Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2015
Al-Risala January 2015

اللہ کی نعمتیں

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 102 میں قیامت کا ذکر ہے- اس کے بعد یہ آیت آئی ہے: ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم (التکاثر: 8) یعنی پھر اس دن یقیناً تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا- اِس آیت میں نعمت (divine blessing) سے مراد وہ تمام مادی چیزیں ہیں، جن کے درمیان انسان زندگی گزارتا ہے، جن کے مجموعہ کو عام طورپر لائف سپورٹ سسٹم کہاجاتا ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ ہر نعمت کے ساتھ جواب دہی (accountability) کا تصور شامل ہے- نعمت کا ملنا اپنے آپ میں اس بات کا ایک خاموش اعلان ہے کہ ایک دن آنے والا ہے، جب کہ انسان سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے ان نعمتوں کے لیے منعم (giver) کا اعتراف کیا یا نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر یہ صرف خارجی نعمتوں کی بات نہیں- انسان کو اس کی اپنی ذات میں جو اعلی صفات دی گئی ہیں، وہ بھی اس کے لیے خدا کی نعمتیں ہیں- ان نعمتوں کے بارے میں بھی انسان سے پوچھا جائے گا کہ اس نے دنیا کی زندگی میں ان کا استعمال کس طرح کیا:

How did you utilize the qualities given to you by God?

انسان کو اس کی ذات کے اعتبار سے یا خارجی دنیا کے اعتبار سے جو چیزیں ملی ہیں، ان میں سے ہر چیز اس کے لیے عظیم نعمت (great blessing) ہے- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) نہ لے، بلکہ وہ ان کو شعوری طورپر دریافت کرے- وہ ان نعمتوں کے لیے کامل معنوں میں خالق کا اعتراف کرے- وہ ان خدا داد نعمتوں کو نہ ضائع کرے، اور نہ ان کا غلط استعمال کرے، بلکہ وہ ان کا صحیح استعمال کرے- وہ دانش مندانہ منصوبہ (wise planning) کے ذریعہ ان کا درست استعمال کرے- اس معاملہ میں وہ خالق کے نقشۂ تخلیق (creation plan) کو جانے، اور وہ اس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتے ہوئے ان کا وہی استعمال کرے جو خالق کو مطلوب ہے- یہی کامیابی کا واحد راز ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content