Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala december 2016
Al-Risala december 2016

دعوتی منصوبہ

Urdu · 4 min read

قرآن کی سورہ نمبر74 نبوت کے بالکل آغاز میں اتری۔ اس سورہ کی چندابتدائی آیتیں یہ ہیں: یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَأَنْذِر۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّر۔ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ۔ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ۔ وَلِرَبِّکَ فَاصْبرِ (المدثر 1-7 :) یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ قرآن کی اس سورہ میں المدثر سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس سورہ میں پیغمبر کو یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا پیغمبرانہ مشن کیا ہے۔ اور یہ کہ مشن کے آداب کیا ہیں۔ اس کے مطابق، پیغمبر کا اصل مشن انذار ہے۔ انذار کا لفظی مطلب ہے، ڈرانا یا ہوشیار کرنا۔یعنی لوگوں کو خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan of the Creator) سے آگاہ کرنا۔ ہر نبی کا اصل مشن یہی ہوتا ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی یہی تھا۔ آدابِ دعوت میں بنیادی چیز وہ ہے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔ یعنی اور گندگی کو چھوڑدے۔مفسرین نے لغت کا اعتبار کرتے ہوئے یہاں رُجز کوبت (اصنام) کےمعنی میں لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاںاصنام کو چھوڑنے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد اصنام پرستی نہیں ہے ،بلکہ اصنام کی موجودگی ہے۔ اصنام کی یہ موجودگی کعبہ کے اندر تھی۔ اس زمانے میں مکہ کے اوپر مشرک لوگوں کا غلبہ تھا۔ انھوں نے اپنے ذوق کے مطابق، کعبہ کی عمارت میں بت رکھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان کی تعدادتقریباً 360 تک پہنچ گئی۔ یہ بت عرب میں پھیلے ہوئے مختلف قبائل کے بت تھے۔ ان بتوں کی وجہ سے عرب کے قبائل سال بھر وہاں آتے رہتے تھے۔ تاکہ وہ اپنے بتوں کی پوجا کریں۔ اس طرح کعبہ عرب میں اجتماع کا ایک مستقل مرکز بن گیا تھا۔ والرجزفاھجرمیں فاھجردراصل فاعرض کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اصنام پرستی کو چھوڑدے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ میں اصنا م کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کرو۔ تاکہ دعوت کا مشن کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ یہ گویا دعوتی طریقہ کار کا ایک کامیاب فارمولا تھا۔ یعنی بتوں کی موجودگی کے مسئلے کو نظرانداز کرو، اور ان بتوں کی وجہ سے کعبہ کےپاس جو مجمع اکٹھا ہوتا ہے، اس کو اپنے مشن کے لیےبطور آڈینس (audience) استعمال کرو۔ قرآن فہمی کے لیے سببِ نزول نہایت اہم ہے۔ ایک سببِ نزول وہ ہے جو لفظی طور پرکسی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا سببِ نزول وہ ہے جو تاریخی حالات کے مطالعے سے دریافت ہوتا ہے۔ تاریخی حالات کے اعتبار سے اس آیت کا سبب نزول متعین کیا جائے تو وہ پیغمبر ِ اسلام کے عمل سے مستنبط ہوگا۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس زمانے میں آپ یہ کرتے تھے کہ کعبہ کے پاس جمع ہونے والے لوگوں کے پاس جاتے اور کعبہ میں اصنام کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے،ان کو قرآن کی آیتیں سناکر ان کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ سیرت کی کتابوں میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن (سیرت ابن ہشام، 1/428)۔ پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ ایک دعوتی اصول کی انتہائی مثال ہے۔ یعنی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو بھرپور طور پر استعمال کرنا۔ دعوت کا موضوع ہمیشہ اور ہر زمانے میں ایک رہے گا۔ لیکن مسائل کی صورتیں بدلتی رہیں گی۔ قدیم زمانے میںاگر یہ مسئلہ تھا کہ کعبہ کی عمارت کےاندر بت رکھ دیے گیےتھے تو موجودہ زمانےمیں حالات کے اعتبار سے مسائل مختلف ہوسکتے ہیں۔ مثلا کسی دنیوی یا سیاسی مقصد کے لیے لوگوں کا ایک مقام پر اکٹھا ہونا۔ ایسے موقعہ پر اگر کوئی غیر دینی فعل کیا جارہا ہے تو داعی کو چاہیے کہ وہ اس کو نظر انداز کرے، اور وہاں پہنچ کر لوگوں کو حق کا پیغام دے۔خواہ زبانی طور پر یا لٹریچر کی تقسیم کے ذریعے۔ داعی کی توجہ ہمیشہ دعوت کے مواقع (opportunities) پر ہونی چاہیے، نہ کہ دعوت کے مسائل (problems)پر۔ یہ حکمتِ دعوت ہے۔اس حکمت کو اختیار کیے بغیر دعوت کا کام موثر طور پر نہیں ہوسکتا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content