فہمِ قرآن کی ایک ضرورت یہ ہے کہ آدمی عربی زبان جانتا ہو، وہ شانِ نزول کی روایتوں سے واقف ہو، وغیرہ- اِس طرح کی باتیں بلاشبہہ قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں- لیکن یہ قرآن فہمی کا ابتدائی درجہ ہے- قرآن فہمی کا دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ قاری کے اندر وہ چیز پیدا ہوچکی ہو جس کو تیار ذہن (prepared mind) کہاجاتا ہے- ابتدائی درجےکا فہمِ قرآن بھی مفید ہے، لیکن فہمِ قرآن کا اعلی درجہ صرف اُس شخص کے حصے میں آتا ہے جو تیار ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے-
اِس ذہنی تیاری کو قرآن فہمی کی پیشگی شرط (pre-condition)کہا جاسکتا ہے-یہ ذہنی تیاری مطالعہ اور غور وفکر اور تبادلہ خیال (discussion)، وغیرہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے- اِس طرح کی ذہنی سرگرمیوں کے ذریعے آدمی کو مزید معلومات حاصل ہوتی ہیں جو قرآن کی آیتوں کو سمجھنے میں مددگار بنتی ہیں، اِس سے آدمی کے اندر ایک ذوق (taste) ڈیولپ (develop) ہوتا ہے- اِس کے ذریعے آدمی کے اندر ایک پرکھ پیدا ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہن ذوقی طورپر یہ بتاتا رہتا ہے کہ کسی آیت کا کیا مطلب درست ہے اور کیا مطلب درست نہیں-
معروف قرآنی علوم آدمی کو صرف قرآن فہمی کے فنی پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہیں- اِس کے مقابلے میں، ذہنی تیاری آدمی کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ معرفت کے پہلو سے قرآن کے گہرے معانی (deep meanings)کا ادراک کرسکے-
یہ ایک حقیقت ہے کہ تیار ذہن والا آدمی قرآن کے ربانی پہلوؤں کا ادراک کرلیتا ہے- ایسے آدمی کو قرآن میں حب الہی اور خشیت ِ الہی کی غذا ملنے لگتی ہے- اُس کے اندر وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو ذہنی ارتقا کہاجاتا ہے، اُس کے لیے قرآن کا مطالعہ اللہ سے ملاقات کا لمحہ بن جاتا ہے- ایسے آدمی کے لیے قرآن کا مطالعہ ایک تخلیقی مطالعہ (creative study) ہوتا ہے، جو اُس کے لیے قرآن میں نیے نیے معانی کی دریافت کا ذریعہ بن جاتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.