قرآن کی سورہ الروم میں اللہ کی ایک سنت کوان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِہِمْ فَجَــاۗءُوْہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(30:47)یعنی اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو بھیجا ان کی قوم کی طرف- پس وہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کیا تھا اور ہم پر یہ حق ہے کہ ہم اہلِ ایمان کی مدد کریں-
قرآن کی اس آیت میں پیغمبروں کے حوالے سے اللہ کی ایک سنت کو بیان کیا گیاہے- اس سنت کا تعلق ایسے اہلِ ایمان سے ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لئے اٹھیں- ایسے لوگ ایک خدائی مشن (divine mission)کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں، وہ اللہ کے کنسرن (concern) کو اپنا کنسرن بناتے ہیں، وہ اپنے لئے جینے کے بجائے اللہ کے لئے جینے والے بنتے ہیں، وہ اپنے آپ کو اللہ کے کام کے لئے وقف کردیتے ہیں، ایسے لوگ اپنے عمل سے اس حقیقت کا ثبوت دیتے ہیں کہ ان کا انحصار تمام تر اللہ پر ہوچکا ہے-
ایسے لوگ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ کے خاص بندے بن جاتے ہیں، ان کا پورا وجود اس بات کی سفارش (recommendation) بن جاتا ہے کہ اللہ ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائے- اُن کے معاملے کو اللہ اپنا معاملہ قرار دے دے- اللہ اور بندے کے درمیان یہی خصوصی تعلق ہے، جس کو مذکورہ آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دین کے داعیوں کا اللہ کے اوپر یہ حق (due) ہے کہ وہ ان کی خصوصی مدد کرے-
جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ کے مشن میں پوری طرح وقف کردے تو اس کے بعد فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ ایسے شخص کی زبان سے دعا کے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں، جو اس کے لئے اللہ کی خصوصی مدد کو لازم بنا دیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔