Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2012
Al-Risala February 2012

اللہ کے ساتھ

Urdu · 2 min read

عربی زبان میں بہت سے مضامین اور کتابیں چھپی ہیں جن کا ٹائٹل اِس قسم کا ہوتا ہے—ایک ساعت فلاں کے ساتھ (ساعۃٌ مع فلان)۔ اِس طرح کا ٹائٹل بظاہر درست ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی لکھنے والا اِس طرح کے ٹائٹل کے ساتھ کیوں نہیں لکھتا کہ — ایک ساعت اللہ کے ساتھ (ساعۃٌ مع اللہ)۔ یہ واقعہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے لکھنے والوں کو انسان کی صحبت تو ملی، مگر اُن کو اللہ کی صحبت نہیں ملی۔

حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر ایسا لمحہ گزرنا چاہیے، جب کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہو: ساعۃٌ یناجی فیہا ربَّہ(حلیۃ الأولیاء لأبی نُعیم1/221 )۔ سر گوشی (whisper) ایک ایسے تجربے کا نام ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رب سے قریب پاتا ہے، اتنا زیادہ قریب کہ وہ سرگوشی کے انداز میں اپنے رب سے کلام کرنے لگتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن سے ثابت ہے کہ خدا اپنے بندے سے بہت قریب ہے (2: 286) ۔ اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سجدہ کے وقت انسان، خدا سے قربت کا تجربہ کرتاہے (96: 19)

Qur'anQuotes the Qur'an

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ جب ایک انسان اپنے رب کو دریافت کرتا ہے، وہ آفاق وانفُس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتاہے تو بار بار وہ محسوس کرتاہے کہ وہ اپنے رب کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ اُس وقت اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے، اس کی آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ربانی فیضان (divine inspiration) کی سطح پر خدا سے جڑ گیا ہے۔ اُس وقت آدمی کی زبان سے غیرمتوقع طورپر اعلیٰ ربانی کلمات ادا ہونے لگتے ہیں، اس کا پورا وجود ایک روحانی تجربے میں غرق ہوجاتا ہے۔ وہ دیکھے بغیر خدا کو دیکھنے لگتا ہے، وہ ہم کلام ہوئے بغیر خدا سے بات کرنے لگتاہے، بظاہر دوری کے باوجود وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہوجاتا ہے—اِس دنیا میںخدا کی قربت یہ ہے کہ کوئی شخص روحانی سطح پر اِس طرح اپنے رب کو پالے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content