قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا کلام لفظی طورپر پیغمبر کے اوپر اترا- اِسی کے ساتھ پیغمبر کو یہ حکم دیاگیا کہ تم خود سب سے پہلے اُس کے پیرو بنو (الانعام: 14)- فرمایا کہ اتبع ما أوحی إلیک من ربک (الانعام: 106) یعنی تم اُس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جارہی ہے-
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کا لفظی ریکارڈ تو مصحف کی صورت میں موجود ہے-دوسری چیز یعنی پیغمبر کا اتباعِ قرآن، اُس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ جیساکہ معلوم ہے، خودقرآن میں پیغمبر کے اتباعِ قرآن کا ریکارڈ نہیں- پھر یہ ریکارڈکہاں ہے- یہ ریکارڈ واضح طورپر احادیث کے اُس ذخیرہ میں ہے، جس کو سنت رسول کہا جاتا ہے، اور جس کو قرآن میں اسوۂ رسول (الاحزاب: 21) بتایا گیاہے-
قرآن، دینِ الہی کے نظریاتی حصہ کی وضاحت ہے- لیکن قرآن صرف ایک نظریہ کی کتاب نہیں- قرآن میں بار بار کہاگیا ہے کہ اے لوگو، قرآن کی اتباع کرو- اتباع کرنے کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے کہ اُس کا ایک عملی نمونہ (role model) موجود ہو- تمام قرائن کے مطابق، یہ عملی نمونہ وہی ہے جو رسول کی سنت کی شکل میں حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہے- سنت رسول کے سوا، کوئی اور چیز تعلیمات قرآن کے لیے عملی ماڈل نہیں بن سکتی-
حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنا کلام اتارا، تو عین اُس کے فطری تقاضے کے مطابق ضروری تھا کہ اُس کا ایک عملی ماڈل بھی موجود ہو- عملی ماڈل کے بغیر قرآن کی حیثیت ایک مجرد نظریاتی کتاب کی ہوجائے گی- اُس کی حیثیت انسان کے لیے ایک رہنما کتاب (گائڈ بک) کی نہ ہوگی- حالانکہ اگر ایسا ہو کہ قرآن مجرد معنوں میں صرف ایک نظریاتی کتاب ہو، انسان کے لیے یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو کہ مستند طورپر اُس کی انطباقی صورت (applied version) کہاں ہے، تو ایسی حالت میں قرآن اُس کے لیے عملاً ایک گائڈ بک نہیں بن سکتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔