حساسیت (sensitivity)ایک انسانی صفت ہے۔ حساسیت انسان کے لیے خالق کا ایک تحفہ ہے۔ حساسیت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی بات کو زیادہ شدت کے ساتھ پکڑتا ہے۔ جو آدمی زیادہ حساس ہو، وہ کسی پوائنٹ کو زیادہ شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے: A highly sensitive person can grasp a point with greater intensity. حساسیت کسی انسان کے لیے بلاشبہ ایک مفید صفت ہے۔ مگر حساسیت کو مفید بنانا، صرف اس انسان کے لیے ممکن ہے جو حساسیت کو کنٹرول میں رکھنے کا آرٹ جانتا ہو۔جو آدمی اپنی حساسیت پر کنٹرول کرنا نہ جانے، اس کی حساسیت اس کے لیے ایک منفی حساسیت بن جائےگی۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنی حساسیت کو کنٹرول میں رکھے، اس کی حساسیت اس کے لیے ایک نعمت بن جائے گی۔ انسان کی زندگی میں بہت سے ناپسندیدہ واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ ناپسندیدہ واقعات آدمی کی حساسیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو جانے کہ خالق نے آدمی کے اندر حساسیت کی صفت کیوں رکھی ہے۔ حساسیت کی صفت آدمی کے اندر اس لیے ہوتی ہے کہ وہ آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہونے سے بچائے،وہ اس کی قوت تمییز (power of differentiation) کو مردہ نہ ہونے دے۔ جس آدمی کے اندر حساسیت نہ ہو، وہ چیزوں کے صرف سطحی پہلو (superficial aspect) کو جانے گا۔ وہ چیزوں کے زیادہ گہرے پہلو سے بے خبر رہے گا۔ حساسیت فطری طور پر ہر عورت اور ہر مرد کے اندر ہوتی ہے۔ لیکن حساسیت کے بے جااستعمال سے آدمی اپنی حساسیت کو غیر موثر (ineffective) بنا لیتا ہے۔ وہ انسان کی صورت میں حیوان بن جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.