دینی مسائل کے بارے میں اختلاف، امت کے افراد میں ہمیشہ پایا گیا ہے- اِس طرح کے اختلافات کے بارے میں کچھ لوگوں نے شدت اختیار کی ہے اور اس کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنادیا- لیکن علماءِ اسلام کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ غیر اساسی امور میں اختلاف فطری چیز ہے- ایسے اختلافات کو حق اور ناحق کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے- مثال کے طورپر مشہور حنبلی عالم عبد اللہ بن محمد قدامہ المقدسی (وفات: 1223ء) نے اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ کے مقدمہ میں اِس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علماءِ امت کا اختلاف ایک رحمتِ واسعہ ہے: اختلافہم رحمة واسعة-
اختلاف کے معاملے کا یہی ایک پہلونہیں ہے کہ اس میں شدت نہ اختیار کی جائے، بلکہ رایوں کے تعدّد کو توسّع پر محمول کرتے ہوئے ہر ایک کا احترام کیا جائے- اِس کے علاوہ، اِس کا ایک مزید مثبت پہلو بھی ہے- اِس معاملے کی طرف ایک روایت میں اشارہ کیا گیاہے: اختلاف أمتی رحمة (تدریب الراوی للسیوطی 2/167 ) یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے-
اختلاف سادہ طورپر صرف اختلاف نہیں، وہ رائے میں فرق کا نام ہے- اختلاف بند ذہن کو کھولتا ہے- رایوں کا فرق (difference of opinions)لوگوں کے اندر ڈسکشن اور ڈائلاگ کا ماحول پیدا کرتا ہے، وہ فکری ارتقا کا ذریعہ ہے-یہ اختلاف کا صحت مند پہلو ہے - اگر لوگوں میں رائے کا اختلاف نہ ہو تو ایسے گروہ کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجائے گا- اِس کے برعکس، جہاں رائے میں فرق پایا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا سلسلہ جاری رہے گا-
اِس معاملے میں اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر علمی ذوق ہو- اُن کے اندر طلب پائی جائے- وہ کسی تعصب کے بغیر تبادلہ خیال کرنا جانتے ہوں- جن لوگوں کےاندر یہ مزاج ہو، اُن کے لیے اختلاف فکری ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا، وہ لوگوں کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بنے گا، نہ کہ ذہنی جمود اور انتشار پیدا کرنے کا سبب-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔