قرآن کی سورہ الحشر میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فأنساہم أنفسہم، أولئک ہم الفاسقون (59: 19) یعنی تم اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنھوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے بھلا دئے اُن کو خود اُن کے نفس۔ یہی لوگ ہیں نافرمان:
(Believers!) Do not be like those who forgot God, so that He caused them to forget themselves.
اِس آیت میں اُس قانون کو بیان کیا گیا ہے جو اہلِ کتاب گروہ سے متعلق ہے۔ اِس میں اہلِ اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ تم یہود جیسے نہ ہو جانا،ورنہ تمھارا انجام بھی یہود جیسا ہوگا، یعنی خدا کے احکام سے غفلت کے نتیجے میں خود اپنے بارے میں فراموشی میں مبتلا ہوجانا۔
اِس آیت میں مخصوص قرآنی اسلوب میں اُس واقعے کو بتایا گیا ہے جس کو دوسرے الفاظ میں زوال (degeneration) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی اہلِ کتاب گروہ اپنے بعد کے زمانے میں زوال کا شکار ہوتا ہے تو اُ س کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ حقیقی دینی اسپرٹ سے خالی ہوجاتا ہے۔ ابتدائی دور میں اس کا دین خوفِ خدا پر مبنی ہوتا ہے، لیکن دورِ زوال میں اس کا دین عملاً قومی فخر (pride) کے ہم معنیٰ بن جاتا ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ دورِ زوال میں پیدا ہونے والے اِسی قومی فخر کا معاملہ ہے۔
ایک سیکولر گروہ کی قومی پالیسی عقل (reason)پر مبنی ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس، زوال یافتہ اہلِ کتاب کی پالیسی قومی فخر پر۔ فخر کی اِس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا گروہ عقلی غور وفکر اور حقیقت پسندانہ مزاج سے محروم ہوجاتا ہے۔ عام سیکولر گروہ اپنی عقلیت کی بنا پر اپنی دنیا کو درست کرسکتا ہے، لیکن زوال یافتہ اہلِ کتاب اپنے فخر پسندی کے مزاج کی بناپر اپنی دنیا کے بارے میں بھی صحیح رویّے سے محروم ہوجاتے ہیں اور نتیجتاً وہ خَسِرَ الدنیا والآخرۃ کا مصداق بن جاتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔