حضرت موسی کے زمانے میں، جب بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ تم فلسطین میں داخل ہوجاؤ تو اِس پر بنی اسرائیل کے درمیان تذبذب ہوا- اس وقت بنی اسرائیل کے ایک صاحبِ ایمان نے اپنی قوم سے کہا کہ: ادْخُلُوْا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدة: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤگے تو تم ہی غالب ہوگے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو-
اِس آیت میں ’’دخول پر غلبہ‘‘ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صر ف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے- عمومی اعتبار سے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ حق کی برتر آئیڈیالوجی اِس بات کی ضامن ہوتی ہےکہ وہ ہرجگہ ان کے لیے غلبہ کا ذریعہ بن جائے- اسلام کے دورِ اول میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں داخل ہوئے تو قرآن کی آئیڈیالوجی ان کے لیے پرامن غلبہ کا ضامن بن گئی-
وسیع تر انطباق (extended application) کے اعتبار سے یہ اصول موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتا ہے-موجودہ زمانے کا ایک نیا ظاہرہ وہ ہے، جس کو کانفرنس کہتے ہیں- یہ اجتماعات موجودہ زمانے میں ہر جگہ بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں- امن کانفرنس، انٹرفیتھ ڈائیلاگ، اور اسی طرح عید ملن اور روزہ افطار جیسے بہت سے اجتماعات ہیں، جو برابر مختلف عنوانات کے تحت ہوتے رہتے ہیں- ان اجتماعات میں تعلیم یافتہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں-
اس قسم کے اجتماعات، حق کے داعیوں کے لیے عظیم مواقع کی حیثیت رکھتے ہیں- وہ ان میں شریک ہو کر لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، اور اس طرح کے معروف عنوانات کے تحت وہ خود بھی اپنی طرف سے ایسے اجتماعات کا انتظام کرسکتے ہیں- ان کی بر تر آئیڈیالوجی اس بات کی ضامن ہے کہ وہ ہر جگہ غالب رہیں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔