ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم أنہ قال: ما رأیت مثل النار نام ہاربہا، ولا رأیت مثل الجنة نام طالبہا(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر383)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے جہنم کے مثل کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس سے بھاگنے والا سو جائے اور نہ جنت کےمثل کوئی چیز دیکھی کہ اس کا طلب گار سو جائے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان جہنم جیسی غیر مطلوب چیز سے بھاگ نہیں پاتا۔ اور کیوں ایسا ہے کہ انسان جنت جیسی مطلب چیز کو اپنی منزل نہیں بنا پاتا۔ اس کا سبب غفلت (الروم: 7)ہے۔یہ غفلت ظاہر بینی کے مزاج کی بنا پر ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ بیدار نہیں ہوتی۔ اس ذہنی عدم بیداری کی بنا پر آدمی ان حقائق سے بے خبر رہتا ہے، جن سے اس کو بہت سے زیادہ باخبر ہونا چاہیے۔ زندگی کی حقیقت کے اعتبار سے انسان کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan)کے مطابق، زندگی کو کامیاب بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ زندگی کو کامیاب کرنے کا نہیں۔ اس معاملے میں انسان کے لیے کوئی اختیار (option) موجود نہیں۔ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، کامیاب وہ ہے جو موجودہ دنیامیں اپنی زندگی کی مدت پوری کرنے کے بعد آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے۔ اس برعکس ناکامی یہ ہے کہ آدمی جب موجودہ دنیا میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد آخرت میں پہنچے تو وہاں یہ پائے کہ جہنم کے فرشتے اس کو گرفتار کرنے کے لیے موجود ہیں۔ یہی کسی انسان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی مرد یا عورت اس مسئلہ سے بے خبری کا تحمل نہیں کرسکتا۔ یہی وہ حقیقت ہےجس کو مذکورہ حدیث میں مخصوص انداز میںبیان کیا گیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔