حدیث میں قربِ قیامت کی بہت سی علامتیں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک طویل روایت میں اس کی ایک علامت اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: أمورکم إلیٰ نسائکم (الترمذی، کتاب الفتن) یعنی اُس زمانے میں لوگوں کے معاملات اُن کی عورتوں کے سپرد ہوجائیںگے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ساتویں صدی عیسوی میں کہی تھی، اُس وقت ساری دنیا میں عورت اور مرد کے درمیان تقسم کار (division of work) کا اصول رائج تھا۔ داخلی امور بنیادی طورپر عورتوں سے متعلق ہوتے تھے، اور خارجی امور بنیادی طورپر مردوں سے تعلق رکھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی کے طورپر فرمایا کہ ایک وقت آئے گا، جب کہ یہ حد بندی ٹوٹ جائے گی۔ عورتیں بھی اُسی طرح زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیں گی جس طرح مرد دکھائی دیتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں صنفی مساوات (gender equality) اور فیمن ازم (feminism) کی تحریکوں نے تاریخ میں پہلی بار یہ صورتِ حال پیدا کی ہے کہ عورت اور مرد د دونوں صنفوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول ٹوٹ گیا۔ زندگی میں جو شعبے روایتی طور پر مردوں سے متعلق ہوتے تھے، اُس میں اب عورتیں بڑے پیمانے پر دخیل ہوگئی ہیں۔ موجودہ زمانے میں عورتیں نہ صرف مقامِ عمل (work place) میں مشترک طورپر دکھائی دیتی ہیں، بلکہ وہ فیصلہ کرنے والے شعبوں (decision-making) میں برابری کے ساتھ شرکت کی دعوے دار ہیں۔عملی نتائج کے اعتبار سے اِس صورتِ حال کی حقیقت کیا ہے، اِس سے قطعِ نظر، اِس پیشین گوئی کا موجودہ زمانے میں واقعہ بننا ایک بے حد سنگین الارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت غالباً اب بہت قریب آچکی ہے۔ انسانی تاریخ اب اپنے خاتمے پر پہنچنے والی ہے۔ یعنی وہ وقت جب کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے اور دنیا کا موجودہ نظام ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اس کے بعد تمام انسان دوبارہ زندہ ہو کر میدانِ حشر میں اکھٹا ہوں، اور خدا کی طرف سے تمام عورتوں اور مردوں کے مستقبل کا آخری فیصلہ کردیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔