Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala January 2015
Al-Risala January 2015

ہدایت ، دین ِحق

Urdu · 3 min read

قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک تاریخی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (9:33)۔ یعنی اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کردے، خواہ یہ شرک کرنے والوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ہدیٰ اور دین حق۔ یہ دونوں لفظ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ہدیٰ سے مراد خدا کا محفوظ ہدایت نامہ(preserved book of divine guidance)ہے، اور دین حق سے مراد اس حقیقت الہٰی کا ایک ثابت شدہ واقعہ (established fact) ہونا۔

جہاں تک ہدیٰ کا تعلق ہے، وہ نزول کے وقت ہی سے ایک محفوظ ہدایت نامہ ہے۔ اس میں اس اعتبار سے کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ مگر جہاں تک اس کے دوسرے پہلو کا معاملہ ہے، وہ ایک لمبے تاریخی عمل کے دوران اپنی آخری تکمیل تک پہنچے گا۔اس عمل میں وہ لوگ بھی حصہ لیں گے، جو صاحب ایمان ہیں، اور وہ لوگ بھی بالواسطہ طور پر اس کا حصہ بنیں گے جو ایمان کا دعویٰ نہیں رکھتے۔

خدائی ہدایت کے محفوظ ہو نے کا معاملہ قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ یعنی یہ یاددہانی (قرآن) ہم نے اتاری، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کے متن کی یہ حفاظت اتنی کامل صورت میں ہوئی ہے کہ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حفاظت اولاً حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوئی، اس کے بعد کاغذ پر کتاب کی صورت میںہوئی۔ اب یہ حفاظت مزید اضافہ کےساتھ انٹر نیٹ کے ذریعہ ہو رہی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے کا دوسرا پہلو، یعنی ہدایت ربانی (دین حق) کا براہین و حجج کے ذریعہ آخری حد تک مدلل ہونا بھی اب ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اس واقعہ کی پیشگی اطلاع قرآن کی اس آیت میں دی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (41:53) یعنی ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی مذکورہ آیت میں جس چیز کو اظہارِ دین کہا گیا ہے، اس سے مراد یہی اظہار ہے۔ یہاں اظہار ِ دین میں کسی پولٹیکل غلبہ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس سے وہ غلبہ مراد ہے، جو آئڈیالوجی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یعنی حجج و براہین (عقلی دلائل) کے ذریعہ غلبہ۔ اظہار ِ دین بذریعہ دلائل کے دو دور ہیں، روایتی دور اور سائنسی دور۔ قدیم دور روایتی دور تھا۔ اس دور میں علما اور متکلمین نے اپنے زمانے کے عقلی معیار کے مطابق قرآن کومدلل بنایا، یہاں تک کہ ان کے معاصرین کو قرآن کی صداقت پر کوئی شبہ باقی نہ رہا۔

موجودہ زمانہ سائنس کا زمانہ ہے، اس دور کو عقل کا دور (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں بھی یہ واقعہ پیش آچکا ہے کہ جو نئے حقائق ظاہر ہوئے ہیں، انہوں نے کسی بھی درجہ میں قرآن کی صداقت کو مشتبہ نہیں کیا ہے، بلکہ انھوں نے قرآن کی صداقت کو از سرِ نو مزید مدلل بنا دیا ہے۔

موجودہ زمانہ علم کے انفجار (knowledge explosion) کا زمانہ ہے۔ نئی تحقیقات کے ذریعہ جو ڈاٹا (data)حاصل ہوا ہے، اس نے غور و فکر کے دائرے کو بہت بڑھا دیا ہے۔ اس طرح جو فریم ورک بنا ہے، وہ تمام تر ایک نیا اور وسیع تر فریم ورک ہے۔ اس نئے فریم ورک نے صرف یہ کیا ہے کہ اس نے اللہ کے دین کو زیادہ سمجھنے اور اس کو زیادہ یقین کے ساتھ اختیار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content