← Al-Risala January 2008Al-Risala January 2008
Main Content
Urdu · 88 min read
الرسالہ، جنوری 2008
فرہست
-قرآن اور حدیث
-شکر کی اہمیت
-ہر چیز پرچۂ امتحان
-تواضع ایک عظیم عبادت
-تقدیر انسانی
-دعوت الی اللہ
-ماڈرن ایج اور اسلام
-مسجد: ایک دعوتی مرکز
-آرٹ آف لائف
-کامیابی کا راز
-شکایت ختم کرنے کا طریقہ
-نیا دعوتی امکان
-خود کشی: سب سے بڑی دیوانگی
-واپسی ممکن نہ ہوگی
-خبر نامہ اسلامی مرکز
قرآن اور حدیث
خلیفۂ چہارم حضرت علی بن ابی طالب (وفات661 ء) کے زمانے میں کچھ لوگ تھے جنھوں نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ حسبنا کتاب اللہ (ہمارے لیے خدا کی کتاب کافی ہے)۔ آج بھی مسلمانوںکا ایک طبقہ ہے، جو یہ کہتا ہے کہ دین کو سمجھنے کے لیے ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں، قرآن ہمارے لیے کافی ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ صرف غیر سنجیدہ ذہن ہی ایسی بات کہہ سکتا ہے۔
اِس قسم کے لوگ اِس بات کو نہیں سمجھتے کہ اِس معاملے میں ہمارے لیے یہ انتخاب(option) ہی نہیں کہ ہم ایک کو چھوڑیں اور دوسرے کو لے لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فہمِ دین کے لیے دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ علمی اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنا ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں حدیثِ رسول ہیں۔ ایک، اگر سادہ معنوں میں حدیث ہے تو دوسری، گویا کہ حدیثِ قُدسی ہے۔
یہ ایک معلوم بات ہے کہ قرآن ایک مجلّد کتاب کی صورت میںآسمان سے نہیں اُترا۔ قرآن بھی ہمیں اُسی طرح پیغمبر کے ذریعے ملا جس طرح حدیث ہم کو پیغمبر کے ذریعے ملی ہے۔ حدیث کی سند یہ ہے کہ —پیغمبر اسلام نے کہا صحابہ سے، صحابہ نے کہا تابعین سے، تابعین نے کہا تبع تابعین سے۔ اِس طرح ایک کے بعد ایک حدیث کا ذخیرہ منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔ قرآن کی سند یہ ہے کہ —اللہ تعالیٰ نے کہا جبریل سے، جبریل نے کہا پیغمبر اسلام سے، پیغمبر اسلام نے کہا صحابہ سے، صحابہ نے کہا تابعین سے، تابعین نے کہا تبع تابعین سے۔ اِس طرح سلسلہ بہ سلسلہ گزرتے ہوئے، قرآن ہم تک پہنچا۔ پھر دونوں میں فرق کیوں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ صحیح ہے کہ بعد کے زمانے میں حدیث کے ذخیرے میں بہت سی موضوع روایتیں شامل ہوگئیں، مگر یہ معاملہ صرف حدیث کے ساتھ مخصوص نہیں۔ خود قرآن کے معاملے میں بھی عملاً ایسا ہی ہوا ہے۔ قرآن کا عربی متن (text) بلاشبہہ اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، لیکن قرآن کی ہر آیت تشریح طلب ہے اور اِس تشریح و تفسیر میں بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی ملاوٹیں ہوگئی ہیں۔
آپ قرآن کی ایک تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن، سیاست اور حکومت کی کتاب ہے۔ آپ دوسری تفسیرکو پڑھیں تو ایسا معلوم ہوگا کہ قرآن، تصوف اور روحانیت کی کتاب ہے۔ اِسی طرح اگر آپ ایک اور تفسیر پڑھیں تو قرآن، فقہی مسائل کا مجموعہ دکھائی دے گا۔ اِسی طرح آپ ایک اور تفسیر کو پڑھیے تو اُس میں دکھائی دے گا کہ قرآن تمام مُبتد ِعانہ عقائد اور رسوم کی تصدیق کے لیے آیا ہے۔ ایک اور تفسیر کو پڑھیے تو ایسا محسوس ہوگا گویا کہ قرآن اِس لیے آیا کہ، نعوذ باللہ، وہ دنیا کو یہ بتائے کہ پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے بعد ایک اور پیغمبر دنیا میں آنے والا ہے، وغیرہ۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ قرآن اور حدیث دونوں کے معاملے میں علمائِ اسلام نے ایسے محکم اصول وضع کردیے ہیں کہ ہم تفسیری اضافوں یا موضوعی اضافوں کے باوجود قرآن اور حدیث کی اصل تعلیمات تک پہنچ سکیں۔ایسی حالت میں ہم کو نہ قرآن کے تفسیری اضافوں سے کسی شبہہ میں پڑنا ہے، اور نہ حدیث کے موضوعی اضافوں سے۔
اِس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ اِس کے بعد ہم کو عملی نمونے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسے سائنس میں تھیوری (theory) کے بعد پریکٹکل (practical)کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس مقصد کے لیے ایک زندہ نمونے کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں یہی زندہ نمونہ ہمارے لیے قائم فرمایا (الأحزاب 21 )۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ یہ قول کوئی سنجیدہ قول نہیں، وہ صرف ایک غیر سنجیدہ قول ہے کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے، ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں۔ جو آدمی سچائی کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور جو خدا سے ڈرتا ہو، وہ کبھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ دینی یا علمی کسی بھی اعتبار سے، قرآن اور حدیث کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ ہم کو رہ نمائی کے لیے خدا کافی ہے، ہم کو پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ بلا شبہہ ہدایت کا سرچشمہ خدا ہے، لیکن خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا اپنی ہدایت پیغمبر کے ذریعے بھیجتا ہے، وہ خود کتاب لے کر انسان کے پاس نہیں آتا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
شکر کی اہمیت
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے الحمد للّٰہ ربّ العالمین (الفاتحۃ1 ) یعنی شکر ہے خداوندِ عالم کے لیے۔قرآن کی اِس آیت سے شکر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام اعمال میںشکر ہی ایک ایسا عمل ہے، جس کو انسان اپنی نسبت سے اعلیٰ ترین صورت میں کرسکتاہے۔ دوسرے تمام اعمال، مثلاً عبادت اور اخلاق اور معاملات کی ادائیگی میں مختلف اسباب سے کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ لیکن شکر کا تعلق دل اور دماغ سے ہے اور جس چیز کا تعلق دل اور دماغ سے ہو، اُس کے بارے میں یہ ممکن ہوتاہے کہ آدمی اُس کو اُس کی کامل صورت میں ادا کرسکے۔ یہاں وہ اپنے تمام جذبا ت اور اپنی ساری سوچ کو خدا کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف شکر کو حاصل ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شکر کیا ہے، شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ انسانی معاملات میں جس چیز کو اعتراف کہاجاتاہے، اُسی کا نام خدائی معاملے میں شکر ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے شعور کو اتنازیادہ بیدار کرے کہ ہر ملی ہوئی چیز اُس کو کامل معنوں میں خدا کا عطیہ دکھائی دے۔ وہ کامل جذبۂ اعتراف کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ خدایا، تیرا شکر ہے۔ خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کا کامل احساس کرکے یہ کہہ پڑنا کہ الحمد للہ ربّ العالمین، یہی شکر ہے اور یہ شکر بلا شبہہ سب سے بڑی عبادت ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا میں وہ چیز بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اِس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ کامل طورپر انسان کے لیے موافق اسباب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان جب اِس دنیا میں چلے پھرے اور اس کو استعمال کرے تو وہ شکر اور اعتراف کے جذبے سے سرشار ہو۔ موجودہ دنیا کی تمام قیمتی چیزیں انسان کو سرتاسر مفت میں ملی ہوئی ہیں، سچا شکر ہی اِن چیزوں کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، اُس کی حیثیت اِس دنیا میں غاصب کی ہے، اور غاصب کے لیے بلا شبہہ سزا ہے نہ کہ انعام۔ شکر کے احساس کے بغیر اِس دنیا میں رہنا بلا شبہہ ایک ناقابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔
ہر چیز پرچۂ امتحان
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا أنّ ماأصابک لم یکن لیُخطئک، وأنّ ما أخطأک لم یکن لیصیبک(مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث 115 ) یعنی جو تم کو ملا، وہ تم سے کھویا جانے والا نہ تھا۔ اور جو کچھ تم سے کھویا گیا،وہ تم کو ملنے والا ہی نہ تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ نہ اتفاقاً ملتا ہے اور نہ بطور انعام۔ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف پرچۂ امتحان کے طورپر ملتا ہے۔ خدا کے فیصلے کے تحت، ہر عورت اور مرد کو کچھ چیزیں دی جاتی ہیں، تاکہ اُن چیزوں میںآزما کر دیکھا جائے کہ آدمی کا رویّہ کیسا تھا۔ خدا کبھی کوئی چیز دے کر امتحان لیتا ہے کہ آدمی نے اُس پرشکر کیا، یا اُس کو پاکر وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا۔ اِسی طرح کوئی چیز چھین کر خدا آدمی کا امتحان لیتا ہے کہ اُس سے محروم ہو کر اُس نے صبر کیا، یا وہ شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کی نظر اِس پر نہیںہونی چاہیے کہ اُس نے کیا پایا اور اُس سے کیا چھینا گیا۔ اِس کے بجائے اُس کو اپنا سارا دھیان اِس پر لگانا چاہیے کہ اُس کو جن حالات میں رکھ کر خدا نے اُس کا امتحان لینا چاہا تھا، اُس میں اُس نے مطلوب رسپانس (response) دیا، یا وہ مطلوب رسپانس دینے میں ناکام ہوگیا۔
یہ زندگی کا مثبت تصور ہے۔ یہ زندگی کا مثبت فارمولا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا ہوجائے، وہ کبھی ٹنشن میں مبتلا نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں مایوسی یا تلخی کا شکار نہیں ہوگا۔ کوئی تجربہ اُس کو زندگی کی تعمیری شاہ راہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہوگا۔ وہ کبھی فکری انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ اُس کی زندگی میں کبھی یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ اُس کی زندگی حالات کے بھنور میں پھنس کر رہ جائے اور وہ آخری منزل تک نہ پہنچے۔
تواضع ایک عظیم عبادت
حدیث میں آیا ہے کہکلّ بن آدم خطّاؤن، وخیر الخطّائین التّوابون (الترمذی، کتاب القیامۃ)۔ یعنی ہرانسان خطاکار ہے، اور سب سے اچھا خطار وہ ہے جو خطا کے بعد توبہ کرے۔ اعترافِ خطا، ایک عظیم عبادتی عمل ہے۔ یہ اعترافِ خطا، خدا کے مقابلے میں بھی ہوتا ہے اور انسان کے مقابلے میں بھی۔ جب خدا کے مقابلے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے تو اُس کو توبہ کہا جاتا ہے، ا ور یہی عمل جب انسان کے مقابلے میں کیا جائے تو اُس کا نام اعترافِ خطا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصحابِ رسول کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور اعتراف کرنے والے تھے، حتیٰ کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جب کہ ایک صحابی نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کرو۔ حالاں کہ خالص قانونی اعتبار سے اُس کو دیکھا جائے تو وہاں صحابی نے ایسی کوئی غلطی نہیںکی تھی۔
ایسا کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ یہ کہنا کہ میں غلطی پر تھا، دراصل اپنی تواضع کو ایسٹیبلشڈ (established)کرناہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، ہر انسان کے پاس ہر وقت خدا کے فرشتے موجود رہتے ہیں، جو اُس کے ہر قول و عمل کا ریکارڈ تیار کرتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ ایک سچا مومن اِس بات کا حریص ہو کہ فرشتے اپنے ریکارڈ میں اُس کو ایک متواضع انسان کی حیثیت سے درج کریں، نہ کہ ایک سرکش انسان کی حیثیت سے۔
یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر مومن کے اندر وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر موجود رہتا ہے۔ اِس بنا پر مومن طبعاً اِس کو پسند نہیں کرتا کہ وہ فرشتوں کی نظر میں ایک سرکش انسان دکھائی دے۔ کسی معاملے میں خواہ بظاہر اُس کی غلطی نہ ہو، تب بھی اُس کا متواضعانہ مزاج اُس کی زبان سے اِس طرح ظاہر ہوتا رہتا ہے کہ وہ بار بار یہ کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے سرکشی کے جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کا اعتراف مومن کی متواضعانہ نفسیات کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ بے اعترافی اگرسرکش انسان کی غذا ہے تو اعتراف اُس مومن کی غذا ہے جو اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے آگے جھکائے ہوئے ہو۔
تقدیرانسانی
(Human Destiny)
ایک انسان جس نے سیارۂ زمین کو نہ دیکھا ہو، وہ کسی تیز رفتار خلائی جہاز کے ذریعے پوری کائنات کا سفر کرے اور اس کے بعد وہ پہلی بار زمین پر اُترے تو وہ زمین کو دیکھ کر اچانک مبہوت ہوجائے گا۔ کیوں کہ انتہائی وسیع کائنات میں سیارۂ زمین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک واحد استثنا ہے۔ وسیع کائنات میں یا تو ستارے ہیں، جہاں بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا اور کچھ نہیں، یا سیارے (planets) ہیں، جو خشک چٹان کی مانند خلا میں گھوم رہے ہیں۔ یہ صرف سیارۂ زمین ہے جہاں استثنائی طورپر انسان جیسی مخلوق کے لیے تمام زندگی بخش چیزیں موجود ہیں، یعنی وہ تمام موافقِ حیات اسباب جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system)کہا جاتا ہے۔
ہر انسان اِسی سیارۂ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور اپنی پوری زندگی وہ اِسی کے اوپر گزارتا ہے، لیکن اُس کو زمین کی اِس استثنائی نوعیت کا تحیُّر خیز احساس نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ بچپن سے زمین کو دیکھتا ہے، اِس طرح روزانہ دیکھتے دیکھتے، وہ اس کا عادی (used to) ہوجاتا ہے۔ زمین کا استثنائی انوکھا پن اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہر صبح کو جب وہ زمین کو دیکھے تو وہ پکار اٹھے— اوہ، کتنی حسین اور کتنی مکمل زمین
Oh, what a beautiful earth, what a perfect world!
سیارۂ زمین کی یہ حیات بخش حیثیت ہمیشہ سے تھی، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اُس کی انوکھی نوعیت کو ہزاروں گنا زیادہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بنا دیا ہے۔ زمین میں لائف سپورٹ سسٹم کے انوکھے نظام کو آج کا انسان جتنا زیادہ جانتا ہے، اتنا زیادہ اِس سے پہلے کبھی اس کو کسی انسان نے نہیں جانا تھا۔
لائف سپورٹ سسٹم کیا ہے۔ وہ ایک انعام (gift) ہے۔ وہ کسی دینے والے (giver) کے ذریعے انسان کو ملا ہے۔ایسی حالت میں ضروری تھا کہ انسان اِس انعام میں اس کے مُنعِم کو پہچانے، وہ اِس انعام پر اس کے دینے والے کا اعتراف کرے، وہ اُس کے سامنے پورے دل و دماغ کے ساتھ جھُک جائے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ دینے والے نے یہ انوکھا تحفہ اس کو کیوں دیا ہے۔ اور پھر دینے والے کی منشا کے مطابق، وہ اس کو استعمال کرے، وہ اس کی منشا کو جان کر اُس کے مطابق یہاں زندگی گزارے۔
مگر ایسا نہ ہوسکا۔ انسان اِس زمین پر زندگی گزارتا ہے۔ وہ یہاںاپنے لیے ایک تہذیب کی تشکیل کرتا ہے۔وہ یہاں اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے شان دار مستقبل بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ اِس بات کو جاننے کی کوشش کرے کہ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ انوکھا نظام کس نے بنایا ہے، اور یہ بنانے والا اِس کے بدلے میں انسان سے کیا چاہتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں— اُس کا درست استعمال، اور اس کا نادرست استعمال۔ مثلاً پیدا کرنے والے نے زمین میں لوہا پیدا کیا۔ لوہے کا ایک استعمال یہ ہے کہ اس کے ذیعے مفید مشین بنائی جائے۔اور لوہے کا دوسرا استعمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے تباہ کُن ہتھیار بنایا جائے۔ مشین بنانا، لوہے کا درست استعمال ہے، اور ہتھیار بنانا، لوہے کا نادرست استعمال ۔
یہی معاملہ لائف سپورٹ سسٹم کا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کو صحیح زاویہ(right angle) سے دیکھا جائے، اور دوسرے یہ کہ اُس کو غلط زاویہ (wrong angle) سے دیکھا جائے۔ صحیح زاویے سے دیکھنے والا آدمی لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں اپنے صحیح اور مطلوب رویّے کو جان لے گا، اور جو شخص لائف سپورٹ سسٹم کو غلط زاویے سے دیکھے، اس کے بارے میں اس کا رویّہ بھی ہر اعتبار سے غلط رویّہ ہوجائے گا۔
لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں صحیح زاویے اور غلط زاویے کا تعیّن کیسے ہو۔ اِس کے تعین کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ خالق (Creator) کا اپنا مقرر کیا ہوا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔ اِس تخلیقی پلان ہی کے ذریعے یہ معلوم ہوگا کہ زندگی، یا لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں ہمارا کون سا رویّہ درست تھا اور کون سا رویّہ نا درست۔
پیغمبروں کے ذریعے خالق نے زندگی کے بارے میں اپنا جو تخلیقی پلان بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ پیدا کرنے والے نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کے طورپر پیدا کیا۔ پھر اُس کی عمر کے ایک مختصر حصے کو قبل از موت مرحلۂ حیات (pre-death period) میں رکھا اور اس کی عمر کے بقیہ طویل حصے کو بعد از موت مرحلۂ حیات (post-death period) میں رکھ دیا۔ قبل از موت مرحلۂ حیات، ٹسٹ (test) کا مرحلہ ہے اور بعد از موت مرحلۂ حیات، ٹسٹ کے مطابق بدلہ پانے کا مرحلہ۔ جب انسانی تاریخ کا خاتمہ ہو گا، اُس وقت وسیع پیمانے پر ایک روزِ جزا (day of judgement) واقع ہوگا۔ اُس وقت انسانوں کا خالق ظاہر ہوکر تمام لوگوں کو اُن کی زندگی کے موجودہ ریکارڈ کے مطابق، ان کو انعام یا سزا دے گا۔ انعام پانے والوں کے لیے ابدی جنت ہے اور سزا پانے والوں کے لیے ابدی جہنم ۔
خدا کے اِس تخلیقی پلان کی روشنی میں یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ زندگی، یا لائف سپورٹ سسٹم کے معاملے میں انسان کا رویّہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھنا یہ ہے کہ اس کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے، اور اس کو غلط زاویے سے دیکھنا یہ ہے کہ اس کو انسان کے اپنے ذاتی زاویے سے دیکھا جائے۔ یہی وہ چیز ہے جو اِس دنیا میں انسان کے رویّے کو یا تو درست بناتی ہے، یا وہ اس کو غلط بنا کر رکھ دیتی ہے۔
اِس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو زندگی اور لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں دو مختلف رویّے بنتے ہیں۔ خالق کے پلان کے مطابق جو رویہ بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ اِس نظام کو ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) سمجھا جائے۔ اِس کے برعکس، انسان کے ذہن سے دیکھنے کی صورت میں وہ صرف ایک انجوائے سپورٹ سسٹم (enjoy support-system) بن کر رہ جاتا ہے۔ پہلی صورت میں زندگی ایک ذمّے داری(responsibility) کا معاملہ قرار پاتی ہے، اور دوسری صورت میں زندگی کا مقصد گھٹ کر صرف اِس حیوانی سطح پر آجاتا ہے کہ کھاؤ، پیو اور خوش رہو، اور اِسی حال میں مر جاؤ۔
موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے انسانی زندگی اور لائف سپورٹ سسٹم کی معنویت ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت ہوئی ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ مقصدِ حیات کے بارے میں انسان اور زیادہ سنجیدہ ہوجائے، وہ انعام کو استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ سے زیادہ مُنعم کا اعتراف کرنے والا بن جائے، لیکن نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔انسان اِس حقیقت کو بھول گیا کہ لائف سپورٹ سسٹم دراصل ٹسٹ سپورٹ سسٹم ہے۔ اِس کے بجائے یہ ہوا کہ انسان نے لائف سپورٹ سسٹم کو صرف اِنجوائے سپورٹ سسٹم کے ہم معنیٰ سمجھ لیا۔ اور زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا کہ چیزوں کو اپنے لیے زیادہ سے زیادہ حاصل کرو، تاکہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ پُر مسرت بنا سکو۔
یہاں مجھے اپنا ایک سبق آموز تجربہ یاد آتا ہے۔ یہ تجربہ موجودہ صورتِ حال کے لیے ایک نہایت عمدہ توضیحی مثال (illustration) کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً 1972 میں، میں راجستھان کے ایک علاقے میں گیا۔ اِس سفر میں میرے ساتھ مفتی محمد جمال الدین قاسمی اور دوسرے کچھ لوگ تھے۔ یہاں ایک غیر آباد پہاڑ تھا۔ وہاں اوپر جانے کے لیے سڑک بنی ہوئی تھی۔ ہم لوگ اِس پہاڑ کے اوپر چڑھے۔ یہ سفر جیپ کے ذریعے طے ہوا تھا۔ جب ہم لوگ پہاڑ کے اوپر پہنچے تو وہاں ناقابلِ قیاس طورپر ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ یہاں غیر آباد علاقے میں ایک ہال نُما بڑی بلڈنگ بنی ہوئی تھی۔ غالباً کسی راجہ نے یہ بلڈنگ بنائی تھی۔ یہ بلڈنگ ابھی تک بالکل درست حالت میں تھی، مگر وہاں ہم کو کوئی انسان نظر نہیں آیا۔اس کے برعکس، ہم نے دیکھا کہ اُس بلڈنگ کے اندر اور اس کے باہر ہر طرف ہزاروں کی تعداد میں بندر موجودہیں۔ وہ شور کررہے تھے اور ہر طرف بے معنیٰ اچھل کود کررہے تھے۔ بندر کی یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ ایک غیر مستحق مقام پر قبضہ کرکے، وہاں بے معنی قسم کی اچھل کود کرنے لگے۔اِس صورتِ حال کی بنا پر ہم لوگ بلڈنگ کے اندر نہ جاسکے، اُس کو صرف باہر سے دیکھ کر لوٹ آئے۔
میں وہاں کھڑا ہوا دیر تک اِس منظر کو دیکھتا رہا۔ میںنے سوچا کہ اِن قابض بندروں کو اِس کا کوئی دھیان نہیں کہ یہ بلڈنگ کس نے بنائی ہے اور کس کام کے لیے بنائی ہے، اور یہ کہ یہ بندر جو وہاں بے معنیٰ اچھل کود کررہے ہیں اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہے ہیں، اِس کا کوئی تعلق بنانے والے کی منشا سے ہے یا نہیں۔ اِن سوالات سے مکمل طورپر بے خبر رہ کر وہ وہاں ایسے کام کررہے ہیں جو اِس بلڈنگ کا صرف ایک مجرمانہ استعمال ہے، وہ اِس بلڈنگ کا درست استعمال نہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ کہ کیا بلڈنگ کا یہ مجرمانہ استعمال اِسی طرح ہمیشہ جاری رہے گا، یا بلڈنگ کا معمار ظاہر ہو کر اِن ’’بندروں‘‘ کو اُن کی اِس مجرمانہ روش کی سزا دے گا، اور پھر وہ اِس خوب صورت بلڈنگ کو ایسے لوگوں کے حوالے کردے گا جن کے لیے وہ بنائی گئی تھی۔
اِس مثال پر غور کیجیے۔ بنانے والے نے یہ بلڈنگ کسی خاص مقصد کے تحت بنائی تھی۔ اِس بلڈنگ کا صحیح مَصرف یہ تھا کہ اُس کو اِس کے مقصدِ تعمیر کے مطابق استعمال کیا جائے، لیکن اِس کے بجائے یہ ہوا کہ اُس پر وحشی بندروں نے قبضہ کرلیا اور اِس عمارت کو وہ اپنی بے معنیٰ اچھل کود کے لیے استعمال کرنے لگے۔
یہ مثال زیادہ بڑے پیمانے پر آج کی پوری انسانی دنیا پر صادق آرہی ہے۔ موجودہ سیارۂ زمین گویا کہ زیادہ وسیع پیمانے پر مذکورہ بلڈنگ کے مانند ہوگئی ہے۔ تمام دنیا میں یہ حال ہے کہ عورتیں اور مرد انتہائی غیر ذمّے دارانہ انداز میں زمین کے اوپر پھیل گئے ہیں۔ وہ زمین کو صرف اِس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ یہاں اپنی خواہشیں کس طرح پوری کریں۔ وہ اِس حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے کہ یہ زمین کس نے بنائی ہے اور کس مقصد کے لیے بنائی ہے۔
ایسا کیوں ہوا۔ موجودہ زمانے میں جب سائنس نے لائف سپورٹ سسٹم کو زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت کیا تو عین اُسی وقت ایک اور واقعہ پیش آیا، وہ یہ کہ مختلف اسباب سے دنیا میں عالمی سطح پر ایک نیا کلچر وجود میں آگیا، جس کو انجوائے منٹ کلچر (enjoyment culture) کہاجاتاہے۔ اِس انجوائے منٹ کلچر کے ماحول میں لوگوں نے بطورِ خود یہ سمجھ لیا کہ یہاںجو کچھ ہے، وہ سب اِس لیے ہے تاکہ انسان اُس سے انجوائے کرسکے۔ اِس طرح یہ ہوا کہ ماحول کے اثر سے، نہ کہ کسی عقلی سبب سے، لائف سپورٹ سسٹم نے عملی طور پر انجوائے سپورٹ سسٹم کی حیثیت اختیار کرلی۔اور پھر ایسا ہوا کہ انسانی سماج، حیوانی سماج بن کر رہ گیا۔
انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ حیوان صرف اپنے ذاتی انٹرسٹ کو جانتا ہے۔ اور انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے ساتھ اپنی ذمّے داری کو بھی جانتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ مگر آج کی دنیا میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق مٹ گیا ہے۔آج کا انسانی کلچر بھی وہی ہے جو حیوانی کلچر ہے۔ ظاہری فرق کے سوا، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واضح طور پر فطرت کے راستے سے ہٹنے کے ہم معنیٰ ہے۔ اور فطرت کے راستے سے ہٹنا ہمیشہ دُگنامحرومی کا سبب بنتا ہے—قبل از موت مرحلۂ حیات میں بھی محرومی اور بعد ازموت مرحلۂ حیات میں بھی محرومی۔ انسان اِس دنیامیں اپنی آزادی کاغلط استعمال کرتے ہوئے، فطرت کے راستے سے انحراف تو کرسکتا ہے، لیکن وہ اِس پر قادر نہیں کہ وہ اِس انحراف کے مہلِک انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ یہی وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے آج کا انسان دو چار ہے۔
موت سے پہلے کے مرحلۂ حیا ت میں محروم ہوجانا کیا ہے، اِس کو ہر آدمی خود اپنے ذاتی تجربے سے جان سکتا ہے۔ ہر انسان کے سامنے اپنے لیے ایک خوش نما منزل ہوتی ہے، جہاں وہ پہنچنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے سارے وقت اور ساری توانائی کو اِس مقصد کے حصول میں لگا دیتاہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آخر میں ہر ایک کے حصے میں صرف مایوسی آرہی ہے۔ اِس دنیا میں ہر انسان، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، جب اپنی عمر پوری کرکے مرتاہے تو ہر شخص مایوسی (despair) میں مرتا ہے، اس میں کسی بھی مرد یا عورت کا کوئی استثنا نہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی جس منزل کو پانا چاہتا ہے، اس کے اسباب اِس دنیا میں سرے سے موجود ہی نہیں۔چناں چہ یہ ہوتا ہے کہ ساری کوششیں صَرف کرنے کے بعد ہر آدمی کا خاتمہ صرف ایک انجام پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ آدمی اِس دنیا میں اپنی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکا۔وہ اپنے مقصود کو پانے میں ناکام رہا۔
انسان کے جسم میں خصوصی طورپر پانچ ممتازصلاحیتیں (five faculties) پائی جاتی ہیں۔اِن صلاحیتوں کو حواسِ خمسہ (five senses)کہاجاتا ہے۔ وہ پانچ ممتاز صلاحیتیں یہ ہیں— دیکھنا، چھونا، چکھنا ، سونگھنا اور سُننا
sight, touch, taste, smell and hearing
یہ پانچ حواس، در اصل پانچ مقاماتِ لذت ہیں۔ اِن میں سے ہر ایک صلاحیت کے اندر خالق نے بے پناہ لذت رکھی ہے۔ انسان کے لیے دیکھنا بھی ایک انتہائی لذیذ تجربہ ہے، چھونا بھی ایک لذیذ تجربہ ہے، چکھنا بھی ایک لذیذ تجربہ ہے، سونگھنا بھی ایک لذیذ تجربہ ہے اور سننا بھی ایک لذیذ تجربہ۔ اِس کائنات میں کسی بھی دوسری مخلوق کے اندر، بہ شُمول حیوانات، اِن لذتوںسے انجوائے کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وہ کسی چیزسے انتہائی لطیف قسم کی محظوظیت (pleasure) حاصل کرسکتا ہے۔
اِسی کے ساتھ انسان کے اندر چھٹی حس (sixth sense) بھی موجود ہے۔ یہ چھٹی حس سوچنے کی صلاحیت (thinking capacity) ہے۔ یہ چھٹی حس، انسان کے لیے سب سے زیادہ اعلیٰ لذت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سوچنا، انسان کی ایک انوکھی صفت ہے۔ سوچنا، انسان کے لیے اتھاہ لذت کا خزانہ ہے۔ سوچنے کا فعل بظاہر دِکھائی نہیں دیتا، مگر وہ انسان کو ایسی سُپر لذت دیتا ہے جس کا حصول کسی بھی دوسری چیز کے ذریعے ممکن نہیں۔
اِسی کے ساتھ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان اِن لذتوں کو محسوس تو کرتا ہے ، لیکن وہ موجودہ دنیامیں اِن لذتوں کی تسکین کا سامان نہیںپاتا۔ ہر آدمی بے پناہ لذتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پھر تھوڑی مدت کے بعد ہر عورت اور ہر مرد غیر تکمیل شدہ خواہشات (unfulfilled desires) کے ساتھ مرجاتے ہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس دنیا میں آدمی کے پاس خواہشیں ہیں، لیکن یہاں اُس کے لیے خواہشات کی تکمیل کا سامان موجود نہیں۔ یہ حقیقت اِس بات کا حتمی اشارہ ہے کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اِن خواہشات کی تکمیل کا سامان، قبل از موت مرحلۂ حیات میں نہیں رکھا گیا، بلکہ وہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں رکھا گیا ہے۔ یہ خواہشیں انسان کو اِس لیے دی گئی ہیں کہ وہ حقیقتِ حیات کو سمجھے اور اُس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔
اِسی کے ساتھ اِس حقیقت کو سامنے رکھئے کہ انسان کے اندر استثنائی طورپر کَل (tomorrow) کا تصورپایا جاتا ہے۔حیوانات بظاہر زندہ مخلوق کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن کسی بھی حیوان کے اندر ’کَل‘ کا تصور نہیں پایا جاتا۔ حیوانات کا محدود مائنڈ صرف حاضر (present)کو جانتا ہے، وہ مستقبل (future) کے تصور سے آشنا نہیں، جب کہ انسان کے اندرکل یا مستقبل کا تصور نہایت طاقت ور صورت میں موجود ہے۔ مگر ہر انسان کا عملی تجربہ اس کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ مطلوب مستقبل اُس کے لیے سرے سے قابلِ حصول نہیں۔
اس حقیقت کے اندر ایک اشارہ (clue) چھپا ہوا ہے۔ یہ اشارہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ جس مطلوب مستقبل کو چاہتا ہے، وہ مطلوب مستقبل اس کی محدودیت کی بنا پر اس کے لیے موجودہ دنیا میں مقدر نہیں۔ اِس مطلوب مستقبل کو پانے کے لیے اُسے موجودہ دنیا میں ضروری تیاری کرنا چاہیے، تاکہ وہ موت کے بعد آنے والے مرحلۂ حیات میں وہ اپنے اِس مطلوب مستقبل کو پاسکے۔
موجودہ دنیا کا معاملہ ایک امتحان ہال جیسا ہے۔ امتحان ہال میں اسٹوڈنٹ کی ناگُزیرضرورتوں کا محدود انتظام تو ہوتا ہے، لیکن اس کی تمام خواہشوں کی تکمیل کا سامان وہاں نہیںہوتا۔اِس لیے جو اسٹوڈنٹ، امتحان ہال کو صرف امتحان ہال سمجھے، وہ مایوسی میں مبتلا نہیں ہوگا۔لیکن جو اسٹوڈنٹ، امتحان ہال کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کا مقام سمجھ لے، اُس کو وہاں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔
خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، موجودہ دنیا ٹسٹ کے لیے بنی ہے۔ یہاں جو لائف سپورٹ سسٹم ہے، وہ صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ ٹسٹ (امتحان) کے مقصد کے لیے ضروری ہے۔ اب جو لوگ اِس دنیا کو ٹسٹنگ گراؤنڈ (testing ground)سمجھیں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں، ان کے اندرکبھی مایوسی کی نفسیات پیدا نہیں ہوگی۔لیکن جو لوگ موجودہ دنیا کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کا مقام سمجھ لیں، اُن کو سخت مایوسی کا تجربہ ہوگا۔ کیوں کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے، اس کی تکمیل کا انتظام خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہاںکیا ہی نہیں گیا تھا۔
موجودہ سیارۂ زمین پر زندگی کا درست اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آدمی، خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اِس دنیا کو عیش کا مقام نہ سمجھے، بلکہ وہ اس کو ٹسٹ (امتحان) کا مقام سمجھے۔ ایسا آدمی، خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق یہاں زندگی گزارے گا اور اس کے نتیجے میں وہ ابدی کامیابی حاصل کرے گا۔
ٹسٹ کے مزاج کے تحت کسی انسان کی جو زندگی بنتی ہے، وہ اُس سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو انجوائے منٹ کے مزاج کے تحت بنتی ہے۔ دونوں کا نقشہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ یہاں ہم د ونوں قسم کی کچھ مثالیں درج کریں گے جس سے دونوں کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
اِس معاملے میں بنیادی فرق سوچ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ ٹسٹ (امتحان) کا مزاج رکھنے والے انسان کے اندر، خالق رُخی سوچ (Creator-oriented thinking) پیدا ہوتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ خالق کے نقشے کے مطابق، اُس کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اِس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والے انسان کے اندر، خود رُخی سوچ (self-oriented thinking) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو صرف اپنی مرضی کا پابند سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ اپنے سوا کسی برتر ہستی کی مرضی کا پابند۔
ٹسٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی موت کے بعد کی دنیا کو بہتر بنانے کی فکر میں رہتا ہے، اور انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی صرف آج کی دنیا کو بہتر بنانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ مثلاً ٹسٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے اندر دولت کے بارے میں قناعت کا مزاج ہوگا، وہ اِس معاملے میں بقدر ضرورت پر اکتفا کرنا پسند کرے گا۔ اِس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی ہمیشہ اِس فکر میں رہے گا کہ زیادہ سے زیادہ دولت اکھٹا کرے، اِس معاملے میں اس کی حرص کبھی ختم نہ ہوگی۔ٹسٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے پاس ایک چھوٹی کار ہے۔ ایک شخص اُس سے کہتا ہے کہ تم بڑی کار خرید لو، تو وہ جواب دے گا کہ مجھے اپنا مواخذہ اور بڑھانا نہیں ہے۔ اِس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی اِس کوشش میں رہے گا کہ اُس کے پاس نہ صرف ایک بڑی کار ہو، بلکہ اس کے پاس کئی اور کاریں ہوجائیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ٹسٹ کامزاج رکھنے والا آدمی بے فائدہ تفریحات سے اپنے آپ کو دور رکھے گا، کیوں کہ وہ اس کو اپنے لیے ڈسٹریکشن (distraction) سمجھے گا۔ اِس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی تفریحی چیزوں میں کود پڑے گا، خواہ اس میں اس کا وقت اور پیسہ کتنا ہی زیادہ برباد ہوجائے۔ ٹسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر چیز میںاِسراف(waste) سے اپنے آپ کو بچائے گا۔ مثلاً خرچ میں اسراف، پانی میں اسراف، بولنے میںاسراف، وغیرہ۔ اِس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی اِسراف کو سِرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دے گا۔ٹسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر معاملے میں اپنے آپ کو اخلاقی قدروں کا پابند سمجھے گا۔ اِس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے لیے ساری اہمیت اپنے ذاتی انٹرسٹ کی ہوگی، نہ کہ کسی برتر اخلاقی معیار کی۔
خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اِس معاملے میں ساری اہمیت اِس بات کی ہے کہ مختلف اَحوال کے درمیان آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پرورش پارہی ہے— ربّانی شخصیت، یا غیر ربّانی شخصیت۔ موجودہ دنیا میںآدمی جس طرح اپنے جسمانی وجود کے لیے مادی غذا حاصل کرتا ہے، اِسی طرح اپنے روحانی وجود کے لیے بھی اس کو مسلسل روحانی غذا (spiritual food) درکار ہوتی ہے۔ یہی روحانی غذا اس کے اندر ربّانی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔
روحانی غذا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب سچائی آئے تو اس کا انکار کرنے کے بجائے وہ اس کا اعتراف کرے، خواہ سچائی کا پیش کرنے والا اُس کا اپنا آدمی ہو ، یا وہ اُس کا غیر ہو۔وہ حالات کے زیر اثر نہ سوچے، بلکہ حالات سے اوپر اُٹھ کر غیر متاثّر ذہن کے تحت اپنی رائے بنائے۔ اس کی زندگی شکر اور اعتراف کی زندگی ہو، نہ کہ ناشکری اور بے اعترافی کی زندگی۔ وہ منفی تجربے کا بھی مثبت انداز میں جواب دے، وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کو خود عائد کردہ ڈسپلن کے تحت استعمال کرے۔ وہ ہر حال میں انصاف کی بات کہے، خواہ انصاف کی بات خود اُس کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو۔ وہ دنیا کے وقتی فائدے کے بجائے، آخرت کے ابدی فائدے کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھے۔ اُس کی سرگرمیوں کا نشانہ، آخرت کی ابدی کامیابی کا حصول ہو، نہ کہ صرف دنیا کی وقتی کامیابی کا حصول۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جو لوگ موجودہ دنیا کو اپنے لیے ٹسٹنگ گراؤنڈ سمجھیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کریں، وہ آخرت میں خالق کے پڑوس میںابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔ اِس کے برعکس، جو لوگ دنیا کو صرف انجوائے منٹ کی جگہ سمجھیں، وہ آخر کار اِس بھیانک نتیجے سے دوچار ہوں گے کہ اُن کے لیے آخرت کی ابدی دنیا میں محرومی اور حسرت کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہ ہوگا۔
دعوت الی اللہ
دعوت اورتبلیغ کو قر آن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف بلانا۔ انسان کو اس کے خالق اور مالک کے ساتھ جوڑنا۔ اللہ کی طرف بلانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو یہ بتایا جائے کہ اللہ کی زمین پر تمھارے لیے زندگی کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ تم اللہ کے بندے بن کررہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کے لیے دنیا کی زندگی میں صرف دو رویّے ممکن ہیں۔ ایک، خود رخی اور دوسرا، خدارخی۔ خود رخی رویّے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خود اپنی ذات کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے، وہ اپنی سوچ کے مطابق چلے، وہ اپنے خواہشوں کی پیروی کرے، وہ اپنے ذاتی تقاضوں کی تکمیل کو زندگی کی کامیابی قرار دے۔ اس کے مقابلے میںخدا رخی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کا ماتحت سمجھے، وہ اپنے جذبات کو خدا کے تابع بنائے۔ اس کے نزدیک زندگی کی کامیابی یہ ہو کہ وہ خدا کی پسند کے مطابق جیے اور خدا کی پسند ہی پر اس کا خاتمہ ہوجائے۔
خود رخی زندگی میں گھمنڈاور حسد اور اَنانیت جیسے جذبات جاگتے ہیں۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ حق وہ ہے جس کو وہ حق سمجھے اور باطل وہ ہے جس کو وہ باطل قرار دے۔
خدا رخی زندگی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ خدا رخی زندگی آدمی کے اندر عبدیت، تواضع، اعتراف اور خوداحتسابی جیسے جذبات ابھارتی ہے۔ پہلی صورت میں انسان اگر خود پرست بن جاتا ہے تو ودوسری صورت میں خداپرست۔
دعوت الی اللہ یہ ہے کہ آدمی کو خود رخی زندگی کے برے انجام سے آگاہ کیا جائے اور اس کو خدا رخی زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی جائے۔ ان دونوں قسم کی زندگیوں کو جاننے کا معتبر اور مستند ماخذ خدائی تعلیمات ہیں، جو قرآن کی صورت میں محفوظ طورپر ہمارے پاس موجود ہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام ایک خالص اُخروی نوعیت کا کام ہے۔ قومی یا اقتصادی یا سیاسی معاملات سے براہِ راست اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ انسان کو خدا اور آخرت کی طرف بلانے کی ایک مہم ہے۔ اسی دینی اور روحانی اسلوب میں وہ شروع ہوتی ہے اور اپنے اسی اسلوب میں وہ آخر وقت تک جاری رہتی ہے۔
دعوت الی اللہ کا کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی کام ہے، جس کو بندوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کو اسی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اس اسپرٹ کے بغیر جو کام کیا جائے وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ ہوگا، خواہ اس کو دعوت الی اللہ کے نام پرجاری کیاگیا ہو۔
دعوت الی اللہ نہ سیاست کی طرف بلانے کا کام ہے اور نہ قومی مسائل کی طرف بلانا اس کا نشانہ ہے۔ یہ مکمل طورپر خدا کی طرف بلانے کا ایک کام ہے اور اسی خاص صورت میں اس کو ادا کیا جانا چاہیے۔
خدا کی طرف بلانے سے کیا مراد ہے۔ اس کا ابتدائی مقصد یہ ہے کہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ(creation plan) سے آگاہ کیاجائے۔ اس کو بتایا جائے کہ خدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے اور خدا آئندہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ گویا انسان کو خدا سے متعارف کرنے کا ایک کام ہے۔ اس کا نشانہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میںانسان کی غفلت ٹوٹے، اور وہ اپنی بندگی کا ادراک کرکے خدا کی طرف متوجہ ہوجائے۔
اِس دعوتی عمل کا نشانہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ذات کو پہچانے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلے میں اپنے عجز کو دریافت کرے۔ غیب کا پردہ پھاڑے جانے سے پہلے وہ خدا کامشاہدہ کرے۔ خدا سے براہِ راست سابقہ پیش آنے سے پہلے وہ بالواسطہ طور پر خدا کی معرفت حاصل کرے۔
دعوت کا مقصد انسان کے اندر سوئی ہوئی روح کو جگانا ہے۔ بھٹکے ہوئے انسان کو، خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر کھڑا کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اُس بصیرت کو جگایا جائے جو کائنات کی نشانیوں میںخدا کے جلوؤں کو دیکھنے لگے۔ جو مخلوقات کے آئینے میںاس کے خالق کو بلا حجاب پالے۔
دعوت ایک انسان کو اس قابل بنانے کا نام ہے کہ وہ براہِ راست اپنے رب سے مربوط ہوجائے۔ اس کو روحانی سطح پر خدا کا فیضان پہنچنے لگے۔ اس کے دل و دماغ خدا کے نور سے منور ہوجائیں۔ اس کا پورا وجود خدا کی رحمت کی بارش میں نہا اٹھے۔
دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ آدمی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی مخلوق بن جائے، وہ دنیا کی عظمتوں میںخدا کی عظمت دریافت کرے، وہ دنیا کی نعمتوں میں جنت کی نعمتوں کا تجربہ کرنے لگے۔ دنیا کی تکلیفیں اس کو جہنم کی تکلیف یاد دلائیں۔ دنیا کے مناظر اس کو آخرت کی حقیقتوں کا مشاہدہ کرانے لگیں۔ یہی دعوت کا نشانہ ہے اور ایسے ہی انسانوں کو وجود میں لانا دعوت اور داعی کی کامیابی ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو ’احسنِ تقویم‘ کی صورت میں پیدا کیا۔ پھر اس کو گرا کر ’اسفل سافلین‘ میں ڈال دیا (التین 4-5)۔ دعوتی عمل کا مقصد انسان کو دوبارہ اس کی اصل ابتدائی حالت کی طرف لوٹانا ہے، جنت سے نکالے جانے کے بعد دوبارہ اُس کو جنت کے راستے پر ڈالنا ہے، خدا کی رحمت سے دور ہونے والوں کو دوبارہ خدا کی رحمت کے سایے میں پہنچا دینا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کی مثال ایسی ہے جیسے پانی کی ایک مچھلی جس کو پانی سے نکال کر صحرا میں ڈال دیا جائے۔ ایسی مچھلی صحرا میں مسلسل تڑپ رہی ہوگی۔ اور اس کے ساتھ بہترین ہمدردی یہ ہوگی کہ اس کو دوبارہ پانی کی طرف لوٹا دیا جائے۔
انسان بھی اسی طرح جنت کی ایک مخلوق ہے۔ اس کے اندر ایک نامعلوم آئڈیل کو پانے کا جذبہ بے پناہ حد تک پایا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اس نامعلوم آئڈیل کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ وہ بار بار دنیوی رونق والی کسی چیز کی طرف لپکتا ہے، اس امید میں کہ وہ جس آئڈیل کی تلاش میں ہے وہ شاید یہی ہے، مگر ہر بار اسے ناکامی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہے بغیر اس کے کہ اس نے اپنے آئڈیل کو پایا ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں داعی کو اپنا دعوتی عمل انجام دنیا ہے۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ جس آئڈیل کی تلاش میں ہے، وہ صرف خدا اور اس کی جنت ہے۔ یہ صرف خدا ہے جس کو پاکر آدمی اپنے آئڈیل کو پالے۔ یہ صرف جنت ہے جہاں پہنچ کر آدمی اس اطمینان سے دوچار ہو کہ وہ جس دنیا کی تلاش میںتھا وہ دنیا اسے حاصل ہوگئی۔
اس اعتبار سے ہر انسان داعی کا نشانہ ہے۔ داعی کو ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ اسے ہر آنکھ پر پڑے ہوئے پردے کو ہٹانا ہے۔ گویا دنیا میںاگرچھ بلین انسان ہیں تو داعی کو چھ بلین کام کرنا ہے۔ اسے چھ بلین روحوں کو ان کے خدا سے ملانا ہے۔ اسے چھ بلین انسانوں کو ان کے جنتی قیام گاہ تک پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔
اسی معلمِ انسانیت کا نام داعی ہے۔ داعی وہ ہے جو زندگی کے راستوں پر روشنی کا مینار بن کر کھڑا ہوجائے، جو انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لیے خدائی رہنما بن جائے۔ قرآن کی سورہ نمبر 51 میںپیغمبر کی زبان سے کہاگیا ہے کہ ففرّوا الی اللہ إنّی لکم منہ نذیر مبین(الذاریات 50)۔ یعنی اے لوگو! اللہ کی طرف دوڑو، میںاس کی طرف سے تمھارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اسی بات کو دوسری جگہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے اعبدواللہ واجتنبوا الطّاغوت (النحل 36) یعنی اے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس دنیا میں انسان دو پکاروں کے درمیان ہے۔ ایک، خدا کی پکار اور دوسرے، شیطان (طاغوت) کی پکار۔ خدا خیر کا سرچشمہ ہے اور وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان شر کا سر چشمہ ہے۔ وہ لوگوں کو شر کے راستوں کی طرف بلاتا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب میںنہ آئے اور شیطان کو چھوڑ کر وہ خدا کی طرف دوڑ پڑے۔
خدا تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ وہ عدل، رحمت، سچائی، دیانت داری اور اخلاص کو پسند کرتا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ انسان انھیں اعلیٰ اوصاف کو اپنائے۔ وہ اپنے آپ کو خدائی اخلاقیات میں ڈھال لے۔
اس کے برعکس، شیطان برائیوں کا مجموعہ ہے اور وہ انسان کو بھی برائیوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ شیطان، آدمی کے اندر چھپے ہوئے بدی کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر حسد، اَنانیت، غصہ، انتقام، تکبّر، خود غرضی اور بے اعترافی جیسے جذبات کو جگا کر انسان کی انسانیت کو دباتا ہے اور اس کی حیوانیت کو جگا کر اس کواپنے جیسا بنادینا چاہتاہے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اسی دو طرفہ تقاضے کے درمیان ہے۔ ہر آدمی ایک داخلی جنگ کے محاذ پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا ضمیر ہے جو اس کو خداکی طرف کھینچتا ہے۔ دوسری طرف اس کی اَنانیت ہے جو اس کودھکیل کر شیطان کی طرف لے جانا چاہتی ہے— ضمیر خدا کا نمائندہ ہے اور انانیت شیطان کی نمائندہ۔
داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ انسان کے اندر ذہنی بیداری لا کر اس کو اس قابل بنائے کہ وہ اس دو طرفہ تقاضے کو پہچانے۔ وہ اپنی انانیت پر روک لگائے اور ضمیر کی آواز کو تقویت دے۔ وہ شیطان کی ترغیبات سے بچ کر خدا کے اُس راستے کا مسافربن جائے جو اس کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے— یہ دعوتی کام زمین پر ہونے والے تمام کاموں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ پیغمبروں والا کام ہے۔ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں، اُن کو نہایت خصوصی انعامات سے نوازا جائے گا۔
قرآن کی سورہ نمبر 7 میںاصحابِ اعراف کا ذکر ہے، یعنی بلندیوں والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اونچے منبروں پر کھڑے کیے جائیں گے۔ اور اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ دونوں کے بارے میں خدا کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ ان آیا ت کا ترجمہ یہ ہے
’’اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے۔ اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ امیدوار ہوں گے۔ اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔ اور اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جنھیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔وہ کہیں گے کہ تمھارے کام نہ آئی تمھاری جماعت اور تمھارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی۔ جنت میں داخل ہوجاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غم گین ہوگے‘‘ ۔ (الأعراف 46-49 )
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس آیت میںاصحاب اعراف سے مراد شہداء ہیں، یعنی خدا کے وہ خاص بندے جنھوں نے دنیا میں قوموں کے اوپر خدا کے دین کی گواہی دی اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے انکار کیا (تفسیر قرطبی، جلد 7، صفحہ 211)۔ ان شہداء (دُعاۃ) کے لیے قرآن میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً منذر، مبشر، داعی، وغیرہ۔ اس گروہ میں اولاً انبیاء شامل ہیں اور اس کے بعد اللہ کے وہ خاص بندے جنھوں نے انبیاء کے نمونے کو لے کر اپنے زمانے کے لوگوں پر دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاہم قیامت میں لوگوں کے ابدی انجام کا جو فیصلہ ہونے والا ہے وہ اُسی کارِ شہادت (دعوت) کی بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں ان کے اوپر انجام دیا گیا تھا۔ یہ کارِ شہادت (دعوت) دنیاہی میں انسانوں کو دو گروہوں میں بانٹ رہا ہے۔ ایک، اس کو قبول کرنے والے اور دوسرے، اس کا انکار کرنے والے۔ قیامت میںیہ دوسرے قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ کردیے جائیں گے۔ اور پھر دونوں کے لیے ان کے عمل کے مطابق، دو مختلف انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اگر چہ تمام تر خدا کا فیصلہ ہوگا۔ تاہم اس فیصلے کا اعلان انھیں خصوصی بندوں کے ذریعے کرایا جائے گا جنھوں نے دنیا میں دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا تھا۔ یہ ان کے حق میں ایک غیر معمولی اعزاز ہوگا۔ اس اعلان کے لیے قیامت کے میدان میں اونچے اسٹیج بنائے جائیں گے جن کے اوپر یہ اصحاب اعراف کھڑے ہوں گے۔ وہاں سے وہ ہر ایک کو دیکھیں گے اور ہر ایک کے بارے میں خدائی فیصلے سے اس کو باخبر کریں گے۔
شہداء اور دُعاۃ نے دنیا میں خدا کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کے لیے محنت کی تھی، اس عمل کی بنا پر ان کو یہ امتیازی انعام دیا جائے گا کہ قیامت میںوہ بلندیوں پر کھڑے ہوں اور اس دعوتِ حق کے آخری انجام سے لوگوں کو باخبر کریں۔ دنیا میںوہ اپنے مقصد کے اعتبار سے بلند تھے اور قیامت میںوہ اس کے عملی انجام کے اعتبار سے بلند قرار دیے جائیں گے۔
خدا پر ایمان لانے کے بعد ایک بندے سے عملی طورپر جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں دو قسم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے— اطاعتِ خدا، اور نصرتِ خدا۔ اطاعتِ خدا سے مراد یہ ہے کہ بندہ ان تمام اوامر و نواہی پر عمل کرے جو خدا کی طرف سے رسول کے ذریعے بتائے گیے ہیں۔ وہ ان تمام حکموں کو اپنی زندگی میںاختیار کرے جن کو اختیار کرنے کی خدا نے تاکید کی ہے، اور ان تمام چیزوں سے بچے جن سے بچنے کا خدا نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے، یا اپنے رسول کے ذریعے جن کا اعلان فرمایا ہے۔
نصرتِ خدا کا مطلب ہے خدا کی مدد کرنا۔ یہ ایک انوکھا شرف ہے جو کسی صاحب ایمان آدمی کو ملتا ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یہ چوں کہ خود خدا کا ایک مطلوب عمل ہے جو بندے کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے، اسی لیے اس کو نصرتِ خدا (خدا کی مدد) سے تعبیر کیا گیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عبادت، اخلاق اور معاملات میں خدا کے احکام کی تعمیل بندے کی اپنی ضرورت ہے۔ اس کے ذریعے بندہ اپنی بندگی کوثابت کرکے خدا کے انعام کا مستحق بنتا ہے، مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق،یہ اللہ کے اوپر سے حجت کو اٹھانا ہے (النساء 165) امتحان کی مصلحت کی بنا پر یہ کام انسانوں کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے۔ یہ ایک خدائی عمل ہے جس کو کچھ انسان خدا کی طرف سے انجام دیتے ہیں اور پھر خدا کے یہاں سے وہ اس کا انعام پاتے ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت کا مطالعہ کیجیے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یاایُّہا الّذین آمنوا کُونُوا أنصار اللّٰہ، کما قال عیسی بن مریم للحواریین مَن أنصاری إلی اللّٰہ، قال الحواریُّون نحنُ أنصار اللّٰہ، فاٰمنت طائفۃ من بني إسرائیل وکفرت طائفۃ، فأیّدنا الّذین آمنوا علیٰ عَدُوّہم فأصبحوا ظاہرین (الصّف 14)
Qur'anQuotes the Qur'an
’’اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا—کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میںسے کچھ لوگ ایمان لائے اورکچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی، پس وہ غالب ہوگیے‘‘۔
Qur'anQuotes the Qur'an
اس آیت میںاللہ کی نصرت کرنے یا اللہ کا انصار بننے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے— خدا کے دعوتی منصوبے میںاپنے آپ کو قول اور عمل سے شریک کرنا، اقامتِ حجت کے خدائی کام کو اپنا کام بنا کر اس کے لیے محنت کرنا۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ أی مَن معیني في الدعوۃ إلی اللہ عزوجلّ؟ قال الحواریون (وہم أتباع عیسیٰ علیہ السلام): نحن أنصار اللہ، أي نحن أنصار علی ما أُرسلت بہ وموازروک علی ذلک۔ و لہذا بعثہم دُعاۃً إلی الناس في بلاد الشام في الإسرائیلیّن والیونانیّن، وہکذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی أیام الحج ’’مَن رجل یؤوینی حتی أبلّغ رسالۃ ربّي، فإنّ قریشاً قد منعونی أن أبلّغ رسالۃ ربّي‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 362)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
’’یعنی کون ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے کام میں میرا مددگار ہو، حواریین نے کہا، اور اس سے مراد عیسیٰ کے پیرو ہیں، ہم ہیںاللہ کے مددگار۔ ہم آپ کے مددگار ہیںاس کام میں جس کو لے کر آپ بھیجے گیے ہیں اور اس کام میں ہم آپ کا ساتھ دینے والے ہیں۔ اس لیے حضرت مسیح نے ان کو لوگوں کی طرف داعی بنا کر بھیجا، بلاد شام میںاسرائیلیوں اور یونانیوں کی طرف۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایّام حج میں لوگوں کے پاس جاکر کہتے کہ تم میں کون شخص ہے جو میری مدد کرے یہاں تک کہ میںاللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، کیوں کہ قریش مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں‘‘۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہہ ساری دنیا کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں، مگر آپ ایک محدود مدت تک دنیا میں رہے اور اس کے بعد آپ کی وفا ت ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس ذمے داری کو ادا کرنے کی صورت کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ آپ کی امت آپ کے بعد اس کام کی ذمے دارہے۔ اپنی زندگی میںآپ نے براہِ راست طورپر اس کام کو انجام دیا۔ آپ کے بعد یہ کام بالواسطہ طورپر آپ کی امت کے ذریعے انجام پائے گا۔ آپ کی امت کی لازمی ذمے داری ہے کہ وہ نسل در نسل ہر زمانے کے لوگوں کے سامنے اُس دین کا پیغام پہنچاتی رہے، جو دین آپ خدا کی طرف سے لائے اور جو قیامت تک اسی حال میں محفوظ رہے گا۔
اس معاملے کی مزید تشریح ایک حدیث سے ہوتی ہے جس کو مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات 768 ء) نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے دعوتی مشن کے بارے میں بھی فرمایا ہے اور خود اپنے بارے میں بھی۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے
hadithQuotes a hadith
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ (623ء) کی ادائیگی کے بعد ایک دن اپنے اصحاب کے سامنے آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم اس معاملے میںمجھ سے اختلاف نہ کرو، جیسا کہ مسیح کے حواریوں نے کیا تھا۔ آپ کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول، حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح نے اپنے حواریوں کو اُس کام کی طرف بلایا جس کی طرف میںنے تم کو بلایا ہے، پس مسیح نے جس کو قریبی مقام پر جانے کے لیے کہا، وہ راضی رہا اور تیار ہوگیا اور جس کو دور کے مقام پر جانے کے لیے کہا تو اس نے ناگواری ظاہر کی اور وہ اُس پر گراں گذرا۔ اس کے بعد مسیح نے اللہ سے اس بات کی شکایت کی تو جو لوگ زبان کے فرق کی وجہ سے جانے کے لیے تیار نہیںہوئے تھے وہ اس قوم کی زبان بولنے لگے جن کی طرف مسیح ان کو بھیج رہے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مختلف سرداروں اور حاکموں کی طرف اپنی دعوت کے ساتھ روانہ کیا۔‘‘
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب کے سامنے آئے اور اس دعوتی کام کی طرف انھیں توجہ دلائی تو ان سے کہا کہ ’’اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمے داری کو ادا کرو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے‘‘۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 278)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کسی انسان کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ ایک ایسے کام کے لیے سرگرم ہو جوبراہِ راست طورپر خود خدا کاکام ہو، جو گویا خداوند ذوالجلال کی نیابت ہے۔ یہ بلاشبہہ ایک ایسا اعزاز ہے جس سے بڑا کوئی اعزاز ممکن نہیں۔
خدا قادر مطلق ہے۔ وہ ہر معلوم اور نامعلوم کام کو انجام دینے کی مکمل قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے پتھروں کو گویا کردے، وہ درخت کی ہر پتّی کو زبان بنادے جس سے وہ خدا کے پیغامات کا اعلان کرنے لگیں، مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کے پیغام کی پیغام رسانی خود انسان ہی انجام دے، تاکہ التباس کا پردہ باقی رہے، تاکہ امتحان کی مصلحت مجروح نہ ہونے پائے۔
دعوت جس کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہاگیا ہے، وہ براہِ راست خدا کا کام ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ حجت، خدا پر نہ رہے بلکہ وہ انسانوں کی طرف منتقل ہوجائے۔ مگر امتحان کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ یہ کام کسی معجزاتی اسلو ب میں انجام نہ پائے، بلکہ انسانوں میں سے کوئی انسان اسے انجام دے۔ یہی وجہ ہے جس کی بناپر اس خدائی کام کو انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس صورت حال نے انسان کی لیے عظیم ترین عمل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جو لوگ دعوت کے اس خدائی عمل کے لیے اٹھیں، ان کو دنیا کی زندگی میںنہایت خصوصی مدد حاصل ہوتی ہے اور آخرت میںان کو اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جائے گا۔
ایک بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے آگے اپنے عجز کا اقرار کررہا ہے۔ اس کے مقابلے میں جب وہ دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خود خدا کا ایک کام انجام دے رہا ہے۔ کسی بندے کے لیے بلا شبہہ اس سے زیادہ لذیذ کوئی تجربہ نہیں کہ وہ یہ محسوس کرے کہ میں اپنے رب کے کام میں مصروف ہوں، میں اپنے رب کے ایک منصوبے کی تکمیل کررہا ہوں۔
ماڈرن ایج اور اسلام
ماڈرن ایج(modern age) اور اسلام کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ ماڈرن ایج نے نظریہ اور عمل کے سارے ڈھانچے کوبدل دیا ہے، اِس لیے اب ضرورت ہے کہ اسلام پرنظر ثانی کی جائے۔ اِس نقطۂ نظر کا ایک نمونہ اے اے اے فیضی (وفات 1981) کی کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اِس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے
A Modern Approach to Islam
دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ماڈرن ایج کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہے، اِس بنا پر سارے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کو پھر سے عالمی سطح پر سیاسی غلبے کے مقام تک پہنچایا جائے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سید قطب وغیرہ کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ اِس نقطۂ نظر کے حامل افرادکا ماننا یہ ہے کہ مسلّح جہاد کے ذریعے اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کیا جائے، اور ساری دنیا میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے نزدیک اِس قسم کی تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ اِس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ماڈرن ایج کو سمجھا جائے اور تجزیاتی مطالعے کے ذریعے اُس کے مقابلے میں اسلام کا موقف متعین کیا جائے۔ اِس کام میں ہمارے لیے رہ نما اصول، حدیث کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ خُذ ما صَفا وَ دَع ما کدر۔ یعنی جو چیز حق کے مطابق ہو، اُس کو لے لو اور جو چیز حق کے مطابق نہ ہو اُس کو چھوڑ دو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے اپنے مطالعے سے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایج بنیادی طورپر تین چیز وں کا نام ہے— (1)جدید سائنسی دریافتیں (2) جدید کلچر (3) جدید فلسفیانہ افکار۔ اب میں اِن تینوں کے بارے میں مختصر طورپر اپنا حاصلِ مطالعہ بیان کروں گا۔
1 - جدید سائنسی دریافتیں کیا ہیں۔ وہ اصلاً مغربی تہذیب یا سیکولر تہذیب کا حصہ نہیں، وہ فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کی دریافت ہیں۔ یہ قوانین خالقِ کائنات کے مقرر کردہ ہیں، یعنی اُسی خدا کے مقرر کردہ جس نے قرآن کی صورت میں اپنا کلام بھیجا ہے۔ اِن سائنسی دریافتوں کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں، بلکہ وہ قرآن کی اِس آیت کا مصداق ہیں سنُریہم اٰیاتِنا فی الآفاق وفی أنفسہم حتّیٰ یتبین لہم أنہ الحق (حٰمٓ السّجدہ53 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم زمانے میں انسانی افکار پر توہمات کا غلبہ تھا۔ توہماتی عقائد یا قصے کہانیوں کے تحت ہر معاملے میں لوگوں نے بے بنیاد رائیں بنالی تھیں۔ سائنس نے جدید طریقے پر تحقیق کرکے چیزوں کی اصل حقیقت معلوم کی۔ اِن دریافت کردہ حقائق کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔
مثال کے طورپر قدیم زمانے میں پانی کو صرف سیّال برف سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے دریافت کیا کہ پانی دو گیسوں کے مجموعے سے بنتا ہے۔ پانی کا فارمولا یہ ہے (H2O)۔ اِس دریافت کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔ اِسی طرح شمسی نظام کے بارے میں پہلے زمین مرکزی (geo-centric)نظریہ رائج تھا۔ کوپرنِکس کے زمانے میں جدید آلات کی مدد سے جو مطالعہ کیا گیا، اُس سے یہ ثابت ہوا کہ شمسی نظام زمین مرکزی نہیں ہے بلکہ وہ آفتاب مرکزی (heleo-centric) ہے۔ یعنی آفتاب مرکز میں ہے اور زمین اور دوسرے سیّارے اُس کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ اس نظریے کا بھی اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہ نظریہ بھی اتنا ہی اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔
یہی معاملہ سائنس کی اُن تمام دریافتوں کا ہے جو ثابت شدہ بن چکی ہیں۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں خالقِ کائنات کے قانون کی دریافتیں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ خالقِ کانئات کے تدبیرِامر کی تفصیل ہیں (یدبّر الأمر، یفصّل الآیات۔ الرعد2) کچھ لوگ اِس معاملے میں إسلامیّۃ المعرفۃ (Islamization of knowledge) کی بات کرتے ہیں، یعنی علم کو اسلامی بنانا۔ مگر جہاں تک قطعی علوم (exact sciences) کی بات ہے، اِس قسم کا نعرہ بالکل غیر متعلق ہے۔ کیوں کہ قطعی علوم میں اسلامائزیشن کا کوئی مطلب نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 - دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید کلچر سے تعلق رکھتا ہے۔ جدید مغربی کلچر دو قسم کی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ ایک وہ جو فطرت کے اصول پر مبنی ہے، اِس بنا پر وہ اسلام کے لیے بھی پوری طرح قابلِ قبول ہے۔ اِس کلچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ذہنی بے راہ روی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اِس بنا پر وہ اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
مثال کے طورپر جدید مغربی کلچر میں انسانی احترام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اِس بنا پر اُن کے یہاں نہایت اعلیٰ روایات قائم ہوئی ہیں۔ مثلاً ہر انسان کے لیے اظہار خیال کی کامل آزادی ہونا۔ ہر انسان کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر مقام ملنا۔ تنقید (dissent) کو انسان کا غیر مشروط حق قرار دینا۔ محروم(disabled) افراد کو ہر اعتبار سے برابر کا درجہ عطا کرنا، وغیرہ۔ یہ قدریں (values)اسلام میں موجود تھیں، لیکن مغربی کلچر کا یہ کارنامہ ہے کہ اُس نے اِن قدروں کو باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کا درجہ دے دیا۔ اِس قسم کی چیزیں اسلام میں بھی اتنا ہی اہم ہیں جتنا کہ وہ جدید تہذیب میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
البتہ جدید کلچر میں بعض چیزیں ایسی ہیں جواسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتیں۔ مثلاًعورتوں کے لیے عریانیت (nudity) ، بے پردگی کا فیشن، باقاعدہ نکاح سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط، شراب کا عمومی رواج، انٹرٹین منٹ کا بے قید کلچر، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں۔ اِس لیے وہ کبھی بھی اسلام کے دائرے میں قبول نہیں کی جاسکتیں۔
3 - تیسرا پہلو جدید دور کے فلسفیانہ افکار سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں فلسفہ اور افکار کے تحت کچھ نئے نظریات وجود میں آئے ہیں جن کو سائنسی افکار کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اُن کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں ان کو سائنس کی غلط توجیہہ و تعبیر کہاجاسکتا ہے۔
مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی غور و فکرکے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات میں اسباب وعِلل کا نظام ہے۔ اِس کو اہلِ سائنس کے درمیان قانونِ تعلیل(principle of causation) کہاجاتا ہے۔ اِس کو لے کر کچھ سیکولر ذہن کے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سائنس کی اِس تحقیق نے خدا کے وجود کی نفی کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیںتو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہوسکتے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
یہ سائنس کے نام پر صرف ایک فلسفیانہ مغالطہ ہے، کیوں کہ نیچر کی دریافت صرف خدا کے طریقِ کار کی دریافت ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خدا کے وجود کی نفی نہیں۔ اِس فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے میںنے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج(God Arises) میں لکھا ہے کہ — نیچر کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے
Nature does not explain, she herself is in need of an explanation.
یہی معاملہ عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا ہے۔ سیکولر مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک سائنٹفک نظریہ ہے۔ چوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں خصوصی تخلیق کا تصور ہے، جب کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ مفروضہ ارتقائی پراسس کو خدا کا درجہ دے رہا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ارتقا کے نظریے نے خدا کے تصور کی نفی کردی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ سرتا سر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی حقیقی نظریہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ زندگی کی بے شمار انواع جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اُن کے اندر جسمانی مشابہت ہے۔اِس مشابہت کو لے کر یہ دعویٰ کردیا گیا کہ ایک زندہ نوع سے دوسری نوع نکلی۔ مثلاً بکری ارتقا کرتے کرتے زرافہ بن گئی، یا بلی نے ارتقا کرتے کرتے شیر کی صورت اختیا ر کرلی، وغیرہ۔
اس نظریے کی بنیادی کمی یہ ہے کہ اُس نے انواع کے درمیان مشابہت کا ثبوت تو پیش کیا، لیکن وہ اِس کاکوئی بھی ثبوت پیش نہ کرسکا کہ ایک نوع کے بطن سے دوسری نوع برآمد ہوگئی۔ یہ نظریہ اتنا ہی بے بنیاد ہے جتنا بے بنیاد یہ کہنا کہ بیل گاڑی کے اندر سے بگھی نکل آئی، بگھی کے اندر سے موٹر کار برآمد ہوگئی، موٹر کار کے اندر سے ہوائی جہاز نکل آیا اور ہوائی جہاز کے اندر سے راکٹ پیدا ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ وہ نہ کوئی سائنٹفک نظریہ ہے اور نہ اُس کی وجہ سے اسلام کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوا۔
میرے مطالعے کے مطابق، ماڈرن ایج مکمل طورپر ایک موافقِ اسلام ایج ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا نے انسان کے لیے اِس دنیا میں دو سپورٹ سسٹم بنائے ہیں۔ ایک نیچرل سپورٹ سسٹم جو یکساں طورپر مسلسل صورت میں انسان کا مددگار بناہوا ہے۔ دوسرا، سویلائزیشنل سپورٹ سسٹم جو انسان کے ذریعے ارتقائی سفر طے کرتا ہوا انسان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ نیچرل سپورٹ سسٹم براہِ راست طورپر خدا کی طرف سے قائم کیاگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں سویلائزیشن سپورٹ سسٹم انسانی عمل اور انسانی تحقیق کے ذریعے اپنا تہذیبی سفر طے کررہا ہے۔ماڈرن ایج در اصل اِسی سویلائزیشن سپورٹ کا ایک اگلا مرحلہ ہے۔ وہ اِس لیے ظاہر ہوا ہے کہ انسان کے سفر حیات کو زیادہ کامیاب بنائے۔ یہ ماڈرن ایج انسان کے مادّی سفر میں بھی مددگار ہے اور انسان کے مذہبی اور روحانی سفر میں بھی۔
اِس دنیا کا ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز میں مثبت کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی ملاہوا ہوتا ہے۔ اِس قانونِ عام کے تحت، ماڈرن ایج میں بھی مثبت پہلو کے ساتھ کچھ منفی پہلو شامل ہے۔ بعض اسباب سے یہ حادثہ پیش آیا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں سے ماڈرن ایج کا مثبت پہلو اوجھل ہوگیا۔ انھوں نے بس اُس کے منفی پہلو کو دیکھا اور وہ اُس کو دیکھ کر بھڑک اٹھے۔ اِس معاملے میں شدید طورپر دوبارہ جائزہ (reassessment) کی ضرورت ہے۔ اگر منصفانہ طورپر جائزہ لیا جائے تو یقینا لوگ یہ معلوم کرلیں گے کہ ماڈرن ایج ایک اسلام دوست ایج(Islam-friendly age) ہے، نہ کہ اسلام دشمن ایج۔
یہ صحیح ہے کہ ماڈرن ایج کو پیدا کرنے میں تمام تر غیر مسلم قوموںنے کام کیا ہے۔ مگر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إنّ اللہ لَیُؤیّد ہٰذا الدین بالرّجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد، جلد 6،صفحہ 208)۔ اِس روایت میں اِس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ سویلائزیشنل سپورٹ کو ظہور میں لانے میں ہر آدمی کا کچھ نہ کچھ رول ہوگا۔ اِس میں صالح لوگ بھی اپنا رول اداکریں گے اور اس کے ساتھ غیر صالح لوگ بھی۔ تاریخ اِس کی تصدیق کرتی ہے۔ مثلاً کمیونکیشن ایج جو دعوت الی اللہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے، اُس کو ظہور میں لانے کے لیے ہر طرح کے لوگوں نے لمبی مدت تک مسلسل کام کیا ہے۔ اس کے بعد ہی کمیونکیشن ایج واقعہ بن سکا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسجد ایک دعوتی مرکز
مسجد کو عام طورپر صرف عبادت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، مگر اِسی کے ساتھ وہ دعوت کا مرکزبھی ہے۔ کیوں کہ مسجد میں بہت سے لوگ اپنی عبادت ادا کرنے کے لیے اکھٹا ہوتے ہیں۔ اِس طرح مسجد مستقل طورپر ایک مقامِ اجتماع بن جاتی ہے۔ اور جس مقام پر انسانوں کا اجتماع ہو، وہ فطری طور پر ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جہاں لوگوں کو خطاب کیا جائے اور انھیں دعوت پہنچائی جائے۔
تبلیغی جماعت نے مسجد کی اِس حیثیت کو منظم انداز میںاستعمال کرنا شروع کیا۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایک مسجد سے دوسری مسجد کی طرف جاتے ہیں اور جو لوگ وہاں نماز کے لیے اکھٹا ہوتے ہیں، اُن کے درمیان کام کرکے ان کو اپنا دینی پیغام پہنچاتے ہیں۔ اِسی لیے تبلیغی جماعت کے لوگ اپنی تحریک کو ’’مسجد وار تحریک‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ کام بانی ٔ تبلیغ مولانامحمدالیاس کاندھلوی (وفات 1944 ) سے ہورہا ہے۔
مسجدوار تحریک کا یہ طریقہ بلاشبہہ درست ہے۔ لیکن تبلیغی جماعت کے لوگ عملاً اِس امکان کو صرف جُزئی طورپر حاصل کر پاتے ہیں۔ان کاطریقہ ہے کہ نماز کے خاتمے پر وہ نماز کے لیے مسجد میںآنے والوں سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھیر جائیں، ہم آپ کو دین کی اہم باتیں بتائیں گے، مگر عملاً ہر جگہ یہ ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد اٹھ کر مسجد سے باہر چلے جاتے ہیں۔ صرف تھوڑے سے کم تعلیم یافتہ لوگ تبلیغ والوں کی باتیں سننے کے لیے مسجد میں ٹھیرتے ہیں۔ اِس طرح مسجد کا دعوتی امکان صرف جزئی طورپر استعمال ہوتا ہے۔14 اکتوبر2007 1428) ہجری( کو عید الفطر کا دن تھا۔ دہلی کی اکثر مسجدوں میں حسب معمول عید الفطر کی نماز ہوئی۔ شہر کے لوگ بڑی تعداد میں مسجدوں میں آئے اور یہاں عید کی نماز ادا کی۔ اِس طرح شہر کی مسلم آبادی کی تقریباً تمام تعداد مسجدوں میں آگئی۔
الرسالہ مشن سے وابستہ افراد نے اِس سال ایک نیا تجربہ کیا۔ انھوںنے خوب صورت چھپے ہوئے دعوہ بُک لیٹ (Dawah Booklets) تیار کیے۔ یہ دعوہ بک لیٹ اردو اور انگریزی زبان میں تھے۔ اِن میںاسلام کی تعلیمات کو موثر اسلوب میں بیان کیا گیا تھا۔
نماز کے خاتمے کے بعد یہ افراد یا گیٹ پر کھڑے ہوگئے، یا مسجد کے اندر پھیل گئے۔ لوگوں نے نہایت شوق سے پاکٹ سائز کے اِن خوب صورت کتابچوں کو لیا۔ تقریباً پچاس فی صد لوگوں نے اردو پمفلٹ حاصل کئے۔ ہر ایک نے ان کو لیتے ہوئے فوراً اُن کو پڑھنا شروع کردیا۔ اِس طرح دہلی کی مختلف مسجدوں میں بڑی تعداد میں پفلٹ تقسیم کیے گیے۔اس طرح عید الفطر کے دن مسجد وار دعوتی تحریک کا ایک نیا تجربہ ہوا، وہ یہ کہ مسجد میں آنے والے تعلیم یافتہ لوگ جواب تک دعوت کی پہنچ سے باہر دکھائی دیتے تھے، وہ بھی دعوت کی پہنچ کے دائرے میں آگئے۔ مسجد کی صورت میں دعوتی موقع جو اِس سے پہلے عوام کے اعتبار سے استعمال ہورہا تھا، وہ اب خواص کے اعتبار سے بھی استعمال ہونے لگا۔ تعلیم بالقدم کا طریقہ جن لوگوںتک نہیں پہنچ سکا تھا، تعلیم بالقلم کا طریقہ اُن لوگوں تک بھی پہنچ گیا۔
کتاب یا لٹریچر کے طریقے کا ایک اور فائدہ ہے، وہ یہ کہ تعلیم بالقدم کے مقابلے میں، تعلیم بالقلم کا طریقہ اپنے اندر زیادہ توسیعی امکان رکھتا ہے۔ تعلیم بالقدم میں عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے اور دوسرا آدمی سنتا ہے۔ لیکن تعلیم بالقلم میںایسا ہوتا ہے کہ آپ ایک شخص کو ایک کتاب دیتے ہیں۔ وہ اس کو لے کر اپنے ماحول میں جاتا ہے۔ پھر دوسرے بہت سے لوگ اُس سے کتاب کو لے کر پڑھتے ہیں۔ پھر مزید دوسرے لوگ کتاب کو حاصل کرکے اُس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اِس طرح یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ تعلیم بالقدم میں دعوت کی رفتار اگر ارتھمیٹک رفتار (arithmetic progression) سے بڑھتی ہے، تو تعلیم بالقلم کی صورت میں دعوت جیومیٹرک رفتار (geometric progression) سے بڑھنے لگتی ہے۔
دعوت کا یہ تجربہ خدا کے فضل سے نہایت کام یاب تجربہ تھا۔ ضرورت ہے کہ ہر مقام پر اِسی طرح عمل کیا جائے۔ مسجد یں ہندستان میںاور ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر مسجد میں لوگ نماز کے لیے اکھٹا ہوتے ہیں۔ جمعہ اور عیدین کے موقع پر یہ تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ اِس لیے ہر جگہ کے لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اِس قسم کے پمفلٹ لے کر مسجدوں میں پہنچ جائیں اور نماز کی ادائیگی کے بعد اُن کو نمازیوں کے درمیان تقسیم کریں۔ یہ بلاشبہہ ایک کام یاب دعوتی طریقہ ہے۔ اس کو ہر ملک کی مسجد میںکام یابی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
آرٹ آف لائف
ایک فوجی جنرل نے بتایا کہ آرٹ آف وار(art of war) کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ— سب سے زیادہ مؤثر مسلّح فوج وہ ہے جو غصہ اور نفرت کے بغیر لڑائی کرے
other sourceWords of another person or source
The most effective armed forces are those who fight without anger or hate.
ایسا کیوں ہے کہ غصہ اور نفرت کے بغیر لڑی جانے والی جنگ زیادہ کامیاب جنگ ہوتی ہے۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ جب فوج غصہ اور نفرت سے خالی ہو تو وہ زیادہ بہتر انداز میں مقابلے کی منصوبہ بندی کرسکتی ہے۔ غصہ او رنفرت، انسان کی عقل کو ماؤف کردیتے ہیں۔ ایسی حالت میں اُس کے لیے زیادہ بہتر تدبیر کار اختیار کرنا ممکن نہیںہوتا۔
یہ اصول صرف آرٹ آف وار کا اصول نہیں ہے، بلکہ وہ آرٹ آف لائف کا اصول بھی ہے۔ میدانِ جنگ سے باہر جو انسانی زندگی ہے، وہاں بھی مسلسل طور پر افراد اور گروہوں کے درمیان پُر امن مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اِس پُر امن مقابلے میں ضرورت ہوتی ہے کہ فرد یا گروہ اپنے معاملے کی کامیاب منصوبہ بندی کریں۔ یہ کامیاب منصوبہ بندی دوبارہ وہی ذہن کرسکتا ہے جو غصہ اور نفرت سے خالی ہو، جو غیر متاثر ذہن کے تحت حالات کا اندازہ کرے، جو واقعات کا منفی اثر لیے بغیر اپنی تدبیر کا نقشہ بنائے۔ایسا انسان معاملات کو بے لاگ انداز میں دیکھتا ہے، وہ خالص حقائق کی روشنی میں اپنے عمل کا نقشہ بناتا ہے۔ ایسے ہی لوگ اپنے حریف کی پوزیشن کا صحیح اندازہ کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا کریں، وہی کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آرٹ آف لائف کا اصول بھی وہی ہے جو آرٹ آف وار کا اصول ہے۔ دونوں ہی میں کامیابی وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو معاملات پر مثبت ذہن کے تحت غور کریں۔ اِس کے برعکس جو لوگ منفی ذہن کے تحت سوچیں، وہ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، حربی مقابلے کے میدان میں بھی اور پُرامن مقابلے کے میدان میں بھی۔
کامیابی کا راز
ایک امام صاحب کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ خطبے سے پہلے وہ اردو میںتقریر کرتے تھے۔ اِس تقریر میں وہ اکثر یہ کرتے کہ اختلافی مسائل میں شدید رویّہ اختیار کرتے۔ وہ اپنی سمجھ کے مطابق، جس مسلک کو درست سمجھتے تھے، اس کے مخالف مسلک پر وہ شدید تقریر کرتے۔
اس پر نمازیوں کی بڑی تعداد امام صاحب کے خلاف ہوگئی۔ لوگ کہنے لگے کہ ان کو خطیب کے مقام سے ہٹا دینا چاہیے۔ میری ملاقات امام صاحب سے ہوئی تو گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ اِس طرح کی تنقیدی تقریریں کیوں کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ تو حق اور ناحق کا معاملہ ہے ۔ اگر میں اِس معاملے میں نہ بولوں تو میں گناہ گار ہوجاؤں گا۔
میں نے کہا کہ آپ کی سوچ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میںاکثر ایسا ہوتا ہے کہ حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ممکن اور ناممکن کو دیکھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی آپ کا طریقہ تھا۔ میںنے مثالیں دے کر امام صاحب کو سمجھایا تو وہ میری بات مان گئے۔ اس کے بعد انھوں نے تنقیدی طریقہ چھوڑ دیا اور حکیمانہ انداز میں اپنی بات بیان کرنے لگے۔
یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ حکمت کی اہمیت ہوتی ہے۔ جو آدمی حکمت کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ صرف مسائل کو بڑھائے گا، وہ مسائل کو حل نہیں کرسکتا۔ زندگی میںکوئی حقیقی کامیابی صرف صبر کا طریقہ اختیار کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے۔ صبر کا طریقہ چھوڑنے کے بعد کسی کو کوئی حقیقی کامیابی ملنے والی نہیں۔
اجتماعی معاملات کو ہمیشہ حق اور ناحق کے نظریے سے دیکھنا صرف جوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر وتحمل ہو، وہ معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے اور پھر وہی طریقہ اختیار کریں گے جو صورتِ حال کی روشنی میں نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہو۔
شکایت ختم کرنے کا طریقہ
سماجی زندگی میں بار بار ایساہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے سے شکایت اور اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ بات خاندان کے اندر بھی ہوتی ہے اور خاندان کے باہر بھی۔ جب ایسا ہوتا ہے تولوگ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ اپنے رویے کو درست ثابت کریں۔ شکایت اور اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہر ایک ایسا ہی کرتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح شکایتیں ختم نہیں ہوتیں۔ لوگ بظاہر چپ ہوجاتے ہیں لیکن جو شکایت تھی وہ بدستور دل میں باقی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا سماج پورا کا پورا شکایت سے بھرا ہوا سماج بن گیا ہے۔ ہر ایک، منفی نفسیات میںجیتا ہے۔ مثبت نفسیات میں جینے والا انسان کہیں نظر نہیں آتا۔
اس معاملے کا حل صرف یہ ہے کہ موجودہ طریقے کو ختم کردیا جائے۔ شکایت پیش آنے کی صورت میں اس کی صفائی کی کوشش نہ کی جائے، بلکہ سیدھے طورپر اپنی غلطی مان لی جائے۔ اپنے کو درست ثابت کرنے کے بجائے یہ کہہ دیا جائے کہ — میں غلطی پر تھا، مجھے معاف کردو۔ یہ طریقہ عظیم اخلاقی قدر(moral value) کا حامل ہے۔ اپنی غلطی نہ ماننا، ہمیشہ کبر کی بنا پر ہوتا ہے، لیکن بحث کے بغیر اپنی غطی کو مان لینا، آدمی کے اندر وہ عظیم صفت پیدا کرتا ہے جس کو تواضع (modesty) کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اختلافی معاملے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ معاملہ ذاتی شکایت کا معاملہ ہو۔ اور دوسرا یہ کہ وہ معاملہ علمی اور دینی معاملہ ہو۔ اگر معاملہ ذاتی شکایت کا ہو تو اس کو ختم کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ حقیقی معنوں میں کس کی غلطی تھی، بلکہ تواضع کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے فوراً خود اپنے کو غلط مان لیاجائے۔ اِس طرح معاملہ فی الفور ختم ہوجائے گا۔البتہ اگر معاملہ علمی یا دینی ہو، یعنی اس کا تعلق اصولی نوعیت کا ہو تودلائل کے ذریعے اس کی وضاحت کی کوشش کرنا چاہیے۔ مگر یہاں بھی ضروری ہے کہ بات کو صرف دلائل تک محدود رکھا جائے، اُس کو ضد تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ دلیل کے ذریعے جو بات ثابت ہوجائے، اُس کو دونوں فریق مان لیں۔ اِس طرح نہ صرف یہ کہ معاملہ ختم ہوگا، بلکہ وہ دونوں کے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
نیا دعوتی امکان
اسلام کا آغاز تاریخی طورپر610 عیسوی میں ہوا۔ اسلام سادہ طور پر ایک مذہب نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام ایک آئڈیالاجیکل رفارم(ideological reform) تھا، مگر قانونِ فطرت کے مطابق، اسلام کا کُلّی ظہور ابتدائی زمانے میں نہیں ہوا، جو ہُوا وہ یہ تھا کہ دورِ اول میں ہونے والے اسلامی انقلاب نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کردیا۔ اِس پر اسس کی تکمیل بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ہوئی، حتی کہ اب اسلام کا آئڈیالاجکل رفارم اپنی کامل صورت میںایک واقعہ بن چکا ہے۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں انسان کے پاس سوچنے کے لیے صرف توہماتی فریم ورک (superstitious framework) موجود تھا۔ اِس بنا پر انسان نے بہت سے مصنوعی نظریات بنا لیے۔ اِن مصنوعی نظریات کے تحت انسان کا جو ذہنی شاکلہ بنا تھا، وہ اسلام کے آئڈیالاجکل رفارم کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ جدید سائنس سے پہلے کا پورا دور اِسی حالت میں گزر گیا۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار فطرت کے رازوں کی دریافت کے بعد نیا فریم ورک بنا ہے، جس کو سائنٹفک فریم ورک (scientific framework) کہا جاتا ہے۔ اِس بنا پر اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان، اسلام کی دی ہوئی آئڈیالوجی کو بھر پور طور پر سمجھ سکے۔
یہ واقعہ اسلام کے لیے ایک بے حد مفید تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام ایک سائنسی مذہب ہے، یعنی مبنی بَر فطرت مذہب۔ قدیم زمانے میں چوں کہ انسان کا فکر فطرت کی شاہ راہ سے ہٹ گیا تھا۔ انسان غیر فطری اَوہام میں مبتلا تھا۔ اِس بنا پر اسلام کا پیغام لوگوں کے لیے ناقابلِ فہم بن گیا تھا۔ اب اِس قسم کی تمام فکری رکاوٹیں دور ہوچکی ہیں۔ جدید سائنس نے جو کچھ کیا، وہ اپنے نظریے کے تحت کیا، لیکن وہ اسلام کے لیے بے حد مددگار بن گیا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کی دعوت کو فطرت کی زبان میں پیش کیا جائے اور انسان اُس کو آسانی کے ساتھ سمجھے اور اس کو قبول کرلے۔
خود کُشی سب سے بڑی دیوانگی
خود کشی سب سے بڑی دیوانگی ہے۔ کیوں کہ خود کشی آدمی اُس وقت کرتا ہے، جب کہ وہ زیادہ کامیاب انداز میں کوئی عمل کرنے کی پوزیشن میں ہوجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خود کشی کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ کوئی بھی آدمی نارمل حالت میں اِس کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو خود ہی مارڈالے۔ پھر کوئی شخص خود کشی جیسا انتہائی اقدام کیوں کرتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو اُس وقت یہ ہوتا ہے کہ فطری نظام کے تحت اُس کا دماغ محفوظ انرجی کو رلیز کردیتا ہے۔ اِس بنا پر اُس وقت آدمی کی طاقت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اضافہ شدہ طاقت اِس لیے ہوتی ہے کہ آدمی پیش آمدہ مسئلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کرسکے، مگر وہ اِس بڑھی ہوئی طاقت کا منفی استعمال کرکے خود کشی کرلیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جولوگ خود کشی کا اقدام کریں اور کسی بنا پر مرنے سے بچ جائیں، تو وہ اپنی بعد کی زندگی میں زیادہ بڑا کام کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اقدامِ خود کشی کا واقعہ اُن کو شعوری یا غیر شعوری طورپر اپنی برتر طاقت سے متعارف کردیتاہے۔ چناں چہ موت سے بچنے کی صورت میں وہ اس کو بھر پور طورپر استعمال کرتے ہیں اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔ فطرت کے اِس قانون کو شیخ سعدی نے سادہ طورپر اِس طرح بیان کیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نہ بینی کہ چوں گُربہ عاجز شود بَرآرد بہ چَنگال، چشمِ پلنگ
انسان کی اکثر غلطیاں فطرت کے قانون کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، انسان کے دماغ میں ہمیشہ محفوظ انرجی موجود رہتی ہے۔ جب کوئی سخت مسئلہ پیش آئے تو دماغ آٹومیٹک طورپر اِس محفوظ انرجی کو رلیز کردیتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دریا میں پانی کی قلّت کے وقت بَیراج کو کھول کر مزید پانی جاری کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر فطرت کے قوانین کو سمجھے تو وہ بہت سی نادانیوں سے بچ جائے، بہت سی ناکامیوں سے وہ کبھی دوچار نہ ہو۔
واپسی ممکن نہ ہوگی
آج کل کے لوگوں کو جب میں ہنستے ہوئے اور تفریح کرتے ہوئے دیکھتا ہوںتو مجھے ایک عجیب دھکّا لگتا ہے۔ شدّتِ احساس سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں یہ سوچنے لگتاہوں کہ کیسا عجیب انجام ان کے سامنے آنے والا ہے، لیکن وہ اِس سے بے خبر ہو کر قہقہہ لگارہے ہیں ۔ وہ جلد ہی ایک بھیانک انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ وہ اِس انجام سے اپنے آپ کو ہر گز بچا نہیں سکتے، لیکن اُس سے کامل بے خبری کی بنا پر وہ قہقہہ لگا رہے ہیں۔حالاں کہ ضرورت یہ تھی کہ وہ چپ ہوجائیں اور آنے والے بھیانک انجام سے بچنے کی تدبیر کریں۔
یہ انجام موت ہے۔ ہر آدمی جو پیدا ہوا ہے، ا س کو بہر حال مرنا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو موت سے نہیں بچا سکتا اور نہ وہ اِس پر قادر ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندگی سے محروم کرلے۔ پیدا ہونے کے بعد ہر آدمی ابَدی ہوچکا ہے۔ ہر آدمی کو بہر حال جینا ہے، حتی کہ موت کے بعد بھی۔
موت کے بعد اچانک ہر آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پائے گا، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اِس اگلی دنیا میں آدمی اِس حال میں پہنچے گا کہ اُس کے پاس موجودہ دنیا کی طرف دوبارہ آنے کے لیے رِٹرن ٹکٹ نہ ہوگا—موجودہ دنیا عمل کی دنیا ہے، یہاں کوئی جزا نہیں۔ اگلی دنیا جزا کی دنیا ہوگی، وہاں کسی کے لیے عمل کا موقع نہ ہوگا۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا مقدر ہے، کوئی بھی شخص اپنی اِس تقدیر کو بدل نہیں سکتا۔
موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ پیدا کرنے والے کا تخلیقی پلان (creation plan) کیاہے۔ پیدا کرنے والے نے یہ عجیب وغریب دنیا کیوں بنائی اور اس کے اندر انوکھی صلاحیتوں والا انسان کس لیے بسایا۔ لوگوں کی موجودہ بے خبری اِس تخلیقی پلان کو نہ جاننے کی بنا پر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اور انجام اُن کے سامنے آنے والا نہیں۔ اگر انسان یہ جانے کہ وہ ایک لمبے سفر کا مسافر ہے۔ اس کو موجودہ دنیا سے گزر کر آخرت کی دنیا میں داخل ہونا ہے تو اس کی زندگی کا سارا نقشہ بدل جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خبر نامہ اسلامی مرکز — 181
1 - میرٹھ (یوپی) میں ہر سال ایک بڑا میلہ لگتا ہے جس کو ’نَوچندی کا میلہ‘ کہاجاتا ہے۔ اِس میں ہر قسم کے سامان لائے جاتے ہیں۔ میرٹھ سے مسٹر ساجد نے بذریعہ ٹیلی فون بتایا کہ اِس سال الرسالہ مشن کی طرف سے نوچندی میلے میں بُک اسٹال لگایا گیا۔ یہ بُک اسٹال 15 مئی 2007 کو شروع ہوا، اور 21 مئی 2007 کو ختم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ مشن کے بُک اسٹال پر کافی لوگ آئے، جن میں ہندو اور مسلمان دونوں حضرات شامل تھے۔ انھوں نے بک اسٹال سے کتابیں حاصل کیں۔ ہندو صاحبان نے قرآن کا ہندی ترجمہ بڑی تعداد میں لیا۔ مسٹر ساجد، مسٹر شہزاد اور دوسرے ساتھیوں نے آنے والوں کا نام اور پتہ درج کرلیا، تاکہ بعد کو ان سے رابطہ قائم کیا جاسکے۔
2 - سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ہال میں 23 مئی 2007 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اِس میں شرکت کی اور پروگرام کے مطابق، بیسک ہیومن ویلوز اِن اسلام (Basic Human Values in Islam) کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ ان کو 45 منٹ کا وقت دیاگیا تھا۔ آدھ گھنٹہ تقریر کے لیے اور 15 منٹ سوال و جواب کے لیے۔ اِس موقع پر سی پی ایس کے ساتھیوں نے لوگوں سے انٹریکشن بھی کیا اور ان کے درمیان دعوتی بروشر تقسیم کیے۔
3 - مصر (دمیاط، الجدیدۃ) سے اشرف احمد محمدعماشہ کا خط مؤرخہ 27 مئی 2007 موصول ہوا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وہ اپنی یونی ورسٹی (جامعۃ المنوفیۃ، الأزہر) کے تحت ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے ریسرچ کررہے ہیں۔ ان کی ریسرچ کا موضوع یہ ہے— مولانا وحید الدین خاں اور تجدید دین
Wahiduddin Khan and Revival of Religious Thought
اِس سلسلے میں انھوںنے ضروری مواد طلب کیا ہے جو اُن کو بھیجا جارہا ہے۔
4 - راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر وِجے کمار نے 29 مئی 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اِس مسئلے سے تھا کہ تشدد کیوں کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ نوجوان اکثر نیوز میں آنے کے لیے تشدد کرتے ہیں۔ ان کو سمجھایا جائے کہ اِس سے کوئی فائدہ ملنے والا نہیں، پڑھو اور ترقی کرو۔
5 - ٹائمس ناؤ (Times Now) ٹی وی چینل (نئی دہلی) نے 30 مئی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوال یہ تھا کہ کشمیر کے ایک مفتی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ فوج کے ذریعے مسجد کی مرمت کرنا جائز نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ ایک غلط فتویٰ ہے۔ یہ فتوے کا سیاسی استعمال ہے۔ فتویٰ ایک خالص دینی ادارہ ہے۔ اور کسی دینی ادارے کا سیاسی استعمال اسلام میں درست نہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاست کو دین سے الگ رکھیں۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔
6 - ایرانی نیوز ایجنسی (نئی دہلی) کے نمائندے نے 30 مئی 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوال یہ تھا کہ خبر کے مطابق، بمبئی میںایک لاکھ ہریجنوں نے بدھ ازم کو قبول کرلیا ہے۔کیا اِس کا سبب یہ تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کرتے تو ان کو رعایات سے محروم ہونا پڑتا۔ جواب میں کہاگیا کہ ایسا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر متشدّدانہ مذہب کی ہوگئی ہے، جب کہ بدھ ازم کی تصویر پُرامن مذہب کی تصویر ہے۔ ایسی حالت میں ہریجن لوگ فطری طورپر وہی انتخاب کرسکتے تھے جو انھوں نے کیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
7 - بی بی سی لندن کے نمائندے مسٹر شکیل اختر نے 13 جون 2007 کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا سوال یہ تھا کہ آج کل ایک رقص رائج ہورہا ہے۔ اِس میں رقّاصہ یا علی، یا علی کہہ کر اپنا فن دکھاتی ہے۔ اِس کے بارے میں اسلام کا حکم کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص ’یا علی‘ استمداد کے طور پر بولتا ہے تو وہ اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ ایک کلچرل شو کا حصہ ہوتواس کو نظر انداز کیا جائے گا۔
8 - سائی انٹرنیشنل سنٹر(نئی دہلی) میں 13 جون 2007 کو حسبِ معمول ایک سیمنار ہوا۔ اِس سیمنار میں اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کے بنیادی انسانی اَقدار (Basic Human Values in Islam) کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کا وقت آدھ گھنٹہ تھا۔ اس کے بعد پندرہ منٹ سوال و جواب ہوا۔ سیمنار میں شریک ہونے والے یہ سب پرنسپل دہلی کے باہر سے آئے ہوئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کے مطابق، سچائی کا ماخذ صرف وحی (revelation) ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ سچائی کا ماخذ خود آدمی کے اپنے اندر ہے، جیسا کہ ہندو لوگ مانتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک فلسفہ ہے، وہ اصل سوال کا جواب نہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
9 - راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائدہ مسٹر یامین نے 20 جون 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ’اسلام میں نکاح کی حیثیت‘ کے موضوع پر تھا۔ اِس موضوع پر تفصیل کے ساتھ اسلام میں نکاح کی حیثیت پر روشنی ڈالی گئی۔
10 - نوئڈا (Noida) میں ناگرِک مہاسَنگھ کے نام سے ایک تنظیم قائم ہے۔ اِس کے صدر ائروائس مارشل مسٹروشو موہن تواری ہیں۔ اِس تنظیم کی طرف سے یکم جولائی 2007 کو ایک جلسہ کیاگیا۔ اِس جلسے میں تعلیم یافتہ ہندوشریک ہوئے۔ اِس کا مقام نوئڈا کا کیلاش ہاسپٹل اینڈریسرچ سنٹر تھا۔ اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ خطاب کا موضوع تھا اسلام میں مساواتِ انسانی کا تصور۔یہ جلسہ صرف صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ انھوں نے مذکورہ موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کے بعد آدھ گھنٹے تک سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ اِس موقع پر لوگوں کو سی پی ایس انٹرنیشنل کے دعوتی بروشر پڑھنے کے لیے دیے گئے۔ لوگوں نے اس کوبہت شوق کے ساتھ لیا اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔
11 - امریکا سے 16ایجوکیٹرس (educators) کا ایک گروپ انڈیا آیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا کے تعاون سے نئی دہلی کے فُل برائٹ ہاؤس (ہیلی روڈ) کے ہال میں کئی سیمنار کیے گئے۔ اِس میں انڈیا کے سینئر اسکالرس نے امریکی گروپ کو خطاب کیا۔ یکم جولائی 2007 کے سیشن کا عنوان یہ تھا
Tolerant India: Multi-Religious Pragmatic Views
اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ انھوں نے اِس میں شرکت کی۔ اور ’’ٹالرنس کی اہمیت اسلام میں‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ آخر میںسوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں 16امریکی اسکالرس کے علاوہ، مختلف مذاہب کے دوسرے تعلیم یافتہ افراد بھی شریک تھے۔ اِس موقع پر انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر اور بروشر لوگوں کے درمیان تقسیم کیاگیا۔
12 - اسٹار نیوز (نئی دہلی) کے نمائندے نے 4 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو وقف زمین کی خریداری سے متعلق تھا۔ سوالات کے دوران تفصیل سے اس کا جواب دیا گیا اور بتایا گیا کہ اسلام میں اوقاف کے مسئلے کی نوعیت کیا ہے۔
13 - ٹائمس ناؤ (Times Now) ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 5 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اِس واقعے سے تھا کہ گلاسگو میں دو مسلمانوں نے کار میں بم رکھ کر ایک بلڈنگ سے ٹکرانا چاہا، لیکن ان کا بم پہلے ہی پھٹ گیا، اور بلڈنگ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اِس قسم کی متشددانہ کارروائی بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں ہتھیار کا استعمال صرف اسٹیٹ کے لیے جائز ہے، اور اسٹیٹ بھی معصوم لوگوں کے اوپر تشدد نہیں کرسکتی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
14 - نئی دہلی کے این ڈی ٹی وی (ND TV) کی ٹیم نے 5 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اِس واقعے پر تھا کہ انڈیا کے دو مسلم ڈاکٹر جو کہ گلاسگو اور آسٹریلیا میں رہتے ہیں، انھوں نے گلاسگو کے ائر پورٹ پر ناکام بم دھماکہ کرنے کی کوشش کی۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ یہ کارروائی ہر اعتبار سے غیر اسلامی تھی۔ اِن لوگوں کو اِس پر غصہ تھا کہ سلمان رشدی کو برطانیہ نے سر کا خطاب کیوں دیا، مگر اِس بات کو لے کر بم دھماکہ کرنا، بلا شبہہ حرام تھا۔اِن لوگوں کو اگر اِس پر ناراضگی تھی تو وہ وہاں سے اپنا جاب چھوڑ کر اپنے وطن واپس آجاتے، یا اِس موضوع پر پریس میں بیان دیتے۔ اِس کے سوا کچھ اور کرنا، ان کے لیے جائزنہیں تھا۔
15 - بی بی سی کے نمائندے مسٹر محبوب خان نے 9 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، مسلمانانِ ہند کے حالات اور ان کے مسائل سے تھا۔ اِس موضوع پر ہر اعتبار سے تفصیلی سوال و جواب ہوا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندستانی مسلمان مظلومیت کا کیس نہیں ہیں، وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بہت بہتر حالت میں ہیں، معاشی، مذہبی اور دوسرے ہر اعتبار سے۔ میں نظام الدین ویسٹ کالونی (نئی دہلی) میں 1983 سے رہتا ہوں۔ اُس وقت یہاں صرف تھوڑے مسلمان تھے۔ اب یہاںتھوڑے ہندو ہیں۔ اور یہاں کے مکانات زیادہ تر مسلمانوں کے پاس ہیں۔ یہاں ہر وقت مسلمانوں کی کاریں دوڑتی رہتی ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندستان کے مسلمان مسلسل ترقی کررہے ہیں۔
16 - بی بی سی لندن کی نمائندہ مزخدیجہ عارف نے 12 جولائی 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر لیا گیا۔ اُن کے سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام آباد (پاکستان) کی لال مسجد سے تھا۔ مسجدکے اندر بڑی تعداد میں مسلح لوگ داخل ہوگئے۔ انھوں نے مسجد کے اندر گن اور گولا بارود اکھٹا کرلیا۔ مسجد کے اندر سے وہ اپنی مسلح تحریک چلانے لگے۔ حکومتِ پاکستان نے اس کے خلاف آپریشن سائلنس (operation silence) کے نام سے فوجی کارروائی کی۔ اِس میں کافی لوگ مارے گئے۔ آخر کار 11 جولائی 2007 کو فوج نے مسجد کو خالی کرالیا۔ سوالات کے دوران اِس سلسلے میں بتایاگیا کہ اِس معاملے میں حکومتِ پاکستان کی کوئی غلطی نہیں۔ اِس میں ساری غلطی مسلح دراندازوں کی ہے۔ مسجد تقویٰ کا مرکز ہے۔ مسجد کے اندر مسلح محاذ بنانا جائز نہیں۔ اِس آپریشن میں جو لوگ مارے گئے، اس کی ذمے داری تمام تر مسلح دراندازوں پر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
17 - اٹلی (روم) میں نوالے (Noale) کے مقام پر ایک سنٹر قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے
Cultural Association Armonia
اِس سنٹر کے صدر مسٹر رابرٹو(Roberto Carraro) ہیں۔ اِس سنٹر کے تحت، 13 تا 16 جولائی 2007 کو ورلڈوائڈ پیس کانفرنس ہوئی۔ اس کا مقام اٹلی کا شہر وینس (Venice) تھا۔ اِس کانفرنس کی تھیم یہ تھی
From Hope to Peace
صدر اسلامی مرکز کو اِس کانفرنس میں خصوصیت کے ساتھ شرکت کی دعوت دی گئی۔ لیکن بعض وجوہ سے وہ اِس میں شرکت نہ کرسکے۔ البتہ کانفرنس کے موضوع سے متعلق، اسلامی مرکز کی طرف سے چھپا ہوا مٹیریل ان کو بھیج دیاگیا۔
18 - سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 25 جولائی 2007 کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں گورنمنٹ اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ’’اسلام کی بنیادی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن جب ایک خدا کی کتاب ہے تو اس کی تفسیر میں مختلف رائیں کیوں۔ جواب میں بتایا گیا کہ انٹرپرٹیشن کا اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ ہر جگہ ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر ’بھاگوت گیتا‘ ایک کتاب ہے، لیکن اس کی کمنٹری تلک نے الگ ڈھنگ سے لکھی ہے او ر گاندھی نے الگ ڈھنگ سے۔ آخر میں لوگوں کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بہت دل چسپی کے ساتھ لیا۔
19 - پنچ وتی یوگ آشرم اینڈ نیچر کیور سنٹرکی طرف سے 28 جولائی 2007 کو لوک کلا منچ ہال (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا عنوان یہ تھا
International Inter-Faith Conference
‘Religion, Drug and Substance Abuse’
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اِس کانفرنس میںشرکت کی، اور مذکورہ موضوع پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ سی پی ایس ٹیم کے لوگ بھی اِس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ انھوںنے حاضرین کے درمیان انگریزی میں چھپے ہوئے دعوہ بُک لٹس تقسیم کیے۔ لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اُس سے اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔
20 - اٹلی کی ایک روحانی تنظیم کے فاؤنڈر چیئرمین ماریو (Mario Ahombari) 2 اگست 2007 کو اپنے 14ساتھیوں کے ہم راہ اسلامی مرکز میں آئے۔ انھوں نے روحانی موضوعات پر بات کی۔ ان کی درخواست پر صدر اسلامی مرکز نے آدھ گھنٹہ خطاب کیا، اور آخر میں اُن کے سوالات کا جواب دیا۔ اِس دَوران اسلامی عبادت کو عملی طورپر بتانے کے لیے صدر اسلامی مرکز نے اُن کے سامنے ایک رکعت نماز پڑھی۔وہ اِس سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ سورہ الفاتحہ اور نماز کے سجدے کو ہم بھی اپنی عبادت میں شامل کریں گے۔
21 - این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی نمائندہ مز سواتھی مہیش وَری نے 3 اگست 2007 کو صدر اسلامی مرکز کاایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، الرسالہ کے بارے میں کشمیر کے ایک فتوے سے تھا۔ جوابات کے دوران معاملے کی وضاحت کی گئی۔
22 - این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 4 اگست 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو لیا۔ انٹرویور مز سواتھی مہیش وری (Swathi Maheshwari) تھیں۔ سوال و جواب کا تعلق، ماہ نامہ الرسالہ‘ جون 2007 میں چھپنے والے ایک مضمون (مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی) پر کشمیر کے کچھ لوگوں کے منفی ردّ عمل سے تھا۔ جوابات میںبتایا گیا کہ اِس مضمون میں جوبات کہی گئی ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، وہ علماء کے مسلک سے الگ نہیں۔ کچھ کشمیریوں کا ردّ عمل صرف ان کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔
23 - 5 اگست 2007 کو صدر اسلامی مرکز نے ایک کشمیری اجتماع کو خطاب کیا۔ یہ خطاب ٹیلی فون پر تھا، یعنی تقریر دہلی میں کی گئی اور ٹیلی فون کے ذریعے اُس کو سری نگر میں اکھٹا ہونے والے کشمیری مسلمانوں نے سُنا۔ لوگوںنے اِس خطاب کو بہت پسند کیا۔ اِس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں ہے، بلکہ حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے اپنی تعمیر کے لیے مثبت کوشش کرنے میں ہے۔
24 - ہندی روزنامہ نئی دنیا (نئی دہلی) نے 8 اگست 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویور کا نام مزوندنا اگروال تھا۔ انٹرویوکا موضوع تھا— اسلام اور آتنک واد۔ جوابات کے دوران تفصیل سے بتایا گیا کہ اسلام کا آتنک واد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اسلام کے نام پر کچھ مسلمانوں کا فعل ہے، مگر اسلام کی تعلیمات سے اُس کاکوئی تعلق نہیں۔
25 - گڈ ورڈ بکس اور سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی طرف سے ایک دعوتی پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام 11اگست 2007 کی شام کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر(نئی دہلی) کے لیکچر ہال میں کیا گیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اِس میں ایک مفصل تقریر کی۔ تقریر کا عنوان یہ تھا
Peace and Non-violence in Islam
تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر اسلامی مرکز کی کتابیں اور بروشر لوگوں کے درمیان تقسیم کیے گیے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔
26 - ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 14 اگست2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔اُس کے انٹرویور مسٹر قاسم تھے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر یومِ آزادی (15 اگست) سے تھا۔ اِس سلسلے میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے ذاتی تجربات اُنھیں بتائے گیے، اور یہ کہ خاص اِس موضوع پر ہمارے یہاں سے ایک ضخیم کتاب چھپی ہے، جس کا نام ’ہند-پاک ڈائری‘ ہے۔
27 - زی نیوز ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 5 ستمبر2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو لیا۔ اس کے انٹرویور مسٹر کرشن موہن مشرا تھے۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا کہ مدر ٹریسا (وفات 1997 ) نے 66 سال تک غریب لوگوں کی خدمت کی۔ وہ برابر خدا کا نام لیتی تھیں، لیکن اُن کے مرنے کے بعد حال میں ایک کتاب چھپی ہے۔ اُس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اُن کو خدا نہیں ملا، ایسا کیوں۔جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مدر ٹریسا غلط جگہ پر خدا کو تلاش کررہی تھیں۔ خدا کو پانے کا ذریعہ خدا کی کتاب (قرآن) کا مطالعہ اور کائنات کا مشاہدہ ہے۔ اِس سلسلے میں مختلف سوالات کے جواب دیے گیے۔
28 - سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 8 ستمبر 2007 کو حسب معمول، کالج کے اساتذہ اور طلبا کا ایک اجتماع ہوا۔ جنرل چھِبّر اس کے آرگنائزر تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور حسب ذیل موضوع پر پَون گھنٹے کی ایک تقریر کی
Islam Teaches Peace
قرآن اور حدیث کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی گئی۔ تقریر کے آخر میں سوال وجواب ہوا۔ اِس موقع پر انگریزی میں چھپے ہوئے اسلامی پمفلٹ اور بروشر لوگوں کے درمیان تقسیم کیے گئے۔
29 - این ڈی ٹی وی(نئی دہلی) کی ٹیم نے 11 ستمبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اُما شنکر سنگھ نے ریکارڈ کیا۔ آج کے اخباروں میں یہ خبر آئی ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج مسٹر ایس کے سری واستو نے اپنے ایک فیصلے میںکہا کہ انڈیا میں جس طرح نیشنل برڈ اور نیشنل انیمل ہوتے ہیں، اُسی طرح انڈیا میں ’بھگوت گیتا‘ کو راشٹریہ دھرم شاستر کا درجہ دیا جائے۔ ہندستان ٹائمس (11 ستمبر 2007) نے اِس خبر پر یہ سرخی لگائی ہے
Treat Gita as Rashtriya Dharma Shastra
انٹرویو کے دوران بتایا گیا کہ یہ فیصلہ دستور ہند کی دفعہ (51-A) کے حوالے سے دیاگیاہے، مگر اِس دفعہ میں نہ دھرم کا ذِکر ہے اور نہ گیتا کا، اس کے بجائے اس میں صرف ’کمپوزٹ کلچر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِس لیے اِس دفعہ میں مذکورہ فیصلے کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
30 - نئی دہلی کے ٹائمس ناؤ ٹی وی(Times Now TV) کی ٹیم نے 11 ستمبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹر ویور مز سواتی تھیں۔ ان کے سوالات کا تعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے سے تھا جس میں کہا گیا ہے کہ گیتا کو ’راشٹریہ دھرم شاستر‘ بنایا جائے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ سماج کی اخلاقی تعمیر کے لیے یہ فیصلہ دیا گیا ہے، مگر سماج کی اخلاقی تعمیر ایجوکیشنل ایکٹوزم کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ لیگل ایکٹوزم یا جوڈیشیل ایکٹوزم کے ذریعے۔
31 - 12 ستمبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کے نام حسب ذیل خط موصول ہوا، اِس خط کا جواب روانہ کر دیاگیا ہے۔ اِس خط کی نقل یہاں درج کی جارہی ہے
Dear Sir,
Sub: Reproduction of published material
Re: Your publication titled: Indian Muslims — The Need for a Positive Out look (Maulana Wahiduddin Khan)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
I am compiling a book tentatively titled Communalism in India: Lessons & Experiences which is intended to comprise of noteworthy articles of reputed authors as also my commentary, if and when so desired, therewith. Year 2007 will commemorate ‘‘150 years of Freedom fighters of India’’ and my desire is to publish the book on such a noble occasion.
While researching on the subject, I have come across your above prestigious publication and the same is very much of interest to me as also it substantially relates to the subject of my compilation.
I shall be deeply obliged if you kindly permit me to extract certain portions of your above publication or to include/reproduce the article authored by you and include the same in my compilation which will not only be of great assistance to me but would also serve the purpose of readers of my compilation.
I hope to be favoured with your confirmation per return. I also take the opportunity of being advised that if you do not communicate your formal written consent to the above, it shall no be unreasonable for me, in view of my request therein contained, to presume that you have no objection to the same.
With sincere regards. (Parmod Shah, B.Com, F.C.A. Kolkata)