پرنٹنگ پریس کا زمانہ آنے کے بعد مسلمانوں میں اصلاح کی بے شمار تحریکیں اٹھیں۔ ہر ملک میں اسلام کے نام پر دھوم دکھائی دینے لگی، لیکن نتیجہ تقریباً صفر ہے۔ اِس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ شکایت کی زبان بول رہے ہیں۔ اگر اسلام کے نام پر کی جانے والی دھوم درست ہو تو آج لوگوں کو اعتراف کی زبان میں بولنا چاہیے تھا، نہ کہ شکایت کی زبان میں۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا مسئلہ فقدانِ عمل کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ فقدانِ نتیجہ کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پچھلے رہنماؤں نے عمل کا طوفان کھڑا کیا، لیکن آج اُن کی طوفانی سرگرمیوں کا کوئی حقیقی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ کیوں ایسا ہوا کہ اُن کے رہنماؤں نے کھیتی کی، مگر مسلمانوں کو اُس سے فصل نہیں ملی۔ ہمارے رہنماؤں نے باغ لگائے، لیکن مسلمان اس کے پھل سے محروم رہے۔اِس المیہ کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما اٹھے، اُن سب کا نقطۂ آغاز غلط تھا۔ وہ اِس مفروضہ پر کھڑے ہوئے کہ مسلم ملت موجود ہے، اب اس کو صرف متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلم نام سے صرف ایک بھیڑ موجود تھی، نہ کہ حقیقی معنوں میں امت۔ ایسی حالت میں اصلاح امت کے کام کا نقطۂ آغاز لوگوں کے ذہن کی تشکیل نو تھا، نہ کہ جذباتی باتیںکرکے اُنھیں متحرک کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے جو طریقِ کار اختیار کیا، اُس کی ایک مثال ڈاکٹر محمد اقبال کا یہ مصرعہ ہے: ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ۔ اقبال کا حسب ذیل شعر موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنماؤں کے فکر کی ترجمانی کرتاہے:
نوا را تلخ تر می زن، چو ذوقِ نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چو محمل راگراں بینی
مسلم رہنماؤں نے مٹی کو صرف نم نہیں کیا، بلکہ اُس کو جل تھل کردیا، مگر عمل کے اعتبار سے اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اِس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے اور امت کی اصلاح کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔