Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala January 2016
Al-Risala January 2016

گفتگو کا علمی انداز

Urdu · 1 min read

دو پتھروں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جائے تو اس ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ظہور میں آتی ہے، اور وہ چنگاری (sparking) ہے۔ یہی معاملہ انسانی دماغ کا ہے۔ دو دماغ اگر باہم ٹکرائیں تو وہاں بھی ایک تیسری چیز ظہور میں آئےگی۔یہ ایک نیا تصور (new idea) ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کہا جاتا ہے۔ ذہنی ارتقا کبھی پر سکون حالات میں پیدا نہیں ہوتا۔ ذہنی ارتقا ہمیشہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کہ کسی دھماکے سے کسی انسان کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) وجود میں آئے۔

اس معاملے میں فکری اختلاف (dissent) کا بہت بڑا رول ہے۔ دو انسانوں کے درمیان فکری اختلاف ہو اور پھر دونوں کے درمیان انتہائی آبجیکٹیو (objective) انداز میں کھلا تبادلۂ خیال (open discussion) ہو۔ دونوں کسی ریزرویشن کے بغیرخالص علمی انداز میں اپنا اپنا نقطۂ نظر بیان کریں۔ دونوں میں سے کوئی مشتعل نہ ہو، بلکہ دونوں خالص دلائل کی روشنی میں تبادلۂ خیال کریں۔

اس قسم کی گفتگو کو علمی تبادلۂ خیال (scientific discussion) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی گفتگو اگر کامل غیر جذباتی انداز میں کی جائے تو اس کے بعد ہمیشہ یہ ہوگا کہ ایک تیسرا آئیڈیا ایمرج (emerge) کرے گا جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) کرتی ہے۔اس مثبت اختلاف کی شرط صرف یہ ہے کہ دونوں فریقوں میں سے ہر فریق خالص دلائل کی روشنی میں اظہارِ خیال کرے، وہ الزام تراشی کی زبان ہر گز اختیار نہ کرے۔اس قسم کی گفتگو کو قرآن میںمجادلۂ احسن (16:125) کہا گیا ہے۔مجادلۂ احسن وہ ہے جس میں اپنی بات کو کنڈیشننگ سے اوپر اٹھ کرریزن (reason) کی بنیاد پر کہا جائے، اوردوسروں کی بات کو کنڈیشننگ سے اوپر اٹھ کر ریزن (reason) کی بنیاد پر سنا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content