قرآن کی سورہ الشوریٰ کی ایک آیت یہ ہے: وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠ وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَیْنَہُمْ ۠ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ (42:38) یعنی اور وہ جنھوں نے اپنے رب کی دعوت کوقبول کیا اور نماز قائم کی اور ان کا نظام شوری پر ہے، اور ہم نے جو کچھ انھیں دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں-قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق فرد (individual) اور اجتماع (society) کے لیے خدا کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے- وہ یہ کہ انفرادی عقیدہ کے معاملے میں آئیڈیل مطلوب ہے اور سماجی نظام کے معاملہ میں پریکٹکل (practical)- ہر فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ مطالعہ اور تحقیق کے ذریعہ سچائی کو دریافت کرے، اور جب اس کو سچائی کی دریافت ہوجائے تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے پوری طرح اس کو اختیار کرلے- اس معاملہ میں کسی فرد سے عذر (excuse) قبول نہیں کیا جائے گا-اجتماع (society) کا معاملہ اس سے مختلف ہے- اجتماع بہت سے افراد کے مجموعے کا نام ہے- ہر فرد آزادانہ طورپر سوچتا ہے، ہر فرد آزادانہ طورپر رائے قائم کرتاہے- اس بنا پر اجتماعی معاملے میں کامل اتفاق رائے کبھی ممکن نہیں ہوتا- اس کا عملی حل صرف یہ ہے کہ اجتماعی معاملہ کو مشورہ (consultation)پر مبنی قرار دیا جائے- دوسرے الفاظ میں یہ کہ اجتماعی معاملہ میں فیصلہ کثرت رائے کی بنا پر ہوگا، نہ کہ کامل اتفاق رائے کی بنا پر-موجودہ زمانہ میں اسی اجتماعی اصول کو جمہوریت (democracy) کہاجاتاہے- ڈیموکریسی دراصل اکثریت کی حکومت (majority rule)کا نام ہے- جمہوریت کے تحت اکثریت کی رائے بذریعہ الیکشن معلوم کی جاتی ہے- جمہوری نظام یہ ہے کہ الیکشن کی بنیاد پر اکثریت کے نمائندہ کو محدود مدت کے لیے حکومت (انتظامیہ) کا کام چلانے کا موقع دیا جاتاہے- محدود مدت (ٹرم) کے خاتمہ پر دوبارہ الیکشن ہو، اور اسی طرح بار بار الیکشن کے ذریعہ فیصلہ کیا جاتا رہے- یہی اس معاملہ میں اسلام کا طریقہ ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔