قرآن کی سورہ الاعراف میںایک انسانی صفت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیاہے:وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ۭ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ(7:176)یعنی اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے- مگر وہ زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا- پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے- یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوںنے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں-
ہانپنے کا فعل (panting)کو ئی انسان اس وقت کرتاہے جب کہ اس پر بوجھ لدا ہوا ہو- لیکن کلْب (dog) اپنی فطری بناوٹ کی وجہ سے ہر حال میں ہانپتاہے، خواہ اس کے اوپر بوجھ ہو یا بوجھ نہ ہو- کلب کی اس فطری صفت کی مثال کو لے کر انسان کی ایک اخلاقی حالت کو بیان کیاگیاہے- وہ یہ کہ انسان اگر خواہش (desire) کا اتباع کرے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے، اور اگر وہ خدا کی ہدایت (guidance) کا اتباع کرےتو اس کا حال کیا ہوتا ہے- خدائی ہدایت کا اتباع کرنے والا ہمیشہ ایک حالت پر رہتاہے، اور وہ شکر کی حالت ہے- خدائی ہدایت کی اتباع کرنے والا ہمیشہ شکر کے احساس میں جیتاہے، خواہ دنیا کا سامان اس کو کم ملے یا زیادہ-
اس کے برعکس حال اس انسان کا ہوتا ہے جو اتباعِ ہویٰ (خواہش کی پیروی) میں مبتلا ہوجائے- چوںکہ تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی خواہش لامحدود ہے، اور دنیا کی چیزیں محدود ہیں- اس بنا پر خواہش کی اتباع کرنے والے انسان کا حال یہ ہوگا کہ وہ ہر حال میں ہانپتا رہے گا، یعنی دنیا میں کم ملے تب بھی وہ شکر سے خالی ہوگا، اور اگر اس کو دنیا میں بظاہر زیادہ ملے تب بھی وہ شکر سے خالی رہے گا- حقیقت یہ ہے کہ خواہش کی تکمیل صرف آخرت میں ہوگی، موجودہ دنیا میں خواہش کی تکمیل ہونے والی نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔