Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2016
Al-Risala January 2016

با اصول زندگی کی قیمت

Urdu · 2 min read

مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ با اصول زندگی کی بنا پر اس کو جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اس کو قرآن میں ایمانی آزمائش کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے یہ ہیں: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تمھارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اﷲ کی مدد قریب ہے۔ (2:214) کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو ان سے پہلے تھے، پس اﷲ ان لوگوں کو جان کر رہے گا جو سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی ضرور معلوم کرے گا۔ (29:2-3)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اہل ایمان پر یہ آزمائش بارش کی طرح آسمان سے نہیں آتی، بلکہ روز مرہ کی زندگی میں معمول کے حالات کے تحت آتی ہے۔ مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس آزمائش کو پہچانے اور اس میں صبر کا ثبوت دے تاکہ وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہرے۔

قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس لیے یہ آزمائشی حالات اکثر تشدد کی صورت میں پیش آتے تھے۔ اب مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔اب اہل ایمان پر جو آزمائش آئے گی، اس کی صورت مختلف ہوگی۔

موجودہ زمانے میں اہل ایمان پر جو آزمائش آئے گی، وہ زیادہ تر نفسیاتی معنی میں ہوگی۔ یعنی ایسے حالات جو انسان کی ایگو (ego) کو بھڑکائیں، ایسے حالات جو انسان کے اندر نفرت کا جذبہ پیدا کریں، ایسے حالات جو انسان کو حق کے راستے سے دور کرنےوالے ہوں، ایسے حالات جو انسان کو بددل کرنے والے ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کے حالات میں انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائے، اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت سوچ پر قائم رکھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content