قرآن کی سورہ نمبر 102 میں قیامت کا ذکر ہے- اس کے بعد یہ آیت آئی ہے: ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم (التکاثر: 8) یعنی پھر اس دن یقیناً تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا- اِس آیت میں نعمت (divine blessing) سے مراد وہ تمام مادی چیزیں ہیں، جن کے درمیان انسان زندگی گزارتا ہے، جن کے مجموعہ کو عام طورپر لائف سپورٹ سسٹم کہاجاتا ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ ہر نعمت کے ساتھ جواب دہی (accountability) کا تصور شامل ہے- نعمت کا ملنا اپنے آپ میں اس بات کا ایک خاموش اعلان ہے کہ ایک دن آنے والا ہے، جب کہ انسان سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے ان نعمتوں کے لیے منعم (giver) کا اعتراف کیا یا نہیں-
مگر یہ صرف خارجی نعمتوں کی بات نہیں- انسان کو اس کی اپنی ذات میں جو اعلی صفات دی گئی ہیں، وہ بھی اس کے لیے خدا کی نعمتیں ہیں- ان نعمتوں کے بارے میں بھی انسان سے پوچھا جائے گا کہ اس نے دنیا کی زندگی میں ان کا استعمال کس طرح کیا:
How did you utilize the qualities given to you by God?
انسان کو اس کی ذات کے اعتبار سے یا خارجی دنیا کے اعتبار سے جو چیزیں ملی ہیں، ان میں سے ہر چیز اس کے لیے عظیم نعمت (great blessing) ہے- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) نہ لے، بلکہ وہ ان کو شعوری طورپر دریافت کرے- وہ ان نعمتوں کے لیے کامل معنوں میں خالق کا اعتراف کرے- وہ ان خدا داد نعمتوں کو نہ ضائع کرے، اور نہ ان کا غلط استعمال کرے، بلکہ وہ ان کا صحیح استعمال کرے- وہ دانش مندانہ منصوبہ (wise planning) کے ذریعہ ان کا درست استعمال کرے- اس معاملہ میں وہ خالق کے نقشۂ تخلیق (creation plan) کو جانے، اور وہ اس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتے ہوئے ان کا وہی استعمال کرے جو خالق کو مطلوب ہے- یہی کامیابی کا واحد راز ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔