Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2012
Al-Risala February 2012

جنت اور انسان

Urdu · 2 min read

جنت اور انسان ایک دوسرے کا مثنیٰ (counterpart) ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ — جنت مطلوبِ انسان ہے اور انسان مطلوبِ جنت۔ انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اِس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں جو جنت کی ابدی دنیا میںبسائے جاسکیں۔

قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: ما یفعل اللہ بعذابکم إن شکرتم واٰمنتم، وکان اللہ شاکراً علیما (4: 147) یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ۔اللہ بڑا قدرداں ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اِس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ بُرے اعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں اور پھر آخرت میں پہنچ کروہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔

مفسر ابوالبرکات النسفی (وفات: 1310 ء) نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: الإیمان: معرفۃ المنعم، والشکر: الاعتراف بالنعمۃ (تفسیر النسفی، 1/259 ) یعنی ایمان، منعم کی معرفت ہے، اور شکر، نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل کرے۔ شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ اِس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام (blessings)ہے۔ اِس انعام کے لیے دل سے منعم (giver)کا معترف ہونا، بلاشبہہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content