قرآن کی سورہ نمبر السجدہ میں ارشاد ہواہے: فلا تعلم نفس ما أخفی لہم من قرّۃ أعین جزائً بما کانوا یعملون (21: 17)یعنی کسی کو خبر نہیں کہ اِن لوگوں کے لیے آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔
اس آیت کے مطابق، جنت اِس دنیا میں ایک لا معلوم چیز ہے۔ لیکن قرآن کی ایک اور آیت میں کہاگیا ہے : یدخلہم الجنۃ عرّفہا لہم (47: 6)یعنی خدا ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُنھیں پہچان کرا دی ہے۔ دوسری آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی پہچان اِسی دنیا میں ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں دونوں آیتوںکے درمیان تطبیق کی صورت کیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ پہلی آیت میں جنت کی عملی یافت کو بتایا گیا ہے اور دوسری آیت میں جنت کی فکری دریافت کا بیان ہے۔ جنت بلا شبہہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے صرف آخرت میں معلوم ہوگی، لیکن موجودہ دنیا میں انسان جنت کو بالقوہ طور پر (in terms of potential) جان لیتا ہے، اور آخرت میں وہ جنت کو بالفعل طورپر (in terms of actual) حاصل کرلے گا۔
جو انسان جنت کے بارے میں حساس ہو، جو خدا کے تخلیقی نقشہ پر غور کرتا ہو، جو دنیا اور آخرت کی حکمتوں میں تدبر کرتا ہو، وہ اِسی دنیا میں جنت کی جھلک کو پالیتاہے۔ وہ اِس حقیقت کو دریافت کرلیتا ہے کہ موجودہ دنیا اِس انداز میں بنائی گئی ہے کہ وہ جنت کا تعارف بن گئی ہے۔
آخرت کی جنت ایک کامل (perfect) جنت ہے اور موجودہ دنیا گویا کہ غیر کامل (imperfect)جنت۔ آخرت کی جنت میںآدمی جن آسائشوں کو اپنی آئیڈیل صورت میں پائے گا، اُن آسائشوں کا تجربہ اس کو اِسی دنیا میں آئڈیل سے کم تر درجے میں ہوجاتا ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ آخرت کی جنت ابدی جنت ہے اورموجودہ دنیا اس کا صرف وقتی اور جزئی تعارف۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔