خود اعتمادی (self-confidence) ایک اعلی انسانی صفت ہے، یعنی اپنے آپ پر بھروسہ ہونا- ذاتی عزم کے تحت کوئی اقدام کرنا، اندیشوں کے بجائے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا منصوبہ بنانا، مسائل (problem) کو نظر انداز کرکے مواقع (opportunities) کو دریافت کرکے اُن کی بنیاد پر عملی اقدام کرنا— انھیں چیزوں کا نام خود اعتمادی ہے، اور خود اعتمادی بلاشبہہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کی لازمی شرط ہے-
خود اعتمادی زندگی کی علامت ہے اور خود اعتمادی کا نہ ہونا موت کی علامت- لیکن خود اعتمادی کا ایک منفی پہلو (minus-point) بھی ہے، اور یہ منفی پہلو بڑی سے بڑی خود اعتمادی کو بے نتیجہ بلکہ ہلاکت خیز بنا سکتی ہے- خود اعتمادی کا یہ منفی پہلو وہ ہے جس کو بے جا اعتماد (over-confidence) کہاجاتاہے-
آپ کے راستے میں اگر ایک چھوٹی نہر ہے اور آپ اس کے ایک کنارے سے چھلانگ لگا کر اس کے دوسری طرف پہنچ جائیں تو یہ خود اعتمادی ہے، لیکن اگر آپ کے راستے میںایک بڑا دریا ہے اور آپ اس کے ایک کنارے سے چھلانگ لگادیں تو آپ اس کے دوسرے کنارے پر نہیں پہنچیں گے، بلکہ آپ دریا میں گر کر ہلاک ہوجائیں گے-
اِس دنیا میں ہر آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے- اس کی اپنی ذات اور خارجی حالات- گویا کہ یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے- کسی کام کی کامیابی میں آپ کا حصہ پچاس فی صد ہوتا ہے اور بقیہ پچاس فی صد حصہ خارجی حالات کا ہوتاہے-
آپ کو چاہئے کہ عملی اقدام سے قبل آپ دونوں پہلوؤں کو دیکھیں- اگر آپ صرف اپنے ذاتی شوق کو دیکھیں اور خارجی حالات کو ملحوظ نہ رکھیں تو یقینی طورپر آپ کا منصوبہ ناکام ہوجائے گا اور پھر آپ دوسروں کی شکایت کریں گے، حالاں کہ ناکامی کا سبب خود آپ ہوں گے، نہ کہ کوئی دوسرا انسان-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.