← Al-Risala December 2020Al-Risala December 2020
بابری مسجد کا مسئلہ
Urdu · 9 min read
اجودھیا کی بابری مسجد کو مغل دور کے گورنر میر باقی نے 1528 میں بنوایا تھا۔اس معاملے میں مسلمانوں کو پہلا شاک (shock) اُس وقت لگا جب کہ 23 دسمبر1949 کی رات کو کچھ ہندوؤں نے مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دیں۔ اس کے بعد دوسرا بڑا شاک اُس وقت لگا، جب کہ 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد ڈھادی گئی اور اُس کی جگہ ایک عارضی مندر (make-shift temple) بنا دیاگیا۔ اِس کے بعد اِس معاملے میں تیسرا شاک مسلمانوں کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں مختصر طورپر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کا پہلا واقعہ 1528 میں پیش آیا، جب کہ اجودھیا میں یہ مسجد بنائی گئی۔ اُس وقت وہاں ’’رام چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک چبوترہ موجود تھا، یہاں رام اور سیتا کی کچھ یادگاریں مثلاً سلوٹا اور بیلن جیسی چیزیں موجود تھیں اور ہندو اس کو سیتا کے رسوئی گھر کے طور پر مقدس سمجھتے تھے۔ بابر کے گورنر میر باقی نے مسجد بناتے ہوئے اِس رام چبوترہ کو اس کے صحن میں شامل کردیا ۔ یہ طریقہ اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف تھا۔
اس کی ایک متعلق مثال یہ ہے کہ اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اپنے زمانہ ٔ خلافت (636 ء)میں مدینہ سے چل کر یروشلم (فلسطین) گئے۔ وہاں یروشلم کے بطریق (بشپ) سے گفتگو کرکے دونوں کے درمیان ایک صلح نامہ طے ہوا۔ اُس وقت حضرت عمر فاروق یروشلم کے کنیسۃ القیامہ (Church of Resurrection) میں تھے۔ عصر کی نماز کا وقت آگیا اور آپ نے نماز پڑھنا چاہا تو مسیحی بطریق نے کہا کہ آپ یہیں چر چ کے اندر نماز پڑھ لیجئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ نہیں، میں رمیۃ الحجر،یعنی پتھر پھینکنے کی دوری (stone’s throw) پر جاؤں گا اور وہاں نماز پڑھوں گا۔ اِس کی حکمت انھوں نے یہ بتائی کہ اگر میں چرچ کے اندر نماز پڑھ لوں تو بعد کے زمانے کے مسلمان کہیں گے کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز پڑھی ہے، اِس لیے ہم یہاں مسجد بنائیں گے۔ اِس طرح یہاں چرچ اور مسجد کا جھگڑا کھڑا ہوجائے گا۔
بابری مسجد کے معاملے میں حضرت عمر کے مذکورہ نمونے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلی غلطی خود میر باقی نے کی۔ انھوں نے ہندوؤں کے مقدس استھان سے ملا کر مسجد بنائی۔ اِس طرح انھوںنے پہلے ہی دن اِس معاملے میں نزاع کی بنیاد رکھ دی۔
2 - دسمبر 1949 میں جب بابری مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دی گئیں، اُس وقت بھی مسلمانوں نے اِس معاملے میں اسلام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل نہیں کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ مسئلہ بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ ناقابلِ حل مسئلہ بن گیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں جب توحید کا مشن شروع کیا، اُس وقت وہاں کی ابراہیمی مسجد کعبہ کے اندر مشرکین نے 360 بت رکھ دئے تھے۔پیغمبر اسلام نے ان بتوں کی موجودگی سے اعراض فرمایا اور اپنی ساری کوشش وہاں کے انسانوں پر شروع کردی۔ آپ نے کعبہ کی عمارت کے اندر سے بتوں کو نکالنے کے بجائے لوگوں کے دلوں سے بتوں کے نکالنے کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ طریقہ نہایت کامیاب ہوا، یہاں تک کہ 18 سال کی دعوتی کوشش کے بعد مکہ کے مشرکین نے بت پرستی کو ترک کردیا اور خود کعبہ کی عمارت سے تمام بتوں کو ہٹا دیا۔ اِس کے برعکس، موجودہ زمانے کے مسلمان اِس پیغمبرانہ حکمت کو اختیار کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے۔ چناں چہ انھوں نے اِس معاملے میں رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جس کا نتیجہ صرف الٹی صورت میں برآمد ہوا۔
3 - ستمبر1991میں پی وی نرسمہا راؤ (وفات:2004 ) ہندستان کے وزیر اعظم تھے۔انھوں نے ہندستانی پارلیمنٹ سے ایک قانون منظور کرایا جس کا نام یہ تھا:
Places of Worship (Special Provisions) Act-1991
اِس قانون میں یہ متعین کیاگیا تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کی یہ ذمے داری ہوگی کہ وہ ملک کے تمام عبادت خانوں کو اُس حالت پر برقرار رکھے جو کہ آزادی کے وقت 15 اگست 1947 میں ان کی حالت تھی۔ اِس قانون میں یہ کہا گیا تھا کہ چوں کہ بابری مسجد کا کیس عدالت میںہے، اِس لیے اِس معاملے میں حکومت عدالتی فیصلے کا انتظار کرے گی اور فیصلہ آنے کے بعد اس کے مطابق، اس کی تعمیل کی جائے گی، لیکن مسلمانوں نے اِس ایکٹ کو نہیں مانا،انھوں نے اِس معاملے کو جلسہ جلوس کا معاملہ بنادیا۔ اِس کے بعد فطری طور پر ہندوؤں میں جوابی ہنگامہ آرائی کا ذہن بنا، یہاں تک کہ ہندوؤں کے ایک پرجوش ہجوم نے 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا میں میں داخل ہو کر بابری مسجد کو ڈھا دیا۔ اُس وقت میں نے کہا تھا کہ — بابری مسجد کو ہندوؤں نے توڑا، اور مسلمانوں نے اس کو توڑوایا۔
4 - 30 ستمبر 2010 کو عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے، مسلمان عام طورپر اس کو اپنے حق میں ناانصافی سمجھتے ہیں۔ ان کا رجحان یہ ہے کہ وہ اِس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائیں اور وہاں سے منصفانہ فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کریں، مگر یہ طریقہ بابری مسجد کے مسئلے کو حل کرنے والا نہیں۔
اِس مسئلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی صورت میں بالفرض اگر ایسا ہو کہ سپریم کورٹ اِس کیس کا فیصلہ مسلمانوں کی موافقت میں کردے، تب بھی ہندوؤں کے لیے مزید کارروائی کا دروازہ کھلا رہے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، شاہ بانو کیس (1985)میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا تھا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کو اپنے خلاف نظر آیا اور انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ چناںچہ اس کے خلاف پورے ملک میں مسلمانوں کی طرف سے مظاہرے شروع ہوگئے، یہاں تک کہ اُس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی (وفات: 1991 ) کو پارلیمنٹ سے ایک نیا ایکٹ بنوانا پڑا۔ یہ دروازہ بلاشبہہ ہندوؤں کے لیے بھی کھلا ہوا ہے۔ وہ یہ کہہ کر سپریم کورٹ کے فیصلے کو رد کرسکتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہمارے مذہبی جذبات کے خلاف ہے، اِس لیے ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے۔
5 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلام اور دانش مندی دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اب اِس معاملے میں کاما (comma) نہ لگایا جائے، بلکہ فل اسٹاپ (full stop) لگادیا جائے۔ دوسرا کوئی بھی طریقہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا، وہ اِس مسئلے کو حل کرنے والا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اب اِس معاملے میں مسلمانوں کے لیے عملاً ایک ہی ممکن انتخاب (option) باقی رہاہے اور وہ مسجد کا ری لوکیشن (re-location) ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو پٹرول کے ظہور کے بعد عرب ملکوں میں بڑے پیمانے پر اختیار کیا گیا ہے، یعنی سٹی پلاننگ (city planning) کے لیے قدیم مسجدوں کو ری لوکیٹ کرنا۔
موجودہ حالات کے اعتبار سے، اب مسلمانوں کے لیے عملاً صرف دو میں سے ایک کا انتخاب باقی رہ گیا ہے — یا تو وہ اِس معاملے میں خود غیر جانب دار ہو کر مزید کارروائی کے لیے اس کو حکومت کے حوالے کردیں، جیسا کہ دوسرے عدالتی فیصلوں کے معاملے میں ہوتا ہے، یا اگر وہ چاہتے ہیں کہ بابری مسجد کو وہ ایک تاریخی یادگار کے طورپر باقی رکھیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے ری لوکیشن (re-location) پر راضی ہوجائیں، یعنی کسی دوسرے غیر نزاعی مقام پر اُسی شکل کی مسجد تعمیر کرنا۔ سابق مقام پر دوبارہ بابری مسجد کی تعمیر ایک ایسا غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے جو کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔
6 - اجودھیا کے متنازع مقام پر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عام طورپر مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ اِس فیصلے میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ ہر جگہ مسلمانوں کو دوسرے فریق سے یہی شکایت ہے۔ مگر یہ شکایت یقینی طورپر غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ شکایت صرف یہ بتاتی ہے کہ مسلمان معاملات کو صرف جذباتی اعتبار سے دیکھتے ہیں، نہ کہ عقل وفہم کے اعتبار سے۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے درمیان فرق کیا جائے۔ قرآن اور حدیث میں اِس بات کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ فرد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ انصاف کے راستے پر چلے، وہ اِس معاملے میں کسی چیز کو عذر (excuse) نہ بنائے۔ لیکن اجتماع کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ جب کسی اجتماعی معاملے میں دو فریقوں کے درمیان نزاع پیدا ہوجائے تو اُس وقت یہ ممکن نہیں ہوتا کہ خالص نظری بنیاد (theoretical reason) پر ایسا فیصلہ کیا جائے جو دونوں فریقوں کو منصفانہ فیصلہ نظر آئے۔ ایسے موقع پر صرف یہی ممکن ہوتا ہے کہ عملی تقاضے (practical reason) کو دیکھا جائے اور عملی طورپر جو ممکن ہو، اس کے مطابق، فیصلہ کردیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو اِس اصول کی تصدیق کرتی ہیں۔ آپ نے اجتماعی نزاع کے معاملے میں ہمیشہ عملی بنیاد پر فیصلہ کیا، نہ کہ نظری انصاف کی بنیاد پر۔ اِس معاملے کی ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ ہے۔
7 - اگر نزاعی معاملے میں یہ صورت پیدا ہوجائے کہ اس میں تبدیلی ممکن نظر نہ آتی ہو، ایسی حالت میں عقل اور اسلام دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ موجودہ صورت حال (status quo) کو مان کر مسئلے کو ختم کردیا جائے۔ کیوں کہ کوئی نزاعی معاملہ جب اِس نوبت کو پہنچ جائے تو انتخاب (option) صحیح اور غلط کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ اُس وقت انتخاب ممکن اور ناممکن کے درمیان ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل اور اسلام دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ ناممکن کے پیچھے مزید وقت ضائع نہ کیا جائے، بلکہ جو ممکن ہے اُس کو قبول کرلیاجائے۔ اِس کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ حالات نارمل ہوجائیں گے اور تعمیر وترقی کی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہوجائیں گی۔
خلاصہ یہ کہ لمبی مدت کی ناکام جدوجہد کے بعد اب اجودھیا کا معاملہ نظر ثانی (reassessment) کا معاملہ بن چکا ہے۔ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب کہ اُن تدبیروں کو دہرایا جائے جن کو اس سے پہلے بار بار بڑے پیمانے پر عمل میں لایا گیا، مگر وہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ 30 ستمبر 2010 کے پہلے کی تاریخ کو بھلا دیا جائے اور 30 ستمبر 2010 کے بعد سامنے آنے والے حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے از سرِ نو اِس معاملے میں فل اسٹاپ لگا دیا جائے۔ اِس مسئلے میں مزید کاما لگانا، اب صرف اپنی تباہی میں اضافے کا باعث ہوگا، وہ کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ اِس معاملے میں اب اگر کوئی کاما لگایا جائے تووہ یقینی طور پرمسلمانوں کے احساسِ ناکامی میں احساسِ ذلت کے اضافے کے ہم معنی ہوگا، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔