قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہاگیا ہے: فَذَکِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَکَفَرَ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ اِنَّ اِلَیْنَآ اِیَابَہُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ ( 88:21-26) یعنی پس تم یاد دہانی کرو، تم بس یاددہانی کرنے والے ہو- تم ان پر داروغہ نہیں- مگر جس نے رو گردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا- ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے- پھر ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا-
اِس آیت میں ’ذَکِّرْ‘ کا لفظ آیا ہے- اِس کا مطلب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے- اِس دوسری آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ۣ فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (50:45) یعنی پس تم قرآن کے ذریعہ اُس شخص کو نصیحت کرو جو میرے ڈرانے سے ڈرے- اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتی کام یہ ہے کہ قرآن کو لوگوں تک پہنچایا جائے- عربوں کو عربی زبان میں، اور د وسری قوموں کوان کی اپنی قابل فہم زبانوں میں- قرآن میں آیا ہےکہ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ۭ (14:4) اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس کی مخاطب قوم کی زبان میں بھیجا-
ابتدائی دور میں، جب کہ دعوت کا کام عربوں تک محدود تھا- اُس وقت عربی قرآن کو لوگوں تک پہنچانا کافی تھا- مگر اب جب کہ دعوت کا کام دنیا کی تمام قوموں سے متعلق ہوگیاہے- اب اہلِ ایمان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ ہرقوم کی زبان میں قرآن کا ترجمہ تیار کریں اور منظم انداز میں اُس کو تمام قوموں تک پہنچائیں- اب یہ کافی نہیں کہ عربی قرآن کو چھاپا جائے اور اُس کو لوگوں تک پہنچادیا جائے- آج اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ قرآن کو آرٹ پیپر پر بہترین انداز میں چھاپیں، وہ اعلی معیار کے مطابق، اس کی جلد بندی کریں، وہ سونے اور چاندی کے کام سےاُس کو خوشنما بنائیں، پھر وہ قرآن کا یہ نسخہ دوسری قوموں کو دیں تو ایسے قرآن کو لوگ صرف ایک گفٹ آئٹم سمجھیں گے، نہ کہ اپنے لیے گائڈ بک- اِس قسم کا خوبصورت عربی قرآن لوگوں کو دینے سے مسلمانوں کی دعوتی ذمہ داری ہرگز ادا نہیں ہوسکتی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔