مخاصمت اور اختلاف دونوں میں ایک چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ دونوں کا آغاز ڈسپیوٹ (dispute) سے ہوتا ہے، لیکن عملی اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے- یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، اختلاف پوری طرح ایک جائز فعل ہے اور مخاصمت پوری طرح ایک ناجائز فعل- درست اختلاف وہ ہے جو تمام تر علمی حقائق پر مبنی ہو، جس میں شروع سے آخر تک معلوم حقائق (objective facts) کی بنیاد پر گفتگو کی جائے-
اِس کے برعکس، مخاصمت میں ساری بحث داخلی نیت پر حملہ اور الزام تراشی پر ہوتی ہے- اختلاف میں رایوں کا بدلنا ممکن ہوتا ہے- ایک فریق کی رائے اگر علمی تجزیے میں درست ثابت ہو تو دوسرا فریق کسی تاخیر کے بغیر اس کو تسلیم کرلیتا ہے-
اختلاف کی حیثیت ایک علمی تبادلہ خیال (scientific discussion) کی ہوتی ہے- اِس سے دونوں فریق کی معلومات میں اضافہ ہوتاہے، وہ دونوں فریق کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے- اختلاف اپنی حقیقت کے اعتبار سے، بحث وتکرار کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اعلی درجے کی علمی تلاش (scientific pursuit) کا نام ہے- اِس میں دونوں فریق ہار اور جیت کے تصور سے اوپر اٹھ کر مشترک طورپر امرِ حق کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں-
اِس کے برعکس، مخاصمت ایک منفی سرگرمی کا نام ہے- مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو ہمیشہ علمی بددیانتی پر قائم ہوتا ہے- مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو غیر علمی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی- مخاصمت کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں، نہ ایک فریق کے لیے، نہ دوسرے فریق کے لیے-
مخاصمت یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی سے عناد ہوجائے، وہ ہر حال میں اس کی تنقیص ، اُس پر عیب زنی اور اس کے خلاف الزام تراشی میں لگا رہے— اختلاف ایک ملکوتی فعل (2:30)ہے اور مخاصمت تمام تر ایک شیطانی فعل-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔