Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala december 2016
Al-Risala december 2016

سوال و جواب

Urdu · 3 min read

سوال نومبر 2015 کے الرسالہ کے صفحہ 44 پر جو سوالات آپ سے پوچھے گیے ، ان کے جوابات نہیں دیے گیے۔ کہا گیا کہ آپ کی مختلف کتابوں سے ان کے جوابات اخذ کیے جائیں۔ مشورہ نیک ہے اگر یہ صرف سائل کو دیا جاتا۔ سوالات اہم ہیں۔ چوں کہ آپ ماشاء اللہ عالم ہیں ۔ اس لیے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے مطلوب ہیں۔ ہر قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان سوالات کےتفصیلی جوابات دیے جائیں تو الرسالہ کے پورے صفحات کافی نہ ہوں۔ پھر بھی الرسالہ عام طور پر ہر کس ناکس پڑھتا ہے جب کہ کتابیں بہت کم لوگوں کی نظر سے گزرتی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ کیے گیے سوالات کے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے دیے جائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور) جواب اسلام میں سوال کے بجائے تدبراور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسی جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسی سے کہا : فَلَا تَسْأَلْنِی عَنْ شَیْء (18:70)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلےغور وفکر کرو۔ غور وفکر کرکے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سوال سے منع کرتے تھے (مسند احمد، حدیث نمبر18232)۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے سوال کے تقاضے کو پورا کرے۔ اس کے بعد وہ سوال کرے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر کرے۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالی نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر سے اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp)کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کرسکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرسکتا ہو۔ مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کربیا ن کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کرکے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنی ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فورا سوال کرنا، عجلت پسند ی کی علامت ہے۔ بات کو سن کر پہلے غور وفکر کرنا چاہیے۔ اگر غور وفکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔ یانگون (برما)میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ (اردو، انگلش )کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: U SOE WIN (Advocate) No.64/1st Floor, Room 24, 29th Street, Pabedan, Yangon, Myanmar, +95- 5169518 جمشید پور (جھارکھنڈ)میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: Ayaz Ahmad Holding- Sae'ban, Gulzar Bagh Colony, Near Amar Jyoti School, Chapal Pul, Pardeeh, Jamshedpur, Jharkhand Pin: 831022, Mob. No. 9199248371, 903196239

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content