ادب کی ایک قسم وہ ہے جس کو انانیتی ادب (egoistic literature)کہا جاتا ہے،یعنی وہ ادب جس میں مصنف نے ’میں‘ (ego) کو مرکزی حیثیت دے کر اپنے ادب کی تخلیق کی ہو- انانیت دراصل انفرادیت کا منفی نام (negative term) ہے- انفرادیت ہر انسان کی ایک فطری صفت ہے- اِس فطری صفت کا غلط استعمال اس کو انانیت بنا دیتا ہے، جو مزید اضافے کے ساتھ کبر (arrogance) کی صورت اختیار کرلیتا ہے-
حدیث میں آیا ہے کہ: خلق اللہ آدم على صورتہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5759)- اِس حدیث میں ’’صورت‘‘ سے مراد حلیہ (appearance) نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ اپنی ذات میں ایک منفرد ہستی ہے، اِسی طرح انسان اپنی ذات میں ایک منفرد ہستی ہے- فرق صرف یہ ہے کہ اللہ کی ہستی لامحدود ہے اور انسان کی ہستی محدود- اللہ کا وجود بالذات (self-existent)ہے، جب کہ انسان اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوا ہے-
انسان کے ساتھ اللہ کی سب سے بڑی عنایت (blessing) یہ ہے کہ اللہ نے اس کو ایک مستقل ہستی کے طورپر پیدا کیا ہے، ایک ایسی ہستی جو ستاروں اور سیاروں، پہاڑوں اور سمندروں سے الگ اپنا ایک ذاتی وجود رکھتی ہے- کسی انسان کی یہ دریافت اس کی سب سے بڑی دریافت ہے- یہ دریافت اگر عبدیت پر قائم ہو تو وہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، اور اگر یہ دریافت عبدیت سے جدا ہوجائے تو وہ انسان کے لیے سب سے بڑی نقمت (wrath)بن جائے گی- اسی دریافت کی بنیاد پر آدمی کی پوری شخصیت بنتی ہے- یہ دریافت اگر کامیاب ہو تو اس کے نتیجے میں آدمی کے اندر مثبت شخصیت بنتی ہے، اور اگر یہ دریافت کامیاب نہ ہو تو اس کے نتیجے میں آدمی کے اندر منفی شخصیت بنے گی — آخرت کی ابدی دنیا میں مثبت شخصیت (خدا پرست شخصیت) کے لیے جنت ہے اور منفی شخصیت (خدا فراموش شخصیت) کے لیے جہنم-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔