روایت میں آتا ہے کہ مکی دورمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشخصوں کے بارے میں ہدایت کی دعا کی - اس دعا کے الفاظ یہ تھے: اللہم اعزَّ الإسلام بأحب ہذین الرجلین إلیک بعمرو بن ہشام أو بعمر بن الخطاب (الترمذی، رقم الحدیث: 3681) یعنی اے اللہ، اِن دو شخصوں میں سے اپنے محبوب تر شخص کے ذریعہ اسلام کو طاقت دے، عمروبن ہشام یا عمر بن خطاب-
اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبولِ حق سے پہلے ہی کوئی شخص اللہ کو محبوب بن جاتاہے- اِس روایت میں محبوبیت سے مراد طالب ہدایت ہونا ہے- دعا کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے جس شخص کے اندر ہدایت کی طلب پائی جاتی ہو، اُس کو اسلام کی توفیق دے، اور اس کو اسلام کے لیے حامی وناصر بنادے-
اللہ کی محبت اس شخص کے لیے ہے جو حق کو قبول کرے- ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص قبولِ حق سے پہلے اللہ کا محبوب بندہ بن جائے- کوئی شخص قبول حق سے پہلے اپنی جس صلاحیت کی بنا پر اللہ کی نظر عنایت کا مستحق بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ اُس کے اندر حق کی تلاش کا جذبہ موجود ہے یا نہیں- اگر کوئی شخص حق کا طالب نہ ہو تو وہ اللہ کی نظرِ عنایت کا مستحق نہیں بنے گا، لیکن جس شخص کے اندر حق کی طلب پائی جائے، اس کو ضرور اللہ کی مدد پہنچے گی- اللہ کی عنایت سے اس کو حق قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوگی- پھر ایسا ہوگا کہ جو چیز پہلے اس کے دل میں طلب کے درجہ میں تھی، اب وہ اس کے لیے اعلان کی صورت حاصل کرلے گی-اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ (8:23) یعنی اور اگر اللہ کو ان کے بارے میں خیر کا علم ہوتا تو وہ ان کو ضرور سننے کی توفیق دیتا- قرآن کی اس آیت میں خیر سے مراد حق کی طلب ہے- ایک انسان کو اللہ کی مدد کا استحقاق ہمیشہ اُس کی اپنی طلب پر ہوتا ہے- جس آدمی کے اندر حق کی طلب پائی جائے، اس کو ضرور اللہ کی توفیق حاصل ہوگی، اور وہ حق کو قبول کرکے اپنی طلب کی تکمیل کرے گا- اس کے برعکس جو آدمی خود حق کا طالب نہ ہو، اس کو محض دعا کے ذریعہ قبول حق کا درجہ نہیں مل سکتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔