راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار تھے- ان کو عوام کے اندر غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، مگر آخری سالوں میں وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے- چناں چہ 18 جولائی 2012 کو بمبئی میں ان کی وفات ہوگئی ،جب کہ ان کی عمر صرف 69 سال تھی- کہا جاتا ہے کہ آخری وقت میں انھوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ — ٹائم اب ہوگیا(Time up, pack up) -
حقیقت کے اعتبار سے راجیش کھنہ کا یہ جملہ درست نہیں- اگر وہ زندگی کی حقیقت کو جانتے تو وہ کہتے کہ — ٹائم اب آگیا، یعنی اب زندگی کے دوسرے دور میں داخلے کا وقت آگیا، جہاں خالق کے سامنے پیشی ہوگی اور پورے کارنامۂ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق، ابدی دورِ حیات کا فیصلہ ہوگا، یعنی ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ-
ممبئی سی پی ایس ٹیم کے ایک داعی مسٹر محبوب اے ایچ نے راجیش کھنہ کی وفات سے کچھ ماہ پہلے ان کو ہمارے یہاں کا چھپا ہواقرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا تھا- اِس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ انھوں نے قرآن کے ترجمے کو پڑھا تھا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات ایک انتباہ (warning)کی حیثیت رکھتے ہیں- وہ تمام لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ کہ قرآن واحد کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق کا منصوبۂ تخلیق (creation plan of God) کیا ہے، اُن پر فرض ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں تک اِس کتاب (قرآن) کو پہنچا دیں-
اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیا تو ان کی ذمے داری اللہ کے یہاں ساقط ہوجائے گی- ایسی حالت میں معاملہ خدااور انسان کے درمیان ہوگا- لیکن اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو لوگوں تک نہیں پہنچایا تو وہ خود اِس کے ذمہ دارقرار پائیں گے اور اب معاملہ خدا اور حاملینِ قرآن کے درمیان ہوجائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔