قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (8:27) یعنی اے ایمان والو، خیانت نہ کرواللہ اور رسول کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانتوں میں حالانکہ تم جانتے ہو- قرآن کی یہ آیت اہل ایمان کے لئے ایک بنیادی حکم کی حیثیت رکھتی ہے-
خیانت کا لفظ امانت کی ضد ہے- اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے امانت کا مطلب آنسٹی(honesty) ہے، اور خیانت کا مطلب ڈس آنسٹی (dishonesty)- با اصول انسان کی سب سے بڑی صفت آنسٹی ہے، اور بے اصول انسان کی سب سے بڑی صفت ڈس آنسٹی- یہ دو الفاظ کسی انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہیں- حقیقی معنوں میں انسان وہی ہے جو اپنے کیریکٹر کے اعتبار سے ایک آنسٹ انسان (honest man) ہو- اس کے مقابلے میں وہ انسان ایک غیر انسان ہے، جو اپنے کیریکٹر کے اعتبار سے ایک ڈس آنسٹ انسان ہو-
آنسٹ انسان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ ایک قابلِ پیشین گوئی کیرکٹر (predictable character) کا حامل ہوتا ہے- اس کے بارے میں کوئی شخص پیشگی طورپر یہ جان سکتا ہے کہ وہ اپنے قول اور اپنے عمل کے اعتبار سے کیسا انسان ہے، وہ ایک قابلِ اعتماد انسان ہے یا ایک ناقابلِ اعتماد انسان-
اس کے مقابلے میں ڈس آنسٹ انسان اپنی صفات کے اعتبار سے اس کے برعکس انسان ہوتا ہے- اس کے قول وفعل کے بارےمیں کوئی پیشگی رائے قائم نہیں کی جاسکتی- یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ جب اس سے کوئی معاملہ پیش آئے گا تو وہ کس قسم کا انسان ثابت ہوگا- وہ اپنے کردار کے اعتبار سے ایک بے اصول انسان ہوتاہے، اللہ کی نسبت سے بھی اور انسان کی نسبت سے بھی- وہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے انسان ہوتاہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر انسان-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔