ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ماہ نامہ الرسالہ (نئی دہلی) کے مستقل قاری ہیں۔ میں نے اُن سے الرسالہ کے بارے میں اُن کا تاثر پوچھا۔ انھوںنے کہا کہ لوگ عام طورپر چیزوں کو اُس کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے ہیں۔ وہ ظاہر کے اعتبار سے، چیزوں کے بارے میں اپنی رائے بناتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ الرسالہ کو بھی عام طرز کا ایک رسالہ سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ وہ رسالہ پلس ہے۔ الرسالہ یا میگزین کے لفظ سے لوگجس چیز کو جانتے ہیں، وہ صرف ایک صحافتی مجموعہ ہے۔ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ الرسالہ ایک مشن ہے، نہ کہ معروف معنوں میں، صرف ایک مجلہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ صرف ایک مجلہ نہیں، بلکہ وہ ایک مشن ہے۔ غالباً الرسالہ کو پڑھنے والوں میں بہت ہی کم ایسے افراد ہوں گے جو اِس حقیقت کو سمجھتے ہوں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ جب کسی چیز کا کوئی معروف ماڈل بن جائے تو لوگ اُس نوعیت کی کسی چیز کو اُسی معروف ماڈل پر قیاس کرکے اُس کے بارے میں رائے بنا تے ہیں۔رسالہ یا پیریڈیکل (periodical) کا ایک معروف ماڈل ماحول میں موجود ہے۔
لوگ اِسی معروف ماڈل پر قیاس کرتے ہوئے الرسالہ کو بھی صرف ایک پیریڈیکل سمجھ لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ، صحافت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک استثنائی مجلہ ہے۔ الرسالہ ایک مشن کا نمائندہ ہے۔ ایک شخص پورے مہینے ماہی ٔ بے آب کی طرح تڑپتا ہے، اس کے بعد الرسالہ جیسا ایک پرچہ وجود میں آتا ہے۔
لوگوں نے نہ تو الرسالہ جیساکوئی مجلہ پڑھا اور نہ صاحبِ الرسالہ جیسے کسی مین آف مشن (man of mission) سے کبھی ان کی ملاقات ہوئی۔ اِس لیے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ الرسالہ کو پڑھ کر بھی الرسالہ کو سمجھ نہیں پاتے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.