Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala January 2015
Al-Risala January 2015

قرآن، کتابِ تدبر

Urdu · 1 min read

قرآن کی سورہ صٓ کی ایک آیت یہ ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29)یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں- اس سے معلوم ہوا کہ قرآن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک فکری کتاب ہے، نہ کہ قانون وضوابط کی کتاب-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Quran is a book of thought, not a book of commandment.

اللہ نے انسان کو ذہن (mind) عطا کیا ہے، جو کہ لامحدود فکری صلاحیت کا مالک ہے- لیکن ذہن کو اپنے تفکیری عمل (intellectual process) کو درست طورپر جاری کرنے کے لیے ایک فکری گائڈ(intellectual guide) درکار تھی- قرآن اسی قسم کا ایک فکری گائڈ ہے، جو اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا تفکیری عمل بھٹکے بغیر درست سمت میں چلتا رہے- دنیا کی زندگی میں انسان کی سرگرمیوں کے لیے مختلف سمتیں ہیں- انسان ان سمتوں کو جان سکتا ہے، لیکن اپنی محدودیت کی بنا پر وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ یہ جانے کہ اس کی سرگرمیوں کے فطری حدود کیا ہیں- اس کی سرگرمیوں کے لیے درست رخ کیا ہے- فطرت کے قانون کے مطابق کیا چیز اس کے لیے قابل حصول ہے، اور کیا چیز اس کے لیے قابل حصول نہیں- زندگی کے راستوں میں اس کو کہاں تک چلنا ہے، اور کہاں ضرورت ہے کہ وہ اپنے قدم کو روک دے-

قرآن، آدمی کے لیے یہی گائڈ بک ہے- قرآن میں قانونی احکام کی تفصیل نہیں- قرآن کا سارا خطاب عقل (reason) سے ہے- قرآن کا نشانہ یہ ہے کہ انسان کی عقل کو تربیت دے کر اس کو اس قابل بنائے کہ وہ خود اپنی ذاتی فکر (self-thinking) کے ذریعہ اپنے اندر مطلوب ربانی شخصیت کی تعمیر کرے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content