Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala February 2013
Al-Risala February 2013

اسلام فطرت کی آواز

Urdu · 5 min read

اسلام انسان کی فطرت کی آواز ہے- اسلام اگر کسی ملاوٹ کے بغیر انسان کے سامنے آئے تو وہ اُس کے ذہن کو ایڈریس کرے گا، وہ خو د اپنے داخلی شعور کے تحت اسلام کی اہمیت کو ماننے پر مجبور ہوجائے گا- تاریخ میں کثرت سے اِس کی مثالیں موجود ہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں مکہ کے لوگ شرک میں مبتلا تھے- مگر جب قرآن کے ذریعے ان کے سامنے اسلام کا پیغامِ توحید بے آمیز طورپر آیا تو ان کی اکثریت نے اسلام کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اس کو جلد یا بدیر قبول کرلیا-

موجودہ زمانے میں بھی اِس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں- ایک بنگالی ہندو جن کا نام ڈاکٹرنشی کانت چٹوپادھیا (وفات: 1910) تھا، انھوںنے اعلیٰ تعلیم پائی- وہ کئی زبانیں جانتے تھے- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- ان کی فطرت نے اسلام کی سچائی کی تصدیق کی- چناں چہ انھوں نے اسلام کو اپنے مذہب کی حیثیت سے قبول کرلیا- اِس کے بعد انھوں نے انگریزی زبان میں کئی کتابیں لکھیں- انھوں نے 1904 میں حیدر آباد (انڈیا) کے ایک جلسے میں اپنے اسلام کا اعلان کیا اور اپنا نام عزیز الدین رکھا-

اِسی طرح مارما ڈیوک پکتھال (Marmaduke Pickthall) ایک انگریز تھے- وہ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے- اسلام کی فطری تعلیمات نے ان کو متاثر کیا- چناں چہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام محمد پکتھال رکھا- ان کی وفات 1936 میں ہوئی- انھوںنے انگریزی زبان میں قرآن کا مکمل ترجمہ کیا - یہ انگریزی ترجمہ کافی مقبول ہوا-

موجودہ زمانے کے مسلمان یہود کو اسلام کا ازلی دشمن سمجھتے ہیں، مگر یہ بات یقینی طورپر غلط ہے- واقعات بتاتے ہیں کہ ہر زمانے میں یہودی، اسلام قبول کرتے رہے ہیں- مثال کے طورپر عبد اللہ بن سلام مدینہ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے- وہ مدینہ کے ایک بڑے یہودی عالم تھے- ہجرت کے بعد انھوںنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا- 663 عیسوی میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی-

اسی طرح کعب الاحبار یمن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے- وہ ایک بڑے یہودی عالم تھے- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانے میں اسلام قبول کیا- حضرت عمر کے زمانے میں وہ یمن سے ہجرت کرکے مدینہ آگئے- 652 عیسوی میں شام کے شہر حمص میں ان کی وفات ہوئی-

بعد کی صدیوں میں بھی یہود کے قبولِ اسلام کا سلسلہ جاری رہا- موجودہ زمانے میں فلسطین کے سوال کو لے کر یہود اور مسلمانوں کے درمیان نہایت تلخ فضا قائم ہوگئی ہے- مسلسل طورپر دونوں کے درمیان تشدد کے واقعات ہورہے ہیں- اِس کے باوجود موجودہ زمانے میں بھی یہود میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے کھلے طور پر اسلام قبول کیا-

اس قسم کی ایک مثال محمد اسد (Leopold Weiss Muhammad Asad) کی ہے- وہ یوکرین (Ukraine) کے ایک یہودی خاندان میں 1900میں پیدا ہوئے اور 1992 میں اسپین میں ان کی وفات ہوئی- انھوںنے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر 1926 میں انھوں نے اسلام قبول کرلیا- انھوںنے انگریزی زبان میں قرآن کی ایک مکمل تفسیر لکھی- اِسی طرح انھوں نے دوسری کتابیں اسلام کے موضوع پر تیار کیں-

اِسی طرح کی ایک مثال مریم جمیلہ کی ہے- وہ 1934 میں نیویارک (امریکا) کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں- ان کا ابتدائی نام مارگریٹ مارکوس (Margret Marcus) تھا- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر 1961 میں اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام مریم جمیلہ رکھا- انھوں نے انگریزی زبان میں اسلام پر کئی کتابیں لکھیں- 31 اکتوبر 2012 کو لاہور (پاکستان) میں ان کا انتقال ہوگیا-

موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے سب سے بڑی چیز جو کھوئی ہے، وہ مغل ایمپائر یا عثمانی ایمپائر جیسی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ سب سے بڑی چیز جو انھوں نے کھوئی ہے، وہ دعوت الی اللہ کا ذہن ہے- موجودہ زمانے میں پوری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت کا حقیقی ذہن مفقود ہے- اگر کوئی شخص دعوت کا نام لیتا ہے تو وہ بھی اپنے خود ساختہ مفہوم میں، نہ کہ قرآن وحدیث کے اصل مفہوم میں-

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن اسلام پسند ذہن نہیں ہے، بلکہ وہ قوم پسند ذہن ہے- اس قوم پسند ذہن کی بنا پر یہ ہوا ہے کہ ان کی ہر چیز پر قوم پسندی کا ذہن غالب آگیا ہے-

دعوت الی اللہ مسلم ملت کا سب سے بڑا فریضہ ہے- اِسی فریضے کے تصور سے ان کی سوچ درست ہوتی ہے، اِس فریضے کی ادائیگی سے ان کی تمام سرگرمیوں کا رخ صحیح ہوتا ہے، اِسی فریضے کی ادائیگی سے وہ اللہ کی نصرت کے مستحق بنتے ہیں- دعوت الی اللہ کی سوچ مسلم ملت کے لیے گویا ماسٹرفارمولا (master fomula) کی حیثیت رکھتی ہے- مسلمانوں کے اندر اگر دعوت الی اللہ کا تصور زندہ ہو تو ان کے تمام معاملات درست ہوں گے اور اگر دعوت الی اللہ کا تصور ان کے اندر زندہ نہ ہو تو ان کے تمام معاملات بگڑ جائیں گے-

دعوتی شعور کے اِس فقدان کا ایک سنگین نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے روپ میں نہ دیکھ سکے اور جب اِن قوموں کے کچھ افراد نے خود اپنی تلاش کے ذریعے اسلام قبول کیا تو وہ ان کو مزید دعوتی کام کے لیے استعمال نہ کرسکے- مثلاً محمد اسد کی ملاقات اسلام قبول کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938)سے ہوئی- اقبال خود مسلم ریاست کا خواب دیکھتے تھے- چناں چہ انھوںنے محمد اسد کو بھی مسلم ریاست کے قیام کے بے نتیجہ کام پر ڈال دیا- محمد اسد کے لیے صحیح مشورہ یہ تھا کہ ان کو یہ بتایا جائے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں میں اسلامی دعوت کا کام کریں، نہ کہ مسلم ریاست کے قیام کے بے نتیجہ کام میں اپنا وقت ضائع کریں-

یہی واقعہ مریم جمیلہ کے ساتھ پیش آیا- اسلام قبول کرنے کے بعد وہ 28 سال کی عمر میں پاکستان آگئیں- یہاں ان کی ملاقات مولانا سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979)سے ہوئی- مولانا مودودی، اسلام کی سیاسی تعبیر میں یقین رکھتے تھے اور اِسی راستے پر انھوںنے مریم جمیلہ کو بھی ڈال دیا- چناں چہ دونوں میں سے کوئی بھی مطلوب انداز میں دعوت الی اللہ کا کام نہ کرسکا، نہ محمد اسد اور نہ مریم جمیلہ-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.