاگرد ہے جو روزانہ رات کو آکر اس کو فن طب کے رموز بتا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص یہ آواز بلند کرے کہ علم طب میڈیکل کالج میں سیکھا جاتا ہے نہ کہ جناتوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو مذکورہ طبیب ایسی تحریک کا سخت مخالف ہو جائے گا۔ جب کہ اسی بستی میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو اس تحریک سے کوئی عداوت نہ ہوگی ۔

۲- اظہار رائے کی آزادی

دنیوی عظمتوں کو فوق الطبیعی سمجھنے کا یہ نتیجہ بھی تھاکہ قدیم زمانہ میں عام افراد کو رائے کی آزادی حاصل نہ تھی ۔ ایک شخص کی زبان قانون ہوتی تھی۔ اسلام نے جب غیر اللہ کے لئے فوق الطبیعی عظمتوں کے تصور کو منہدم کیا تو ساری دنیا میں ایک نیا عمل شروع ہوگیا۔ اگرچہ انتہائی خلاف زمانہ تصور ہونے کی وجہ سے اس عمل کی تکمیل میں ایک ہزار برس لگ گئے ۔ تاہم وہ چیز جو قدیم زمانہ میں ایک مسلمہ حقیقت سمجھی جاتی تھی آج وہ اتنی بے دلیل ہو چکی ہے کہ ساری دنیا میں کوئی اس کی وکالت کرنے والا نہیں ۔

جاپان کی تاریخ اس سلسلے میں بڑی سبق آموز مثال پیش کرتی ہے۔

سولھویں صدی کے نصف آخر میں عیسائی مذہب پرتگیزیوں کے ذریعہ جاپان میں داخل ہوا اور ملک

میں پھیلنے لگا۔ یہ بادشاہت کا زمانہ تھا ۔ ۱۶۱۲ میں ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس کے مطابق عیسائیت اور اس کی تبلیغ کو جاپان میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ دو سو برس تک اس فرمان پر انتہائی بے رحمی کے ساتھ عمل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ عیسائیت کو جاپان سے بالکل ختم کر دیا گیا۔

مگر اسی مدت میں ایک اور عمل جاری تھا۔ اسلام نے تاریخ انسانی کو جو دھکا دیا تھا، وہ یورپ میں داخل ہو کر اٹھار دیں صدی میں اپنی آخری سیاسی انتہا کو پہنچ گیا۔ فرد کی آزادی اور اظہار رائے مسلمہ انسانی حق قرار پائے ۔ یہ افکار جو اولاً فرانس میں مرتب ہوئے انھوں نے ساری دنیا پر اپنے اثرات ڈالنے شروع کئے ۔ یہاں تک کہ جا پان کو ۱۸۷۳ میں خلاف مسیحیت قانون کو منسوخ کرنا پڑا اور ہر ایک کے لئے اظہار رائے کی عمل آزادی تسلیم کرلی گئی۔

اس زمانی تبدیلی نے دین کی دعوت و تبلیغ کے تمام راستے کھول دیئے ہیں ۔ اب ساری دنیا میں دین خداوندی کا اعلان کیا جاسکتا ہے اور کہیں بھی داعی کی زبان قلم پر کئی پابندی لگانے والا نہیں ہوگا تاہم اس امکان کے دروازے اب بھی کھلے ہوئے ہیں کہ ہم خود اپنی نادانی کی وجہ سے دوبارہ کسی نئے عنوان سے وہی مسائلی اسلام کی راہ میں کھڑے کر دیں جن کو خدا نے اسلام کی راہ سے ہٹا دیا تھا۔ کوئی بھی انتظام ، خواہ کتنا ہی اعلیٰ پیمانہ کا ہو کسی کے لئے اس قسم کی نادانی کے امکان کو بند نہیں کرتا ۔

3 ۔مظاہر فطرت کو تسخیر و تدبر کا موضوع بنانا

کائناتی مظاہر پچھلے تمام معلوم زمانوں سے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ اسلام نے پہلی بار ان کو تسخیر و تقدیر کا موضوع بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔ جب تک آدمی ان کو خدا سمجھتا تھا وہ ان کے آگے جھکتا رہا۔ جب اس نے جانا کہ یہ سب مجبور اور مخلوق ہیں تو اس نے ان کو سمجھنے کے لئے تحقیق شروع کر دی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علوم فطرت آدمی کے سامنے کھلنے لگے۔ خدا نے اپنی تخلیقات میں جو تصدیقی نشانیاں رکھ دی تھیں وہ ایک ایک کر کے ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر اب وہ وقت آگیا ہے جس کی پیشگی اطلاع قرآن میں ان لفظوں میں دی گئی تھی : ہم ان کو آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ ہی ہے ۔ یہ پیشین گوئی اتنے بڑے پیمانہ پر واقعہ بن چکی ہے کہ جو باتیں ماضی کے انسان کے لئے ایمان بالغیب کی حیثیت رکھتی تھیں، آج وہ اس کے لئے ایمان بالشہود کے درجہ پر پہنچ چکی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانہ کا انسان فطرت کو سادہ واقعات کا مجموعہ سمجھتا تھا، آج معلوم ہوا کہ وہ بے حد پیچیدہ اور انتہا حد انتہائی حکیمانہ اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کا نظام اتنی محکم بنیادوں پر چل رہا ہے کہ ایک عظیم کار ساز کو مانے بغیر اس کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں ۔ قدیم فلاسفہ یہ کہتے تھے کہ خدا جیسے ایک انزلی وجود کو ماننے کے بجائے ہم کیوں نہ اسی کا ئنات کو از لی مان لیں۔ مگر جدید تحقیقات (مثال کے طور پر بگ بینگ نظریہ) نے اس نقطہ نظر کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے ۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ دنیا ایک دقت خاص میں پیدا کی گئی۔ گویا اب ایک از لی وہ ابدی خالق کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات کے اندر جو مختلف طبیعی کیمیاوی اور حیاتیاتی مظاہر ہیں، ان کو بہت سی الگ الگ فطری طاقتیں کنٹرول کر رہی ہیں۔ نیوٹن کے بعد ان طاقتوں کی گنتی تین تک آگئی : تجاذب ، مقناطیسیت اور نیوکلیر فورس ۔ مگر حال میں ایٹم کے اندر جو جادوئی ذرہ (Charmed Particle ) دریافت ہوا ہے، اس کے بعد تعدد کا نظریہ ختم ہو گیا۔ اب یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ ایک ہی متحدہ طاقت ہے جو فطرت کے تمام عملوں کی ذمہ دار ہے۔ گو یا شرک کے حق میں علمی بنیاد ختم ہوگئی اور اب توحید کے سوا کوئی راستہ انسان کے لئے باقی نہیں رہا ز زندگی بعد موت جس کو پہلے تا قابل ثبوت سمجھا جاتا تھا ، اب اس کا سائنسی ثبوت فراہم ہونے لگا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مذہبی علماء آج ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے : زندگی کے بعد زندگی (Life After Life)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4- غیر علمی طرز فکر کا خاتمہ

پچھلے تمام زمانوں میں غیر علمی یا تو ہماتی طرز فکر دنیا کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ اس طرز فکر کا خا صہ ہے کہ وہ کسی بات کی گہری جانچ کئے بغیر اس کو مان لیتا ہے ۔ قدیم زمانہ میں اس غیر علمی طرز فکر نے لوگوں کو یہ موقع دے رکھا تھا کہ وہ آسانی سے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ذہنی پناہ گاہ تلاش کرلیں جہاں وہ دین حق سے بھاگ کر چھپ سکیں ۔ فتح مکہ کے بعد جب کعبہ سے بتوں کو نکال کر توڑا جانے لگا تو اسلام کا یہ غلبہ دیکھ کر کہ کے بت پرستوں کو فورا ًتوبہ کرلینی چاہئے تھی۔ مگر انھوں نے یہ کیا کہ وہ بستی چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگ گئے ۔ ان کا یقین تھا کہ اب ضرور مکہ پر کوئی آفت آئے گی اور مسلمانوں کے استیصال کا جو کام وہ خود نہ کر سکے وہ ان کے بت انجام دے دیں گے۔ انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر بتوں کے اندرطاقت ہوتی تو وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہی کیوں ہونے دیتے۔

سائنسی انقلاب در اصل تو ہماتی طر زفکر کے بجائے واقعاتی غوروفکرکا نام تھا۔ کائنات کانظام چونکہ انتہائی اٹل بنیادوں پر چل رہا ہے۔ اس لئے فطری طورپر کائناتی علم کی ترقی نے تجرباتی استدلال اور حقیقت پسندانہ تحقیق کا مزاج پیدا کیا۔ قدیم زمانہ میں لوگوں کو اپنی تو ہم پر سی اور غیر علمی انداز فکر کی وجہ سے ایک غیر واقعی بات کو مان لینے میں کوئی مشکل نہیں پیش آتی تھی۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ ایک بے بنیاد عقیدہ کو اس طرح اپنے ذہن میں جگہ دے سکتے تھے گویا وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت ہے۔ مگر آج کا انسان حقیقت واقعہ سے کم تر سطح پرکسی چیز کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ اس ذہنی فضا نے تاریخ میں پہلی بار تمام دروازے صرف دین حق کے لئے کھول دیتے ہیں کیونکہ اس کے سوا کوئی دین نہیں جو واقعاتی تجزیہ اور حقیقت پسندانہ جانچ کے معیار پر پورا اتر سکے۔

یہ نئی زمین جو اسلام کے حق میں تیار ہوئی ہے، مسلمان خود تو ابھی بہت کم اس سے فائدہ اٹھا سکے ہیں۔ البتہ اس سے پیدا شدہ ثمرات ان کو ملنا شروع ہو گئے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہی چیز ہے جس نے اسلام کے مطالعہ کے لئے قدیم طرز کے استشراق کا خاتمہ کر دیا۔ صلیبی لڑائیوں کے بعد مسیحی یورپ نے اسلام کی تاریخ اور اس کی تعلیمات کو بالقصد بگاڑنا شروع کیا۔ صدیوں تک یہ کام جاری رہا۔ یہاں تک کہ سارا مغربی لٹریچر اس سے بھر گیا۔ سائنس کے ظہور سے پہلے لوگوں کو اس میں کوئی قابل اعتراض بات نظرنہ آتی تھی۔ مگر سائنس کے زور پر جو حقیقت پسندانہ طرز فکر پیدا ہوا، اس نے اس طریق مطالعہ کو بے معنی بنا دیا۔ قدیم استشراق کے خاتمہ کا یہ عمل ٹامس کارلائل (۱۸۸۱ - ۱۷۹۵) کے زمانہ میں شروع ہوا اور اب بیسویں صدی کے نصف آخر میں وہ بالکل ختم ہو چکا ہے ۔

5 ۔افسانوی طرز فکر کے بجائے تاریخی طرز فکر

قدیم زمانہ میں روایت اور تاریخ میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ لوگ ایک بے اصل افسانہ کو بھی اس طرح مانتے تھے جس طرح ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ کو ماننا چاہئے۔ سائنسی اور علمی نقطہ نظر نے جب حقیقت پسندی کا ذہن پیدا کیا تو اس کے ساتھ فطری طور پر یہ ذہن بھی پیدا ہوا کہ انسانی واقعات کو مورخانہ انداز سے سمجھا جائے۔

تاریخی تحقیق کی یہ مہم مذہب تک بھی پہنچی اور وہ فن پیدا ہو اجس کوتنقید عالیہ (Higher Criticism) کہا جاتا ہے۔ اس شعبئہ تاریخ کے تخت جب مختلف مذاہب کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ دور قدیم کے سارے مذاہب تاریخی حیثیت سے غیر معتبر ہیں۔ اسلام کے بعد ، تمام مذاہب میں، عیسائیت سب سے قریبی زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس کا حال بھی یہ ہے کہ حضرت مسیح کے وجود کا کوئی تاریخی ریکارڈ آپ کی معاصر تاریخ میں نہیں پایا جاتا۔ آنجناب کے بارے میں معلومات کا واحد ذریعہ وہ مختصر انجیلیں ہیں جن کا تاریخی استناد خود انتہائی طور پرمشتبہ ہے۔ مذاہب کی فہرست میں صرف اسلام کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ پروفیسر ہٹی کے الفاظ میں وہ تاریخ کی پوری روشنی میں within the full light of history پیدا ہوا۔ اس کی تمام چیزیں تاریخ کے معیار پر مکمل طور پر پوری اترتی ہیں۔ اسلام، پورے معنوں میں، ایک تاریخی واقعہ ہے نہ کہ غیر ثابت شدہ روایات کا مجموعہ قدیم زمانہ میں تاریخی ثبوت کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ مگر آج کا انسان اس چیز کو قابل غور بھی نہیں سمجھتا جو مورخانہ معیار پر پوری نہ اترتی ہو۔ اس صورت حال نے اسلام کو لوگوں کے لئے پرکشش بنانے کا اتنا بڑا میدان کھول دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہ تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 ۔آسمانی توجیہہ کی تلاش

خدا کونہ ماننے والوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ زمینی واقعات کی توجہ خود زمین کے حالات میں تلاش کریں۔ مثلا زندگی کوز مینی عناصر کے تعامل کا نتیجہ قرار دینا۔ مگر جدید شواہد نے اس قسم کی باتوں کو بالکل بے بنیاد ثابت کردیا ہے۔ اب سائنس داں مجبور ہو رہے ہیں کہ وہ زمینی واقعات کے لئے آسمانی توجیہہ تلاش کریں۔ مثلاً قدیم نظریہ ارتقا کے بجائے اب پنیس پرمیا (Panspermia)کانام لیاجانے لگاہے جس کا مطلب ہے کہ زندگی نیا کا نام لیا جانے لگا ہے زمین پر خود بخود پیدا نہیں ہوگی بلکہ بالائی خلا سے ہمارے اس کرہ پر بالقصد بھیجی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالائی خلا میں کسی مقام پر غالباً ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ''تہذیب “ موجود ہے جس نے زمین پر زندگی کے جراثیم بھیجے ہیں ۔

مزید یہ کہ فلکیات کے وسیع تر مطالعہ سے معلوم ہوا کہ " عالم بالا''ہم سے غیر متعلق اور بے عقل و بے شعور عالم نہیں ہے۔ ایسے قرائن معلوم ہوئے ہیں جو بناتے ہیں کہ خلا کے کسی مقام پر ہم سے زیادہ ذہین ہستیاں موجود ہیں۔ وہ اپنے اعلیٰ مواصلاتی ذرائع سے مسلسل ہماری زمین سے ربط رکھے ہوئے ہیں۔ حال میں ایک نیا شعبہ مطالعہ وجود میں آیا ہے جس کو ریڈیائی فلکیات (Radio Astronomy) کہا جاتا ہے۔ علم الافلاک کی اس نئی شاخ کا مقصد بالائی خلا میں سگنل بھیجنا اور اوپر سے آنے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کرنا ہے۔ سائنسی حیثیت سے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بہت سے ادارے وجود میں آئے ہیں جو مختلف تدابیر کے ذریعے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ زمین کے علاوہ کسی دوسرے کائناتی مقام پر جو علی تر ذہنی ہستیاں پائی جاتی ہیں ، ان سے ربط قائم کیا جائے۔ ان کوششوں کا انجام خواہ جو بھی ہو، تاہم اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جدید انسان کے لئے خدائی الہام کا تصور اب ایسی مستبعد چیز نہیں رہا جس پر سوچنے کے لئے وہ تیارہی نہ ہو سکتا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فطرت کی دریافت اور کائنات کی تسخیر نے موجودہ زمانہ میں عیش و عشرت کے بے شمار نئے دروازے کھول دیئے۔ انسان نے ایسا شاندار تمدن بنایا جو معلوم تاریخ کے مطابق اس زمین پر کبھی نہیں بنا تھا اور آرام وراحت کے ایسے سامان فراہم کئے جو پہلے انسان نے خواب میں بھی نہیں دیکھے تھے۔

مگر ترقیوں کی انتہاپر پہنچ کر بالاخر انسان کو علم ہوا کہ موجودہ دنیا میں وہ زندگی نہیں بن سکتی جو خوف و حزن اور لغو اور تاثیم سے خالی ہوــــــــ ترقیات نے فطرت کے حسین توازن کو توڑ دیا۔ بڑھایا ، بیماری اور موت پر قابو پا ، پانا ممکن نہ ہو سکا ۔ حکومتی نظام اور قانونی ضوابط انسان کو نظم وضبط کے دائرہ میں رکھنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئے۔ مشینی تہذیب کی کثافتوں نے خشکی وتری کو فساد سے بھر دیا۔ مادی ساز و سامان آدمی کو خوشی اور سکون نہ دے سکے۔ وغیرہ

اس تجربہ کے بعد ساری دنیا میں ایک نئی حرکت شروع ہوئی ہے ۔ انسان مادیات سے اکتا کر غیر مادیات سے اپنی تسکین ڈھونڈ رہا ہے۔ خارجی دنیا سے واپس ہو کر وہ اپنی اندرونی دنیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے اس کو شش نے مذہب اور نفسیات کے علم کو بالکل نئی اہمیت دے دی ہے۔ آج کا انسان دوبارہ اس مقام پر واپس آگیا ہے جہاں اس کو خدا اور مذہب کی باتیں بتائی جائیں اور وہ ان کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرے۔ قدیم زمانہ میں تھوڑے سے ''حنیف ''تھے جو سچائی کی تلاش کر رہے تھے ۔ آج دنیا کی دنیا سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

یہ ذہنی زمین، بالواسطہ طور پر اسلام ہی کی پیدا کردہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے معاملہ میں اسلام کے پیروہی سب سے پیچھے دکھائی دیتے ہیں ۔

اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں دین حق کی تبلیغ واشاعت کا بالکل نیا میدان کھول دیا ہے ۔ آج سیاسی جبر اور ذہنی رکاوٹ دونوں سے آزاد ہو کر خداوندی پیغام کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ الا یہ کہ ہم خود اپنی نادانی کی وجہ سے دوبارہ کسی نئے عنوان سے وقت کے حکمرانوں سے وہی ٹکراؤ شروع کر دیں جس سے خدا نے دعوت اسلامی کی تحریک کو محفوظ کر دیا تھا۔

7۔سائنٹفک اسلوب بیان

اس سلسلے میں ایک بات دعوت حق کے اسلوب سے متعلق ہے۔ قرآن میں دعوت حق کو جس زبان میں پیش کیا گیا ہے ، وہ فطرت کی سادہ زبان ہے ۔ " افی اللہ شک فاطر السماوات والارض'' کی زبان سے قدیم زمانہ کا تعلیم یافتہ انسان زیادہ مانوس تھا۔ وہ یا تو جادو اور طلسمات سے متاثر ہوتا یا خیالی فلسفوں سے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم صوفیاء کو لوگ اور اشراق سے اس ذوق کے لئے تسکین فراہم کرنی پڑی اور متکلمین یونانی فلسفہ سے ۔ قُصاص کے گروہ نے اسی مقصد کے لئے بے شمار تعداد میں عجائب و غرائب قصے گھڑے اور ان کے ذریعہ اسلام کی ایک الف لیلہ تیار کردی۔

مگر اب صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے ۔ اب سائنس کے انقلاب کے بعد، وہی زبان اور اسلوب وقت کا معیاری اسلوب قرار پا گیا ہے جو چودہ سو برس پہلے قرآن میں اختیار کیا گیا تھا۔ یہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مدد ہے ۔ اب ہمیں نہ تو بے معنی قسم کی روحانی ورزشوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ قصہ گوئی اور فلسفہ طرازی کا کمال دکھانے کی۔ اب قرآن کی دعوت کو اس کے سادہ فطری اسلوب ہی میں لوگوں کے سامنے رکھا جا سکتا ہے ۔ قرآن و حدیث کے سادہ ترجمے، سیرت رسول اور حالات صحابہ پر واقعاتی اسلوب میں لکھی ہوئی کتا ہیں اگر مختلف زبانوں میں مرتب کر کے دنیا بھر میں پھیلا دی جائیں تو یہی اقوام عالم پر حجت قائم کرنے کے لئے کافی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8۔ وسائل کا خدا داد خزانہ

آخری بات یہ کہ موجودہ زمانہ میں علم کی ترقی اور پریس کی ایجاد نے دعوتی کام کی انجام دہی کے لئے لامتناہی امکانات کھول دیتے ہیں۔ حضرت مسیح کی آواز، آنجناب کے زمانہ میں فلسطین کے ایک قصبہ سے باہر نہ جاسکی۔ مگر آج آپ کے پیرو بیک وقت دو ہزار سے بھی زیادہ زبانوں میں مسیحی مذہب کو منتقل کر رہے ہیں اور سارے عالم میں مسلسل اس کی آواز پہنچا رہے ہیں ۔ کل اور آج کا یہ فرق در اصل زمانہ کا فرق ہے ۔ آج ایسے دریع الاثر مواقع کھل گئے ہیں کہ زمین کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر ساری دنیا میں دعوت کے کام کو منظم کیا جاسکتا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کی دنیا نے دعوت کے عمل کو مقامی پیغام رسانی کے دور سے نکال کر عالمی پیغام رسانی کے دور میں پہنچا دیا ہے۔

جدید صنعتی دور میں مسلمان اپنی اقتصادی پس ماندگی کی وجہ سے اس قابل نہ رہے تھے کہ دعوت حق کی اشاعت کے لئے جدید امکانات کو اعلی سطح پر استعمال کر سکیں۔ مگراللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں میں پٹرول کے خزانے بر آمد کر کے ان کی اقتصادی پس ماندگی کی تلافی کر دی اور انھیں اس قابل بنا دیا کہ وہ اپنے اس فریضہ کی ادائگی کی بڑی سے بڑی قیمت دے کر بھی اس کو انتہائی کامل شکل میں جاری رکھ سکیں ۔

ہمارے رب نے ہمارے لئے سیاسی اور فکری رکاوٹیں بھی دور کر دی ہیں اور اقتصادی رکا وٹیں بھی۔ اس سہ طرفہ نصرت کے بعد بھی مسلمان اگر دعوتی کام کے لئے نہ اٹھیں تو انھیں اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ، خواہ دعوت کی ذمہ داری کو چھوڑ کر وہ کوئی دوسرا کام کتنی ہی بڑی مقدار میں کیوں نہ انجام دے رہے ہوں ۔

خاتمہ کلام

قدیم زمانہ میں شرک (غیر اللہ کی فوق الفطری کبریائی )کا عقیدہ غالب عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا جس طرح آج ، مثال کے طور پر، انسانی آزادی کے تصور نے ساری دنیا میں غالب عقیدہ کی حیثیت حاصل کرلی

ہے۔ اس صورت حال نے قدیم زمانہ میں بے شمار مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے تھے جن میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے داعیوں کو آگ اور خون کے طوفان سے گزر کرحق کا پیغام دینا پڑتا تھا۔

پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ سلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا ، اس نے شرک کو غالب عقیدہ کے مقام سے ہٹا دیا اس کے بعد ایک نیا تاریخی عمل شروع ہوا ۔ آغاز اسلام کے تقریباً ہزار ویں سال اس انقلاب کے دو حصے ہو گئے ۔ اس کا مذہبی پہلو اسلامی دنیا میں محفوظ رہا۔ اور اس کا دنیوی پہلو اس سے الگ ہو کر مغربی دنیا کی طرف منتقل ہو گیا ۔ وہاں اس نے مزید ترقی شروع کی۔ یہاں تک کہ 19 ویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے زمانے میں وہ اپنے آخری کمال تک پہنچ گیا۔ موجودہ زمانہ میں جمہوریت ، آزادی رائے ، سائنسی نقطہ نظر سب اسی کی مثالیں ہیں جو در حقیقت اسلامی انقلاب کے دنیوی پہلو یا اس کے سیکولر نتائج ہیں۔

اسلام کے کے زیر اثر پیدا شدہ اس انقلاب نے جدید دنیا میں اسلام کی توسیع و اشاعت کے نئے دروازے و کھول دیئے تھے۔ ایک طرف یہ ممکن ہو گیا تھا کہ توحید کی پیغام رسانی کے کام کو نہایت قوت کے ساتھ بالکل آزادانہ ماحول میں شروع کیا جاسکے۔ دوسری طرف پر یس اور جدید ذرائع ابلاغ نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا کیا تھا کہ اسلامی دعوت کی مہم کو عالی سطح پر منظم کیا جاسکے۔ مگر عین اس وقت ایک حادثہ پیش آیا ۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں نے دعوت کے بجائے سیاست کا رخ اختیار کر لیا۔ وقت کے حکمرانوں سے ٹکرا کر انھوں نے اپنے لئے نئے عنوان سے وہی مشکلات پیدا کرلیں پیدا کرلیں جن کو اسلام کے ہزار سالہ عمل نے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا تھا ۔

اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ اتنا الم ناک نہیں جتنا الم ناک یہ واقعہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تقریباً تمام اسلامی تحریکوں نے سیاسی مقابلہ آرائی کو کام سمجھا اور غیر ضروری طور پر اسلام کو اقتدار کے مد مقابل کھڑا کر دیا کسی تحریک نے شروع ہی سے میدان سیاست میں چھلانگ لگادی۔ کوئی بعد کو اس ""مقدس جہاد ''کی طرف مڑــــــــ گئی ٹھیک اس وقت جب کہ تاریخ کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچ کر ہمارے لئے دعوتی کام کا عالی شان میدان کھول رہا تھا، ہم انتہائی نادانی کے ساتھ ایک ایسی سیاسی لڑائی میں مشغول ہوگئے جس کا کوئی نتیجہ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں تھا، نہ دینی نہ دنیوی ۔ اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ سیاست بازی کو مکمل طور پر ترک کر کے قرآن وسنت کے پیغام کو اہل عالم تک پہنچانے کا کام فوراً شروع کر دیا جائے۔

اپریل ۱۹۷۷ میں جامعہ دار السلام عمر آباد کی گولڈن جوبلی منائی گئی ۔ اس موقع ۔ 17 اپریل کی نشست میں یہ مقالہ ملخصا بہ شکل تقریر پیش کیا گیا ۔

"جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انھیں سخت عذاب کی خوش خبری دے دو'' (تو بہ ۔34) قرآن کی یہ آیت اتری تونبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تبا اللذھب تبا للفضة (برا ہو سونے کا اور برا ہو چاندی کا )۔ یہ بات جب آپ کے اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے ۔ انھوں نے آپس میں کہا: فائی مال نتخذ ( اب ہم کون سا مال جمع کریں)۔ حضرت عمر ؓاس وقت وہاں موجود تھے، انھوں نے کہا اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللؐہ سے سوال کروں ۔ لوگوں نے کہا ہاں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اس کو جمع کرتے ۔ آپ نے فرمایا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لیتخذ احدكم لسانا ذا كرا و قلبا شاکراو زوجة مرمنة تعين احدكم على ايمانه

تفسیر ابن کثیر، جلد ۲ ، صفحه ۳۵

تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یا د کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان میں اس کی مدد کرے ۔

خواتین اسلام

حضرت ام سلمہ ایک بارکسی عورت سے اپنے بال گندھوا رہی تھیں ۔ اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : ایھا الناس (اے لوگو ) یہ سنتے ہی فرمایا، نہیں جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے ۔ ابھی تو آپ نے ایھا الناس کہا ہے ۔ انھوں نے کہا خوب کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہو کر خطبہ سنتے لگیں ۔ (طبقات ابن سعد) حضرت ام سلمہ کی مرویات کی تعداد ۳۷۸ ہے ۔ وہ فتوٰی بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کئے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہو جائے گا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ ؐکی ازدواج میں حضرت عائشہ ؓسب سے زیادہ ذہین تھیں۔ ان کی مرویات کی تعداد ۲۲۱۰ تک شمار کی گئی ہیں۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ وتابعین نے روایت کیا ہے ۔ عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، عبد الله بن عامر، مروق بن اجدع ، عکرمہ اور علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہ خاتون تھیں۔ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علت و حکمت بھی بیان کر دیتیں ۔ حضرت ابو سعید اور حضرت عبد اللہ بن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مردی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہئے ۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لئے مدینہ آتے تھے۔ وہ گردو غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔

بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔ آپ خیبر کے جہاد کے لئے روانہ ہورہے تھے۔ ہم نےعرض کیا : اے خدا کے رسول ! ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں تا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں ۔اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپؐ نے فرمایا : على بركة الله (الله برکت دے ، چلو ) - انصاری خاتون ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شرکت کی ہے ہیں مجاہدوں کے کجادوں کی دیکھ بھال کے لئے پیچھے رہتی ،ان کے لئے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی ۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں ۔ ان کی بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے نو رومیوں کو قتل کیا۔

quoted sourceQuoted from another author or source

مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کر کے حسان بن ثابت ؓکو ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبد المطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں ۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا۔ اور ہمارے قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ اس وقت بنی قریظہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی ۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا۔ اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلہ میں ہماری مدافعت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلہ میں تھے ، وہ ان کو چھوڑ کہ ہماری طرف نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں آنے والا یہودی سامنے سے گزرا۔ میں نے کہا اے حسان ! دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعہ کا چکر لگا رہا ہے اور میں خدا کی قسم اس سے مامون نہیں ۔ کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جاکرکہہ نہ دے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں ۔پس اترو اور اس کو جا کر قتل کر دو۔ حسان بن ثابت نے کہا : والله لقد عرفت ما انا بصاحب هذا (خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں،) وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے مجھ کو یہ جواب دیا اور میں نے ان کے پاس مارنے کی کوئی چیز بھی نہ دیکھی، تو میں نے کمر سے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ پھر قلعہ سے اترکہ اس کے پاس پہنچی اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا ، یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ پھر جب میں اس سے فارغ ہو گئی تو میں قلعہ میں واپس آئی اور حسان بن ثابت سے کہا کہ قلعہ سے اتر کر جاؤ اور اس کا ساما ن لاؤ۔میں صرف اس کا سامان اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا، حسان بن ثابت ؓنے کہا اے عبد المطلب کی بیٹی ! مجھے اس کے سامان کی ضرورت ہیں ۔ (البدایہ والنہایہ، جلد ۴، صفحہ ۱۰۸)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زندگی کیا ہے ، موت کی طرف ایک سفر موت اس لیے آتی ہے تاکہ دوسری دنیا میں آدمی کی وہ مستقل زندگی شروع ہو جو دنیا کے عمل کے مطابق اچھی یا بری اسے گزارنی ہے۔ شخص دوسروں کو اپنے سامنے اس انجام کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہے مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے، گویا اس کو کبھی اس انجام سے دو چار ہوتا نہیں پڑے گا۔ آہ وہ انسان ، جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے ۔

وہ خدا کے سایہ میں چلنے لگتے ہیں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حریفوں پر جوحیرت انگیز سیاسی کامیابی حاصل کی اور جس طراپنے لائے ہوئے دین کو ایک پورے جغرافیہ پرغالب کر دیا وہ ساری انسانی تاریخ میں اپنی قسم کا پہلا واقعہ ہے۔ ہمارے قدیم مورخین اور سیر ت نگار جب آپ کے ان عظیم کارناموں پر پہنچتے ہیں تویہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ'' آپ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ خدا کی ہدایت کے مطابق سارے اقدامات کرتے رہتے تھے ۔ یہ انداز تعبیر اتنا عام ہے کہ روایت پرست مورخین تو در کنار ابوالحسن ماوردی، ابویعلی الفراء ، ابن تیمیہ، ابن قیم اورابن قیتیہ جیسے لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیرت کے اس انداز کو بظاہر آپ کی عظمت و تقدس کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر در حقیقت یہ پیغمبر اسلام کی تصغیر ہے۔ یہ آپ کو گائیڈڈ مزائل کی سطح پر پہنچا دینا ہے۔ بلا شبہ آپ اللہ کے نبی تھے اور اللہ کی طرف سے آپ کو ہدایات پہنچتی رہتی تھیں، مگر اسی کے ساتھہ آپ ایک اعلی ترین انسان اور اعلیٰ ترین مومن بھی تھے۔ آپ عام انسانوں کے لئے ایک معیاری نمونہ تھے کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جب اپنے آپ کو دین حق کے لیئے وقف کرتا ہے اور خدا کی یاد اور اس کی محبت میں مشغول ہو جاتا ہے تو خدا سے اس کا لازوال تعلق قائم ہو جاتا ہے ۔ وہ حسن دکمال کے سر چشمہ سے اس طرح مربوط ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو دیکھنے لگتا ہے ۔ اس سے اس کی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں ۔ وہ دائمی طورپر اس کے سایہ میں چلنے لگتا ہے ۔

پیغمبر اسلام کا تعلق اپنے رب سے صرف جبریل کے ذریعے ہی نہ تھا۔ بلکہ براہ راست بھی تھا۔ اور یہ وہی تعلق تھا جو ہر ایک کے لئے اس کے حوصلہ کے بقدرکھلا ہوا ہے۔یہ تعلق قائم ہوتا ہے۔ قرآن میں تدبر سے، نماز میں مشغول ہونے سے، کائنات میں غور و فکر سے، ہر آن اپنے رب کو یاد کرنے سے، صبر و شکر اور قناعت کی زندگی اختیار کرنے سے، دعا و استغفا میں میں اپنے آپ کو لگائے رہنے سے اللہ کی یاد میں کھو جانے سے ۔ بندہ مومن جب اس طرح اپنے آپ کو خدا سے جوڑتا ہے تو اس کو حیرت انگیز طور پر ایک بے پناہ بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ اشیاء کوان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ خدا کی نظر سے دیکھے ، خدا کے پاؤں سے چلے اور خدا کے ہاتھ سے پکڑلے "

پیغمبر اسلام نے اپنے حریفوں سے جو سیاسی معاملات کئے، وہ اگر پیشگی طور پر موصول شدہ ہر آیات کے تحت تھے تو ایسا کیوں ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر آپ کے کسی اقدام یا فیصلہ پر گرفت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو ایسا نہ کر کے ایسا کرنا چاہئے تھا۔

ـــــــــــ یہ خود قرآن میں ایک واضح مثال ہے جس سے اصل معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔

عرب دنیا میں مغرب کا سیاسی کنٹرول تقریباً 75 سال رہا۔ اس کا آغاز ۱۸۸۲ میں مصرپر بر طانیہ کے قبضہ سے ہوا، اور ۱۹۵۰ میں اردن اور عراق سے برطانی قبضہ کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوا ۔

تعریف سے خوش ہونااور تنقید سےبپھرناپستی کی علامتیں ہیں۔

فانی بدایونی (۱۹۴۰ - ۱۸۷۹) نے کہا ہے کہ دنیا کی رنگینیاں انتہائی بے حقیقت ہونے کے باوجود اپنے ظاہر میں اتنی پر کشش ہیں کہ انسان ان کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص دھوکا دینے والے ان مناظر سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل ! اے معاذ اللہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھا پایا اس میں شک نہیں کہ دنیا کی رنگینیوں سے اپنے کو اوپر اٹھا لینا سخت مشکل کام ہے۔ تاہم کم تعداد میں ہی ایسے لوگ پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتے ہیں، مگر اس کے بعد'' اوپر اٹھنے'' کی ایک اور سطح ہے اور اس کے اعتبا رسے اگر دیکھا جائے تو کامیاب افراد کی تعداد کم یابی سے گزر کر نایابی تک پہنچ جائے گی۔ یہ ہے اپنے آپ کو مقید ( Conditioned Thinking ) سے باہر نکالنا ۔ ہر آدمی جن حالات میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے، اس کے لحاظ سے ماحول اور روایات کا ایک ہالہ اس کے گرد قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک فکری مدار اوربن جاتا ہے جس میں وہ گھومتا رہتا ہے ۔

اس غیر محسوس مدار سے باہر آکر سوچنا اور عمل طور پر آزادانہ رائے قائم کرنا اس قدر دشوار ہے کہ وہ لوگ بھی اس سے مستثنی نہیں جو آزادانہ فکر کے علم بردار بنے ہوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ خلائی راکٹ جب اپنی گردش کے دوران زمین کے مدار سے نکل کر دوسرے سیارہ کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو خول کے نقطہ پر دھماکہ کے ساتھ زبر دست آو از پیدا ہوتی ہے ۔ یہی قانون شاید انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل کر آزاد شعوری مدار میں اس وقت داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے اس فکری خول کو توڑنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جائے جو روایات اور ماحول کے اثر سے محض اتفاقی طور پر اس کے گرد بن گیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کوئی شخص کب اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو روایتی مدار سے نکال کر آزاد مدار کی طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے : جب کا ہے، وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید سے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔

اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے ۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو تعریف تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لئے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں۔ بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے باوجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر یہ ہا ہو۔

مولانا سید سلیمان ندوی

عرب اور ہندوستان کے در میان تعلقات کی تاریخ ھزاروں برس پہلے تک جاتی تھے

ہندوستان اور عرب، دنیا کے وہ ملک ہیں۔ جو ایک حیثیت سے پڑوسی کہے جا سکتے ہیں۔ ان دونوں کے بیچ صرف سمندر حائل ہے۔ یہ سمندر گویا ایک وسیع قدرتی سڑک ہے جو دونوں ملکوں کو باہم ملاتی ہے ۔

دریا کے کنارے بسنے والے ملک فطرتاً تجارتی ہوتے ہیں۔ یہی پہلا رشتہ ہے جس نے ان دونوں قوموں کو باہم آشنا کیا۔ عرب تاجر ہزاروں برس سے ہندوستان کے ساحل تک آتے تھے اور یہاں کی پیداوار کو مصر اور شام کے ذریعہ یورپ تک پہنچاتے تھے اور وہاں کے سامان کو ہندوستان، جزائر ہند ،چین اور جاپان تک لے جاتے تھے۔

یہ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی تمام تحریریں بلکہ تمام آرین تحریریں بائیں طرف سے لکھی جاتی ہیں ۔ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ آریہ ورت کی ابتدائی تحریریں دائیں سے شروع ہوتی ہیں جو سامی تحریروں کی خصوصیت ہے۔ اس کے علاوہ گنتی لکھنے کا طریقہ بھی شاید ابتدائی ہندوستانیوں نے عرب تاجروں سے سیکھا تھا۔ (۸)

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں سنسکرت کےمقالہ کے تحت تحقیق پیش کی ہے کہ :

other sourceWords of another person or source

ہندوستانی تحریر کے قدیم ترین نمونےوہ کتبات ہیں جو چٹانوں پر کندہ ہیں۔ یہ مذہبی کتبے جانب 253 ق م میں شہنشاہ اشوک نے کندہ کرائے تھے۔ یہ کتبات دو قسم کے ہیں ۔ایک وہ جو داہنی جانب سے بائیں جانب پڑھے جاتے ہیں ان کو " آرین پالی" کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جو بائیں جانب سے داہنی جانب پڑھے جاتے ہیں، ان کو ہندی پالی کہا جاتا ہے ۔

پروفیسر بولر (Buhler) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ شاید عراق کے تاجروں نے آٹھویں صدی ق م میں ان حروف کو یہاں روشناس کرایا ہو ''

opposing viewA view stated in order to be argued against

ستیارتھ پرکاش کے مصنف سوامی دیانند جی کے بیان کو صحیح مانا جائے تو مہا بھارت کے زمانے میں ہندوستان میں ایسے لوگ تھے جو عربی زبان سے واقف تھے۔ جنھوں نے لکھا ہے۔

" مہا بھارت میں جب کورووں نے لاکھ کا گھر بنا کر پانڈووں کو اس کے اندر جلا کر پھونک دینا چاہا تو ودرجی نے یدھشٹر جی نے اسی عربی زبان میں بتایا اور ید ھشٹر جی نے اسی عربی زبان میں ان کو جواب دیا''

other sourceWords of another person or source

ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''مجھے ہندوستان کی طرف سے ربانی خوشبو آتی ہے ۔''۔ چنانچہ شروع زمانہ ہی سے عرب کثرت سے ہندوستان آنا شروع ہو گئے تھے اور محمود کی آمد سے سینکڑوں برس پہلے جگہ جگہ ان کی نوآبادیاں قائم ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عربوں کو اپنے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ہندوستان کے کسی ساحلی بندرگاہ کی تلاش تھی۔ چنانچہ اسلام کے ظہور کے بعد ہندوستان پر عربوں کی سب سے پہلی فوج کشی 15ھ ( ء636)مقالہ کے تحت (بمبئی)بندرگاہ پر ہوئی عربوں کا یہ داخلہ بحرین کے گورنر کے حکم پر ہوا تھا۔

۸۶ھ (705 ء )میں دمشق کے تخت پر ولید ء اور اموی بیٹھا۔ اس کی طرف سے حجاج عراق و ایران و مکران و بلوچستان یعنی حکومت کے مشرقی مقبوضات کا نائب مقرر ہوا تو ہندستان اور ہندستانی جزیروں کی طرف توجہ کی اس وقت ہندستان کے اکثر ساحلوں سے بحری قزاق عرب تاجروں کے جہازوں پر ڈاکہ ڈالا کرتے تھے۔ البیرونی (444 ء)تک سومناتھ اور کچھ بحری ڈاکوؤں کی سب سے بڑی جائے پناہ تھی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حجاج کے زمانہ میں ایک بار سندھ کی بندرگاہ دیبل کے قریب ڈاکوؤں نے عربوں کے ایک جہاز پر چھاپہ مارا جس میں عورتیں بھی سوار تھیں۔ ان لوگوں نے حجاج سے فریاد کی ۔ حجاج نے سندھ کے راجہ داہر کو لکھا تو اس نے معذرت کی کہ یہ دریائی ڈاکو ہمارے قبضہ میں نہیں ۔ اسی دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مکران سے کچھ عرب مجرم اور باغی بھاگ کر سندھ میں پناہ گزین ہوئے اور انھوں نے راجہ داہر کی ہاتھی میں اپنا ایک کا جتها بنالیا۔

اسکے بعد حجاج نے اپنے نوجوان بھتیجے محمدبن قاسم کی سرکردگی میں شیراز سے چھ ہزار فوج سندھ روانہ کی اور کچھ فوج مع سامان کے دریائی راستے سے سندھ کی طرف بھیجی اور اس کی کمک کے لیے ایران کے پرانے راستہ سے خشکی کی طرف سے بھی فوجیں بھیجیں۔

سن ۹۳ھ میں محمد بن قاسم سندھ پہنچا اور تین برس کے عرصہ میں ملتان سے لے کر کچھ تک اور مالوہ کی سر حد تک پر قبضہ کر لیا اور پورے سندھ میں انصاف اور امن کی سلطنت قائم کر دی۔

96ھ میں ولید نے وفات پائی اور اس کی جگہ تخت پر سلیمان بیٹھا۔ اس کو حجاج اور اس کے خاندان سے ذاتی عداوت تھی ۔ اس نے اسی سال حجاج کے دوسرے آدمیوں کے ساتھ محمد بن قاسم کو بھی سندھ سے واپس بلا لیا۔ اور بالآخر ذاتی انتقام کے نشے میں اس کو قتل کرا دیا۔

اموی خلیفہ کے ہاتھوں یہ بیدردانہ قتل اس شخص کا تھا جس کے متعلق تاریخ بتاتی ہے کہ ''جب محمد بن قاسم سندھ سے واپس جانے لگا تو سندھ کی رعایا نے اپنے نیک دل اور انصاف پسند ان کی جان میں نو بیا کے اور اس کی یادگار میں اس کا بت بنا کر کھڑا کیا۔ تاریخ فتوح البلدان بلاذری، باب فتح سندھ)

other sourceWords of another person or source

اس کے بعد خلافت دمشق سے مختلف گورنر یہاں مقرر ہو کر آتے رہے اور انھوں نے کچھ کارگزاریاں بھی دکھائیں ۔ ۱۳۳ ھ( 751ء ) میں عربی حکومت کے دفتر کا ورق الٹ گیا۔ امویوں کی جگہ عباسی آئے اور حکومت مرکز دمشق سے ہٹ کر بغداد چلا گیا۔ بغداد کی سلطنت معتصم باللہ عباسی (م ۲۲۷ ھ )تک مضبوط رہی ۔ اس کے بعد وہ روز بروز ایسی کمزور ہوتی گئی کہ اس کا تعلق سندھ اور ہندستان سے ٹوٹ گیا۔ کچھ دن تک عرب امراء یہاں خودمختار بنے رہے۔ بالآخر ہندو راجاؤں نے پھر قبضہ کر لیا۔ بعد کو صرف دو مشہور عرب ریاستیں یہاں قائم رہ گئیں۔ جن میں ایک ملتان میں تھی اور دوسری سندھ کے عربی شہر منصورہ ہیں۔

ہندوستان میں جو ترک وافغان مغل فاتح ئے وہ مسلمان تھے ،اس لیے ان کی تمام کاروائیوں کا ذمہ دار اسلام سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ اس حقیقت سے ہم سب کو واقف ہونا چاہیے تھا کہ ترک فاتح جو ہندستان آئے۔ خاص خاص افسروں یا عہدیداروں کو چھوڑ کر قوم کی مجموعی حیثیت سے وہ اسلام کے نمائندے نہ تھے۔ اور نہ ان کے اصول سلطنت کو اسلام کی طرز حکومت اور اصول فرمانروائی سے کوئی مناسبت تھی۔ ان کے ترک افسر زیادہ تر نو مسلم غلام تھے جن کو اسلام کے صلح و جنگ کے قوانین سے شاید واقفیت بھی نہ تھی۔

غزنویہ سلطنت جس ملک میں آکر قائم ہوئی ، وہ اسلامی حدود سلطنت کا سب سے آخری گوشہ تھا ۔ وہاں

اسلام نے ابھی پورا قدم بھی نہیں جمایا تھا۔ سلطان محمود کی فوج میں جو سپاہی بھرتی ہو کر آئے، وہ عربی خلجی ،ترکوں اور افغانوں کے مختلف قبائل تھے۔ ہندو بھی اس کی فوج میں داخل تھے۔ ترک قبائل کا یہ حال تھا کہ وہ بیشتر مسلمان نہ تھے ۔ وہ غلاموں کی حیثیت سے ہزارہا کی تعداد میں فروخت ہوتے تھے اور سلاطین و امراء ان کو خرید کر اور مسلمان بنا کر فوج میں بھرتی کرتے تھے، یا وہ خودلوٹ مار کے شوق میں وسط ایشیا سے نکل کر اسلامی ممالک میں آتے تھے اور مسلمان ہو کر مختلف بادشاہوں اور امیروں کی فوج میں بھرتی ہوتے تھے اور آگے چل کر بڑے افسر ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ بادشاہ بن جاتے تھے۔ الپ تگین اور سبکتگین جو غزنوی سلطنت کے بانی تھے اسی قسم کے ترک غلام تھے۔ سلطان غوری کے جانشین ایلمتش وغیرہ بھی ایسے ہی تھے ۔ سلجوقی ترک جو چند برس کے بعد عظیم الشان سلجوقی سلطنت کے بانی ہوگئے، اسی زمانے میں اسلامی ملک میں آکر مسلمان ہوئے۔ یہی حال سلطان محمود کی فوج کا بھی تھا۔ ترکستان اور ماوراءالنہر کے ترک رضا کار اس کی فوج میں داخل ہو گئے تھے جو زیادہ ترااسی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے ۔ ۱۸۸

مغل ابھی تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ وہ ساتویں صدی ہجری تک کا فر سمجھے جاتے تھے ۔ علا والدین خلجی (م 716ھ) تک فوج میں مغل مسلمان کر کے نوکر رکھے جاتے تھے۔

افغانوں کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود افغان اب تک مسلمان نہ تھے ۔ کافر ہی سمجھے جاتے تھے۔ گو خاص کابل کے بادشاہ نے تیسری صدی کے شروع میں یعنی غزنویوں سے سو برس پہلے اسلام کا اظہار کیا تھا، لیکن افغانوں کے اکثر قبائل محمود غزنوی ہی کے زمانے میں مسلمان ہونے شروع ہوئے تھے۔

ان کے علاوہ غوری قبائل چوتھی صدی کے وسط تک یعنی غز نویوں کی پیدائش کے بعد تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ پھر سلطان محمود سے پہلے اس وقت تک ان اطراف میں نہ اسلامی درس گاہیں تھیں نہ اسلامی تعلیمات کا رواج ہوا تھا اور نہ مسلمان علماء پھیلے تھے۔ ان اسباب سے ان قوموں کے اس وقت کے طور طریق ،اصول سے اس جنگ اور طرز عمل کو اسلام نہیں کہا جا سکتا ۔ ۱۹۰

بر خلاف اس کے عرب فاتح جو ایک صدی کے اندر ایک طرف شام کی سرحد عبور کر کے مصر اور شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین تک پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف عراق کے راستے سے خراسان تک اور ایران وترکستان کو طے کر کے ایک سمت میں کا شغر اور دوسری سمت میں سندھ تک فتح کر چکے تھے۔ وہ لوگ تھے جن میں اسلام کی تعلیمات زندہ تھیں، اسلام کا قانون جنگ عمل میں تھا۔ کہیں کہیں افسروں میں بعض ایسے بزرگوار بھی تھے جنہوں نے پیغمبر اسلام کی صحبت اٹھائی تھی ۔ اور ایسے تو بکثرت تھے جنھوں نے صحابہ کا فیض پایا تھا۔ اس لئے ان کے طور طریق ، اصول حکومت اور طرز سلطنت خیبر سے آنے والی قوموں سے بالکل مختلف تھے۔ ۱۹۰

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پہلی صدی ہجری (ساتویں صدی عیسوی )کے خاتمہ پر سندھ کی فتح کے چند سال بعد جب بنوامیہ کے دیندار اور برگزیدہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے لوگوں کو اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تو بہت سے راجاؤں نے اسلام قبول کر لیا۔ (فتوح البلدان بلاذری فتح سندھ)228

other sourceWords of another person or source

مختلف تجارتی معاشرتی اور سیاسی تعلقات کا نتیجہ ہوا کہ سندھ ، گجرات کار و منڈل، بلہار، مالدیپ ،سراندیپ، اور جاوا میں اسلام نے اپنے قدم آہستہ آہستہ بڑھانے شروع کئے ۔ ان جزیروں میں ایک طرف ہندوؤں اور دوسری طرف چینیوں کے اثر سے بدھ مت پھیلا ہوا تھا۔ مگر صدی بصدی کے جغرافیوں اور سفر ناموں کی کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی بھڑائی کے بغیر روپے امن چین کے ساتھ اسلام کے اثرات یہاں بڑھتے جاتے ہیں۔

سندھ کا علاقہ خلیفہ المامون (218 ھ) تک بغداد کے مرکز سے وابستہ رہا، بلکہ اس کے آخر زمانہ میں عرب امراء خود مختاری کے خواب دیکھنے لگے۔ چنانچہ بنی سامہ کے غلام فضل بن ماہان نے سندان نام کے ایک شہر کو فتح کر کے براہ راست خلیفہ المامون سے اپنی امارت کی سند حاصل کر لی اور وہاں ایک جامع مسجد بنوائی جس میں نماز جمعہ ادا ہوتی تھی اور خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے بعد اس کا بھائی محمدبن فضل بن ماہان حاکم کا ہوا اور یہ زمانہ معتصم باللہ ( ھ227) کا تھا۔ اس نے ستر جہازوں کے بیڑے کے ساتھ سید بون پر حملہ کیا۔ اس کی غیر حاضری میں اس کے بھائی ماہان نے ریاست پر قبضہ کر لیا اور غالباًاسی خانہ جنگی میں ریاست مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔( بلاذری ، صفحہ ۴۴۶)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

معتصم باللہ کے زمانہ میں قندا بیل میں محمد بن خلیل نے خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا۔ مگر معتصم کے عہدہ دار عمران برمکی والئی سندھ نے وہاں کے سرداروں کو گرفتار کر کے تصدار (قزدار) بھیج دیا۔

عمران بر مکی ہی کے زمانہ میں عربوں کے دو مشہور قبیلوں یمینی (قحطانی) اور حجازی (نزاری )میں بعینہ وہی خانہ جنگی شروع ہوئی جس خانہ جنگی نے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا تھا۔ عمران نے یمنیوں کی طرف داری کی۔ اس وقت حجازیوں کا ایک سرگروہ ایک قریشی سردار عمر بن عبد العزیز ہباری تھا۔ اس نے موقع پا کر عمران کو قتل کر دیا ( بلاذری، ۴۴۶)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عمر بن عبدالعزیز ہباری کی امارت کے بعد بھی عباسی تعلق قائم رہا۔ چنانچہ معتمد کے زمانہ ( ھ256-279 ) میں بغداد کے انتظامات ملکی میں سندھ کا نام بھی نظر آتا ہے۔ اس کے بعد سندھ کا یہ برائے نام رشتہ بھی بغداد سے کٹ گیا۔ بلاذری جو ۲۷۹ ھ میں مرا ہے، وہ لکھتا ہے کہ'' بنوکنده کا آزاد کردہ غلام ابو الصمہ جو تیسری صدی کے شروع کے ایک عباسی والی عمر بن حفص بن ہزار مرد کے ساتھ سندھ گیا تھا۔ اس کا بیٹا صمد آج کل سندھ میں زبردستی خود مختار بن بیٹھا ہے۔''(بلاذری ، ۴۴۵)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم مسعودی 303ھ میں ہندستان آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں عرب امراء حکمراں ہیں جواب بھی خلیفہ بغداد خطبہ پڑھتے ہیں۔ ابن موقل ۳۶۷ھ میں اور مقدسی ۳۷۵ھ میں یہاں آیا تو انھوں نے بھی یہی پایا کہ خطبہ خلیفہ کے نام کا پڑھا جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زبان کا مسئلہ

ایک ہندوستانی عالم ایک عرب ملک گئے۔ وہاں ایک عرب نوجوان ان سے ملنے کے لئے آیا۔ گفتگو کے دوران اس نے پوچھا : متی القدوم (کب تشریف لائے) ہندستانی عالم نے جواب دینا چاہا تو ان کی زبان سے نکل گیا : غداً - عربی میں آئندہ کل کے لئے "غد" اور پچھلے کل کے لئے ” امس“ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مذکورہ بزرگ عربی کے اچھے عالم ہیں۔ مگر عربی بولنے کی مشق نہ ہونے کی وجہ سے وہ غداًاگلے دن کہہ گئے۔ حالاں کہ موقع کے اعتبار سے انھیں بالامس (پچھلے دن) کہنا چاہئے تھا۔ اسی طرح ایک اور ہندستانی عالم نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان انھوں نے قائم کیا : الاقدار الاسلامية یہاں اقدار کو انھوں نے انگریزی لفظ ” ویلوز ''کے معنی ہیں استعمال کیا تھا۔ حالانکہ اس لفظ کا اردو استعمال ہے۔ عربی میں ویلیوز کے لئے قیمہ (جمع قیم) بولا جاتا ہے۔ یہ اتفاقی غلطی کی مثال ہے جس سے کوشش کر کے آدمی بچ سکتا ہے۔ تاہم ایک غیر اہل زبان لغت نحواور کی خواہ کتنی ہی مہارت حاصل کرلے ، وہ اہل زبان کی سی زبان لکھنے اور بولنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ الا ماشاء اللہ مولانا شبلی نمانی عربی زبان کے ادیب تھے۔ وہ مصرو شام کے سفر پر گئے۔ وہاں ایک بار وہ اپنے ساربان سے عربی میں گفتگو کر رہے تھے۔ درمیان میں اس نے کہا : یا شبلی انت نحوی (اے شبلی آپ تو قواعد داں ہیں) مولانا شبلی سمجھے کہ ساربان ان کی عربی دانی کی تعریف کر رہا ہے۔ بعد کو معلوم ہوا کہ یہ طنز تھا۔ مولانا شبلی نحود صرف کے قواعد کی انتہائی پابندی کرتے ہوئے بول رہے تھے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مگر عرب ساربان کو ان کی یہ زبان مصنوعی معلوم ہورہی تھی۔

ہر زبان کے کچھ اپنے لطیف آداب ہوتے ہیں۔ اہل زبان چوں کہ بچپن سے اسی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں ، اس لئے وہ ذوقی طور پر اس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ ان کے لکھنے اور بولنے میں خود بخود ان آداب کی رعایت شامل ہوتی رہتی ہے، مگر غیر اہل زبان عام طور پر اس کی رعایت نہیں کر پاتے۔ مخزومی پاشاہ سید جمال الدین افغانی کے ایک رفیق ہیں۔ انھوں نے موصوف کے بارہ میں عربی میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام رکھا : جمال الدين افغاني في البلاط السلطاني الجمال الدین افغانی شاہی مجلس میں سید جمال الدین افغانی نے سنا تو کہا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان هذا العنوان ليس لهذا المقال بطبيق، قل خاطرات ولا تزد

یہ نام اس کتاب کے موافق نہیں ۔ اس کا نام صرف ہے۔ "خاطرات ''رکھو اور اس پر کچھ اضافہ مت کرو۔

مخزومی پاشا لکھتے ہیں کہ بعد کو میں نے ایک عرب ادیب اور سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا، اگر کتاب کا یہ نام رکھا گیا تو اہل لغت اس پر تنقید کریں گے۔ کیوں کہ آپ "خاطرات جمال الدین " کا لفظ " افکار ''جمال الدین ''کے معنی میں لے رہے ہیں۔ مگر اہل زبان اس مفہوم کے لئے خواطر“ کا لفظ بولتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے اگر چہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں، مگر استعمال کے اعتبار سے خاطرات میں وساوس کا مفہوم آجاتا ہے۔ جمال الدین افغانی نے اپنی آزاد طبعی کی بنا پر اسکو تسلیم نہیں کیا اور مخزومی پاشا سے کہا قل خاطرات ولا تبال بمن فسد لسانهم (تم کتاب کا نام خاطرات ہی رکھو اور ان کی پروا مت کرو جنھوں نے اپنی زبان کو بگاڑ رکھا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اہل زبان اور غیر اہل زبان کا یہ فرق اتناحتمی ہے کہ تاریخ میں بمشکل ہی کچھ مثالیں اس کے خلاف تلاش کی جا سکتی ہیں۔ مرزا غالب (۱۸۶۹ - ۱۸۹۷) کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا۔ انھوں نے اپنے فارسی دیوان کے بارےمیں کہا :

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ

بگزر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است

مگر غالب کو شاعری کی دنیا میں جو مقام ملا وہ ان کے اردو کلام کی بنا پر ملا، فارسی کے کلام کی بنا پر نہیں ملا مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴ - ۱۸۵۷) نے جب پہلی بار اردو میں سیرۃ النعمان لکھی تو اس کے آغاز میں ایک فارسی معذرت شامل کی، جس میں انھوں نے کہا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گرچہ مرا شیوه فن ایں نبود

حرف بہ اردو زدن آئیں نبود

مگر شبلی کو ان کی جن کتابوں نے شبلی بنایا وہ اردو کتابیں ہی تھیں نہ کہ فارسی اور عربی کتا بیں ۔ اسی طرح مولانا حمید الدین فراہی (۱۹۳۰- ۶۳ ۱۸) نے تفسیر قران کو اپنا موضوع بنایا اور اس پر بہت سی قیمتی تحریریں لکھیں یہ تمام تحریریں عربی زبان میں تھیں۔ مگر ان کی عربی تحریریں نہ ہندستان میں مقبول ہو سکیں اور نہ عالم عرب میں ۔ جب ان کا ترجمہ اردو میں شائع کیا گیا، اس وقت لوگوں کو ان کی اہمیت کا احساس ہوا۔

یہ بات ار دویا عربی زبان کے ساتھ مخصوص نہیں، ہر زبان کا یہی حال ہے۔ ہندستان میں انگریزی کے رواج کے بعد بے شمار لوگوں نے انگریزی کو اپنی قلمی زبان آنامگر مشکل ہی کچھ ایسے لوگوں کا نام لیا جا سکتا ہے جنھوں نے انگریزی ادب کی تاریخ میں کوئی مقام حاصل کیا ہو ۔ جو اہرلال نہرو اور مہاتما گاندھی وغیرہ کی انگریزی تحریریں بلاشبہ یورپ اور امریکہ میں کافی پڑھی گئیں مگر ان کو جو کچھ بھی مقبولیت حاصل ہوئی ، ان کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ہوئی، کیونکہ ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ جاننے کے لیے یہ کتا بیں ماخذ کی حیثیت رکھتی تھیں ۔سی ۔ نراد چودھری جو انگریزی اور بنگالی دونوں کے اچھے ادیب ہیں، انھوں نے ٹیگور کے بارے میں لکھا ہے کہ ۱۹۱۳ میں نوبل انعام ملنا ان کے لئے ایک حادثہ تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد ٹیگور نے سمجھ لیا کہ ایشیا سے زیادہ یورپ ان کے فن کا قدردان ہے ۔ انھوں نے انگریزی میں لکھنا شروع کر دیا۔ مگر انگریزی ان کے لئے بہر حال ایک غیر ملکی زبان تھی ۔ اس میں وہ ویسی گہرائی اور کشش پیدا نہ کر سکے جو اپنی مادری زبان بنگالی میں لکھنے کی صورت میں ہو سکتی تھی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کہا جاتا ہے کہ آربند وگھوش نے بعد کی عمرمیں بنگلہ زبان سیکھی تو اس کا ایک محرک یہ بھی تھا کہ گیتانجلی کو اصل بنگالی زبان میں پڑھ سکیں ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی ادیب یا مصنف خواہ کتنی ہی زبانیں جانتا ہو مگراپنی مادری زبان میں وہ میں لطافت اور حسن کے ساتھ اپنے خیالات کو پیش کر سکتا ہے، کسی دوسری زبان میں اس کی امید نہیں کی جا سکتی۔ بعض شاذ مثالیں ہو سکتی ہیں۔ مگر الشاذکالمعددم ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ناکامی کی وجہ

شریف کامل ایک اخوانی رہنما ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین کی ناکامی کی وہ یہ تھی کہ وہ سیاست میں قبل از وقت داخل ہوگئی : تدخلنا في السياسة قبل وقتها

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رکوع و سجود کا منظر اتنا پرکشش ہوتا ہے کہ کوئی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا

امریکی نومسلم پروفیسر اے ۔ایچ ۔بی ہیوٹ نے قبول اسلام کے بعدا پنے جو تاثرات شائع کئے ہیں، ان کویہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام کے مطالعہ کے بعد میں نے اس دین کو اپنے دل کی آواز پایا اور اس دین فطرت کو قبول کر لیا۔ یہی واقعہ دوسرے بیشمار لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ان کو اسلام کے پیغام سے واقف کرایا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عیسائیت کو میں نے چھوڑا ہے اور اسلام کو اختیار کیا ہے مجھے یہ بات تسلیم ہے کر مسیحیت میں بھی حق و صداقت اور مفید اصول موجود ہیں اور اگر اس مذہب سے وہ تمام بدعتیں دور کر دی جائیں جو پادریوں نے پیدا کر دی ہیں تو یہ مذہب بھی انسان کے لیے ایک مفید مذہب بن سکتا ہے۔ لیکن ان بدعتوں نے اس کی اصل صورت کو بگاڑ دیا ہے اور بالکل بے جان کر ڈالا ہے ۔ اس کے بر خلاف اسلام اسی ابتدائی شکل میں میں ہے جس میں وہ جلوہ گر ہوا تھا اور چونکہ میں ایک ایسے مذہب کا متلاشی تھا جو آمیزش سے پاک ہو اس لیے میں نے اسلام قبول کر لیا ہے کسی عیسائی کلیسا میں چلے جائیے وہاں نقش و نگار اور مورتیوں کے سوا آپ کو کچھ نہیں ملے گا اس کے علاوہ پادریوں کے زرق برق لباس پر نظر ڈالئے اور پھر ان کے طریقوں راہبوں اور ننوں کے ہجوم کو دیکھئے تو ان کا روحانیت سے دور کا بھی تعلق دکھائی نہیں دنیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی عبادت گاہ میں نہیں ہیں بلکہ ایسے بتخانہ میں ہیں جو صرف بتوں کی پوجا کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد مسجد پر نظر ڈالئے وہاں آپ کو نہ کوئی مورت دکھائی دے گی اور نہ تصویر ۔ پھر نمازیوں کی صفوں پر نظر ڈالئے ہزاروں چھوٹے بڑے انسان شانہ ملائے کھڑے نظر آئیں گے ۔ امام کو دیکھئے تو اس کا لباس بھی نہایت سادہ ہوگا سچ تو یہ ہے کہ نماز میں رکوع و سجود کا منظر اس قدر جاذب قلب ہوتا ہے کہ کوئی انسان ۔ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مسجد کی پوری فضا اور اس کی تمام چیزیں روحانیت کی جانب انسان کی رہنمائی کرتی ہیں نہ یہاں تضنع ہے نہ بناوٹ کی قسم کی کوئی چیز۔ اس کے برخلاف کلیسا کی تمام چیزوں میں مادی دنیا کا مظاہرہ بہت زیادہ ہے ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ پروٹسٹنٹ مذہب تو ان عیوب سے پاک ہے اس نے تو ان گرجوں سے بت اور تصویریں نکال پھینکی ہیں تم نے اسلام کے بجائے اسے قبول کیوں نہیں کیا۔ بلاشبہ پروٹسٹنٹ مذہب حقیقی مسیحیت سے قریب ضرور ہے۔ باوجود اس اعتراف کے کہ مسیح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر تھے، میں ہرگز ان کی الوہیت کا قائل نہیں جو میری ہی طرح گوشت پوست رکھتے تھے میرا یہ عقیدہ کوئی نیا نہیں، بلکہ ابتدا ہی سے میں اسکا اظہار کرتا رہا ہوں۔ اسلام نہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا پورا احترام سکھاتا ہے بلکہ دنیا کے تمام مذاہب اور بانیان مذاہب کے احترام کی دعوت دیتا ہے۔ میں عرصہ دراز سے اسلام کی طرف رجوع تھا لیکن میرا ایمان اتنا قوی نہیں تھا کہ میں بے دھڑک اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تذبذب کسی انسان یا سوسائٹی کے خوف کی بناء پر نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں پوری طرح اسلام کی خوبیوں اور خصوصیتوں سے واقف نہیں تھا۔ میں اسلام کے بارے میں علمائے اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا اور میری آنکھیں کھلتی گئیں اور مجھے صاف طور پر اس دین متین کی خوبیاں اور اس کے پیغمبر محمؐد کا بنی نوع انسان پر احسان معلوم ہو گیا اور آخر میں نے اس دین فطرت کو اپنا مذہب بنالیا ۔ اسلام میں توحید پرستی جیسی میں نے پائی ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہے اور اسلام کی اسی توحید پرستی نے مجھے سب سے پہلے اس مذہب کی جانب مائل کیا۔ اسلام میں جو سب سے بڑی خوبی میں نے پائی ہے وہ یہ ہے کروہ صرف روحانی ترقی ہی کا حامل نہیں ہے بلکہ وہ دنیائیں ترقی میں بھی بہت بڑا ممد دمعاون ہے وہ انسان گو شہ نشینی اور راہبانہ زندگی گزارنے کی تعلم نہیں دیتا بلکہ وہ کار کہ حیات میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ دینی معاملات میں ہی انسان کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ دنیا کے ہر معاملہ میں انسان کو راستہ بتاتا ہے اور قدم قدم پر بنی نوع انسان کو روشنی دکھاتا ہے اسلام نے دنیا کو عاقبت کی کھیتی قرار دیا ہے اور اسے حق دیا ہے کہ وہ دینی فرائض سے بھی غافل نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سائنسی دور میں اسلام کی ایک ایسا مذہب ہے جو ترقی یافتہ دنیا کا ساتھ دے سکتا ہے اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ تنگ نظری اور تعصب کا شدید مخالف ہے۔ وہ صرف اپنے ہم مذہبوں ہی کے ساتھ مروت یا محبت کی ہدایت نہیں کرتا بلکہ وہ کل بنی نوع انسان کے ساتھ خواہ وہ کسی مذہب وملت سے کیوں نہ تعلق رکھتے ہیں ہماری و مساوات کا حکم دیتا ہے وہ تفریق کا نہیں اتحاد نسانی کا قائل ہے سچ تو یہ ہے کہ اس مذہب نے پہلی مرتبہ انسان کو انسا نیت کا سبق پڑھایا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میں گزشتہ پانچ سال سے مذہب اسلام کا پیرو ہوں جس چیز نے میرے ایمان کو تقویت دی ہ اسلام کے بلند اور پاک اصول ہیں اس کی عالمگیراخوت ہے۔ اس کی بے نظیر مساوات ہے اور اس کا علم و عرفان ہے جس نے میرے دل و دماغ میں ایک نئی روشنی پیدا کردی ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو سر تا پا علم و عمل ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اسلام ایک ایجابی دین ہے کوئی اگر صحیح معنوں میں عیسائی بننا چاہے تو اسے دنیا سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کرنی ہوگی لیکن اسلام میں رہ کر دیا کی تمام مسرتوں اور نعمتوں سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ نہ ہمیں عبادت کا گوشتہ تلاش کرنا ہوگا اور نہ ہی ویرانوں میں زندگی بسرکرنے کی مجبوری ہوگی۔ اگر انسان کو دنیا میں اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ گوشہ نشینی میں اپنی زندگی برباد کرنے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ یہ صرف اسلام نے بتایا ہے کہ انسان اس کارگاہ حیات میں رہ کر قدرت کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائیگی مگرساتھ ہیں اپنے پر وردگار اور اس کی مخلوق کونہ بھولے۔ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے میں انتہائی قلبی سکون محسوس کر رہا ہوں میری دنیا بھی درست ہوگئی ہے اور عاقبت بھی۔

تہذیب کا ارتقائی عمل انسانی شعور کو ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جا رہا ہے

مشینی ترقیاں ان کو مطمئن نہ کر سکیں

۱۸۴۰ء میں ہر امریکی کی جیب میں مستقبل کا ایک خوب صورت خاکہ موجود ہوتا تھا بالکل ویسے ہی جیسے ہر جیب میں رومال موجود ہوتا ہے۔ مگر آج امریکیوں کی جیبیں اس قسم کی کسی پر شوق چیز سے خالی ہیں۔

سماجی حالات سے سخت مایوس ہیں۔ اعلیٰ سماج بنانے کے تصورات ختم ہو گئے ہیں۔ زمین پر بہشت بنانے کا خیال اب اپنی ذات کے اندر بہت ڈھونڈنے کی طرف مائل ہے۔ آج کی بر باد دنیا میں مفکرین کی ایک بڑی تعداد نے آئیڈ لیزم کی آخری پناہ گاہ کے طور پر اپنی امیدوں اور اپنے عقیدہ کو روح کے اوپر مرکوز کر دیا ہے ۔ مادیات کے بجائے روحانیات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے بعض لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ ارتقائی عمل تہدیب کو شعور کے ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جا رہا ہے جو

جب قدرتی توازن ٹوٹ جائے

طبیعیات اور حیاتیات کی دنیا میں جو قوانین کام کر رہے ہیں۔ ان کا ایک خاص عمل یہ ہے کہ یہ قوانین مختلف اشیاء کے درمیان ایک فطری توازن (Natural Balance) کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو توانسانی زندگی تباہ ہو جائے ۔ جدید دریافتوں سے معلوم ہوا ہے کہ فطرت کا یہ توازن انتہائی صحیح اندازوں کے مطابق کیا گیا ہے۔ اسکے اندر انسان کی کوئی مداخلت شدید خطرہ پیدا کرنیکا باعث ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جدید تمدن کا وہ خطرناک مسئلہ جس کو صنعتی کثافت (Industrial Polution) کہتے ہیں، وہ کیا چیز ہے۔ وہ قدرت کے نظام میں انسانی مداخلت سے پیدا شدہ ایک صورتحال ہے۔ کاربن گیس اور دوسری کثافتیں جو عام حالات میں پیدا ہوتی ہیں، قدرت ان کے اعادہ دوری جو عام حالات میں ہے (Recycle) کے ذریعہ اپنے توازن کو برقرار رکھتی ہے مگر صنعتی دور نے اپنی پیدا کردہ کثافتوں سے اس نظام میں جو مداخلت کی ، اس نے فطرت کے توازن کو بگاڑ دیا۔

توازن فطرت کے ٹوٹنے کا یہی معاملہ سماجی قوانین میں بھی کام کرتا ہے ۔ خدا نے جس طرح طبیعی اور حیاتیاتی دنیامیں توازن کا قانون جاری کر رکھا ہے، اس طرح اس نے سماجی زندگی میں توازن کو برقراررکھے اگر ان کو نظر انداز کر کے بطور خود قانون وضع کردیگا تو وہ سماجی زندگی کے مطلوبہ توازن کو توڑ دے گا اور زندگی تباہ ہو جائے گی۔

بالاخر انسان کو بلند ترین حقیقت سے ملا دے گایعنی خدا سے ۔

صنعتی دور کی ترقی کے بعد امریکیوں نے سمجھا تھا کہ وہ ٹکنا لوجی میں نجات حاصل کر لیں کے مصنفین نے بڑے شاندار قسم کے خاکے پیش کئے۔ مگر ٹکنا لوجی انسانی مسرت کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی ۔ اس کے ذرائع نہایت آسانی سے انسانی ترقی کے بجائے انسانی بربادی میں استعمال ہونے لگے۔

ٹائم آف نیو یارک، ۱۸ جنوری ء۱۹۷۱

اوپر جو عبارت نقل کی گئی، وہ امریکی میگزین کے ایک خصوصی مضمون کا ترجمہ ہے جس کا عنوان ہے.

A Voyage To Utopia

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مادی ترقیوں کی حقیقت کیا ہے ۔ آج کی دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بادی ترقی کی تمام قسموں کا مالک بننے کے بعد بالاآخر جس احساس سے دو چار ہے وہ یہ کہ مادی ترقی خوس سے دور مارے وہ یہ ترقی سے دو ہے وہ یہ انسانی ترقی کا اصل زینہ نہیں حقیقی انسانی ترقی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔

امریکہ اس دوسری چیز کو نفسیات اور روحانیات کی دنیا میں تلاش کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس دنیا میں جس کی نشاندہی مذہب نے کی تھی مگر مادیات کے ابتدائی جنون میں لوگوں نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا۔

یہ بہترین وقت ہے کہ حاملین اسلام اٹھیں اور جدید دنیا کے سامنے خدا کے دین کی دعوت پہنچائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ نے صدیوں کے انقالابت کے بعد دین خدا کی حامل قوموں کے لئے میدان خالی کر دیا ہے ۔ وہ آج کی دنیا کی ذہنی قیادت حاصل کر سکتی ہیں مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اس سنہرے امکان کے عین کنارے وہ اس طرح غافل پڑی ہوئی ہیں۔ جیسے انھیں اس کی خبر بھی نہیں۔

کیسے کیسے مسائل !

مسجد میں کسی کو چھینک آجائے تو دوسرا شخص جو حالت نماز میں ہے ، اگر اس کی زبان سے يرحمك الله ( خدا تجھ پر رحم کرے) نکل جائے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ البتہ اگر وہ پرحمه الله (خدا اس پر رحم کرے کہے تو نماز باطل نہ ہوگی۔ یہ شافعیہ کا مسلک ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حنفیہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ مسجد میں کسی کو چھینک آئے تو مصلی خواہ يرحمك الله کہے یا يرحمه الله ہر حال میں اس کی نماز باطل ہو جائے گی البته اگر خود مصلی کو چھینک آئے اور وہ اپنے کو مخاطب کرتے ہوئے یہرحمنی اللہ مجھ پر اللہ رحم کرے ، یا یر حمك الله کہے تو نماز باطل نہ ہوگی ۔

الفقه على المذاهب الأربعة از عبد الرحمن الجزيري حصه اول ، صفحه ۳۰۴

''فرانسیسی مفکر اینڈری مالرو نے کہا ہے کہ یورپ کا عروج ء1450 میں شروع ہوا۔ یہ دور پانچ سو برس تک رہا ۔ ۱۹۴۹ء میں ماؤ کا بر سر اقتدار آنا اس دور کے خاتمہ کا اعلان تھا۔ مغربی تہذیب جس طرح رومی تہذیب کے خاتمہ کے بعد پیدا ہوئی تھی، اسی طرح اب وہ کسی آنے والی تہذیب کے لئے جگہ خالی کر رہی ہے۔( ٹائم، 8اپریل ۱۹۷۴ )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مستقبل قریب میں مغربی تہذیب کا انہدام یقینی ہے۔ اس کے بعد ساری دنیا ایک فکری خلا سے دوچار ہوگی جس کو پُر کرنے کے لئے اس وقت کوئی قوم موجود نہیں ہے۔ چین اور روس بظاہر دور جدید کے طاقت ور دیو بن کر ابھرے ہیں۔ مگر وہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتے ۔ اس کی وجہ ان کا اندرونی تضاد ہے۔ اشتراکی ڈکٹیٹر شپ جس نے ان ملکوں کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو مخصوص میدانوں میں مرتکز کر کے طاقت ور قوم بن جائیں، وہی اس میں مانع ہے کہ ان ملکوں میں کوئی فکری ارتقا، وجود میں آسکے۔ کلیت پسندانہ نظام کے تحت مشکل علوم ترقی کر سکتے ہیں، مگر فکری علوم ، جو قوموں کو امامت کا مقام دیتے ہیں، ان کی ترقی کے لئے آزاد فضا ناگزیر طور پر ضروری ہے جو اشتراکی نظام میں موجود نہیں ہوتی ۔

اس کے بعد جاپان ہے ۔ بلاشبہ جاپان نے صنعتی ترقی کے میدان میں معجز نما کارنامے دکھاتے ہیں ۔ مگر جاپان بنیادی طور پر ایک ٹیکنکل معاشرہ ہے اور مستقبل بعید تک یہ امید نہیں کہ وہ فکری حیثیت سے کوئی مقام حاصل کر سکے۔

مغربی قوموں کا انہدام، صنعتی تہذیب کے نتائج سے مایوسی اور عمومی فکری خلا نے دین حق کے حاملین کو آج اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ اگر وہ بیدار ہو جائیں تو اسلام کو دوبارہ نوع انسان کی امامت کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں

اس اعلیٰ مقصد کے لئے جد و جہد میں جو واحد چیز رکاوٹ بن سکتی تھی ، وہ جدید صنعتی دور میں وسائل کے اعتبار سے ان کا پیچھے ہوجاتا ہے ۔ تاہم قدرت نے تیل کے ذخائر کا تین چوتھائی حصہ ان کی زمین کے نیچے رکھ کر حیرت انگیز طور پر ان کی پس ماندگی کی تلافی کر دی ہے ۔ آج مسلم دنیا ہر وہ اقتصادی قیمت ادا کر سکتی ہے جو دور جدید میں اسلام کے اختیار کی موثر جد و جہد کے لئے درکار ہے۔ خدا نے اپنے حصہ کا کام کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بندے اپنے حصہ کا کام کرتے ہیں یا نہیں۔''

( ما خوذاز " الاسلام ''صفحہ ۳۷ - ۲۳۵

صفحہ نمبر 33 پر یہاں تصویر ہے۔

A ROCK LIKE A HUMAN HEAD

The picture above, which was shot on July 25 from a height of 1,873 kilometers, is one of many photographs taken in the northern latitudes of Mars by the Viking I orbiter, when it was searching for a landing site for Viking II. Eroded, mesa-like landforms are visible. What seems to be a human head in the center of the picture is really a huge rock formation in which the play of shadows gives the illusion of eyes, nose and mouth. This rock is about 1.5 kilometers across

اوپر کی تصویرمیں ایک انسان کا چہرہ دکھائی دے رہا ہے ۔ وائکنگ اول نے ۲۵ جولائی کو76 19 کو مریخ سےیہ تصویر بھیجی تو زمین پر انتظار کرنے والے سائنس دانوں میں تو زبر دست جوش و خروش پیدا ہو گیا۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ تصویرمریخ پرانسا ن جیسی مخلوق کی موجودگی کا قطعی ثبوت ہے۔مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ یہ صرف نظر کا دھوکہ تھا۔مریخ پر انسان کی تصویر ایک چٹان کے سایہ کا کرشمہ ثابت ہوئی۔

The picture shows Viking's earlier landing site, Chryse, which has now been abandoned as it has nearby a bigger crater than previously known. Another site north-west of the original one is being considered and the landing has been delayed. Viking photographed the crater named. Yuty from a 1165-mile altitude. The crater was formed by a collision with a meteorite and is 11 miles in diameter with layers of broken rocks thrown out of the crater by the shock following impact.(AP).

اوپر کی تصویرمیں ایک انسان کا چہرہ دکھائی دے رہا ہے ۔ وائکنگ اول نے ۲۵ جولائی کو76 19 کو مریخ سےیہ تصویر بھیجی تو زمین پر انتظار کرنے والے سائنس دانوں میں تو زبر دست جوش و خروش پیدا ہو گیا۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ تصویرمریخ پرانسا ن جیسی مخلوق کی موجودگی کا قطعی ثبوت ہے۔مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ یہ صرف نظر کا دھوکہ تھا۔مریخ پر انسان کی تصویر ایک چٹان کے سایہ کا کرشمہ ثابت ہوئی۔

كائنات بے شمار ستاروں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ ستارے ہماری زمین سے کروڑوں اربوں گنا بڑے آگ کے شعلے ہیں۔ سورج اسی قسم کا نسبتاً ایک چھوٹا ستارہ ہے ۔ سورج کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہم ہے قریب ہے اور اس کے گرد زمین اور دوسرے غیر روشن سیارے گھوم رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد 9 ہے ، پھر ان سیاروں کے گرد مزید چھوٹے سیارے گردش کر رہے ہیں۔ جن کو چاند کہا جاتا ہے نظام شمسی میں اس قسم کے 29سیار چے پائے جاتے ہیں۔ ان میں بعض سیارچے مریخ کے حجم کے برابر ہیں۔ سائنس دانوں کا قیاس ہے کہ اس قسم کی سیاراتی نظام ہماری کائنات میں تقریباً ایک سوملین کی تعداد میں ہیں ۔ تاہم ابھی تک کسی دوسرے سیاراتی نظام کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا ہے۔

مریخ جس کو ہندی میں منگل اور انگریزی میں مارس

مریخ پر زندگی کی تلاش

''بے شمار دنیاؤں کی اس وسیع کائنات

میں زمین ایک انوکھا استثنار ہے“۔

خلائی مہموں کی اس دریافت نے حیرت انگیز

طور پر خصوصی تخلیق کے نظریہ کو صیح ثابت

کر دیا ہے جس کو ارتقا پسندوں نے

سو سال پہلے رد کر دیا تھا

کہتے ہیں، نظام شمسی کا ایک سیارہ ہے۔ مریخ کا فاصلہ زمین سے ۲۱ کردر ۵۰ لاکھ میل ہے اور اس کا قطر زمین کے مقابلہ میں تقریباً نصف ہے ۔ یہ'' سرخ ستارہ ''قدیم ترین زمانہ سے انسان کی توجیہ کا مرکز رہا ہے۔ قدیم علم نجوم میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ موجودہ زمانہ میں کی مریخ سے دل چسپی کی خاص وجہ یہ ہوئی کہ سائنس دانوں کی کا خیال تھا کہ مریخ کے طبیعی حالات ہماری زمین سے بہت زیادہ مشابہ ہیں اور وہاں زندگی کی کچھ اقسام ضرور پائی جانی چاہئیں۔ ابتدائی مشاہدہ میں فروغ پر کچھ ایسی چیزیں نظر آئیں جن کوبرف کا تو وہ سمجھا گیا۔ چنانچہ کہاگیاکہ برفانی تودوں کا مطلب ہے پانی اور فضا، فضا کا مطلب ہے اکسیجن اور دونوں کا مطلب ہے زندگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس نظریہ کی بنیادی حقیقی دریافت سے زیادہ قیاس پر تھی۔ جدید علما ءزندگی کو ایک ارتقائی واقعہ فرض کرتے ہیں۔ یعنی مادی اشیاء کے باہمی تعامل سے مخصوص حالات میں زندگی کا ایک ابتدائی شرارہ نکلا

اور پھر مختلف مادی حالات کے تحت ارتقا کرتا ہوا موجودہ انواع حیات تک پہنچا۔ اسی کے ساتھ ان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات کا مادہ ایک ہے ۔ جو ایٹم ہمارے اندر ہے، ذرے سے لے کر ستاروں تک تمام کائنات اسی سے بنی ہوئی ہے ۔ اسی لئے امریکی فلکیات داں ڈاکٹر ساگن (Dr. Carl Sagan) نے انسان کو کو کسی مخلوق ( Starfolk ) کہا ہے ۔ اب اگر زندگی ارتقاء کے طبیعی قانون کے تحت بنی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ محض ایک زمینی استثناءہو۔ اس توجیہہ کا لازمی تقاضا ہے کہ زندگی ایک کائناتی مظہر ہو۔ وہ کائنات کے تمام حصوں میں ، اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے ، ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی نظر آئے۔ اتنی بڑی کائنات میں صرف ایک چھوٹے سے سیارہ پر زندگی ہو تو وہ ایک شعوری اور ارادی تخلیق معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس زندگی اگر ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہو، تو جدید ذہن کے نزدیک، وہ ارتقاء تصدیق کرتی ہوئی نظر آئے گیـــــــ مریخ پر زندگی ن تلاش کا کم از کم فلسفیانہ محرک یہی ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نے دور مین سے ) (1877میں اٹلی کے ایک فلکیات داں شیا پر یلی Giovanni Schiaparelli نے دور بین سے مریخ کا مشاہدہ کیا۔ اس کے مشاہدہ میں بعض ایسی چیزیں آئیں جن کو اس نے اپنی زبان میں کینالیi Canal سے تعبیر کیا۔ اس اطالوی لفظ کا انگریزی مترادف چنیل (Channels) ہے ۔ مگر انگریزی میں جب یہ خبر چھپی تو اس کا ترجمہ چنیل کے بجائے کینال(Canals) کر دیا گیا ۔چین قدرتی گزرگاہ کو کہتے ہیں۔ جب کہ کینال کا لفظ انسان کی بنائی ہوئی نہر کے لئے بولا جاتا ہے۔ ترجمہ کی یہ غلطی اتنی عام ہوئی کہ لوگوں نے سمجھ لیا کہ مریخ پر داقعی انسان جیسی مخلوق پائی جاتی ہے۔

۱۸۹۴ میں ایک امریکی فلکیات داں پر سیول لا دیل (Percival Lowell) سے زیادہ گہرائی سے مریخ کا مشاہدہ کیا۔ اس نے بتایا کہ میں نے اپنے مشاہدہ ہیں مریخ پر 50نہریں شمار کی ہیں۔ اس کے بعد اسنے ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا : مریخ زندگی کا مسکن

Mars As The Abode Of Life

۱۸۹۶ میں خیالات کا یہ قافلہ اور آگے بڑھا جبکہ برطانیہ کے سائنسی کہانیاں لکھنے والے اپنے جی ۔ دیلزنے ایک کتاب شائع کی۔ اس کا نام تھا " دنیاؤں کی جنگ''

THE WAR OF THE WORLDS

اس کتاب میں برطانی مصنف نے دکھا یا کہ مریخ کے باشندوں نے ہماری دنیا پر حملہ کردیا ہے۔ یہ کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ امریکی ریڈیو نے 1938میں اس کو نشر کیا اور اس کے فوراً بعد ہالی وڈ نے ایک فلم بنائی جس میں مریخ کے باشندان کو عجیب و غریب قسم کے بڑے بڑے جانوروں کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ 191 میں امریکہ میں ایک ناول چھپی جس کا نام تھا Under The Moons Of Mars یہ کتاب کروروں کی تعداد میں فروخت ہوگئی ۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ مریخ پر سرخ انسان ، زرد انسان، ہرا انسان وغیرہ مخلوقات پائی جاتی ہیں۔

موجودہ زمانہ میں خلائی سائنس کی ترقی نے جب اس کو ممکن بنا دیا کہ مریخ کے حالات کی تحقیق کے لئے زیادہ دور رس تحقیقات کی جا سکیں تو نئے نئے منصوبے شروع ہوئے ۔ اس کی تین خاص صورتیں یہ تھیں :

1 بیرونی خلا میں سگنل بھیجنا اور دان کارد عمل معلوم کرنا ۔ قیاس یہ تھا کہ زمین سے ایک ہزار سال نور کے اندرجو ستارے واقع ہیں، ان میں کم از کم دس سیارے ایسے ہو سکتے ہیں جن میں ترقی یافتہ تہذیبیں موجود ہوں ۔ اور وہ ہمارے سگنل کا جواب دیں۔ پہلی بار پر وفیسر ڈریک ( Drake ) نے ۱۹۶۰ میں ستاروں سے مواصلات قائم کرنے کی کوشش کی۔ کائنات میں مفروضہ زندگیوں سے ربط قائم کرنے کے لئے ریڈیو اینٹینا کا رخ قریبی ستاروں کی طرف کر دیا گیا۔ میری لینڈ یو نیورسٹی اور شکاگو یونیورسٹی طرف نے ۱۹۷۲ سے ایک مشترکہ پروگرام شروع کر رکھا ہے جسں کے ذریعہ گرین بینک کی رصدگاہ (مغربی ور جینیا) سے سات سو قریبی ستاروں تک مسلسل سگنل بھیج کر ان کا جواب سننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وغیرہ

2۔ بیرونی خلا سے آنے والے شہائبے (Meteors ) حاصل کرنا اور احتیاط کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنا کہ شاید ان پر دوسری دنیاؤں کے جراثیم لپٹے ہوئے مل جائیں ۔ چاند سے لائے ہوئے ذرات اور ٹکڑوں کو بھی اسی طرح خصوصی آلات کی مدد سے دیکھا گیا ہے ۔ اس مقصد کے لئے دوسرے سیاروں پر راکٹ بھیج کر واپس لائے جاتے ہیں اور بخوران کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ شاید ان کے اوپر کوئی کائناتی جرثومہ لپیٹ کر آ گیا ہو۔

3۔تیسری صورت مریخ پر ضروری ساز و سامان سے لیس خلائی جہاز بھیجنا ہے جو وہاں کے قریبی فوٹو بھیجے اور وہاں کی مٹی کا جائزہ لےکر اپنی رپورٹ دے ۔ وائکنگ اول اور وائکنگ دوم اسی سلسلے کے مشن تھے جنھوں نے پچھلےسال بہت زیادہ شہرت پائی ۔

مریخ پر زندگی کی تلاش کا جدید سلسلہ ۱۹۶۵ میں شروع ہوا جبکہ میرینیر ( Mariner) نام کی خلائی مشینیں اس کی طرف بھیجی گئیں۔ ان مہموں کا خاص مقصد قریب سےمریخ کا فوٹو لینا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل امریکی اور سوویت اسپو تنگ مریخ کے گرد چکر لگاتے رہے ہیں۔ تاہم و ائکنگ اول پہلی انسانی مشین تھی جو جولائی ۱۹۷۶ میں مریخ کی سطح پر اتری۔ اس کے بعد وہ ائکنگ دوم کو ستمبر 1976میں اس پر اتارا گیا۔

وائکنگ کے لفظی معنی ''بحری قزاق'' کے ہوتے ہیں۔ 700ملین کیلو میٹر کا سفر طے کر کے یہ پیچیدہ مشین گیارہ مہینے میں مریخ پرپہنچی۔600 دن ایک کام کرنے والی اس مشین کا وزن چارٹن تھا۔ اس میں تین آٹو میٹک لیبور ٹری میں اور مجموعی طور پر اس کے اندر کل ۹۲۵۰۰۰ پرزے لگے ہوئے تھے ۔ زمین پرکسی لیبورٹری میں جتنے آلات ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ آلات وائکنگ کی لیبورٹری میں تھے ۔ اس کے باوجود وہ اتنی چھوٹی تھی کہ کوئی شخص اس پوری لیبوریٹری ی لیور ٹری کو بغل میں دبا کر لے جا سکتا تھا۔ وائکنگ کی تیاری پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ اس کے بعد بجٹ میں اتنی رقم نہ رہی کہ اس میں فلیش لائٹ نصب کی جاسکے۔ کیونکہ وہ بہت قیمتی تھی۔ چنانچہ وائکنگ کو فلیش لائنٹ کے بغیر بھیجا گیا۔ امریکی سائنس دانوں نے اس پر قناعت کی کہ وہ صرف دن کے وقت مریخ کی تصویریں حاصل کریں ، رات کو اس کا سلسلہ بند رکھیں۔ وائکنگ کے دو قیمتی کیمرے اتنے طاقت دور تھے کہ دہ مریخ پر ایک چیونٹی سے لے کر زرافہ تک کے اجسام کے عمل فوٹولے سکتے تھے۔

وائکنگ کی ہر چیز بے حد پیچیدہ حساب سے تعلق رکھتی تھی ۔ مثال کے طور پر اس کو مریخ میں اتارنے کے لئے جو حسابی اندازہ کرنا تھا، اگر اس میں چند میٹر کی بھی غلطی ہو جائے، تو وہ مریخ تک پہنچ کر ہزار کلومیٹرکی غلطی کی شکل اختیار کرلیتی۔ وائکنگ کو زمین سے ریڈیائی لہروں کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ یہ نظام اتنا ز بر دست تھا کہ ۲۵ جولائی کو جب کہ مریخ پر اترنے کے بعد و ائکنگ اول کا۔10فٹ لمبا باز و جام ہوگیا، جس کا کام یہ تھا کہ مریخ کی مٹی اٹھا کر اس کو اپنی لیبورٹری میں ڈالے تو پسا ڈینا کے زمینی مرکز سے ریڈیائی لہروں کے ذریعہ اس کی مشینی غلطی درست کر دی گئی اور بازو دوبارہ مل کر اپنا کہ اپنا کام کرنے لگا۔ اسی طرح وائکنگ کے اترنے کے لئے ابتداء جو جگہ طے کی گئی تھی، جب اس کی بھیجی ہوئی تصویروں سے معلوم ہوا کہ وہاں گیارہ میل قطر کا ایک گہرا غار ہے ، تو وائکنگ کو مقررہ وقت پر اتر نے سے روک دیا گیا۔ مزید مطالعہ کے بعد جب دوسری مناسب جگہ متعین ہوگئی تو اس کو اترنے کا حکم دیا گیا ۔

وائکنگ کو مریخ پر زندگی کی تلاش کے سلسلے میں بہت سے کام انجام دینا تھے ۔ اس میں ایسے آلات لگے ہوئے تھے جو مریخ کی سطح پر ایکس ریز کی بمباری کر سکیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مریخ کی سطح کا مادہ کن چیزوں کا مرکب ہے۔ ایک اور آلہ وہاں کے موسمیاتی اعداد و شمار جمع کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ اس کی کیمسٹری لیبورٹری کا مقصد یہ تھا کہ وہ کاربن مالیکیول کی تلاش کرے اور یہ پتہ کرے کہ مریخ پر کیا آرگینک مالیکیول کی شکل میں موجود ہیں ۔ یہ آلہ اتنا حساس تھا کہ آرکینگ مٹیریل اگر ایک ملین میں ایک کی نسبت سے ہو، تب بھی وہ اس کو پکڑ سکتا تھا۔ وئکنگ میں لگے ہوئے کیمرے تین ابعادی تصویریں کھینچ سکتے تھے۔ کوئی جاندار، چھوٹا یا بڑا، ان کے سامنے سے گزرے تو وہ ان کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔

صفحہ نمبر 38 پر یہاں تصویر ہے۔

Rilles or channels that might have been formed as fiss ures split by the uplifting plateau under tension from heat processes below the Martian crust.

صفحہ نمبر 38 پر یہاں تصویر ہے۔

The latter "B" or per aps the figure "8" appears to have been etched into the Mars rock at the left fedge of this pictare taken on July 24 by te Viking 1 Lander. It is believed to be an illusion caused by weathering processes and the angle of the sun as it Huminated the scelte for the spacecrass epshers.

وائکنگ نے مریخ سے تصویریں بھیجنی شروع کیں تو پسا ڈینا (امریکہ) میں بیٹھے ہوئے سائنس دانوں کا جو ش و خروش بہت بڑھ گیا ۔ ان ابتدائی تصویروں میں انہیں کچھ ایسی چیزیں ملیں جو مریخ پر زندہ اشتہار کی موجودگی کا ثبوت دے رہی تھیں ۔ 18ا گست ۱۹۷۶ کو کچھ تصویریں موصول ہوئیں جن میں بظاہر ایسا منظر تھا جو جوتے ہوئے کھیت کے ہوائی فوٹو میں ہوتا ہے۔ دھاریاں اتنی سیدھی تھیں کہ سائنس دانوں کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ یہ محض فطری اسباب سے بن سکتی ہیں۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ ان کا کوئی تعلق ذی شعور مخلوق سے نہیں ہے۔ یہ دیسی ہی ہیں جیسے صحرا میں ہواؤں کے ذریعہ ریت کے اندر سیدھی دھاریاں بن جاتی ہیں۔

اسی طرح وائکنگ نے کچھ ایسی تصویریں بھیجیں جن میں انسانی حروف اور گنتیاں نظر آرہی تھیں مثلاً

8 G B وغیرہ ۔ اس سے سمجھ لیا گیا کہ مریخ پرانسان جیسی کوئی مخلوق ہے اور اس نے وہاں کی چٹانوں پر یہ حروف اور گنتیاں لکھ رکھی ہیں مگر بعد کو معلوم ہوا کہ چینی نظر کا دھوکا تھا۔ اس قسم کے تمام نقوش صرف سایہ کا کرشمہ ثابت ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک تصویر ایسی بھی موصول ہوئی جس میں صاف طور پر انسانی چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس میں آنکھ، ناک سب انسان جیسے تھے۔ مگر بعد کی تحقیق میں وہ بھی محض سایہ ثابت ہوا ۔

مریخ پر زندگی کی تلاش کے سلسلے میں وائکنگ کا ایک خاص کام یہ تھا کہ وہ اپنے اندر سے دس فٹ کا بازو نکال کر مریخ کی مٹی کھودے اور اس کو اپنی لیورٹری میں رکھ کر پکائے ۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مریخ کی سطح پر کاربن پر منبی آرگینک کمپاؤنڈ ہے یا نہیں۔ زمین پرمٹی کے ہر ٹکڑے میں بے شمار تعداد میں خوردبینی کیڑے موجود رہتے ہیں۔ اگر مٹی کے کسی ٹکڑے کو آگ پر پکایا جائے تو ہ کیڑے جل کر کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کریں گے جو اس بات کا ثبوت ہو گا کہ اس کے اندر زندہ جسم بالفاظ دیگر آرگینک مٹیریل موجود تھا۔

وائکنگ کی لیبورٹری کے ذریعہ اسی زمینی تجربہ کو مریخ پر دہرایا گیا مریخ کی مٹی کو اولاً 50ڈگری سنٹی گریڈ اور اس کے بعد ۲۰۰ ڈگری سنٹی گریڈ تک گرم کیا گیا۔ مگر اس کے اندر کسی زندہ چیز کا ثبوت نہیں ملا۔ مریخ کی مٹی میں چھوٹے سے چھوٹا خوردبینی کیڑا یا کائی کے مانند بھی کوئی ہریالی ہوتی تو اس عمل سے اس کا پتہ چل جاتا ۔

شروع میں جب مریخ کی مٹی لیبارٹری کی بھٹی میں ڈالی گئی جو سورج کی حرارت سے گرمی لے کر اسکو پکاتی تھی تو کسی قدیم اکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کا نشان ملا ۔مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ جن کیمیکل ری ایکشن کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی قسم کی زندگی کی وجہ سے۔ وائکنگ کسی کی کی لیبارٹری میں زندگی کی جانچ کے تین مختلف سائنسی طریقے اختیار کئے گئے مگر آرگینک کمپاؤنڈجو زند گی کا بلڈنگ بلاک ہے، مریخ پر دستیاب نہ ہو سکا۔

اسی کے ساتھ وائکنگ میں دوسرے ایسے آلات تھےجو حیاتیاتی اجسام کی صفتیں مثلا نشو و نما، نظام ہضم، نظام تنفس کا انتہائی باریکی کے ساتھ پتہ لگا سکتے تھے مگر ان آلات نے بھی آٹھ ہفتے کی تلاش کے باوجود ایسی کوئی اطلاع نہ دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مریخ پر ان خصوصیات کو رکھنے والی کوئی چھوٹی بڑی مخلوف پائی جاتی ہے۔

مریخ کی تحقیق یہ پتہ چلانے کے لئے تھی کہ کیا زمین سے باہر کی دنیاؤں میں زندگی موجود ہے۔ مگر ان تحقیقات نے مریخ پر زندگی کے بارے میں جدید انسان کی رجائیت کو سخت دھکا پہنچایا ہے۔ کیونکہ اس سے صرف یہ ثابت ہوا ہے کہ مریخ پر زندگی کم ازکم اس وقت نا ممکن ہے۔ اس کی فضا میں پانی کے بخارات کی بہت کم مقدار اور اس کی سطح پر سیال پانی کا فقدان ایسی باتیں ہیں جو زندہ نظام جسمانی کے لئے اس کو نا اہل بنادیتی ہیں۔ شروع میں جب مریخ پر آکسیجن کا انکشاف ہو تو فورا مریخ پر زندگی کے بارے میں پرُ امید قیاس آرائیاں ہونے لگیں ۔ مگر بالآخر ثابت ہوا کہ آکسیجن کی بہت تھوڑی مقدار جو بظاہر مریخ پر پائی جاتی ہے وہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے غیر حیاتیاتی ہے۔

''اس قسم کے بیانات کہ مریخ کی فضا میں نائٹروجن کی موجودگی، سیارہ پر زندگی کے موجود ہونے کی توثیق کر سکتی ہے “ ایک روسی سائنس داں لیفت موخن لکھتا ہے " مجھے حد سے زیادہ عاجلانہ دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ قمری چٹانوں کے گیس کے حال اجزاء کا مطالعہ کرنے پر بھی اسی طرح نائٹروجن دریافت ہوئی تھی ، یہ بالکل ممکن ہے کہ وہاں زندگی کا کوئی وجود نہ ہو اور مریخ کی مٹی اور اس کی فضا کے بارے میں جو کچھ معلوم کیا گیا ہے، وہ سب ایک غیر معمولی رد عمل کا نتیجہ ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مریخ کی سطح پر سخت قسم کی شمسی الٹرا وائلٹ شعاع افشانی نے مریخ کی مٹی کی جذب کرنے والی صلاحیتوں کو بدل دیا ہو اور جو کچھ آج ہمارے سامنے ہے وہ بخارات بننے کے سلسلہ ہائے عمل کا نتیجہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فلکی طبیعیات کے مشہور روسی عالم پر وفیسرجوزف شکور سکی ( Jossif Shklovsky) چند سال پہلے تک اسی نظریہ کے زبر دست حامی تھے کہ زمین کے علاوہ کا ئنات کے دوسرے مقامات پر بھی ذہین زندگی (انٹیلجنٹ لائف ) موجود ہے۔ مگر اکتوبر ۱۹۷۶ کے آخر میں سودیت اکیڈمی آف سائنس کے مجلہ میں مضمون لکھتے ہوئے انھوں نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ذہین زندگی کا وجود صرف زمین پر ہے۔ اس کے علاوہ کا ئنات کے کسی دوسرے مقام پر ہمارے جیسی ذہین زندگی نہیں جیسی پائی جاتی یہ ذہین زندگی اگر ہماری کہکشاں میں یاستا روں کے کسی اور نظام میں موجود ہوتی تو خلائی سائنس کے ماہرین اب تک اس کا کوئی متعین ثبوت دریافت کر چکے ہوتے یہ انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں خلائی مشکل یا اڑن طشتریوں وغیرہ کے مفروضات کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں ہے ۔

other sourceWords of another person or source

اگر انسان نہیں تو اس کی روبوٹ مشین بہر حال مریخ پر پہنچ چکی ہے۔ مگراس نے پچھلی تمام امیدوں کے خلاف یہ بتایا کہ مریخ پر خشک چٹانوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ بظاہر سائنس فکشن لکھنے والوں کے تمام قیاسات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری کیمپل مین (Kampelman) نے لکھا کہ مریخ کے جس حصہ پر وائکنگ اترا، وہ اس وقت مریخ کا گرم علاقہ تھا، ظاہر ہے کہ مریخ کے باشندے ان دنوں نسبتاً سرد علاقوں میں منتقل ہو چکے ہوں گے جہاں ان کے لئے پارک اور آرام گا ہیں ہیں یہ جہاں ان کے لئے پارے ایک اطالوی ادیب با سکولو (Renuccio Boscolo) نے کہا : وائکنگ نے مریخ کی ایک قدیم تہذیب کے کھنڈرات کی تصویر بھیجی تھی مگر'' ناسا'' کے افسروں نے اس کو چھپا دیا۔ رے بریڈ بری (Ray Bradbury) نے کہا : مریخ کے باشندے وائکنگ کی گرفت میں کیسے آسکتے تھے کیونکہ وہ تو نا قابل مشاہدہ (Invisible) مخلوق ہیں، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بچوں کا گھروندا جتنی دیرمیں بنتا ہے اس سے بھی کم مدت میں زمین بوس ہوجاتا ہے

ایک طالب علم کے سر پرست کالج کے پرنسپل ملےـــــ " آپ لوگوں نے جو تعلیمی نصاب بنایا ہے وہ بڑا طویل ہے۔ طالب علم کی عمر کا بڑا حصہ صرف پڑھنے میں گزر جاتا ہے ۔ ''انھوں نے کہا۔

other sourceWords of another person or source

''اس کا حل تو بہت آسان ہے'' پرنسپل نے جواب دیا۔ ” آپ مختصر نصاب بھی بنا سکتے ہیں۔ اصل میں مدت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ طالب علم کے اندر کس درجہ کی لیاقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ قدرت کو شاہ بلوط ( Oak) کا درخت تیار کرنے میں سو برس لگ جاتے ہیں مگر جب وہ لکڑی اگا نا چاہتی ہے تو اس کے لیے صرف چند مہینے درکار ہوتے ہیں۔ اگر آپ معمولی قسم اعلی معیار چاہتے ہوں تو چند سال کی تعلیم بھی کافی ہو تی ہے مگر اعلیٰ تعلیم یا فتہ بنانے کے لیے تو بہرحال زیادہ وقت دنیا پڑے گا''۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی حال قومی تعمیر کا بھی ہے۔ اگر آپ ٹھوس اور دیر پا تعمیر چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو صبر آزما انتظار کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا اور لمبے عرصہ تک مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔ لیکن اگر آپ بچوں کا گھر وندابنانا چاہتے ہوں تو پھر صبح شام میں ایسا گھروندا بن کرکھڑا ہوتا ہے۔ البتہ ایسی حالت میں آپ کو اس حادثہ کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئیے کہ جتنی دیر میں آپ کا گھر وندا بن کر کھڑا ہوا ہے اس سے بھی کم مدت میں وہ دوبارہ زمیں بوس ہو جائے۔

ہوائیں چلتی ہیں تو گرد و غبار اٹھ کر فضا میں اڑنے لگتے ہیں ۔مگر گرد غبار کی پرواز کے لئے آخری طور پر جو انجام مقدر ہے، وہ یہ کہ دوبارہ وہ زمین پر گریں اور قدموں کے نیچے پامال ہونے کے لیے باقی رہ جائیں۔

مگر یہی ہوائیں پانی کے قطروں کو بھی پرواز پر آمادہ کرتی ہیں۔ مگر یہاں معاملہ بالکل مختلف ہوتا ہے قطرے فضا میں جا کر بادل بنتے ہیں، پھر وہ بارش کی شکل میں زمین پر برستے ہیں ۔ اس کے بعد نالوں اور ندیوں سے ہوتے ہوئے سمندرمیں پہنچتے ہیں اور بالآخر اس عظیم آبی چادر کا حصہ بن جاتے ہیں جو دائمی طور پر پورے کرہ ارض کو لپیٹے ہوئے ہے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ ہماری سرگرمیوں کا بھی ہے۔ سطحی اور غیر دانش مندانہ سرگرمیاں انسانوں کو صرف گڑھے میں گرانے کا باعث ہوتی ہیں اور جن سرگرمیوں کی بنیاد گہری بصیرت پر ہوتی ہے وہ آدمی کو ترقی کے آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سوبرس کے درمیان ہم نے اس ملک میں قومی تعمیر کے نام سے زبردست ہنگامہ آرائی کی ہے مگر یہ روشیں اس انجام پر ختم ہوئی ہیں کہ آج ہم صرف گرد راہ بن کر انسانی قافلوں کے قدموں کے نیچے پامال ہونے کے لئے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ہم کو جد وجہد کا جو طویل موقع ملا اور اسمیں جو سنہری امکانات ہمارے لیے چھپے ہوئے تھے اگر ہم نے دانش مندی کے ساتھ انھیں استعمال کیا ہوتا تو آج ہم زمین پر چھائے ہوئے ہوتے۔ فرمادو ماتم کے بجائے ہم فیصلہ کرنے والے کی پوزیشن میں ہوتے۔

ہمارے لیے آسمانی پرواز بھی مقدر تھی۔ مگر ہماری بے بصیرتی کی وجہ سے صرف زمین کی پامالی کا انجام ہمارے حصہ میں آیا ہے۔

شام میں قدیم تہذیب کی دریافت

روم اگر ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو اور اچانک اپنی پوری تاریخ کے ساتھ ظاہر ہو جاتے تو مورخین کے لئے بلا شبہ یہ انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہوگا ۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نوئل فریڈمین David Noel Freedman کے نزدیک ایسا ہی معاملہ اس قدیم تہذیب کا ہے جس کے آثار شام میں کھدائی سے برآمد ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر فریڈ مین مشی گن یونیورسٹی میں ببلیکل آر کیا لوجی کے استاد ہیں اور انھوں نے روم یونیورسٹی کے ماہ بین علم الآثار کی اس ٹیم کے ساتھ کام کیا تھا جس نے شام کے تل مرد یخ میں کھدائی کرکے اس چھپی ہوئی تاریخ کو برآمد کیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ ستمبر 1975 ء میں دنیا کے علم میں آیا۔ اس کھدائی میں سطح زمین سے چار میٹر نیچے ایک قدیم شاہی محل کے کھنڈرات برآمد ہوتے ہیں جس میں 15ہزار مٹی کی تختیاں ملی ہیں۔ ان تختیوں کا حجر ہاتھ کی ہتھیلی یا اس سے کچھ بڑا ہے۔ ان تختیوں پر قدیم خط میں کتبات لکھے ہوتے ہیں جن کو گیودانی پیٹی ناٹو۔GIOVA NNI PETINATO نے پڑھا ہے جو قدیم زبانوں کے ماہر ہیں ۔ یہ تختیاں ۵۰ سال کی مدت سے تعلق رکھتی ہیں جو ۴۰۰ ۲ ق م سے ۲۲۵۰ ق م تک پھیلا ہوا ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم شامی شہر ابلہ ایک عظیم ترقی یا سلطنت کا مرکز تھا جس کا علاقہ شمال میں بحر امر سے لے کر موجودہ ترکی تک پھیلا ہوا تھا۔ مشرق میں اس کی سرحدیں میسوپوٹامیہ (عراق) سے ملتی تھیں ۔

سمیری، جو کہ ایک غیر سامی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، 3000ق م میسو پوٹا میا کے جنوب میں آباد تھے۔ قدیم خط مسمارہی کو ترقی دے کر انھوں نے وہ خط بنا یا جس کو خط میخی (Cunei Form) کہا جاتا ہے۔ ابلہ کی تختیاں اسی سے ملتے جلتے خط میں لکھی ہوئی پائی گئی ہیں۔

تختیوں کی ۸۰ فی صد تعداد مالی معاہدات سے تعلق رکھتی ہے۔ ان لوگوں کی تجارت آس پاس کے ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ بعض تختیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قبرص میں تانبا بر آمد کرتے تھے اس کے علاوہ بین الاقوامی معاہدے ، فوجی رو دا دیں ، مذہبی تحریریں، تخلیق کی کہانی اور'' عظیم طوفان'' کی باتیں تختیوں میں درج ہیں۔ ان میں بار بار پیغمبروں کے نام بھی آتے ہیں، مثلاً ابراہیم ، اسماعیل اسرائیل داؤد وغیرہ ۔

میسوپوٹامیا والوں نے ۲۲۵۰ ق م میں ابلہ سلطنت پر حملہ کیا اور اس کے شاہی محل میں آگ لگادی۔ اس کے نتیجے میں محل تباہ ہو گیا۔ تاہم مٹی کی پکائی ہوئی تختیاں آگ سے محفوظ رہیں۔ اگر چہ ان میں سے کچھ تڑخ کر ٹوٹ گئیں ۔ اس کے بعد عرصہ تک ہوائیں، گرد کی تہیں ان کھنڈرات پر چڑھاتی رہیں چند صدیوں کے بعد یہاں ریت اور مٹی کا اونچاٹیلہ بن گیا۔ تختیاں اس کے نیچے محفوظ رہیں۔ ان تختیوں کی مالیت کا اندازہ پندرہ ملین ڈالر ہے ۔

تختیوں کے ذریعہ جوملکی قوانین معلوم ہوئے ہیں ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کے یہاں زنا کی سزا موت تھی۔

مورخین کا خیال اب تک یہ تھا کہ اس علاقہ میں سے قدیم سلطنتیں مصرا در میسو پوٹا میا (عراق) والوں کی تھیں مگر ان تختیوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ ابلہ (شام) والوں نے بھی تیسری عظیم سلطنت اس علاقہ میں قائم کرنےمیں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس تیسری سلطنت کی عظمت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ میسو پوٹامیہ والوں کی فتح کا ذکر کرتے ہوئے ایک تختی کہتی ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

''یہ وہ شہر ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر اب تک کبھی مفتوح نہیں ہوا تھا " (۔ اسٹیٹمین، ا۲ /اگست1976)

other sourceWords of another person or source

دین نہ سیاسی مقابلہ آرائی کا نام ہے نہ فراری عملیات کا

انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان پورے سو سال تک مسلمانوں کے اوپر سیاست کا جنون سوار رہا ۔ نہ صرف دنیا دار لیڈ ر بلکہ مقدس بزرگ بھی سیاست کے میدان میں اس طرح ٹوٹ پڑے گویا اس سے بڑا کوئی کام ہی نہیں جس کے لئے وہ متحرک ہوں حتٰی کہ کچھ پُر جوش داعیوں نے اسلام کی ایسی تشریح کر ڈالی جیسے اسلام نام ہی ہے اسلامی سیاست کا ۔

یہ بے معنی سیاست جب اس بے معنی انجام کو پہنچ گئی جہاں اسے پہنچنا تھا تو ا ب مسلمانوں کا پنڈولم دوسری انتہا کی طرف جا رہا ہے۔ یہ ہے ٹونے ٹوٹکے کا مذہب - "مسجدوں والے'' اعمال میں ایسے پر اسرار اوصاف تلاش کرلئے گئے ہیں کہ چھت کے سایہ میں بیٹھ کر املی کے بیج پر الفاظ شماری کرو اور مقابلہ کا کہ میدان خود بخود سر ہوتا چلا جائے گا۔

مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی وہ دین نہیں ہے جس کو پیغمبر آخر الزماں خدا کی طرف سے لائے تھے اور جو قرآن کی صورت میں اب بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ دین نہ سیاسی مقابلہ آرائی کا نام ہے اور نہ فراری عملیات کا ۔ دین نام ہے دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے عمل کرنے کا دین ایک ایسی زندگی ہے جس کو آج کی زبان میں Akhirat Oriented Life کہا جا سکتا ہے یعنی آخرت پسندانہ زندگی۔ ایک ایسی زندگی جس میں تمام سرگرمیوں کا رُخ آخرت کی طرف ہو۔

ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم آخرت کے مسافر ہیں۔ ہماری موجودہ زندگی ، ہماری اصل زندگی کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہے۔ ہم بہت جلد اپنی دائمی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہونے والے ہیں ۔ اس حقیقت واقعہ کو یا د رکھنا اور دنیا کے نفع نقصان کے بجائے آخرت کے نفع نقصان کو سامنے رکھ کر زندگی گذارنا اسی کا نام دین یا اسلامی زندگی ہے۔

مسلمان کا کام یہ ہے کہ خود اسی راہ کو اپنائے اور دوسروں کو اسی راستہ کی طرف دعوت دے ۔

سب سے بڑا اعتماد خدا پر اعتماد ہے

جس بہادری کا انحصار

مادی سہارے پر ہو ، وہ

اس وقت بزدلی میں تبدیل ھو جاتی ہے جب مادی سہارا چھن جائے

دوسری جنگ عظیم میں جب اتحادی طاقتوں نے بالآخر جرمنی کو شکست دیدی تو تمام نازی لیڈروں کو اسی برلن میں پھانسی کے تختہ پر اٹکا دیاگیا جہاں وہ ساری دنیا کے قتل کا منصوبہ بنایا کرتے تھے۔

یہ واقعہ اکتوبر ۱۹۴۶ء کا ہے۔ ہٹلر اور گوئر نگ نے تو پہلے ہی خود کشی کرلی تھی اس کے بعدر بن ٹراپ ، کٹیل ،کینٹن برنر ،الفریڈ روزن برگ ، ہنس فرنیک، ولہم فرک جولیس، سا کل ،جوڈل ،سس انکوارٹ اور دوسرے نازی لیڈر جو زندہ بچے تھے، ایک ایک کر کے ختم کر دیئے گئے۔

یہ وہ لیڈر تھے جنہوں نے چالیس لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے ایک ایسی خونی جنگ چھیڑی تھی جس میں ان کے مفروضہ دشمنوں کے علاوہ خود جرمن قوم کے 20لاکھ سپاہی کام آئے۔ انھوں نے لاکھوں انسانوں کوبیگار کیمپوں(Concentration Camp) جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ ان کی درندگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے ملک کے بڑھے معذور اور بیمار لوگوں کو جرمنی کے لیے بے فائدہ قرار دے کرگولی سے اڑا دیتے۔ مقتول بچوں، لاشوں سے اٹے ہوئے گڑھوں اور بیواؤں اور یتیموں کے غول دیکھ کر بھی ان کا پتھر جیسا دل پسیجنا نہیں جانتا تھا۔

مگریہ شکست کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ جب وہ پھانسی کے تختے کے سامنے لائے گئے تو ان کے چہرے زرد تھے ان کی ٹانگیں لڑ کھڑا رہی تھیں، وہ کچھ بولنا چاہتے تو معلوم ہوتا کہ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔شعلہ بیان لیڈر گویائی کی طاقت کھو بیٹھے تھے جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے تھے، وہ اپنے انجام کو دیکھ کر پاگل ہوگئے تھے۔

جس بہادری کا انحصار صرف مادی سہارے پر ہوا وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب مادی سہارا اس سے چھن جائے۔ البتہ جس کا اعتماد خدائے لازوال پر ہو وہ ہر حال میں شجاعت و عزیمیت کی چٹان بنار ہتا ہے، خواہ مادی سہارے اس کا ساتھ دے رہے ہوں یا انھوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔

مسلمان اس نبی کی امت ہیں جس نے غار ثور میں بیٹھ کر اس وقت( لا تحزن ان الله معنا) کا سبق دیا جبکہ سارے مادی سہارے اس سے چھن چکے تھے اور طاقتور دشمن قتل کی مکمل تیاری کے ساتھ عین غار کے دہانے پر کھڑا ہوا تھا۔ اگر خدا کی مدد کا یہ یقین دلوں میں زندہ ہو جائے تو کبھی آپ مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتے ۔ قاتلوں اور غارت گروں کے ہجوم سے بھی آپ اس طرح زندہ سلامت نکل آسکتے ہیں۔ جیسے وہاں کسی کا وجود ہی نہیں تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ علوم کیسے بنے

اسلام جب جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر اطراف کے علاقوں میں پھیلا تو اس کے ساتھ نئے نئے مسائل بھی پیدا ہوئےعجمیت ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور ہو گئی ۔ اس وقت انھوں نے قرآن کی زبان کو محفوظ رکھنے کے لئے نحو، اس کے حل مشکلات کے لئے تفسیر ،اس سے استنباط احکام کے لئے فقہ مرتب کی۔ حدیث کے تلف ہونے اور اس میں وضعی احادیث کے مل جانے کے خطرہ کی وجہ سے انھوں نے احادیث کو مدون کیا اور اس سے متعلق فنون وضع کئے۔

اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ عربی زبان بھی پھیل رہی تھی۔ اب وہ حجاز ونجد کے قصبات سے نکل کر بصرہ کوفہ، دمشق، بغداد ، قرطبہ اور مصر جیسے متمدن علاقوں کی زبان بن گئی۔ ظاہر ہے کہ دوسری قوموں کو عربی پر وہ قدرت حاصل بھی جو عربوں کو ہوسکتی تھی ، اختلاط کے نتیجہ میں ایک نئی زبان بننے لگی جو خامیوں اور غلطیوں سے بھری ہوئی تھی ۔ چوتھی صدی ہجری کے آخر تک اگر چہ عرب دیہات کی زبان از خالص حالت پر موجود رہی مگر شہروں کی زبانیں بدل چکی تھیں۔ بعد کو یہ بگاڑ عام ہوگیا مسلمانوں کو خطرہ ہوا کہ کہیں قرآن کی زبان بھی اس سے متاثر نہ ہو جائے ۔ انھوں نے اس کی حفاظت کے لئے نحو دصرف کے قواعد بنائے۔ اس کی عبارتوں پر اعراب اور نقطے لگائے ۔ اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ کتابی زبان محفوظ رہ گئی ۔ مگر بول چال کی زبان کی اصلاح نہ ہوسکی۔ بالآخر عربی زبان کے دوحصے ہو گئے۔ ایک تحریر کی ادبی زبان ، دوسری بول چال کی عوامی زبان ۔ یہ تقسیم آج تک بلاد عرب میں جاری ہے ۔

عربی نحو کے قواعد مرتب کرنے والا سب سے پہلا شخص ابو الاسود دول (م 69ھ) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابتداءً جب اس نے کوفہ و بصرہ کے گورنر زیاد سے اس فن کو مرتب کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے اجازت نہ دی ۔ اس کے بعد یہ واقعہ ہوا کہ ایک شخص زیاد کے پاس آیا اور گفتگو کے دوران کہا : تونی ابانا تررك بنون (صحیح جملہ یوں ہوگا : تو فی ابو ناد ترک بنین) اب زیاد کو احساس ہوا اور اس نے ابوالا سود کو صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے کی اجازت دے دی۔ ابو الاسود دولی سریانی زبان جانتا تھا اور اس زبان کی نوعربی سے قبل مرتب ہو چکی تھی۔ اس کی پیروی کرتے ہوئے اس نے بھی عربی کو کو سریانی نحو کے قواعد پر مرتب کیا۔

قید رحمت ثابت ہوئی

( ابوریحان ابن احمد البیرونی )

خوارزم (موجودہ خیوا) میں پیدا ہوا۔ وہ نوابوں کے دربار سے وابستہ تھا ۔ 1017ء میں جب محمود غزنوی نے خوارزم میں حکمراں نسل کوختم کیا تو البیرونی کو بھی اس نے حراست میں لے لیا اور اس کو غزنہ میں رہنے پر مجبور کردیا۔ یہ حر است البیرونی کے لئے نہایت مفید ثابت ہوئی ۔ غزنہ میں اس وقت سنسکرت کے علماء موجود تھے ۔ اس نے ان سے سنسکرت زبان سیکھنا شروع کی اور سنسکرت . کی کلاسیکل کتا ہیں پڑھ ڈالیں۔ اس کی یہی کوششیں بعد کو اس کی مشہور کتاب ''تحقیق الہند'' کی شکل میں ظاہر ہوئیں۔

اس میں آپ کے لئے سبق ہے

ابتدائی اسلامی دور کے شعراء میں تین سے زیادہ مشہور ہیں : جریر، فرزدق اور اخطل - جریر (م ۱۱۰ ھ) اور فرزدق (۱۱۰ ھ) دونوں ایک دوسرے کی ہجو کیا کرتے تھے۔ مثلاً فردق نے کہا:

احلا منا تزن الجبال رزانة

وتخالنا جنا اذا ما نجهد

ہماری عقلیں پہاڑوں کے برابر وزنی ہیں اور جب ہم بگاڑ پر مائل ہو جائیں تو تم ہم کو جن خیال کرو گے ۔

جریر نے جواب دیا :

ابلغ بنى وقبان ان حلومهم خفت فلا يزنون حبة خرول

بنی وقبان کو بتا دو کہ ان کی عقلیں ہلکی ہوگئیں اور وہ رائی کے برابر بھی وزنی نہیں۔

یہ ایک سادہ سی مثال ہے۔ ورنہ ان کی ہجویات خاص طور کی زیاده پر فرزدق کی، اتنی زیادہ عریاں ہیں کہ ان کو نقل بھی نہیں کیا جا جاس سکتا۔

جریر کے سلسلہ میں یہ قصہ مشہور ہے کہ اس کی ماں نے ایام حمل میں خواب دیکھا کہ اس کے اندر سے ایک رسی نکلی اور لوگو کے اوپر کود نے لگی اور ایک ایک کا گلاگھونٹنے لگی جب اس نے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کی توبتانے والوں نے بتایا کہ تجھے سے ایک لڑکا پیدا ہو گا جولوگوں کی ہجو کیا کرے گا اور ان کے لئے ایک آفت کا باعث ہوگا۔ اسی لئے لڑکے کا نام جریرکھا گیا جس کے معنی عربی زبان میں رسی کے ہوتے ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

دو معاصر شعراءکے درمیان ہجو گوئی کیسے شروع ہوئی ۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جریر بن عطیہ یمامہ میں پیدا ہوا۔ طبیعت کے رجحان اور ماحول کے اثر سے شعر و شاعری شروع کر دی ۔ اس کو معلوم ہوا کہ بصرہ میں شاعروں کی بڑی قدر ہے۔ وہ وہاں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ فرزدق اپنی شاعری کی بدولت بہت بلند مقام حاصل کئے ہوئے ہے ۔ فرزدق کی خوش حالی اور اس کی قدر و منزلت نے اس کو حیرت میں ڈال دیا ۔ اگر چہ دونوں تمیمی تھے۔ تاہم جر یردل ہی دل میں اس سے حسد کرنے لگا۔ مرید کا بازار جزیرہ اور فرزدق کے فخریہ قصائد اور ہجو یہ نظموں کا اکھاڑا بن گیا۔ دونوں ایک دوسرے کی بحر میں قصائد لکھتے جو'' نقائص ''کے نام سے مشہور ہوئے ۔ تاہم جب عمر کا بالکل آخری حصہ آیا تو دونوں مقابلہ آرائی کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوئے۔

آدمی جب کسی مشغلہ کو اختیارکرتا ہت تو خواہ اس کا محرک جو بھی ہو دھیرے دھیرے وہ اس کی طبیعت بن جاتی ہے اور اس کے اقوال و افعال اسی کے سانچہ میں ڈھل جاتے ہیں۔ جو یہ اس کی ایک مثال ہے

جریر ایک مرتبہ خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دربارمیں پہنچا۔ وہاں عدی بن رفاع عالی بیٹھے ہوئے تھے۔ خلیفہ نے جریر سے پوچھا: ” ان کو پہچانتے ہو " جریر نے کہا: " اے امیر المومنین نہیں “ خلیفہ نے بتایا کہ یہ عاملہ خاندان کے فرد ہیں۔ یہ سن کر برجستہ جزیر کی زبان سے نکلا وہی عاملہ جس کے بارہ میں اللہ فرماتا ہے: عَامِلَةُ نَاصِبَةٌ تصلے ناراً حامية (بہت سے چہرے اس دن خستہ ہوں گے بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے ، غاشیہ۔ 4 ) اس کے بعد ایک بیہودہ شعر پڑھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جریر اور عدی کے درمیان دشمنی شروع ہو گئی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہجو یہ نظمیں لکھیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

متفرقاتـــــــــــــــــ

حقائق غالب آئے

پاکستان کے لیڈروں کا خیال تھا کہ بر صغیر کے مغرب میں جب وہ مسلم حکومت قائم کریں گے تو پورا مغربی ایشیا اور خلیج فارس اور بحراحمر کے گرد واقع تمام ممالک جو انھیں کی طرح مذہباً مسلمان ہیں، ان کے ساتھ ہوں گے اور وہ بقیہ بھارت کے مقابلہ میں چھوٹے ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں سے مل کر بہت بڑی حیثیت حاصل کر لیں گے۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

صدر ایوب کے زمانہ اقتدار (۱۹۶۹ - ۱۹۵۸) میں یہ امید کسی درجہ میں پوری بھی ہوئی ۔ مگر بہت جلد زندگی کے حقائق غالب آگئے مغربی ایشیا کے مسلم ممالک کے یہاں پٹرول کا خزانہ بر آمد ہوا ۔ اب انھیں ضرورت ہوئی کہ اس دولت کے ذریعہ اپنے ملکوں میں ترقیاتی ا سکیمیں چلا ئیں ۔ ان کے پاس روپیہ با فراط تھا، مگرفنی واقفیت (Technical Know How) کی اسی قدر کمی تھی ۔

یہ دوسری چیز انھیں پاکستان نہیں دے سکتا تھا۔ دو سری طرف ہندستان پچھلے سو برس کی کوششوں کے نتیجہ میں اپنے کو اس قابل بنا چکا تھا کہ وہ مسلم ملکوں کی اس ضرورت کو پورا کر سکے۔ چنانچہ ہندستان کے ماہرین کو آج مسلم ملک میں زبر دست استقبال مل رہا ہے اور پاکستان پس پشت چلا گیا ہے ۔

اخباری شہنشاه

یونسکو نے ۲۰۰ قوموں کے ماس میڈیا کے بارہ میں ایک سروے شائع کیا ہے۔ سروے کے مطابق اگرچہ موجودہ زمانہ میں نشر و اشاعت کے ذرائع ترقی کرنے کے سٹلائٹ کمیونی کیشن کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ مگر عملاً جو صورت حال ہے وہ یہ کہ ٹیکنکل اعتبار سے چند ترقی یافتہ قومیں ہی دوسری تمام قوموں کے لئے خبر حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ 90 ملکوں میں قومی نیوز ایجنسیاں ہیں مگر یہ ممالک بھی اپنی ملکی خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچانے کے لئے پانچ عالی نیوز ایجنیوں کے محتاج ہیں۔ یہ چار عالمی نیوز ایجنسیاں کسی ملک کی جن خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچاتی ہیں، وہ عام طور پر اس قوم کے برے پہلو اور ان کی غیر نمائندہ خصوصیات ہی ہوتی ہیںـــــــــــ گویا پانچ نیوز ایجنسیاں تمام اخباری دنیا کی شہنشاہ ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان اور کچھوا

ہندستان میں سب سے پہلا چڑیا گھر 1875، میں قائم ہوا۔ یہ کلکتہ کے قریب علی پور میں ہے۔ اس کو لوئی شیوسینڈلر نے قائم کیا تھا۔ ۱۸۷۵ میں یہاں ایک کچھوا تھا جس کی عمر اس وقت ۵۰ سال تھی۔ یہ کچھوا آج بھی علی پور زومیں موجود ہے اور اب اس کی عمر 51 سال ہو چکی ہے۔ ایک اخباری تصویر( ایوننگ نیوز ۲۹ ستمبر ۱۹۷۵) میں ایک لڑکے کو کچھوے کے اوپر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے ۔ انسان کچھوے کی طرح ۱۵۰ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا مگر انسان کا ایک بچہ کچھوے کی پیٹھ پرسوار ہوسکتا ہے۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا کے سیاہ فام قدیم باشندے تقریباً ۲۵ ہزار سال پہلے اس بر اعظم میں آئے تھے۔ علم الانسان کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لوگ پیدل چل کر یہاں پہنچے تھے جب کہ آسٹریلیا، نیوگنی اور ایشیا سے ملا ہو ا تھا۔ اس بعد آسٹریلیا کٹ کر دور چلا گیا۔ یہ قایم باشندے اب بھی ۴۰۰۰۰ کی تعداد میں موجود ہیں۔ یعنی کل آبادی( ۱۳۲۶۸۶۰۰) کا ایک فی صد حصہ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آسٹریلیا کا رقبہ ہندستان کے مقابلہ میں دگنا سے بھی زیادہ ہے۔ مگر اس کی آبادی بمبئی اور کلکتہ کی مجموعی آبادی سے بھی کم ہے ۔ 1788 میں جب برطانیہ کے کچھ مجرموں کو بطور سزا اس مقام پر لا کر ڈالا گیا جہاں آج سڈنی ہے آج تو اس وقت یہاں کھانے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ مایوسی اور جھنجلا ہٹ ہیں یہ لوگ آپس میں لڑ لڑ کر مرنے لگے مگر آج آسٹریلیا ایک مکمل کی طور پر خود کفیل براعظم ہے۔ وہ ۴۰۰ کروڑ روپے کا کا یہ گیہوں ہر سال برآمد کرتا ہے اور دنیا کی اون کی کل پیداوار کا چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ یہاں پیدا ہوتا ہے ۔ قدرتی مناظر سے بھر پور اس ملک کے باشندوں کا معیار زندگی دنیا کے انتہائی چند ترقی یا فتہ ملکوں میں سے ایک ہے ۔

ایک انسانی کم زوری

لارڈ ریتھ (۱۹۷۱-۱۸۹۰) بی بی سی لندن کے'' فادر ''کہے جاتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے ۔ اور انھوں نے برطانی عوام کے اندر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

۵۲۵ صفحات پر مشتمل ان کی ذاتی ڈائری The Reith Diaries شائع ہوئی ہے ۔ ڈائری میں حیرت انگیز طور پر وہ ہٹلر (۱۹۴۵ - ۱۸۸۹) کے لئے شان دار کار کردگی (Magnificient Efficiency کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس خود اپنے ملک کے

لارڈ ونسٹن چر چل ( ۔ ۱۸۷۴) کے لئے ان کے پاس مکار (Imposter) اور خبطی (Lunatic) کے الفاظ ہیں۔

اس فرق کی وجہ ہم کو خود ان کے اعتراف میں مل جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک انتہائی قسم کا خود پسند

(Self-centred) آدمی ہوں، بہت کم ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے اندر بڑائی کا اعتراف کردوں :

I will Rarely Admit Greatness In Others

لارڈ چر چل نے برطانیہ کی وزارت عظمٰی کا مقام حاصل کر لیا۔ یہ وہ عہدہ ہے جس کے لئے لارڈر یتھ اپنے آپ کو سب سے زیادہ موزوں سمجھتے تھے۔ چرچل کا تصور آتے ہی ان کے اندر حریفانہ نفسیات کام کرنے لگتی تھی، جبکہ ، ہٹلر کا نام ان کے اندر معاصرانہ نفسیات پیدا نہیں کرتا تھاـــــــــــ یہ تھی سادہ سی وجہ مذکورہ بالا فرق کی ۔

میں سوچ رہا ہوں

راجہ را ؤایک میسوری برہمن ہیں اور ہندستان کے مشہور فلسفی ہیں۔ ہندستان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد ۱۹۲۹ میں وہ مزید مطالعہ کے لئے پیرس گئے۔ اور ۱۹۵۰ میں پہلی بار امریکہ کا سفر کیا۔ ۱۹۷۳ میں امریکہ کی ٹیکس یونیورسٹی میں ان کو فلسفہ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے بلایا گیا۔ اس قیام کے دوران ایک امریکی مصنفہ الز بتھ ودہل نے ان سے مفصل انٹرویو لیا، الزبتھ ودہل دو بار ہندستان آچکی ہیں۔ انٹرویو کا ایک فقرہ یہ ہے :

راؤ اپنی ذہنی زندگی کی حفاظت کرنے میں بڑے مستعد ہیں۔ وہ بغیر کسی احساس ندامت کے محض اس بنا پر کسی ملاقاتی سے ملنے سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ سوچ رہے ہیں۔ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ یہ کہنے کے لئے بھی امریکہ کی سرزمین چاہئے۔ ہندستان میں اگر کوئی ایسا کہے تو اس کو پاگل کا خطاب ملے گا یا مغرور کا۔

کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے راز کو سمجھ لے

سید صباح الدین عبد الرحمن ایم اے

مسلم عہد کا علمی و تصنیفی کام

انھیں کام کے بہترین مواقع حاصل تھے ، مگر ہندستان میں ہر قسم کی سر پرستی کے باوجود کوئی امام غزالی، یا ابن قیم، یا ابن مسکویہ، یا ابن خلدون پیدا نہ ہو سکا، حالانکہ جہاں تک بادشاہوں کا تعلق ہے، ان میں بہت سے ایسے گزرے ہیں جو دنیا کے بڑے سے بڑے حکمرانوں کی صف میں رکھے جاسکتے ہیں مغل بادشاہوں کی حکومت اپنے عروج کے زمانے میں دنیا کی طاقت ور ترین اور متمدن ترین حکومت سمجھی جاتی تھی ۔ اگر ہندوستان کے علماء بھی اسی درجہ کے اور اسلامی ممالک کے علماء کے ہم پایہ ہوتے تو ہندستان کے مسلمانوں کی دینی، ذہنی، نظری اور فکری نشونما اور نہج پر ہوتی ۔ جب یورپ میں متقین ہر قسم کے علوم و فنون پر کتا بیں لکھ کر نئے نظام حیات اور نئے مقصد زندگی کے لیے اپنی اپنی قوموں کو تیار کر رہے تھے۔ اس وقت ہندستان کے علما ءصرف ایسی کتا بیں لکھتے رہے جن سے عام مسلمان زیادہ مستفیض نہیں ہو سکے، اور پھریہ عجیب بات رہی کہ مذہبی زبان عربی بھی، سلاطین اور امراء کی زبان ترکی یا فارسی تھی۔ اور عوام خصوصاً ہندی الاصل مسلمان یہاں کے باشندوں کے میل جول سے ایک نئی زبان بولنے کےعادی ہو رہے تھے۔ علما یا تو عربی یا فارسی زبان میں تصنیف وتالیف کرتے جس کی زبان اتنی مشکل ہوتی کہ وہ جو کچھ لکھتے خواص ہی تک محدود رہ جاتا، اور پھر ان میں بھی جو چیز ہوتی وہ صرف تقلید جامد۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مسلم عہد کے علماء زیادہ تر بیرونی علماء کی تفسیریں سے خوشہ چینی کرتے رہے اور ان کے ہم پایہ تفسیریں نہ لکھ سکے اور جو لکھیں وہ عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے خواص تک محدود رہیں، یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کی زبان فارسی رہی، مگر اس زبان میں کلام کا ترجمہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے تقریباً ساڑھے پانچپسو برس بعد شاہ ولی اللہ نے پہلی دفعہ کیا، اور جب انھوں نے اس دولت کو عام کیا تو کم سواد علماء نے اس کے خلاف شورشیں بر پاکیں۔

ہندستان کے علماء کا سب سے محبوب موضوع فقہ رہا ہے، اور جو علماء باہر سے یہاں آئے وہ مفسر اور محدث ہونے کے بجائے زیادہ ترفقیہ رہے، ان کو سلاطین اور امراء کا تقرب آسانی سے حاصل ہوجاتا تھا، کیونکہ وہ مسائل میں انہی کی طرف رجوع کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندستان میں اسلام زیادہ ترفقہا کے ذریعہ سمجھ گیا و عموماً اپنی سختی اور درشتی کے لیے مشہور ہیں۔ اسی لیے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہندستان میں اسلام مفسرین اور محدثین کے ذریعہ سمجھا جاتا تو زیادہ موثر ہوتا فقہ کی اس قولی کے باوجود اہل قلم فقہا'' زیادہ تر فقہ کی بیرونی کتابوں کے حواشی لکھتے رہے۔ فتادی تاتارخانی اور فتا وئے عالمگیری ہندوستان کے بڑے اہم فقہی کارنامے ہیں ، ان دونوں کی تدوین ایک امیر اور ایک بادشاہ کے ذریعہ ہی سے ہوئی ۔

زلزلہ

۱۹۶۷ء میں کوئنا کے مقام پر جوز لزلہ آیا تھا، اس کے نتیجہ میں وہاں کے بجلی گھر کو اس قدر نقصان پہنچا کہ پندرہ دن تک بجلی نہ رہی اور تقریباً ایک کرور روپے کی صنعتی پیداوار کا نقصان ہوا۔ دیگر نقصانات ا س کے علاوہ تھے۔

یہ نسبتا ًایک معمولی زلزلے کا نقصان تھا اس سے کہیں زیادہ بڑے زلزلے دنیا کے مختلف مقامات پر آتے رہتے ہیں اور انسانی تمدن کو اس طرح تہس نہس کر دیتے ہیں گویا قدرت کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہیں

زلزلے کو روکنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ تاہم سائنس داں اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس کا وقت اور مقام پہلے سے معلوم کرلیں تاکہ جان و مال کے نقصان سے بچنے کی تدبیر کی جاسکے ۔ اس مقصد کےلئے زلزلہ کی ایک انجنیرنگ وجود میں آچکی ہے ۔ مگر ابھی تک اس میں کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہو سکی ۔ زیادہ سے زیادہ جو ہو سکا ہے، وہ یہ کہ سائنس دانوں نے مستقبل میں آنے والے زلزلوں کے امکانی مراکز کسی حد تک معلوم کرلئے ہیں۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ان مقامات پر جو عمارتیں وغیرہ بنیں، ان کو اس انداز سے بنایا جائے کہ زلزلے کے معمولی جھٹکوں سے انھیں نقصان نہ پہنچے۔

زلزلے کی مدت عام طور پر پانچ دس سیکنڈ ہوتی ہے اور اس تھوڑی سی مدت میں اگر لوگ بچ نکلیں تو ٹھیک

ہے نہیں تو لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہو جاتے ہیں روس اور امریکہ و جاپان میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ زلزلے کا وقت اور مقام پہلے سے معلوم کر لیا جائے۔ اس سلسلے میں زلزلے کی علامتوں کا مطالعہ کیا گیا ہے مگر کوئی ایک علامت ایسی نہیں میں کی مدد سے ہر بار زلزلے کی پیشین گوئی کی جاسکے۔ ز زلزلہ قدرت کا ایک نا قابل پیشن گوئی حادثہ ہے، آج بھی اور پہلے بھی۔

موت کے خوف نے ان سے زندگی کی راحتیں چھین لیں

۲۸ جولائی ۱۹۷۶ء کو شمال مشرقی چین میں زلزلہ آیا۔ چین کا تیسرا سب سے بڑا صنعتی شہر ٹنشین جس کی آبادی دس لاکھ تھی، کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اسکے جھٹکے جاپان اور کوریا تک محسوس کئے گئے

چین کی راجدھانی پکینگ زلزلہ زدہ شہر سے تقریبا 400کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ تاہم لوگوں کے خوف و ہراس کا عالم یہ تھا کہ پکینگ کی ، 60 لاکھ آبادی نے ممکنہ موت کے ڈر سے اپنے مکانات چھوڑ دیئے اور کئی راتیں سٹرکوں اور پارکوں میں گزاریں جبکہ ان کے سروں پر موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔

صفحہ نمبر 50 پر یہاں تصویر ہے

ایک مسئلہ

ابن ماجہ اور ترمذی کی روایت ہے۔ لا نکاح الا بولی( ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں) اس حدیث سے بعض فقہا نے استدلال کیا ہے کہ عورت کے نکاح کے لئے ولی کی اجازت لاز ما ًضروری ہے۔ اس کی تائید میں قرآن کی ایک آیت بھی پیش کی جاتی ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فَلَا تَعضلوهُنَّ أَن يَنْلِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاض بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوف

عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے ہرگز نہ روکو، اگر وہ آپس میں نیکی کے ساتھ راضی ہو چکے ہیں

Qur'anQuotes the Qur'an

کہا جاتا ہے کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ معقل بن یسار ؓصحابی کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق رجعی دی تھی ۔ مگر عدت کے زمانہ میں شوہر دوبارہ ان کو اپنی زوجیت میں لانا چاہتا تھا۔ وہ خاتون بھی یہی چاہتی تھیں۔ مگر ان کے بھائی دوبارہ ان کو نکاح کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اولیاء کو عورت کی مرضی کے خلاف نہ کرنا چاہئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام شافعی اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ولی کوروکنے کا حق نہ ہوتا تو معقل بن یسار کیوں انھیں روکتے اور کیونکر روک سکتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ولی کو روکنے کا حق حاصل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مفتی محمد عبدہ اس استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " اس آیت سے تو اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی مرضی کے خلاف مرد کو روکنے کا حق نہیں ہے ۔ اس واقعہ کی اصلیت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مردوں کو عورتوں پر جو ظالمانہ حقوق حاصل تھے،

other sourceWords of another person or source

ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ دن میں سے چاہتے تھے ان کا نکاح کر دیتے تھے اور جس سے چاہتے تھے نہیں کرتے تھے۔ حضرت معقل بن یسار نے اسی رواج کے مطابق اپنی بہن کی شادی کو روکنا چاہا۔ مگر قرآن نے اس آیت کے ذریعہ اس رواج کو توڑ کر عورتوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کریں۔

جہاں تک حدیث کا تعلق ہے ، وہ اگر چہ سندا زیادہ قوی نہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر اس سے ایک معنی یہ مراد لیا جا سکتا ہے کہ ''نہیں ہے کوئی نکاح مگر بذریعہ ولی کے '' یعنی عورتوں کا نکاح با عتبار مقررہ طریق عمل ولی کے ذریعہ منعقد ہونا چاہئے ۔ اس سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ولی کی رضا مندی یا اجازت بذات خود ضروری ہے ۔ ولی، نکاح کے عمل میں، وکیل یا ایجنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور وکیل یا ایجنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ عورتیں مجمع عام میں مردوں کے سامنے اپنی زبان سے رضا مندی کے کلمات ادا کرتے ہوئے عموما شرم محسوس کرتی ہیں۔ اس لئے یہ مناسب معلوم ہوا کہ ان کیا طرف سے کوئی رشتہ دار یا خاندان کا بزرگ ان کی ترجمانی کرے ۔ تاہم اگر کوئی لڑکی ولی کی وساطت اور اجازت کے بغیر خود اپنا نکاح کرلے اور خود رضامندی کے کلمات کہہ دے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ان الرجل يتكلم بالكلمة لا يرى بها بأسا يهوى بها سبعين خريفا من النار (بخاری، مسلم، ترمذی) آدمی ایک بات کہتا ہے اور اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ مگر اس کی وجہ سے وہ ستر سال تک جہنم میں جلتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیاست کے لئے جوش و خروش دعوت کے لئے سرد مهری

ضیاء الدین احمد برنی، مولانا محمد علی جوہر کے رفیق خاص تھے ۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

'' جنگ طرابلس اور جنگ بلقان نے مولانا محمد علی جوہر کو بہت پریشان رکھا۔ وہ ترکوں کی پلے در پے ہز یتموں سے بے حد مغموم تھے۔ انھوں نے ان کے مصائب کو ہلکا کرنے کی غرض سے ڈاکٹر انصاری کی سرکردگی میں طبی مشن روانہ کیا۔ پہلی جنگ بلقان (۱۹۱۸) کے بعد جب فاتحین میں تقسیم غنیمت پر جھگڑا ہوا اور دوسری جنگ بلقان بر پا ہوئی تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ترکوں نے ایڈر یا نوپل پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس وقت عالم اسلام میں غیر معمولی خوشی کی لہر دوڑ گی۔ یہ خبر جب رائٹر کے ذریعہ دہلی پہنچی تو اس وقت رات بہت زیادہ گزرچکی تھی مگر مولاناکی ترک دوستی کا اندازہ کیجئے کہ انھوں نے اس کا انتظار نہیں کیا کہ یہ خبر دوسری صبح کو اخبارات کے ذریعے لوگوں تک پہنچے ۔ چند رفقاء کار کولے کر سیدھے جامع مسجد پہنچے اور راستے بھر چلا چلا کر مسلمانوں کو یہ روح افزا خبر پہنچاتے رہے۔ نا وقت ہونے کے باوجود جامع مسجد میں ہزار ہا آدمیوں کا اجتماع ہوگیا۔ لوگ مولانا نے وہاں دردانگیز تقریر کر کے اس خبر کی اہمیت کو واضح کیا۔ وہ رات بھی کیسی ہیجان انگیز تھی ۔''

مولانا محمدعلی ( ء)1976مرتبہ سید نظر برنی صفحہ 89

ہماری جدید تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے جو بتاتے ہیں کہ سیاسی اور جذباتی امور کے لیے مسلمانوں میں کس قدر جوش و خروش پیدا ہو گیا تھا۔ مگر خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کے لیے ان میں کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوئی ، رائٹر کی سیاسی خبریں انھیں بے چین کر دیتی تھیں مگر قرآن کی اخروی خبروں نے انھیں بے قرار نہیں کیا کہ اس کے لیے وہ اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور ساری قوموں کو تباتے کہ اے لوگو تم مرنے والے ہو اور مرنے کے بعد تم کو خدا کے یہاں اپنے اعمال کا حساب دنیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے وجود مسلمانوں کی بربادی کی واحد وجہ یہی ہے کہ انھوں نے پیغام بری کا وہ کام نہ کیا جو خدا نے ان کے اوپر فرض کیا تھا اور ظاہر ہے کہ جو خادم اپنی اصل ڈیوٹی سے ہٹ جائے وہ خواہ کسی اور کا میں کتنی ہی جانفشان دکھائے، بہر حال وہ سزاکا حق ہوگانہ کہ انعام کا

رسول اللہ نے فرمایا

انكم ستختلفون من بعدى - فما جاءكم عنى فاعرضوه على كتاب الله، فما وافقه فنی وما خالفه فليس عنى

hadithQuotes a hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: میرے بعد تم اختلافات میں پڑو گے پس میر ی جوبات تمہیں پہنچےاس کو خاکی کتاب کی روشنی میں دیکھنا جواس کےمطابق ہے وہ میری طرف سے ہے جو اسکے خلاف ہے وہ میری طرف سے نہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کوئی مسئلہ نہیں

کہا جاتا ہے کہ جدید تہذیب نے مذہب کو فرسودہ اور غیر ضروری ثابت کر دیا ہے۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

دہ کیا چیز ہے جو مغربی تہذیب نے انسانیت کو دی ہے۔ وہ ہیں جدید طرز کی سواریاں نئے طرز کے مکانات نئے قسم کے ذرائع مواصلات، نئے قسم کے لباس مختصر یہ کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے نئے ساز و سامان جو پچھلے سامانوں کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ زیادہ خوش نما اور زیادہ سریع العمل ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان سامانوں اور اسباب و ذرائع کا خدا اور مذہب پر عقیدہ رکھتے یا نہ رکھنے کے مسئلہ سے کیا تعلق۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

کیا کسی کے پاس جدید طرز کی رہائش گاہ اور موٹر کار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے خدا کا وجود بے معنی ہو گیا ۔ کیا تار اور ٹیلی فون کے ذریعہ۔ خبر رسانی سے وحی و الہام کے عقیدے کی تردید ہو جاتا ہے۔ کیا ہوائی جہاز اور راکٹ کے ذریعہ فضا میں اڑنے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کا اس کائنات میں کہیں وجود نہیں ہے۔ کیا لذیز کھانے ، خوش نما لباس اور اعلیٰ فرینچر کے وجود میں آنے کے بعد جنت و دوزخ کو ماننے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کیا جدید عورتوں کے اندر یہ صلاحیت کہ وہ ٹائپ رائٹر کے کی بورڈ پر اپنی انگلیاں تیزی سے چلا سکتی ہیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ الرجال قَوَّامُونَ عَلی النساء کی آیت منسوخ ہو گئی۔ کیا اسمبلی اور پارلیمنٹ کی شاندار عمارتوں میں بیٹھ کر کچھ لوگوں کا قانون سازی کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ شریعت کا قانون موجودہ زمانے میں بے معنی ہو گیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نئے ساز و سامان اور نئے ذرائع دو سائل کی اہمیت افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا مذہب کی صداقتوں کی تائید یا تردید سے کیا تعلق ہے حقیقت یہ ہے کہ جدید تہذیب کے لوازم کا مذہب سے ٹکراؤ باعتبار حقیقت نہیں ہے بلکہ انسان کی سطحیت نے اس کو پیدا کیا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری سطحی چیزوں سے لگاؤ اور ظاہری اشیاء کو اصل اہمیت کی چیز سمجھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب فطرت کے چھپے ہوئے راز سامنے آئے اور عیش و عشرت اور زیبائش و آرائش کے سامان حاصل ہونے لگے تو انسان ان میں اتنا محو ہوا کہ سمجھنے لگا کہ بس اب اس کے آگے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دنیوی ساز و سامان کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں غیراہم بن گئی۔

ایک اقتباس

شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۶۲-۱۷۰۳) نے حجتہ اللہ البالغہ (باب الفتن) میں لکھا ہے :

other sourceWords of another person or source

فيرى الانسان الظرف ما يكون واعقله و

ليس في قلبه مقدار شيئ من الامانة لا

بالنسبة إلى دين الله ولا بالنسبة إلى معاملات الناس

( آدمی بعض اوقات بڑا عالی ظرف اور عقلمند دکھائی دیتا ہے ۔ مگر اس کے دل میں امانت کا ایک ادنی جزو بھی نہیں ہوتا۔ نہ تو دین انہی کے اعتبار سے اور نہ لوگوں کے باہمی معاملات کے اعتبار سے۔

کوڑا بھی بیکار نہیں

ہر شہر میں صبح کو یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ میونسپلٹی کے ملازمین شہر کا تمام کوڑا اکٹھا کرتے ہیں اور گاڑیوں میں لاد کر اس کو باہر پھینک آتے ہیں۔ گھر یلو گندگی صنعتی ٹوٹ پھوٹ استعمال شدہ چیزیں، کاغذ، دھات اور پلاسٹک وغیرہ کے ٹکڑے ہماری زبان میں صرف کوڑا ہیں عام تصور کے مطابق ان کا واحد مصرف یہ ہے کہ انھیں جمع کر کے کسی گڑھے میں دفن کر دیا جائے ۔

مگر مغربی دانشوروں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کوڑے کرکٹ کے اندرایک عظیم طاقت چھپی ہوتی ہے اور وہ ان کی وہ حرارت ہے جس کی مجموعی مقدار 3175 سے 8730، برٹش تھرمل یونٹ (B. T. U) فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

اس دریافت نے یکا یک کوڑے کرکٹ کو وہ مقام دے دیا جو کوئلہ اور پٹرول کا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد یورپ میں ایک نئی ٹیکنک وجود میں آئی جس کو گاربیج بوائلر (GARBAGE BOILER) کہتے ہیں۔ یورپ کے بہت سے شہروں میں اس اسکیم کے تحت خاص طرح کے بوائلر اور بھٹیاں تیارکی گئی ہیں شہر کاتمام گھریلوا ور صنعتی کو ڑاحتیٰ کہ ٹوٹے ہوئے فرنیچر اور سائیکل تک وہاں لا کر ڈال دیئے جاتے ہیں۔ یہ گندگی اور سٹری بسی چیزیں بوائلر کی بھٹی میں جلائی جاتی ہیں

اس سے حرارت پیدا ہوتی ہے جو اسٹیم بناتی ہے اور اسٹیم سے الکٹرک جنر یٹر کو حرکت دے کر بجلی پیدا کی جاتی ہے اس طرح کوڑے کرکٹ کو بالآخر بجلی میں تبدیل کردیا جاتا ہے جو دور جدید کی سب سے بڑی قوت ہے، جو موجودہ زمانے میں پورے انسانی تمدن کو متحرک کئے ہوئے ہے۔

کوڑا عام حالات میں صرف کوڑا ہے، مگر جب اس پر دانش مندی اور محنت کا اضافہ کیا جائے تو وہ بجلی کی شکل اختیار کر لیا ہے جس سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اتنے بے پناہ امکانات رکھے ہیں کہ یہاں کوڑا بھی بیکا رنہیں ہو سکتا۔ اس طرح اگر کوئی قوم اپنی پستی میں پہنچادی جائے کہ لوگ اسے انسانی کوڑا سمجھنے لگیں، جب بھی خدا اس کا ئنات میں اس کے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ کوڑے خانے سے نکل کر انتہائی بلند مقام پر پہنچ سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے اندرونی امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے محنت اور دانش مندی کا وہ عمل کرے جو گاربیج بوائلر کی مثال میں نظر آتا ہے

قرآن کے بارے میں

''میں نے قرآن کا مطالعہ کیا مجھے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔'' (گاندھی)۔

other sourceWords of another person or source

''وہ وقت دور نہیں جب کہ قرآن اپنی قا بل انکار صداقت اور روحانیت کے ذریعہ سب مذاہب کو اپنے اندر جذب کرلے (ٹیگور)

other sourceWords of another person or source

''میں نے توریت انجیل اور وید سب پڑھے مگر قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو سب سے زیادہ اعلی وارفع ثابت ہوئی۔ (گورو نانک)

other sourceWords of another person or source

طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے

نیپولین کا نام فوجی تاریخ میں عظمت کانشان ہے مگر وہ ایک پستہ قدآدمی تھا اگرچہ فربہ اندام تھا۔ ایک دن وہ پریڈ گراؤنڈ میں معمولی لباس میں کھڑا تھا اتنے میں اس کا ایک فوجی پیچھے سے آیا اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ کوئی معمولی سپاہی ہے، نیپولین کے اوپر سے ہائی جمپ کر گیا۔ اس کے بعد وہ فخریہ انداز میں پلٹا اور کھڑے والے شخص کے سامنے سے اس کے چہرہ پر نظر ڈالی تو وہ نیپولین تھا جو سنجیدگی کے ساتھ اپنے فوجی کی طرف دیکھ رہا تھا فوجی نے جب اسطرح اچانک اپنے عظیم کمانڈر نپولین کو دیکھا تو وہ اپنے ہوش و حواس کھوبیٹھا اور فورا ًمر گیا۔

معلوم ہوا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ خود آدمی کا اپنا احساس ہے۔ وہی نیپولین ہے اور وہی فوجی مگر ایک بار وہ نیپولین کے سر سے فخریہ انداز میں پھاند جاتا ہے اور دوسری بار اس کو دیکھتے ہی اتنا بد حواس ہوتا ہے کہ فوراً امرجاتا ہے۔

یہ دونوں احساس کے کرشمے ہیں اگر آپ کا دل بے خوف ہے تو آپ شیر سے لڑ سکتے ہیں اور دریاؤں کو پھلانگ سکتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں شبہ اور دہشت پڑا ہوا تو گیڈروں کا غول بھی آپ کو بو کھلا دے گا اور معمولی نہریں بھی آپ کو ڈبانے کے لیے کافی ہوں گی۔

اوپر ہم نے نیپولین کے فوجی کی جو مثال پیش کی ہے ، وہ اس صورت حال سے متعلق تھی کہ ایک طاقتور شخص کس طرح دل کی گھراہٹ کی وجہ سے اپنی موجودہ طاقت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اب ایک ایسی مثال لیجیے جبکہ ایک کمز ور اور شکست خوردہ آدمی محض دل کی کیفیت بدل جانے کی وجہ سے دوبارہ فتح و کامیابی کا مالک

بن جاتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے رابرٹ بردس Bruce Robert نے انگلینڈ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈاول کے خلاف بغاوت کر دی تھی جو کہ اسکاٹ لینڈ کے اوپر اقتدار اعلیٰ کا دعویدار تھا اس کو ۱۳۰۶ء میں کنگ آف اسکاٹ لینڈ کا تاج پہنا یا گیا۔

اس مقابلہ میں رابرٹ بروس کو بری طرح شکست ہوئی اور اس کو جنگلوں اور بیابانوں میں پناہ لینا پڑی۔ مگر ۱۳۱۴ء میں اس نے دوبارہ انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ دوم سے بناک برن میں جنگ کی اور اس کو شکست دی۔ اور اسکاٹ لینڈ کو انگریزوں سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد'' رابرٹ اول " کے نام سے اس نے ۱۳۲۹ء تک اسکاٹ لینڈ پر حکومت کی۔

رابرٹ بروس کو شکست کے بعدفتح کس طرح حاصل ہوئی اس کے سلسلے میں ایک دلچسپ قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ایک جنگل کے اندرکسی غارمیں پڑا ہواتھا ۔''مجھے اب انگلینڈ کے بادشاہ سے مقابل کا خیال چھوڑ دینا چاہئیے اس نے سوچا۔ اس کو اپنی کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی کئی بار کے مقابلہ کے بعد بالآخر وہ مایوس ہو چکا تھا۔ اتنے میں غار کے اندر ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا۔

ایک مکڑی اپنے جالے کے باریک تار سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑی۔ رابرٹ بروس کی نظریں اس کے اوپر جم گئیں۔ اس نے دیکھا کہ مکڑی نے اپنا ایک منٹ ضائع نہیں کیا۔ اور لٹکتے ہوئے تار کے ذریعے دوبارہ اوپر چڑھنے کی جدوجہد شروع کردی ۔ مگر چھت کے قریب پہنچتے ہی وہ دوبارہ پھسل کو گر پڑی اب وہ پھر پہلے کی طرح زمین پر پڑی ہوئی تھی اس طرح وہ بار بار چڑھتی اور بار بار گرتی رہی۔ مگر وہ ہمت نہیں ہاری اور ہر بار دوبارہ اسی کام میں مشغول . ہو جاتی جس میں وہ اس سے پہلے ناکام ہو چکی تھی۔

رابرٹ بروس اس کے ناکام تجربات کو گنتا رہا یہاں تک کہ جب وہ نویں بار زمین پرگری تو اس کو ہنسی آگئی ۔ اب یہ کیڑا مزید کوشش کی حماقت نہیں کرے گا اس نے کہا مگراس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ مکڑی نے ایک لمحہ ٹھہرے بغیر دسویں بار پھر اپنی جد و جہد شروع کردی ۔

اس بار رابرٹ بروس کے سامنے دوسرا منظر تھا اس نے دیکھا کہ مکڑی منزل سے بہت قریب پہنچ گئی ہے وہ دھیرے دھیرے چڑھتی رہی یہاں تک کہ جب فاصلہ بہت قریب آگیا تو اس نے آخری چھلانگ لگائی اب وہ اپنے جالدار مکان کے اندر تھی ۔

''خوب'' رابرٹ بروس چلا یا''وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہمت نہ ہاری اور مسلسل اپنی جدو جہد جاری رکھیں ۔ وہ ایک لمحہ کے لیئے رکا اور پھر بولا ایک معمولی کیڑے نے مسلسل کوشش سے اپنی بازی جیت لی۔ پھر میں کیوں ایسا نہیں کر سکتا ۔

رابرٹ بروس غار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے آخری فیصلہ کن مقابلہ کےلیے تیاری شروع کردی وہ نئے عزم کے ساتھ شاہ انگلینڈ سے لڑا اور اس بار اس نے فتح حاصل کرلی۔

حقیقت یہ ہے کہ ''میں ایسانہیں کرسکتا ''ایک بزدلانہ فقرہ ہے ہر شخص ہر کام کرسکتا ہے اور ہر شکست دوبارہ نئی فتح میں تبدیل ہو سکتی ہے بشرطیکہ مسلسل جدوجہد کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے۔

سیب کا سبق -

ایک ٹن سیب سے کتنا عرق نکالا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی پھلوں کا ماہر آپ کو بتائے گا کہ 600سے 650کلوگرام تک ۔ مگر سیب میں حقیقتاً اس سے بہت زیادہ عرق ہوتا ہے محقیقین نے دریافت کیا ہے کہ موجودہ ذرائع کے تحت جب ہم سیب کو مکمل طور پر نچوڑ چکے ہوتے ہیں ، اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ٹن میں 100سے 120کلوگرام تک عرق باقی رہتا ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کو لھوا چھے نہیں ہیں ۔ نہیں اگر ہم سب سے طاقتور برقی کولھو استعمال کریں جب بھی عرق کی مقدار میں بس برائے نام ہی فرق آئے گا۔ سیب کے اندر بچا ہوا عرق پھر بھی نہیں حاصل نہ ہو سکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کے خلیوں کا چھلکا بے انتہاد باؤ کے تحت بھی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے ۔ اور کو لھو میں پس جانے کے باوجود اس کا عرق خلیوں کے اندر محفوظ رہتا ہے ۔موجودہ حالت میں دباؤ اور طاقت کا اضافہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرتا ۔ ۔

یہ سیب کا قصہ ہے مگر اسی کے اندر آپ قوموں کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ایک قوم وہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی دباؤ کی زد میں آجائے تو آخری حد تک نچڑ کر رہ جاتی ہے۔ مگر زندہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مگر وہ ظلم وستم کے کولھومیں پیل دی جائیں جب بھی ۔ سیب کی طرح ان کے اندر زندگی کی رمق باقی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی وہ دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

مطالعہ کتبــــــــــ

زیر نظر کتاب (لیٹ گاڈ بی ٹرو) عیسائیوں کی ایک عالمی تنظیم کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔ اس کا نام'' خدا سچا ٹھہرے'' نئے عہد نامہ کے باب رومیوں کے نام خط (۴:۳) سے لیا گیا ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1946میں ایک کرو رتین ہزار کی تعداد میں چھاپا گیا ۔ ہمارے پیش نظر دوسرا ایڈیشن ہے جو ۱۹۵۲ میں ۲۵ لاکھ کی تعداد میں چھپا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

''مقدس تثلیث ، عیسائی مذہب کا مرکزی اور بنیادی عقیدہ ہے ۔ کروروں لوگ اس کو سب سے بڑی صداقت سمجھتے ہیں ۔ اس عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ باپ، بیٹا ، روح القدس تینوں یکساں طور پر خدائی خالات کے مالک ہیں۔ تینوں الگ الگ ہوکر بھی ایک ہیں اور ایک ہو کر بھی تین ہیں، ظاہر ہے اس قسم کا ایک عقیدہ انسانی عقل کی گرفت سے باہر ہے۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس قسم کا پراگندہ اصول خدا کا دیا ہوا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خدا پرا گندگی کا خالق نہیں ہے( کر نتھیوں کے نام (۳۳:۱۴

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تثلیث کا عقیدہ قدیم بابلیوں اور مصریوں میں اور دوسرے مذہبی حلقوں میں پایا جاتا تھا۔ مسیح کے بعد عیسائیوں نے انھیں سے اس کو لے لیا۔ (۱) دوسری صدی عیسوی کے ترتولین نے ، جو قرطاجنہ میں رہتا تھا، لاطینی لفظ (Trinitas) کو رائج کیا۔ یہی لفظ انگریزی میں ( Trinity) کے طورپر طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس سے سے پہلے یہ لفظ کسی مقدس کتاب میں نہیں آیا تھا۔ (۲) اس کے بعد

Let God Be True

Watchtowe Bible And Tract Society Brooklyn, New York 1952, pp.320

تھیوفیسس نے اس کو یونانی میں رائج کیا۔ اس کا زمانہ بھی دوسری صدی عیسوی کا ہے ۔ چوتھی صدی میں ۳۲۵ میں عیسائیوں کی ایک کونسل شاہ قسطنطین کے تحت نیقیا (ایشیائے کو چک )میں ہوئی ۔ اور اس نے تثلیث کو عیسائیت کا سرکاری عقیدہ قرار دے دیا۔

حیرت کی بات ہے کہ تثلیث کا عقیدہ ، اس قدر اہم ہونے کے باوجود انجیل میں موجود نہیں۔ انجیل کے چار مقدس ترین ابواب (متی ، مرقس لوقا ، یوحنا) اس کے بیان سے خالی ہیں ۔ چند حوالے جو دئے جاتے ہیں وہ بالکل ناکافی ہیں :

میں اور باپ ایک ہیں (یوحتا ۳:۱۰)

وہ جو جسم میں ظاہر ہوا ت(تمیھیس ١٦:٣)

ظاہر ہے کہ اس قسم کے مبہم الفاظ سے اتنا برا عقیدہ اخذ نہیں کیا جا سکتا جس کو تثلیث کہتے ہیں۔ ساری انجیل میں صرف ایک آیت اس مفہوم کی ہے۔ مگر کتاب کے مصنف نے ثابت کیا ہے کہ وہ الحاقی ہے۔

یہ آیت یوحنا کے عام خط میں ہے ۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:

"اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ باپ، کلمہ، روح القدس اور یہ تینوں ایک ہیں ۔ (۷:۵)

other sourceWords of another person or source

اگر چہ یہ آیت بھی " خدائی ''کی سہ گانہ تقسیم کو ثابت کرنے کے لئے پوری طرح کافی نہیں، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ وہ بھی انجیل کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں ۔ اسی سے ثابت ہے کہ یہ الحاقی ہے اور بعد کو اس کے متن میں ملائی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مصنف نے اس کو خدا کے کلام میں اضافہ کرنے کی ایک نمایاں مثال» (صفحہ ۱۰۳) کہاہے۔ اس نے یونانی زبان کے عیسائی عالم بنجمن ولسن کا قول نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں : عالم السر یہ آیت انجیل کے قدیم نسخوں میں سے کسی بھی نسخہ میں موجود نہیں ہے۔ یہ نسخے پندرھویں صدی سے پہلے لکھے گئے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریر میں بھی اس سے خالی ہیں ۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے ۔ (۱۰۳)

بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی 66کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں ۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۳ ۱۵ ق م میں لکھی ۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط 98 ءمیں لکھے گئے۔ بائبل کے آخری حصہ کی تحریر کے 19 سو برس بعد ہم کیسے جانیں کہ یہ تمام حوالے اور انتسابات صحیح ہیں ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ بائبل کے ابتدائی مرتبین کو خدا کی طرف سے الہام ہوا تھا تب بھی اس کا کیا ثبوت کہ آج بھی وہ محفوظ شکل میں ہے کیونکہ بائبل کی کوئی بھی تحریر آج موجود نہیں ہے ''

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مصنف کا مقصد لوگوں کو بائبل سے دور کرنا نہیں بلکہ اس کے قریب لانا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ بائبل اپنی موجودہ شکل میں آج کے انسان کو اپیل نہیں کرتی ۔ اس کے نزدیک وہ خدائی کتاب ہے ۔ اور اصلاً اسی طرح حق ہے جس طرح خداحق ہے۔ مگر انسانی آمیزش نے اس کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار بنا دیا ہے ۔ اس لئے جدید انسان کو دوبارہ بائبل سے قریب لانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ملاوٹی اجزاء کو اس سے الگ کر دیا جائے ۔

مصنف کی یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ بائبل کے صحیح اور غلط اجزاء کو جانچنے کے لئے معیار کیا ہوگا۔ کیا انسانی عقل ۔ ظاہر ہے کہ خدائی کلام کو انسانی معیار سے جانچا نہیں جا سکتا۔ خدائی کلام میں اگر آمیزش ہو جائے تو اس کو دوسرے خدائی کلام ہی کے ذریعہ جانچا جا سکتا ہے نہ کہ انسانی عقل کے ذریعہ۔

اسلام کے ابتدائی زمانہ میں دفاتر کا نظام

حضرت عمرؓنے اپنی خلافت کے زمانہ میں دفاتر کا نظام رائج کیا۔ ابتداء ًخلفاء نے محرری کے لئے عربوں کے علاوہ موالیوں اور عجمیوں سے مدد لی۔ اس وقت ہر صوبہ میں محصول کا حساب کتاب وہاں کی مقامی زبانوں میں ہوتا تھا۔عراق و ایران میں فارسی، شام میں یونانی اور مصر میں قبطی بعد کو جب عربوں نے اس فن کو سیکھ لیا تو وہ اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ عبد الملک بن مردان اور اس کے بیٹے ولید کے زمانہ تک تمام محصولات کا حساب عربی زبان میں رائج تھا۔

تھا۔ عراق میں صالح بن عبد الرحمٰن نے حجاج کے گورنری کے زمانہ میں وہاں کے دفتر محصولات کو عربی زبان میں مستقل کیا۔ شام میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں ابو ثابت سلیمان بن سعد نے یہ خدمت انجام دی بصرہ میں بھی ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں یہ عہدہ ابن سیر بوع فزاری حمصی نے حاصل کیا اور تمام کام عربی زبان میں ہونے لگے ۔ تاہم یہ صرف محصولات کے دفاتر کا معاملہ تھا۔ جہاں تک فوجی دفاتر اور دیگر سرکاری تحریرات کا تعلق ہے وہ ابتدا ہی سے عربی زبان میں ہوا کرتے تھے۔

چڑیوں کی دنیا

بعض چڑیاں درمیان میں رکے بغیر

تین ہزار میل تک اڑتی چلی جاتی ہیں ۔

وہ اتنی بلندی پر پرواز کرتی ہیں جہاں

کوئی انسان مزید آکسیجن کا اہتمام کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔

صفحہ نمبر9 5 پر یہاں تصویر ہے۔

"STRONG INSTINCTS"

The birds' sense of direction is most exciting extremely Important phenomenon. We now where migratory birds spend the winter and they travel.

بیشتر چڑیاں اپنے انڈے بچے کرنے کے موسم کو خط استوا کے شمالی حصہ میں گزارتی ہیں اور بقیہ موسم کو خط استواء کے جنوبی حصے میں خشکی کی چڑیوں میں کوئی ایک مثال بھی ایسی معلوم نہیں ہے جو اس کے خلاف عمل کرتی ہو تاہم سمندری چڑیوں میں بعض مثالیں اس کے خلاف پائی جاتی ہیں۔

ان چڑیوں نے نہ تو کسی درسگاہ میں جغرافیہ کا علم حاصل کیا ہے اور نہ مسافت کے فن سے وہ کوئی واقفیت رکھتی ہیں ، اس کے باوجود پہاڑوں اور سمندروں کو طے کر کے ہزاروں میل دور کی منزل تک ان کا پہنچنا انتہائی حیرت انگیز ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ چڑیاں دور دراز مقام پر جا کر انڈے بچے کرتی ہیں اور ان کو وہاں چھوڑ کر چلی آتی ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر ٹھیک اسی راستہ سے سفر کرتے ہیں جس سے ان کے والدین نے سفر کیا تھا اور بغیر کسی رہبر کے دوبارہ اپنے اصل مسکن میں پہنچ جاتے ہیں۔

اس حیرت انگیز سفر میں ان کی اس حیرت انگیز سفر میں ان کی رہنمائی کون کرتا ہے؟ چڑیوں کی سائنس کے ماہرین (s Ornithalogist) اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

ہندستان میں ۲۵۰۰ قسم کی چڑیاں پائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے تقریبا 500 قسمیں مہاجر (Migratory) ہیں یہ وہ رنگارنگ مسافر ہیں جو ہزاروں میل دور سے پہاڑوں اور سمندروں کو طے کر کے سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر سے لے کر مارچ کے آخر تک ہندستان کو اپنا مسکن بناتی ہیں۔ اپریل میں گرمیاں شروع ہوتے ہی یہ پر دار سیاح اپنے وطن کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ رن کچھ کا صحرا ان کا پسندیدہ مقام ہے۔

چڑیوں میں کچھ اقسام ایسی ہیں جو ایک ہی جگہ ہمیشہ رہتی ہیں، مگر ایسی اقسام بھی ہیں جو مقامی طور پر اس قسم کی ہجرتیں کرتی ہیں۔ مثلاً بعض چڑیاں خاص موسم میں میدانوں میں رہتی ہیں اور خاص موسم میں پہاڑوں پر چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس یہ ہجرتیں دو مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ غذا کی تلاش یا انڈے بچے کرنے کے لئے مناسب موسم ۔

چڑیوں کی یہ ہجرت اپنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض مہینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔

یہ بات کہ بعض چڑیاں اپنے سابقہ مقام پر واپس جانے کی خصوصی صلاحیت رکھتی ہیں، قدیم انسان کو بھی معلوم تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹیلی گرا ف کی ایجاد سے پہلے کبوتروں کو دور دراز مقام پر پیغامات بھیجنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

ہر سال ستمبر کے مہینہ میں کروروں مہاجر چڑیاں ہمالیہ کے اس پار سے ہندستان آتی ہیں تاکہ یہاں جاڑے کا موسم گزاریں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو وسط ایشیاء مغربی ایشیاء ایران مانستان، تبت ، روس ، سائبیریا، یورپ سے آتی ہیں تاکہ یہاں پنے لئے غذا اور مسکن حاصل کریں۔ سفر کے دوران انہیں ٹھیک ٹھیک علم رہتا ہے کہ وہ کہاں جا رہی ہیں ۔ وہ عام طور پر رات میں ا ڑتی ہیں ۔ وہ ساڑھے پندرہ ہزار سے لے کر ۲۰ ہزار فٹ کی بلندی ایک اڑتی ہیں۔وہ ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے وہ ہزاروں میل کا راستہ طے کرتی ہیں۔ اکثر چڑیاں چھ یا آٹھ گھنٹہ کے بعد'' بریک جرنی ''کرتی ہیں۔ بعض چڑیاں (مثلاً ایسٹرن گولڈن پلور) جو مغربی الاسکا اور شمالی سائبیریا میں انڈے بیچے کرتی ہے ہندستان تک ۲۵۰۰ میل کا مسلسل سفر کر کے پہنچتی ہے اور راستے میں کہیں نہیں ٹھہر تی۔ سانپ کی یہ قسم جو جاپان میں انڈے

صفحہ نمبر60پر یہاں تصویر ہے۔

جدید انسان کی تلاش

زبان فرانس ایویل کی ''کتاب مارکس یا مسیح کے بغیر'' Without Marx Or Jesus

1970 میں فرانس میں شائع ہوئی ۔ کتاب میں مصنف نے بوڈیلئٹر کا قول نقل کیا ہے جس نے تجویز کیا تھا کہ انسانی حقوق کے اعلان میں دو مزید حقوق شامل کئے جائیں۔ ایک، آپ اپنی تردید کرنے کا حق ۔ دوسرے کنارہ کشی کا حق امریکی نوجوان آج اسی انقلاب کی طرف جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایک ایسے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سماج کو رد کر رہا ہے جس کا محرک صرف منافع ہو اور جس پر صرف اقتصادی امور کا غلبہ ہو۔ دوسری طرف اسے روایتی مذاہب پر بھی اطمینان نہیں۔ کیوں کہ اس کے نزدیک بہترین مذہب وہ ہے جسے آدمی خود دریا فت کرے ۔ امریکی نوجوان کے جدید رحجانات کے چند خاص پہلو یہ ہیں : اخلاقی قدروں کی طرف رجوع کرنے کا ذہن خالص اقتصادی اور تکنکی سماجی مقاصد سے انکار ، قدر نار، قدرتی ماحول کو تجارتی منفعت سے زیادہ اہم سمجھنا۔ مصنف کے الفاظ میں ۔ " آج امریکہ میں ایک نیا انقلاب سر اٹھا رہا ہے۔ یہ بنی نوع انسان کے لئے واحد راہ فرار پیش کرتا ہے یعنی یہ کہ ٹکنا لوجیکل تہذیب کو بطور ایک وسیلے کے قبول کیا جائے نہ کہ بطور ایک مقصد کے۔ اور چونکہ ہمیں نہ اس تہذیب کی تباہی بچا سکتی ہے اور نہ اس کا استمرار اسی لئے اس قابلیت کو بھی بڑھایا جائے کہ ہم اس تہذیب کو فنا کئے بغیر سے ایک نئی شکل دے سکیں ''۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ذہن جس کی نمائندگی اس کتاب میں کی گئی ہے۔ ایک ایسے آدمی کی بے چینی کی طرح ہے جسے خود اپنی بے چینی کا سبب معلوم نہ ہو۔ امریکی نوجوان مادی تہذیب سے،میڈالین ایم او ہیر، امریکہ کی مشہور ترین ملحد خاتون ہیں۔ وہ کھلم کھلا اپنے الحاد کی تبلیغ کرتی ہیں۔ پکے خدا پرست والدین کی یہ بیٹی اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

''مجھے ان کے اعتقادات کا علم تھا اور احترام بھی کرتی تھی۔ مگر ۱۳ سال کی عمرمیں اتوار کا پورا دن انجیل پڑھتے رہنے کے بعد میں اس کی یکسر خلاف عقل باتوں سے متنفر ہو گئی''۔ ۷۲

other sourceWords of another person or source

جس کی آخری نمائندگی مارکس نے کی، مکمل طور پر غیر مطمئن ہو چکا ہے ۔ وہ دوبارہ اس ''ماضی'' کو دیکھنے لگا ہے جس کو اس کے باپ دادا نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر یہاں " ماضی ''کی نمائندگی کرنے والی جو چیز ملتی ہے وہ عیسائیت ہے ۔

عیسائیت اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ خالص علمی و عقلی ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ اس لئے وہ ” مارکس کے ساتھ وہ " مسیح کا بھی باغی ہو جاتا ہے۔ تاہم جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بغاوت کے بعد وہ میں چیز کا طالب ہے ، وہ اس کے اپنے الفاظ میں وہی چیز ہے جس کا جواب صرف مذہب کے اندر ہے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مجہول احساس کے ساتھ اسی چیز کی تلاش میں ہے جس کو مذہب کہتے ہیں مصنف نے اپنی کتاب کا نام ''نہ مارکس نہ مسیح '' رکھا ہے۔ مگر باعتبار حقیقت اس کا نام ہونا چاہئے تھا ''نہ مارکس نہ مروجہ عیسائیت ''

انسان مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے مگر مذہب کی غلط نمائندگی اس کو دوبارہ مذہب سے دورے جارہی ہے۔ یہ ہے دور جدید کا سب سے بڑا المیہ۔

آپ بیتی

نومبر کا مہینہ تھا اور رات کے تقریباً ۱۲ بجے کا وقت ۔ طالب علم اپنے کمرہ میں سو رہا تھا۔ اس کی چارپائی کے پاس شلف میں مجلد کتابیں رکھی ہوئی تھیں طالبعلم میں نے نیند کی حالت میں کروٹ لی اور اس کا ہاتھ شلف پر چلا گیا ۔ اچانک وہ ایک چنخ کے ساتھ اٹھ بیٹھا۔ دیکھا تو ہاتھ کی انگلی میں دانت دھنسنے کا نشان تھا اور خون بہہ رہا تھا ۔''مجھے سانپ نے کاٹ لیا۔ وہ چلایا اور کمرہ کے باہر نکل آیا۔ اس کی آواز سن کر قریب کے کمروں کے لڑکے بھی جمع ہوگئے ۔ اس وقت طالب علم کا جسم پسینہ سے تر تھا اور وہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ دہشت کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص نے علاج کی غرض سے نیم کی پتیاں لا کردیں تو وہ بے تکلف ان پتیوں کو کھا گیا اور اسے کڑوے پن کا احساس تک نہیں ہوا۔

وہاں ایک اور طالب علم تھا جس کا پورا خاندان طبیبوں کا تھا۔ اس نے آکر( مارگزیدہ) طالب علم کا ہاتھ دیکھا۔ اس کے زخم پر نظر ڈالی " دانت تو ضرور دھنسے ہیں مگریہ دانت .... اتنا کہہ کردہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک ڈنڈا لیا اور کمرے میں روشنی کر کے اس کو اندر سے بند کر لیا۔ جولوگ کمرہ کے باہر کھڑے تھے انھوں نے اندر سے ڈ نڈا پیٹنے کی آواز سنی توانوں نے سمجھاکہ وہ سانپ کو مار رہا ہے۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد جب وہ طالب علم کمرہ سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں سانپ کے بجائے ایک مرا ہوا چوہا تھا جس کو وہ دم سے پکڑ کر لٹکائے ہو کے تھا۔ دیکھو یہ تھی وہ چیز جس نے تمہیں کاٹا ہے ۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے تمہاری انگلی کا زخم دیکھتے ہیں شبہ ہوگیا تھا کہ یہ سانپ کا کاٹا نہیں ہو سکتا۔ چوہے کے دانت اور سانپ کے دانت میں فرق ہوتا ہے لیکن اگر میں یوں ہی کہتا تو تمہیں یقین نہ آتا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ پہلے چوہے کو پکڑکر ماروں اور اس کے بعد تمہیں بتاؤں کہ حقیقت کیا ہے۔

یہ باتیں سن کر اور مرا ہوا چوہا دیکھ کر یکایک طالبعلم اٹھ بیٹھا۔ اب وہ با لکل اچھا تھا ، مجھے یاد آیا ، اس نے کہا'' کل ہی میرے یہاں نئی نئی کتا بیں جلد بن کر آئی ہیں نئی جلدوں میں لئی کی بو پا کر اکثر چوہے آجاتے ہیں اور وہی قصہ یہاں بھی پیش آیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وہی طالب علم جس پر چند منٹ پہلے موت کی بد حواسی طاری تھی اب بالکل ہشاش بشاش اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہا تھا۔ حالانکہ اس کا کوئی علاج نہیں کیا گیا تھا۔ اس کو صرف یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ اس کو جس چیز نے ڈسا ہے وہ سانپ نہیں بالکل چوہا ہے۔

یہی حال ہماری قوم کا ہے۔ ہماری قوم اس وقت اپنے مسائل سے اس قدر پریشان ہے کہ زندگی کا حوصلہ تک اس سے رخصت ہو رہا ہے مگر یہ پریشانی حقیقی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ اگر قوم کے دل میں یہ بات اتاری جاسکے کہ تمہارا مسلہ چوہے کا مسئلہ ہے نہ کہ سانپ کا مسلہ تو قوم کی حالت بالکل بدل جائے گی اور وہ حوصلہ وار اعتمادان تمام نعمتوں کو دوبارہ پہلے یا جن کو وہ موجودہ حالت میں کھو چکی ہے۔

محمد خالد اعظمی (پیدائش ۱۹۲۸)

اردو لیتھو پریس ۔ اسٹریٹ نمبر 4

شاہدرہ، دہلی

اپنی رائے دیجئے

الرسالہ اب تک ڈائجسٹ کے انداز میں نکالا جاتا رہا ہے ۔ اقتصادیات اور عام معلومات سے لے کر دینی اور علمی موضوعات تک مختلف عنوانات کے تحت چھوٹے چھوٹے مضامین درج کئے جاتے ہیں تا کہ تنوع باقی رہے ۔

تاہم شروع سے کچھ دوستوں کی تجویز رہی ہے کہ ڈائجسٹ کا انداز ختم کردیا جائے اور الرسالہ کو سنجیدہ دینی موضوعات کے لئے خاص رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمومی قسم کے معلوماتی مضامین تو لوگوں کو دوسرے رسائل میں بھی پڑھنے کے لئے مل جاتے ہیں ۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اسلام کی صداقت پر آج کے ذہنوں کو مطمئن کیا جائے اور اسلام کی گہری معرفت پیدا کرنے والے مضامین شائع کئے جائیں۔ الرسالہ اب تک جس طرح نکلتا رہا ہے اس کی افادیت یہ ہے کہ ہر ذوق کا آدمی اس میں اپنی دل چسپی کی کچھ چیزیں پالیتا ہے۔ موجودہ ترتیب میں چونکہ عام موضوعات میں بھی کوئی نہ کوئی دینی اور اصلاحی لمس (Touch) دینے کی کوشش کی جاتی ہے، اس لئے ان مضامین کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی آدمی کو ہلکی فکری غذا پہنچتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ خالص دینی وعلمی مضامین بھی الرسالہ میں شامل رہتے ہیں اس لئے اپنی پسند کے فیچر دیکھنے بعد وہ دوسرے مضامین کو بھی پڑھ لیتاہے جن میں زیادہ واضح اور برا ہ راست اندازمیں دینی گفتگو کی گئی ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ تجویز کے مطابق الرسالہ کو ترتیب دیا جائے تو وه ''رسالہ ''کم اور'' کتاب'' زیادہ بن جائے گا ۔ اس تبدیلی سے ممکن ہے کہ اس کی عمومیت پر کچھ اثر پڑے، مگر اسلام کو بنیادی کے ساتھ سمجھنے کا شوق رکھنے والوں کے لئے یقیناً اس کی افادیت بڑھ جائے گی۔

موجودہ زمانہ میں ایک اہم کام یہ ہے کہ اسلام کو وقت کے لسانی اسلوب میں مرتب کیا جائے اور عہد حاضر کے فکری مستویٰ پر اس کو مدلل کیا جائے ۔ اسی کے ساتھ امت کے اندر داعیانہ مزاج پیدا کرنا اور دین کا ہر شعور ابھارنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے ۔ یہ دوسرا کام اگر یہ موجودہ الرسالہ میں بھی مسلسل انجام دیا جارہا ہے لیکن اگرتینوں کو ختم کر دیا جائے تو اس پہلو سے رسالہ کی افادیت یقیناً بڑھ جائے گی اور زیادہ وسیع طورپر اس کا موقع ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی علمی وفکری ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔

اب ایک قابل عمل صورت یہ ہے کہ الرسالہ کو ماہنامہ کے بجائے سہ ماہی کر دیا جائے۔ ہر تیسرے مہینہ کسی خاص اسلامی موضوع پر یہ صفحات کا ایک مجموعہ تیار کیا جائے اور اس کو خریدار حضرات کے پاس بھیجا جائے۔ گویا اس کی حیثیت ایک قسم کی سہ ماہی کتاب کی ہوں کہ ماہانہ رسالہ کی متنوع مضامین کے مجموعہ کے مقابلہ میں سنجیدہ طبقہ کے لئے ایک مرتب کتاب میں زیادہ علمی کشش ہوگی اور فکر کی تعمیرو تہذیب کے لئے وہ زیادہ کار آمد ثابت ہوگی۔

تجویز یہ ہے کہ یہ سہ ماہی رسالہ بدستور 64 صفحات پر مشتمل ہو البتہ اس کے اوپر موٹے کاغذ کے ٹائٹل کا اضافہ کر دیا جائے اور سالانہ قمیت( چار اشاعتوں کے لئے) 10 دس روپے رکھی جائے کیونکہ سہ ماہی بنانے کے بعد اس پر ڈاک کا ٹکٹ دو پیسہ کے بجائے ۲۵ پیسے کا لگانا ہو گا۔ نیز ٹائٹل کی وجہ سے بھی لاگت بڑھ جائے گی

الرسالہ کے قارئین کے سامنے یہ تجویز اس لئے پیش کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی رائے دیں۔ لوگوں کی رائیں سامنے آنے کے بعد آخری فیصلہ کیا جائے گا۔

Single Copy Rs. 2.00

Regd. No. D (D) 532

REGD. R. N. No. 28822/76

JULY 1977

AL-RISALA MONTHLY

JAMIAT BUILDING. QASIMJAN STREET, DELHI

(India)

محمد احمد پرنٹر پیشتر مسئول نے جے کے افسیٹ پرنٹرز دہلی سے چھپوا کر دفتر الرسالہ 1502 قاسم جان اسٹریٹ

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceExplained aloudThe Prophetic Guidance February 18, 2007 · from 86:18 · 1 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceopposing viewA view stated in order to be argued againstother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it