سوال و جواب کے سلسلے میں اصل اہمیت تیار ذہن (prepared mind )کی ہے۔ ماہنامہ الرسالہ اپنے قاری کے اندر یہی تیار ذہن بناتا ہے، اور جب ذہن تیار ہو جائے تو اس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ آسانی کے ساتھ وہ خود ہر سوال کا جواب معلوم کر سکے۔
کوئی شخص اپنے سوال کا جواب اس طرح معلوم نہیں کرسکتا کہ وہ ایک عالم سے سوال کرے، اور وہ عالم اس کو اس کے سوال کا جواب دے دے۔ بلکہ ضروری ہے کہ سائل اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے۔ وہ مطالعہ کرے، غور وفکر کرے، اور متعلق معلومات حاصل کرے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے گا۔ وہ اس قابل ہوجائے گا کہ جواب دینے والا جب اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اس کے جواب کو بھر پور طور پر سمجھ لے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جواب اپنے آپ میں ادھورا ہے۔ سائل اگر تیار ذہن ہو تو وہ جواب کی کمی کو اپنی طرف سے پورا کر لیتا ہے، اور پھر وہ جواب اس کے لیے ایک اطمینان بخش جواب بن جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہر سوال کے بہت سے گوشے ہوتے ہیں۔ کوئی جواب ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ سوال کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ سائل کوعام طور پر ایک جواب سے تشفی نہیں ہوتی۔ جواب سننے کے بعد ، سائل کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا۔
اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ سائل اپنے سوال کو مکمل بنانے کی کوشش کرے، یا جواب دینے والا اپنے جواب کو اتنا مفصل بنائے کہ وہ ہر پہلو کا احاطہ کرلے۔ یہ ایک ناقابل عمل بات ہے۔ قابل عمل بات صرف یہ ہے کہ سائل ، سوال کرنے سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرے۔ وہ جواب کی کمی خود پورا کرے، نہ کہ جواب دینے والے سے ایسی امید رکھے جو عملاً پوری ہونے والی نہیں۔ یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.