مسٹر کشن جیونت راؤ پاٹل (پیدائش: 1943 ) ناندیڑ (مہاراشٹر) کے رہنے والے ہیں۔ وہ 1976 سے الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ان کے پاس الرسالہ کی مکمل فائلیں موجود ہیں۔ انھوںنے صرف الرسالہ پڑھنے کے لیے اردو زبان سیکھی۔ یکم مئی 2011 کو اُن سے نئی دہلی میں ملاقات ہوئی۔ میںنے اُن سے الرسالہ کے بارے میں اُن کا تاثر پوچھا۔ انھوںنے کہا —الرسالہ پڑھنے سے پہلے، میں بول کر سوچتا تھا۔ اب میں سوچ کر بولتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے ایک مسلمان پروفیسر نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی مصروفیت کیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ موت کی تیاری۔
اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ جو لوگ گہرائی کے ساتھ پڑھتے ہیں، اُن کے اندر کس قسم کا مزاج بنتا ہے۔ اِس مزاج کو ایک لفظ میں سنجیدگی (sincerity) کہہ سکتے ہیں۔ الرسالہ کا مقصد لوگوں کے اندر صالح سوچ پیدا کرنا ہے، اور جب کسی آدمی کے اندر صالح سوچ پیدا ہوجائے تو اس کا حال وہی ہوگا جس کا ایک نمونہ اوپر کی مثال میں نظر آتاہے۔
ماہ نامہ الرسالہ میں نہ فخر (pride) کی باتیں ہوتی ہیںاور نہ شکایت (complaint) کی باتیں۔ الرسالہ میں نہ مسلمانوں کے قومی مسائل کا تذکرہ ہوتا ہے اور نہ الرسالہ میں مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim empowerment) کی باتیںہوتیں۔
ماہ نامہ الرسالہ میں صرف خدا اور آخرت کی باتیں ہوتی ہیں۔ ایسی تحریروں کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ قاری کے اندر شکایت اور احتجاج (protest)کا ذہن نہ پیدا ہو، بلکہ اس کے اندر خود احتسابی (self-introspection) کا مزاج پیداہو۔ اللہ کے فضل سے، الرسالہ کے قار ئین میں اِسی قسم کا مزاج پیدا ہورہا ہے۔ الرسالہ لوگوں کے اندر مثبت سوچ پیدا کرتاہے، اور مثبت سوچ بلاشبہہ تمام خوبیوں اور بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔