Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala December 2020
Al-Risala December 2020

بعثت ِ نبوی اور قیامت

Urdu · 6 min read

ایک روایت کے مطابق ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُعثتُ أنا والساعۃ کہاتین (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبی بُعثت أنا والساعۃ) یعنی میں اور قیامت دونوں ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا، یعنی جس طرح یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں، اُسی طرح میںاور قیامت ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس حدیث میں دراصل ایک تاریخی پراسس (process) کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ذریعے سے انسانی تاریخ میں ایک پراسس کا آغاز ہوا ہے جس کی تکمیل پر قیامت ہے:

I have initiated a process in human history the culmination of which is Qayamah (Doomsday)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، اس کے چار بڑے مرحلے ہیں— اظہارِ دین، حفاظتِ وحی، تبیینِ حق، ادخالِ کلمہ۔ یہ چاروں مرحلے قیاسی نہیں، بلکہ وہ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔

1 - پہلا مرحلہ وہ ہے جس کو قرآن میں اظہاردین (48: 28)یا استیصالِ فتنہ (8: 39) کہاگیا ہے۔ اِس سے مراد ہے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ اور کامل معنوںمیں مذہبی آزادی (religious freedom) کے دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اِس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 - دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اِس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون (15: 9)اِس آیت میں ’’الذکر‘‘سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے عمل کو براہِ راست اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اپنے فرشتے بھیجے گا اور وہ اس کام کو انجام دیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کچھ لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ اللہ کی خصوصی مدد سے اس کام کو انجام دیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حفاظت کا یہ کام بنیاد ی طورپر عباسی دور میں انجام پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیاگیا۔ اِس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیاگیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری کام ہوا کہ اُن سے ایک پورا کتب خانہ تیار ہوگیا۔

3 - اِس سلسلے میں تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں تبیینِ حق (41: 53)کہا گیا ہے، یعنی آفاق اور انفس میں چھپی ہوئی خدائی نشانیوں کو کھولنا، تاکہ دینِ خداوندی کے حقائق خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن جائیں۔ یہ کام ساتویں صدی اور آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے شروع کیا، پہلے بغداد میں اور پھر اندلس میں۔ اُس زمانے کے مسلم سائنس دانوں نے علومِ فطرت کی تحقیق میں کافی کام کیا، لیکن وہ اُس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کو ایک دوسرے سے الگ نہ کرسکے۔ چناں چہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اور ان کے سائنسی علماء کے درمیان مسلسل نزاعات پیش آتے رہے، جس کی وجہ سے یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اِس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ اسلام، از: اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد سوم

History of the Arabs, by Philip K Hitti

اِن نزاعات کی بنا پر مسلمان تبیین حق بالفاظِ دیگر علوم فطرت کے انکشاف کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اِس کام کی تکمیل نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد یورپ میں انجام پائی اور پھر وہ امریکا میں جاری رہی۔ اِس معاملے کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:

The Conflict between Science and the Religion, by J W Draper (1882)

other sourceWords of another person or source

اس کا سبب یہ ہے کہ مغربی قوموں نے مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کے کام کو ایک دوسرے سے الگ کردیا، یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آخر میں تبیین حق کا یہ کام اپنے آخری مرحلے تک پہنچ گیا۔ اب زیادہ تر فطرت کی اِن دریافتوں کو دینِ حق کے لیے استعمال کرنا ہے اور ان کی بنیاد پر دینِ حق کو خود انسانی علم کی سطح پر ثابت شدہ بنانا ہے۔

4 - اِس سلسلے کا چوتھا کام وہ ہے جس کو حدیث میں ’ادخالِ کلمہ، کہاگیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کے اوپر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا جس کے اندر اسلام کا کلمہ نہ پہنچ جائے (مسند احمد، جلد ، 6 ، صفحہ 4)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

واقعات بتاتے ہیں کہ چار مطلوب مرحلوں میں سے تین مرحلے گزر چکے ہیں۔ اب اظہارِ دین بھی ہوچکا ہے اور حفاظتِ دین کا کام بھی انجام پاچکا ہے۔ اِسی طرح تبیین حق کا کام بھی بقدر ضرورت انجام پاچکا ہے۔ اب اکیسویں صدی میں اہلِ ایمان کو جو کام انجام دینا ہے، وہ ادخالِ کلمہ ہے، یعنی خدا کی کتاب کو دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچا دینا۔ جدید ٹکنالوجی اور کمیونکیشن کے ذرائع اِس بات کا اشارہ ہیں کہ اب اہلِ ایمان کا یہی واحد کام ہے کہ وہ اِن جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے خداکے کلام اور اس سے متعلق تشریحی لٹریچر کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔گلوبل وارمنگ کے نئے ظاہرہ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں، وہ مزید یہ بتارہے ہیں کہ قیامت اب بہت قریب آچکی ہے۔ اِس کاتقاضا ہے کہ اہلِ ایمان اپنی ساری توانائی کو اِس آخری کام میں لگا دیں، اِس سے پہلے کہ صورِ اسرافیل پھونک دیا جائے اور اُن کے لیے کچھ کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔

آج اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس کو اظہارِ دین کے عمل کا کریڈٹ ملے تو اب یہ ناممکن ہوچکا ہے۔ اِسی طرح حفاظتِ دین کا کریڈٹ بھی لینے والے لے چکے، اب آج کے لوگوں کے لیے اس کا کریڈٹ لینے کا موقع باقی نہیں رہا۔ اِسی طرح آج اللہ کی توفیق سے ایسا لٹریچر تیار ہوچکا ہے جس نے تبیینِ حق کے کام کو ضروری حد تک انجام دے دیا ہے۔ اِس کام کا کریڈٹ (credit) لینے کا موقع بھی اب کسی کے لیے باقی نہیں رہا۔

اب اکیسویں صدی عیسوی میں اصلاً ایک ہی کرنے کا کام ہے جس کا کریڈٹ آج کے لوگوں کو مل سکتاہے، اور وہ ہے ادخالِ کلمہ کا کام، یعنی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اللہ کے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچانا۔ جدید کمیونکیشن کے ذرائع کو بھر پور استعمال کرتے ہوئے اس کو تکمیل کے مرحلے میں داخل کردینا۔ اکیسویں صدی کے اہلِ ایمان کو جاننا چاہیے کہ ابتدائی تین کریڈٹ کولینے کا وقت اب اُن کے لیے باقی نہیں رہا، کیوں کہ اللہ کے کچھ بندے اِس کام کو انجام دے چکے ہیں۔ اب جس کام کا کریڈٹ لینے کا موقع باقی ہے، وہ صرف ادخالِ کلمہ ہے۔ یا تو اِس کام کو انجام دیجئے اور اللہ کے یہاں اس کا انعام حاصل کیجئے، یا پھر اس کام سے غافل رہیے اور قیامت میں اُن لوگوں کے ساتھ اللہ کے حضور پہنچئے جن کو اللہ کی آخری عدالت میں محرومی کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content