Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala December 2015
Al-Risala December 2015

سوال و جواب

Urdu · 4 min read

میں ماہنامہ الرسالہ کا ایک پابند قاری ہوں۔آپ کی تحریر ذہن کو کسی حد تک متاثر ضرور کرتی ہے۔ لیکن آپ کے متعلق میں تذبذب کا شکار ہوگیا ہوں۔ کیوں کہ آپ کی تصانیف میں تضاد ہے۔ آپ نے ماہنامہ الرسالہ شمارہ نمبر 436 (مارچ 2013)اور شمارہ نمبر 445 (دسمبر 2013)میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 21 کا ترجمہ اس طرح لکھا ہے: تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا، اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرے۔ جب کہ آپ ہی کی تصنیف (اردو) ترجمۂ قرآن میں اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے : تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ کا ااور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

الرسالہ میں آپ نے اللہ کے رسول میں نمونہ میں بہترین نمونہ ’’ہے‘‘ لکھا ہے، جب کہ ترجمۂ قرآن میں اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ’’تھا‘‘ لکھا ہے۔ آپ کے مطابق اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا تو کیا ہمارے لیے اللہ کے رسول اب بہترین نمونہ نہیں رہے؟ اور اگر اللہ کے رسول بہترین رول ماڈل نہیں ہیں تو ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہیے؟ یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔ الفاظ کی معمولی تبدیلی سے ایمان تبدیل ہوجاتا ہے۔ آپ کی تحریر میں یہ تضاد آپ کے ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگر یہ غلطی چھپائی کے دوران ہوئی ہے تو اس معاملے کی تحقیق کرکے آپ اس کتاب کی اشاعت روک دیں۔ اب تک یہ کتاب لاکھوں لوگوں کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ آپ نے قرآن کو copyright free کیا ہے۔ اس طرح تو کوئی بھی شخص اس میں کوئی بھی تبدیلی کرکے اس کو شائع کرسکتا ہے۔ جب کہ کوئی بھی مصنف اپنی تصنیف کو copyright reserved رکھتا ہے۔ اور اگر آپ نے یہ غلطی جان بوجھ کرکی ہے تو میدانِ محشر میں آپ کن لوگوں کی صف میں کھڑے ہوں گے، اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ نے اس غلطی کی اصلاح نہیں کی تو میں اس معاملہ کو مسلم علماء اور مسلم میڈیا کے سامنے پیش کروں گا۔اس لیے آپ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں، اور مجھے اس سے مطلع فرمائیں۔ (شیخ آصف، بلڈانہ، مہاراشٹر)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عربی زبان میں’’کا نَـ‘‘ کا لفظ وسیع معنی میں آتا ہے۔ کبھی ماضی کے معنی میں، جیسے وَکَانَ فِی الْمَدِینَةِ تِسْعَةُ رَہْطٍ (27:48)، اور کبھی حال کے معنی میں، جیسے کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(3:110)، اور کبھی مستقبل کے معنی میں، جیسے مَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَہَا (27:60)۔ تاہم ترجمہ کے اس فرق سے معنی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن کے اردو مترجمین نے دونوں ترجمے کیے ہیں۔ ہے کا ترجمہ بھی، اور تھا کا ترجمہ بھی۔ مثلا قرآن کی آیت لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیرًا (33:21) میں دونوں قسم کے ترجمے کیے گیے ہیں۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے اس آیت میں’’کا نَ‘‘ کا ترجمہ’’ہےـ‘‘ کے ساتھ کیا ہے اور شاہ عبد القادر صاحب اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نےاس آیت میں ’’کا نَـ‘‘ کا ترجمہ’’ـ تھا ‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ سے گزارش ہے کہ اس طرح کا سوال کرنے میں کبھی جلدی نہ کریں کیوں کہ حدیث میں آیا ہے : العجلۃ من الشیطان ۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر4058) اس معاملے میں آپ کو چاہیے تھا کہ آپ پہلے لغات اور تراجم کو دیکھ کر تحقیق کرتے۔ پھر اس کے بعد اپنا خط تحریر فرماتے۔ سوال و جواب کا یہ طریقہ احتیاط کے خلاف ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح اس خط میں درج ہے کہ ’’آپ کی تحریر میں یہ تضاد آپ کے ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔‘‘ یہ جملہ لکھنے سے پہلے آپ کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے تھا جس میں آیا ہے : لا یرمی رجل رجلا بالفسق، ولا یرمیہ بالکفر إلا ارتدت علیہ إن لم یکن صاحبہ کذلک (مسند احمد، حدیث نمبر21571) ایک شخص جب بھی کسی پر دوسرے شخص پر فسق کا الزام لگاتا ہے، یا اس پر کفر کا الزام لگاتا ہےتو ضرور وہ خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے، اگر دوسرا شخص ایسا نہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content