Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2013
Al-Risala February 2013

حساب کا وقت

Urdu · 2 min read

راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار تھے- ان کو عوام کے اندر غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، مگر آخری سالوں میں وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے- چناں چہ 18 جولائی 2012 کو بمبئی میں ان کی وفات ہوگئی ،جب کہ ان کی عمر صرف 69 سال تھی- کہا جاتا ہے کہ آخری وقت میں انھوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ — ٹائم اب ہوگیا(Time up, pack up) -

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت کے اعتبار سے راجیش کھنہ کا یہ جملہ درست نہیں- اگر وہ زندگی کی حقیقت کو جانتے تو وہ کہتے کہ — ٹائم اب آگیا، یعنی اب زندگی کے دوسرے دور میں داخلے کا وقت آگیا، جہاں خالق کے سامنے پیشی ہوگی اور پورے کارنامۂ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق، ابدی دورِ حیات کا فیصلہ ہوگا، یعنی ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ-

ممبئی سی پی ایس ٹیم کے ایک داعی مسٹر محبوب اے ایچ نے راجیش کھنہ کی وفات سے کچھ ماہ پہلے ان کو ہمارے یہاں کا چھپا ہواقرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا تھا- اِس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ انھوں نے قرآن کے ترجمے کو پڑھا تھا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات ایک انتباہ (warning)کی حیثیت رکھتے ہیں- وہ تمام لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ کہ قرآن واحد کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق کا منصوبۂ تخلیق (creation plan of God) کیا ہے، اُن پر فرض ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں تک اِس کتاب (قرآن) کو پہنچا دیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیا تو ان کی ذمے داری اللہ کے یہاں ساقط ہوجائے گی- ایسی حالت میں معاملہ خدااور انسان کے درمیان ہوگا- لیکن اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو لوگوں تک نہیں پہنچایا تو وہ خود اِس کے ذمہ دارقرار پائیں گے اور اب معاملہ خدا اور حاملینِ قرآن کے درمیان ہوجائے گا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content