← Al-Risala February 2015Al-Risala February 2015
خدا : یقین کا سرچشمہ
Urdu · 3 min read
God— A Source of Conviction
اگر آپ کے پاس کائناتی دوربین ہو اور آپ کائنات کے کسی مقام پر کھڑے ہو کر کائنات کا مشاہدہ کریں تو سب سے پہلے آپ کی نظر اس استثنائی planet پر جائے گی جس کا نام زمین ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ مکمل طورپر ایک lifeless دنیا میں زمین کا tiny planet زندگی اور زندگی کو sustain کرنے والے ہر قسم کے سامان سے بھر پور ہے۔ یہ نادر استثنائی منظر آپ کو ایک حیرتناک کیفیت میں مبتلا کردے گا۔
پھر آپ دیکھیں گے کہ زمین اپنے چاند اور دوسرے planets کے ساتھ مسلسل حرکت میں ہے۔ اس کی ایک گردش اپنے axis پر ہور ہی ہے ، اس حرکت کے ساتھ ساتھ بیضوی دائرہ میں وہ مسلسل طورپر سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ پھر یہ پورا سولر سسٹم کہکشاں کی عظیم پلیٹ پر وسیع تر دائرہ میں تیزی سے گھوم رہا ہے۔ پھر پورا کہکشانی نظام خلا میں دوسری بہت سی کہکشاؤں کے ساتھ ایک اور وسیع دائرہ میں مسلسل طورپر حرکت میں ہے۔
اتھاہ space میں ستاروں اور سیاروں کی یہ گردش آپ کو دہشت ناک حد تک عجیب معلوم ہوگی۔ پھر آپ جب دیکھیں گے کہ unbelievable حد تک آگ کے بڑے بڑے الاؤ جن کو ستارے کہا جاتا ہے، countlessتعداد میں ادھر ادھر تیزی سے دوڑ رہے ہیں اور ان کے درمیان ہماری زمین ایک چھوٹے ذرّے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ یہ سارا منظر آپ کو اتنا دہشت ناک حد تک عجیب معلوم ہوگا کہ آپ کو اپنا وجود اس کے سامنے بالکل بے قیمت اور حقیر دکھائی دینے لگے گا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ تجربہ آپ کو بیک وقت دو چیزوں کی دریافت کرائے گا۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا ایک طاقتور خدا ہے جو اس کا Creator بھی ہے اور اس کا Sustainer بھی۔ اگر آپ اپنے چشم تصور میںاِس کائناتی منظر کو لے آئیں تو آپ کا دل پکار اٹھے گا کہ کائنات خود اپنے آپ میں اپنے خالق کا ایک بین ثبوت ہے۔ اس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ انسان اس کائنات میںایک عاجز اور حقیر مخلوق ہے- خدا انسان کی ایک ایسی لازمی ضرورت ہے جس کے بغیر اس کا کوئی وجود ہی ممکن نہیں۔
یہ بلاشبہہ زندگی کی سب سے زیادہ اہم حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا ادراک جب آدمی کو ہوجائے تو وہ بے اختیار انہ طورپر خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا میری مدد فرما۔ تیری مدد کے بغیر میرا کوئی بھی کام بننے والا نہیں۔
اتھاہ کائنات میں خدا انسان کا سہارا ہے۔وہ انسان کی کشتی کو سہارا دے کر اس کو ساحل تک پہنچانے والا ہے۔ خدا کا عقیدہ انسان کے لیے سب کچھ ہے۔ اس عقیدہ کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں۔
انسان کے عجز (helplessness) کا احساس جو کائنات کو دیکھ کر ہوتا ہے وہی ہر آدمی کو اپنی روز مرّہ کی زندگی میں بھی لازمی طور پر پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد بار بار اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ انہیں محسوس ہوتاہے کہ وہ محدودیت limitation) (کا شکار ہیں۔ وہ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو وہ پا نہیں سکتے۔ ان کی زندگی بار بار ایسے احوال میں پھنس جاتی ہے جہاں وہ اپنے آپ کوبے بس helpless) (محسوس کرنے لگتے ہیں- اسی کے ساتھ نقصان کا خوف، بیماری اور حادثہ اور بڑھاپا اور موت کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر آدمی اپنے سے برتر کسی طاقت کا محتاج ہے۔ ایک superior power کی مدد کے بغیر وہ اپنے کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ یہ احساس گویا خدا کے وجود کا ایک نفسیاتی ثبوت ہے ۔ ہر آدمی لازمی طورپر اس نفسیاتی تجربہ سے دوچار ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنے اندر خدا کے وجود کی یقینی گواہی پارہا ہے۔
ہر آدمی کی فطرت مستقل طورپر اس کو یہ آواز دے رہی ہے کہ تم کو ایک خدا کی ضرورت ہے۔ خدا کے بغیر تمہاری زندگی مکمل نہیں ہوسکتی۔خدا کی مدد کے بغیر تم اپنے آپ کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔