قرآن میں کل ایک سو چودہ سورتیں ہیں- آیات قرآنی کی تعداد تقریباً ساڑھے چھ ہزار ہے- قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں قانونی احکام کی آیتیں بہت کم ملیں گی- آیتوں کی زیادہ تعداد وہ ہے جن میں حکمت یا نصیحت کی باتیں ہیں- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن، کتابِ حکمت (book of wisdom) ہے، نہ کہ کتابِ احکام(book of commandment)-
اِس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت ایک رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں- اس آیت سے قرآن کا اسلوب معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ہدایت انسانی کے بنیادی اصولوں (fundamentals) کوبتانا تاکہ لوگ اس کی روشنی میں تخلیقِ خداوندی اور حیاتِ انسانی کے معاملات پر غور کریں اور اپنے لیے صراطِ مستقیم (right path) کو معلوم کریں-
قرآن کا مقصد قانونی دفعات کو بتانا نہیں ہے، بلکہ انسان کی قوت فہم کو متحرک کرنا ہے، تاکہ انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری ہو- قرآن میں اِس سلسلہ میں چھ ہم معنی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں — عقل، فؤاد، قلب، لُب، حِجْر، نُہی- یہ تمام الفاظ ذہن (mind) کے لیے استعمال ہوتے ہیں- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا نشانہ انسان کا ذہن (mind) ہے- قرآن کا مقصود یہ ہے کہ انسان کے اندر تفکر اور تدبر کی صلاحیت کو زندہ کیا جائے- انسان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ ذاتی سوچ (self-thinking) کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک ارتقا یافتہ شخصیت (developed personality) کی صورت میں تعمیر کرے-
قرآن کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو غیب میں اپنے خالق کا مشاہدہ کرنے والا بنائے، تاکہ وہ شہود میں اپنے خالق کا مشاہدہ کرسکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔