Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2014
Al-Risala January 2014

امت کا زوال

Urdu · 2 min read

حضرت ابو امامہ الباہلی کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لینقضنّ عرى الإسلام عروة عروة- فکلما انتقضت عروة، تثبّت الناس بالتی تلیہا- وأولہن نقضا الحکم، وآخرہن الصلاة (مسند احمد: 251/5 ) یعنی اسلام کے حلقے (زنجیر) ٹوٹتے رہیں گے، ایک کے بعد دوسری کڑی- جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ باقی ماندہ کڑی سے جڑ جائیں گے- پہلی کڑی جو ٹوٹے گی، وہ ’الحکم‘ ہے اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی ، وہ ’الصلاة‘ ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حُکم (اقتدار) اور صلاة (نماز) دونوں کا ایک ڈھانچہ (form) ہے اور ایک اس کی روح (spirit)- اِس حدیث میں جس چیز کے ٹوٹنے کا ذکر ہے، وہ حکم اور صلاة کی اسپرٹ ہے، نہ کہ اس کا ظاہری فارم، کیوں کہ کسی بھی امت میں اِن چیزوں کی صرف داخلی اسپرٹ مفقود ہوتی ہے، نہ کہ اس کا ظاہری ڈھانچہ-حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، جب امت مسلمہ پر زوال آئے گا تو ایسا نہیں ہوگا کہ وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائے، بلکہ یہ ہوگاکہ بظاہر اس کا ڈھانچہ تو موجود ہوگا، مگرداخلی حقیقت مفقود ہوچکی ہوگی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گویا اسلام کا قِشر (چھلکا) موجود ہوگا، لیکن اسلام کا مغز موجود نہ ہوگا- مثلاً ظاہری اعتبار سے، مسلم حکومت موجود ہوگی، لیکن اقامتِ عدل موجود نہ ہوگا، جو کہ حکومت کا اصل مقصود ہوتا ہے- اِسی طرح نماز کا ظاہری ڈھانچہ تو موجود ہوگا، لیکن نمازیوں کے اندر خشوع کی کیفیت موجود نہ ہوگی، جو کہ نماز کی اصل حقیقت ہے- اِسی طرح بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہوں گی، لیکن یہ سرگرمیاں قومی کلچر کی سرگرمیاں ہوں گی، نہ کہ حقیقی معنوں میں دین ِ خداوندی کی سرگرمیاں-کوئی امت کبھی ظاہری معنوں میں نہیں مٹتی- دورِ زوال میں جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف یہ ہوتا ہے کہ معنوی اعتبار سے، امت کمزور یا بے روح ہوجائے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content